Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 10

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 10

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 10

–**–**–

آج بارات کا فنکشن تھا
دانیہ نے مہرون لہنگا جس میں پرپل اور وایٹ کڑھای ہوی تھی پہن رکھا تھا جس میں کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی جبکہ سلمان نے بھی بلیک شیروانی جس کے بایں طرف سفید ہلکا سا موتیوں کا کام ہوا تھا وہ بھی کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا
دونوں کو اسٹیج پر بیٹھایا گیا سلمان نارمل ریکٹ کرنے کی پوری کوشش کررہا تھا کیوں کہ آج جس کیلیے اسنے اپنے ماں باپ کو منع کیا تھا وہ کام بلیک میلینگ کے ذریعہ سے انہوں نے اس سے کروا لیا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنا موڈ خراب کرکے اپنے ماں باپ کی عزت خراب نہیں کرسکتا تھا
بارات کی ساری رسمیں آرام سے ہوگیی تھیں
***
وہاج سنیں یہ سلمان کا رویہ ہی ایسا ہے یا کوی اور مسلہ ہے…آسیہ بیگم نے پوچھا
کیا مطلب کیسا رویہ…
مطلب کچھ روڈ بیہیویر تھا اسکا تقریبا سارے ہی فنکشنز میں…
ارے نہیں کچھ لوگوں کا ہوتا ہے نا ایسا رویہ زیادہ شوخی پن نہیں ہے اس میں یہ اچھا ہے نا…
ہاں یہ ہے بلکل ہماری دانی کے جیسا…ماشاءاللہ بہت اچھے لگ رہے تھے دونوں ساتھ…
ہاں ماشاءاللہ بس اللہ خوش رکھے دونوں کو
آمین…
***
دانیہ کو سلمان اور اسکے مشترکہ کمرے میں لایا گیا تو نایمہ بیگم اسکے پاس آیں اورکہا…دانیہ بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی بہت ضروری…
جی بولیں آنٹی…
سب سے پہلے تو آنٹی نہیں تم مجھے سلمان اور فروا کی طرح ماما کہوگی اور معراج کو بابا…پیار سے مسکراتے ہوے کہا
جی ماما…دانیہ بھی مسکرای
بیٹا میں تم سے جو بات کہونگی وہ تم آرام سے اطمینان سے سنوگی…
جی بولیں آپ…
تم سلمان کو پہلے سے جانتی ہو…انہونے پوچھا
جی جانتی ہوں ماہم کو بھی جانتی ہوں…دانیہ نے سر جھکا کر کہا
بیٹا سلمان یہ شادی کرنے کیلیے راضی نہیں تھا صرف اور صرف اسلیے کہ تم ماہم کی دوست ہو…
جی آنٹی وہ بتاچکے ہیں…
کیا مطلب اسنے کب بتایا تمہیں…انہیں حیرت ہوی
وہ اس دن نکاح والے دن میرے کمرے آے تھے تو انہونے کہا تھا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے صرف آپ لوگوں کے کہنے پر کی ہے…اسنے معصومیت سے کہا
اس لڑکے کو تو میں پوچھوں گی اچھی طرح اس طرح کہا تمہیں…
بیٹا ہمیں تم سے بہت امیدیں ہیں کے تم سلمان کو پھر سے دوبارہ وہی پہلے والا سلمان بنادوگی وہ بہت چڑچڑا ہوگیا ہے ماہم کے دھوکے کی وجہ سے…
آنٹی آپ بےفکر رہیں انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جایگا بس آپ میرا ساتھ دییگا…اسنے مسکراتے ہوے کہا تو وہ بھی مسکراتی ہوی کھڑی ہوگیی…
کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بولا لینا مجھے…
جی بلکل…دانیہ نے جواب دیا اور وہ کمرے سے باہر نکل گییں
دانیہ نے کمرے کا جایزہ لیا کمرا کافی بڑا تھا جسے بہت اچھے طریقے سے سجایا گیا تھا دروازے سے اندر گھستے ہی بیڈ جسکی ساتھ دونوں اطراف سایڈ ٹیبل رکھی ہوی تھیں بلکل سامنے ہی دیوار پر بڑی سی ایل ای ڈی لٹکی ہوی تھی جسکء ساتھ ہی نیچے صوفے رکھے تھےاور اسی دیوار سے بالکونی کا دروازہ نکل رہا تھا بیڈ کے رایٹ سایڈ پر واشروم تھا اسنے کمرے میں سے آتی گلاب کی مہک کو ایک سانس بھر کر اپنے اندر اتارا اور چینج کرنے واشروم میں گھس گیی…
***
سلمان یہاں کیا کررہے ہو ابھی تمہیں اپنے کمرے میں ہونا چاہیے… نایمہ بیگم سلمان کے پاس آییں جو کہ لان میں کھڑا اپنا غصہ سیگریٹ کے ذریعہ سے نکال رہا تھا
ہاں چلا جاونگا جب میرا دل کرےگا…سلمان نے بے رخی ظاہر کرتے ہوے کہا
کیا مطلب چلا جاونگا جب میرا دل کریگا وہ بچی انتظار کرہی ہوگی تمہارا اور تم نے سیگریٹ پینی نہیں چھوڑی نا…
انہوں نے سکی بےرخی پر اسے ٹوکا
کوی نہیں کرتی وہ انتظار اور ماما ویسے بھی میں نے آپ سے کہا تھا شادی تو میں کرلونگا لیکن کوی اور امید نہیں رکھیگا مجھ سے اور رہی اس سیگریٹ کی بات تو اب میں کوی بچہ نہیں ہوں جو آپ کی ہر بات مانونگا مجھے اپنی زندگی جینے دیں پھر بھلے جیسے بھی جیوں…اسنے غصے سے کہا سلمان نے نایمہ بیگم سے پہلی دفعہ اس لہجے میں بات کی تھی
تم نے کیا کہا تھا نکاح والے دن دانی کو.. وہ اسکا لہجہ اور بات بھلاے نکاح والے دن کی بات کرنے لگیں
بس آتے ہی کردی اسنے شکایت آپ سے جو بھی بولا ہے اس نے سچ ہی بولا ہے اور میں بھی اس دن اسکو سچ ہی بتانے گیا تھا..وہ یہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا
***
سلمان جب روم میں آیا تو وہ روم میں نہیں تھی یقینا باتھروم میں ہی تھی کیونکہ وہیں سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی وہ اپنا ٹی اور ٹراوزر لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا چینج کرنے
جب وہ باہر نکلی تو سلمان نے پہلے ہی چینج کرلیے تھا اپنا ڈریس اور وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا
سلمان نے غصے بھری نظر اس پر ڈالی جو اپنا ہیوی برایڈل ڈریس چینج کرکے ہلکی پھلکی وایٹ کرتی جس پر کلر فل ٹراوزر اور ساتھ میں ڈوپٹہ ساتھ تھا پہنے بیڈ پر سونے کی غرض سے جاگ رہی تھی
سلمجھدار ہو…اس نے سرد لہجے میں کہا تو دانی نے اسے مڑکر دیکھا
مجھے بولا آپ نے…
نہیں یہاں ہمارے علاوہ کوی تیسرا بھی ہے…سلمان نے قریب آکر بولا
کک…کیا مطلب سمجھدار ہوں صاف صاف بولیں…وہ اسکے قریب آنے پر بوکھلای تو سلمان کو مزہ آیا اسے تنگ کرنے میں تو اور قریب آیا
مطلب میرے آنے سے پہلے ہی چینج کرلیے کپڑے…
تو اور کیا آپکا انتظار کرتی کہ آپ آکر میرا گھونگٹ اٹھاتے اور…
اور پر اسے بریک لگا…
اور…سلمان نے اسے مزید تنگ کیا
اور مجھے منہ دکھای دیتے لیکن مجھے پتا ہے آپنے کوی گفٹ نہیں لیا ہوگا میرے لیے اس لیے چینج کرلیا اور اب مجھے نیند آرہی ہے…
اچھا ہے ویسے کافی سجھدار ہو میں سچ میں تمہارے لیے کچھ نہیں لیا منہ دکھای میں دینے کےلیے یہ ماما نے لیا تھا اور کہا تھا میں اپنی طرف سے دے دوں…اسنے ایک چھوٹا بوکس نکالا جس میں رنگ تھی…
شکریہ اسکی لیے بھی ورنہ ضروری نہیں ماما ہی دےدیتی یہ بھی مجھے…اس نے وہ بوکس لیا اور سایڈ ٹیبل کی دراز میں ڈال دیا
وہ واپس جانے کیلیے مڑی تو سلمان نے اسے بازوں سے پکڑکر زور سے اپنی طرف کھینچا کے وہ بے قابوں ہوتی اسکے سینے سے ٹکرای
اہ…اسکی ٹکرانے پر آہ نکلی
سلمان چھوڑیں مجھے…دانیہ کا بازو اب بھی سلمان کی گرفت میں تھا اسنے درد سے کراہتے ہوے کہا
یہ تم نے ابھی سے شکایت لگانی شروع کردی ماما سے میری…جتنی شرافت سے اسے نام لے کر بلایا تھا وہ سمجھی موڈ ٹھیک ہوگیا لیکن یہ غصے سے بھرا لہجہ دیکھ کر سہم گیی
ککون سی شکایت میں نے تو کوی شاکیت نہیں لگای آپکی…وہ انجان بنی اور اپنی اپنی بڑی گھنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا تو سلمان اسکی آنکھوں کی کشش میں کہیں کھو سا گیا
دانیہ اسکے اس طرح دیکھنے پر ایک دم بوکھلای اور اسکو آواز دے کر ہوش میں لای تو سلمان ایک دم ہوش میں آیا اور اسکا بازو چھوڑ ا تو وہ ایک فم پیچھے ہوی
اچھا میں بتاوں کونسی شکایت وہ شکایت جو میں نے نکاح والے دن آکر تمہیں کہا تھا..
اوہ اچھا…تو ماما نے کلاس لےلی آپکی واہ ماما آپ تو بہت اچھی ہیں…اس نے ہنس کر جلانے والے لہجے میں کہا اسے
آیندہ کمرے کی بات باہر نا جاے سمجھ جاو تم ورنہ مجھ سے برا کوی نہیں ہوگا…
اسنے ہاتھ چھوڑا تو فورا بیڈ کی ایک سایڈ پر گیی اور بیچ میں پیلو کی دیوار بنا کر کمفرٹر اوڑھا اور کہا…آپ سے برا کوی ہے بھی نہیں…
یہ کہتے ہی منہ تک اوڑھ کر لیٹ گیی
یہ حرکت دیکھ کر سلمان نا چاہتے ہوے بھی اپنی مسکراہٹ نا روک سکا
**
سلمان کی جب صبح آنکھ کھلی تو اسنے گھڑی دیکھی جو آٹھ بجا رہی تھی اسنے اپنے برابر میں دیکھا تو اپنے کمرے میں ایک نیا بدلاو نا چاہتے ہوے بھی اسے اچھا لگا پھولوں کی خوشبو کے ساتھ دانیہ کے شیمپو کی ملی جلی خوشبو نے اسے اندر سے مہکا دیا اپنی سوچ جھٹک کر اٹھا اور آفس کیلیے تیاری کرنے لگا…
صبح جب دانیہ کی آنکھ کھلی تو اسنے اپنء آپ کو کای اور کمرے میں پایا جب دماغ بیدار ہوا تو یاد کے کل ہی اسکی شادی ہوی ہے اسنے اپنے برابر میں دیکھا جہاں سلمان لیٹا تھا لیکن وہ وہاں نہیں تھا تو اسنے دیکھا کہ سلمان کہیں جانے کیلیے تیار ہورہا ہے تیاری سے ایسا لگ رہا تھا جیسء آفس جارہا ہو
کہاں جارہے ہیں اتنی صبح… دانیہ نے بہت ہمت کرکے اس سے پوچھا
کیا مطلب کہاں شادی ہرگیی نا تو اب آفس کی جارہا ہوں..
میرا مطلب تھا کہ آپ آج آفس کیوں جارہے ہیں آج میرے گھر والے بس آنے ہی والے ہونگے ناشتہ لے کر تو اس طرح اچھا نہیں لگتا نا… دانیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا
کیوں کیا ہمارے گھر تمہیں ناشتہ نہیں ملےگا…
نہیں ایسی بات نہیں ہے یہ تو رسم ہوتی ہے نا…اور پھر وہ لوگ دیکھیں گے کہ آپ آج آفس گیے ہیں تو مجھ سے ہزار سوال پوچھینگے میری عزت کا ہی خیال کرلیں کل چلے جاییگا آفس…دانیہ نے بہت معصومیت سے کہا
سب کی عزت کا میں ہی خیال رکھوں…یہ کہہ لر چینج کرنے کی غرض سے ڈریسنگ روم میں چلاگیا…
***
سب لانج میں آگیے تھے جبھی سلمان بھی چینج کرکے آچکا تھا لیکن دانیہ ابھی تک روم میں تیار ہورہی تھی سیڑھیوں سے نیچے اترتی ایک دن کی دلہن پر جب سب کی نظر پڑی تو سب کے منہ سے بےساختہ نکلا ماشاءاللہ یہ سن کر جب سلمان نے سبکی نظروں کا تعقب کیا تو دانیہ آتی دیکھای دی( جس نے بلو رنگ کی گھٹنوں سے تھوڑی سی نیچے تک آتی کرتی. جسکے ساتھ ہم رنگ پاجامہ اور دوپٹہ پہنا ہوا تھا بالوں کو ڈھیلے بلوں میں قید کیے ہوے آگے کیے ہوے تھے ) تو اسکا دیکھتا ہی رہ گیا کہ کوی لڑکی اتنی سادہ کیسے ہوسکتی ہے اتنا لایٹ میک اپ ورنہ اس نے جس لڑکی کو بھی دیکھا میک اپ سے بھرا ہوا چہرا ایک الگ ہی کشش تھی اسکی چہرے پر جیسے ہی دانی نے اسکی طرف دیکھا ایک دم سٹپٹا کر اپنی نظریں اپنے موبایل میں گاڑھ لیں…
دانیہ نے سب کو سلام کیا اور اپنی ماما کے پاس آکر بیٹھ گیی…
سب نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا اور پھر دانیہ کو اپنے ساتھ گھر لے آے..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: