Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 11

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 11

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 11

–**–**–

شادی کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا لیکن سلمان کا رویہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا تھا اسلیے نایمہ بیگم بہت پریشان رہنے لگی تھیں رات کو نیند نہیں آتی تھی تو سلیپنگ پلس لے کر سوتی تھیں یہ بات آج تک کسی کو بھی نہیں پتا تھا انکا اکلوتا بیٹا جو انکا سب سے زیادہ خیال رکھتا تھا آج انہیں پوچھتا بھی نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہوتی جارہی تھیں
***
رات کے گیارہ کا ٹایم تھا سلمان ابھی تک گھر واپس نہیں آیا کیونکہ اسے کسی میٹنگ میں جانا تھا
دانیہ روم سے باہر نکل کر کچن میں آی تو اسنے دیکھا کے کچن کی لایٹ آن ہے
ماما بابا تو کب کے جا چکے تھے روم میں اور آج فروا بھی جلدی سو گیی تو یہ کون ہے…اسنے سوچا اور اندر گیی تو دیکھا کہ نایمہ بیگم کوی دوای کھا رہی ہیں
ماما یہ کون سی ٹیبلیب کھا رہی ہیں آپ طبعیت تو ٹھیک ہے آپکی…سلیپنگ پلس…آآپ سلیپنگ پلس لے رہی ہیں کیوں…اسنے پریشانی سے پوچھا
اچانک انکی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگیے
آپ رو کیوں رہی ہیں ..ادھر بیٹھیں…اسنے انکو کرسی پر بیٹھایا اور خود بھی سامنے کرسی رکھ کر اسپر بیٹھ گیی
اب بتایں مجھے کیا ہوا آپکو…
میں صرف. سلمام کی وجہ سے پریشان ہوں میرا اکلوتا بیٹا ہے اس طرح کٹ کے رہ گیا ہے ہم سے اپنے ماں باپ کی تو پروا ہی نہیں رہی جیسے پہلے کرتا تھا اب کسی کا خیال ہی نہیں رہا اور سب سے زیادہ مجھے تمہاری فکر ہوتی ہے بیٹا تم بھی سوچتی ہونگی کے کیسا شوہر ہے نا بیوی کا خیال ہے اور نا ہی ہم میں سے کسی کا بس اپنے کام سے کام رکھتا ہے…وہ روتے ہوے اسے اپنے دل کا ہال بتا رہی تھیں کے کیسے انکے جوان بیٹے نے انکا یہ حال کردیا
ماما ایسے ہی ہار مان لی آپ نے …آپنے کہا تھا آپ میرا ساتھ دینگی لیکن یہاں تو آپ خود رو رہی ہیں آپکے اس کھڑوس بیٹے کو ٹھیک ہونا پڑےگا ضرور لیکن جب اللہ چاہے گا اور رہی میری بات تو آپ میری فکر نہیں کریں میں ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نہیں سوچتی چلیں اب آنسوں صاف کریں اپنے جاکر آرام کریں…
***
جب سلمان گھر پہنچا تو اسے کچن سے کسی کی باتوں کی آواز آی…
اس ٹایم کچن میں کون ہوسکتا ہے…دانیہ اور فروا ہی ہونگی ضرور…یہ سوچتے ہی آگے بڑھا لیکن وہاں نایمہ کی آواز سن کھٹک گیا
ماما اس ٹایم کچن میں…یہ کہتے ہی کچن کی طرف گیا تو نایمہ کی روتی ہوی آواز اور روتا ہوا چہرہ دیکھ کر اسکے دل کو کچھ ہواان دونوں کی باتیں سننے کیلیے وہیں رک گیا…
جیسے ہی دونوں اٹھیں تو انہونے سلمان کو دیکھا جو ان لوگوں کی ہی باتیں سن رہا تھا
ماما ایم سوری مجھے معاف کردیں کہ میں آپکے ان آنسوں کا سبب بنا میں گنہگار ہوں پلیز مجھے معاف کردیں میں آیندہ کبھی بھی ایسا نہیں کرونگا…سلمان سے رہا نہیں گیا اور وہ فورا اپنی ماں سے گلے لگ گیا…
ماں اور بیٹا کافی دیر تک گلے لگے رہے جیسے دونوں کو سکون مل رہا ہو..
اچھا اب میں سونے جارہی ہوں آج بہت دنوں بعد مجھے آرام کی نیند آیگی…دانیہ بیٹا اسکو کھانا دیدوگی …
جی ماما میں دیدونگی…
جاو سلمان فریش ہوکر آو
جی ماما…آپ بھی آرام کریں.
وہ اسکے گال پر ہاتھ پھیر کر وہاں سے چلی گییں…
اس ایک ہفتے میں سلمان کا سامنا دانیہ سے صرف کھانے کے ٹایم پر ہی ہوتا تھا کیونکہ وہ خود دانیہ کے سامنے نہیں آتا تھا جان بوجھ کر کیونکہ جب جب وہ اسکے سامنے آتی اسکو اپنے آپ پر قابو نہیں ہوتا خود بخود اسکے قریب جانے لگتا دانیہ کی آنکھیں اسکو اپنی طرف مایل کرتی لیکن آج وہ ماما کی وجہ سے اسکا سامنا ہوگیا
کیا بول رہی تھیں تم ماما سے میں کھڑوس…ہاں
دانی جو خاموشی سے کھڑی اپنے لب کاٹنے میں مصروف تھی اسکی آواز پر فورا چونکی
ہاں تو آپ ہیں ہی کھڑوس…
اچھا میں کھڑوس ہوں…وہ دوبارہ اسکو تنگ کرنے کیلیے اسکے قریب آرہا تھا کیونکہ جب جب وہ اسکے پاس آتا وہ اچانک بوکھلا جاتی
آپ فریش ہوجایں میں کھانا گرم کرتی ہوں…اسنے بات پلٹی
نہیں کھانا نہیں کھانا کھا کر آیا ہوں…اپنے آپ پر قابو ہاتے اسکو تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے واپس روم میں چلا گیا
***
سلمان مجھے آپ سے بات کرنی ہے…آج پہلی دفعہ دانیہ نے خود سے سلمان کو مخاطب کیا تھا
ہاں بولو…
مجھے یونی جواین کرنی ہے بس ایک سال رہ گیا ہے ھےمیرا بی بی اے کمپلیٹ ہوجاےگا ویسے ہی اتنا لاس ہوگیا میری ٹسٹڈیز کا…
ہاں چلی جاو لیکن زرا دھیان سے میری نظر تم پر ہوگی…
کیا مطلب مجھ پر ہوگی…
تمہارہ عاشق جو وہاں ہے…
سلمان آپ کس کی بات کررہے ہیں میں نے تو کبھی کسی لڑکے سے بات تک نہیں کی…
بات نہیں کی ? اتنا جھوٹ میں نے خود دیکھا ہے تمہیں اس لڑکے سے بات کرتے ہوے اور بول رہی ہو کہ بات بھی نہیں کی واہ…
پتا نہیں بھیی کس کو دیکھ لیا آپ نے کوی اور لڑکی ہوگی…
نہیں وہ تم ہی تھیں اور اس لڑکے کو بھی میں سامنے لاونگا سب کے یاد رکھنا…یہ کہہ کر وہ بالکونی میں چلاگیا.
عجیب آدمی ہے بھیی مطلب اپنے پاس سے میں بھی دیکھتی ہوں کس کو دیکھا ہے اسنے…ہنہہ
یہ کہتی سونے لیٹ گیی…
***
وقت تیزی سے گزر رہا تھا انکی شادی کو چار مہینے گزر چکے تھے سلمان گھر والوں کے ساتھ پہلے والا رویہ ہوگیا تھا لیکن دانیہ کے ساتھ وہ مزمل والی غلط فہمی اور ماہم کے بعد وہ کسی بھی دوسری لڑکی پر بھروسہ نہیں کرسکتا تھا جب جب دانیہ کے بارے میں سوچتا تو فورا اسے ماہم یاد آجاتی تھی لے کر لیکن اسکو کبھی کبھی اسکی باتوں سے اسکے انداز ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ ایسی ہے کیونکہ روز یونی جاتی بلکل نارمل رہتی نا ہی کبھی کسی سے روڈ بیہیویر ہوتا ہر دفعہ دل اسکی گواہی دیتا کے وہ بلکل بھی ایسی نہیں ہے کے کسی لڑکے سے بات بھی کرے لیکن ہمیشہ وہ ویڈیو ذہن میں آتے ہی دل دماغ پر ہاوی ہو جاتا ماہم کے دھوکے کے بعد اسے کسی لڑکی پر بھی بھروسہ نہیں رہا تھا حتی کے اپنی بیوی پر بھی نہیں جو اس سے بغیر کسی شکایت کے بغیر کسی فرمایش کے اسکے اور اسکے گھر والوں کا خیال رکھتی…یہی بات اسکے سمجھ سے باہر تھی کے لڑکیاں کیا ہیں وہ لڑکی جو زیادہ پیسے کیلیے مجھے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی یا وہ جو بغیر کسی اجرت کے اسکا اسکے گھر والوں کا خیال رکھ رہی ہے…
***
دانیہ میری ریڈ کلرکی فایل ہوگی کہاں رکھی ہے…سلمان نے دانیہ سے پوچھا جو صوفے پر بیٹھی اپنا اسایمنٹ بنانے میں مصروف تھی
دیکھیں سایڈ ٹیبل کی دراز میں ہوگی…
اچھا…سلمان نے جیسے ہی دراز کھولی تو فایل وہیں تھی اسنے فایل نکالی تو اسکی نظر اسی رنگ بوکس پر پڑی جو دانیہ نے اسکے سامنے ہی ٹیبل پر رکھا تھا اسنے وہ ڈبیا نکال کر اسے کھولا تو رنگ ایسی کی ایسی اسی ڈبیا میں تھی
بات سنو…اسنے دانیہ کو متوجہ کیا
کیا ملی نہیں فایل…اسنے کام میں مصروف رہ کر پوچھا
وہ تو مل گیی ادھر دیکھو اور یہ بتاو کہ یہ کیا ہے…
کیا ہے رنگ ہے یہ آپکو نظر نہیں آرہی…دانیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور بولا
تو یہ تم نے پہنی کیوں نہیں…
آپ نے پہنای…
اچھا تو میں پہناونگا جبھی پہنوگی…
جی ہاں…
اگر میں نا پہناوں تو…اسنے چیلنجنگ انداز میں بولا
یہ تو صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے پھر…
اچھا کیسی صورت…
اگر میں مر گیی آپ کے یہ رنگ پہنانے سے پہلے تو…اسنے جتنے مزے سے بات کی تھی اپنے مرنے کی سلمان کو اتنا ہی غصہ دلا گیی پتا نہیں کیوں لیکن اسکے مرنے کی بات پر دل عجیب سا ڈوب رہا تھا
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ. .آج تو کرلی مرنے کی بات آیندہ نہیں کرنا سمجج آی نا…غصے سے کہتا دانی کو سہمنے ہر مجبور کردیا
ہاتھ دو اپنا…دانیہ نے اپنا بایاں ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا پھر سلمان نے رنگ اسکی انگلی میں ڈالی ٹور فایل لے کر کمرے سے واک اوٹ کرگیا…
واہ خود ہی پہنادی…دانیہ خوشی سے چہکی
***
یار یہ کیا ہوگیا تھا مجھے اسکی مرنے والی بات پر میرا دل کیوں ایسا لگ رہا ہو جیسے کسی سمندر میں ڈوب رہا ہو اور اسکو انگوٹھی پہنانے کے بعد ایسا لگا جیسے وہ آی اور مجھے اور میرے دل کو بچالیا
کیا میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتا…
نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے…
مجھے تو اس سے نفرت تھی…
تھی نہیں ہے…
یہ اچانک ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ…ایک دم اپنی سوچو کی دنیا سے باہر نکلا
میں کیوں سوچ رہا ہوں اس کے بارے میں
ایک دم اپنا سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا
***
دانی یہ رنگ آج پہنی ہے تم نے…نایمہ بیگم نے وہ رنگ دیکھی تو آج اس سے پوچھا حالانکہ وہ پہلے رنگ نا دیکھ کر پوچھتے پوچھتے رک جاتی تھیں کے کس منہ سے پوچھوں
جی ہاں ماما آج سلمان نے خود پہنای ہے…اسنے مسکراتے ہوے کہا
ماشاءاللہ ہمیشہ ایسے ہی خوش اور ہستی رہو…انہوں نے خوشی سے نہال لہجے میں کہا
آمین…
***
آج اتوار کا دن ہے…
سلمان اپنے دوستوں کے ساتھ باہر سے آیا تھا
تم تم یہاں کیا کررہے ہو…اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوے اسنے اپنے مقابل شخص کو دیکھ کر کہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: