Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 12

0
مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 12

–**–**–

جب دانیہ دیکھنے مزمل کو بلانے آی کے وہ کہاں چلاگیا ہے تو دور سے اسنے دیکھا کہ سلمان کھڑا اس سے کچھ بول رہا ہے سلمان کے چہرے کے تاثرات اسے کہیں اور ہی طرف اشارہ کرہے تھے جسے وہ اچھی طرح سے سمجھ گیی اس سے پہلے کے سلمان مزمل کو کچھ اور بولتا وہ وہاں پر پہنچ گیی…
سلمان آپ کب آے اور یہاں کیا کررہے ہیں اندر آیں مہمان آییں آپ کا ہی انتظار کررہے تھے…سلمان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وپ بول گیی
مزمل “بھای” آپ پندرہ منٹ سے یہاں کیا کررہے ہیں رافعیہ انتظار کررہی ہے آپکا…دانیہ نے بھای پر زور دے کر کہا سلمان سوچ میں پڑگیا کے کون رفعیہ
چلیں پھر اندر…مزمل مسکراکر اندر کی طرف چل دیا تو وہیں اسکے پیچھے دانیہ بھی سلمان پر ایک نظر ڈال کر وہاں سے چلی گیی…
***
السلام وعلیکم سلمان بھای…سلمان جیسے ہی اندر گیا رافعیہ نے اسے دیکھتے ہی سلام کیا
وعلیکم سلام….
سلمان یہ میری دوست ہے رافعیہ اور یہ انکے منگیتر مزمل دانیہ نے تعارف کروایا
جی سلمان بھای ہمارا نکاح ہے نیکسٹ سنڈے تو آپ لوگوں کو ضرور آنا ہے…رافعیہ نے مسکراکر کہا
ہاں ہم ضرور آینگے…دانیہ نے مسکراکر کہا
اچھا یار اب ہم چلے ہیں…
ایسے کیسے اتنی جلدی نہیں کھانا کھاکر جانا…
نہیں یار بھوک نہیں ہے اور ویسے بھی مرہا اور عاءشہ کے گھر سے ہی آرہے ہیں انہونے بہت کھلایا ہے تمہیں تو پتا ہے کتنی ڈھیٹ ہیں دونوں…
اچھا چلو پھر نکاح کے ضرور آنا کھانے پر دونوں اوکے…دانیہ نے مسکراکر کہا
چلو ٹھیک ہے اللہ حافظ…
وہ دونوں کھڑے ہوگیے تو وہیں سلمان اور دانیہ بھی کھڑے ہوگیے
سلمان آییگا ضرور مزمل نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے خوشاخلاقی سے کہا.
ضرور انشاءاللہ… سلمان نے بھی مسکراکر ہاتھ ملایا تو وہ دونوں چلے گیے
دانیہ سلمان کو بغیر دیکھے کچن میں چلی گیی کیونکہ آج وہ شخص سامنے آگیا تھا جس کی وجہ سلمان نے اس ہر الزام لگایا تھا
ڈیم اٹ یہ تھا وہ مزمل اسکا تو نکاح ہورہا ہے تو پھر وہ کیا تھا جو فایزہ نے دکھایا
لیکن ہر آنکھوں دیکھی بات سچ تو نہیں ہوتی اور ویسے بھی اسنے صرف بات ہی کی تھی نا کوی کام بھی ہوسکتا تھا…اندر سے آواز آی
دانیہ کی آنکھوں میں ناراضگی تھی…وہ آجایے پھر منالونگا
یار مجھے کیا ہوگیا ہے پہلے ایک لڑکی مجھے چھوڑکر گیی تو دوسری میری زندگی میں آی جس نے میری زندگی ہی بدل دی اس کو جیسا میں نے سمجھا وہ تو بلکل ہی الگ یونیورسٹی جاتی ہے لیکن ایک لمیٹ میں رہتی ہے کیا ہر لڑکی دوسری لڑکی سے مختلف ہوتی ہے…
یہ تھا نکاح کے دوبول کا اثر جو سلمان کے اندر سے دانیہ کی گواہی دے رہا تھا
***
رات کے کھانے کے بعد سب باتوں میں مصروف تھے سواے دانیہ کے وہ بہت چپ چپ سی تھی
کیا ہوا دانی بیٹا کوی مسلہ ہے کیا…معراج صاحب نے اسے مخاطب کیا
نہیں بابا…اسنے نارمل لہجے میں کہا
تو پھر اتنی خاموش کیوں ہو…
بس سر میں تھوڑا درد ہے اسلیے بس…
اچھا تو پینکلر لے کر سوجانا جلدی ہر ٹایم پڑھای اور گھر کے کاموں میں لگی رہتی ہو میرے کہنے کے باوجود آرام نہیں کرتی تو یہ تو ہوگاہی نا…نایمہ بیگم پیار سے کہا
جی ماما…بس سر ہلا کر دھیمے لہجے میں کہا
لیکن بھابھی مجھے آج کچھ ہیلپ چاہیے تھی آپکی آپنے کہا تھا آکاونٹنگ سمجھادینگی مجھے آپ…فروا فورا بولی
تم دیکھ رہی ہو فروا اسکی طبعیت ٹھیک نہیں کل سمجھ لینا…دانیہ کے بولنے سے پہلے ہی نایمہ بیگم نے فروا کو ٹوکا
اوکے پھر کل سمجھ لونگی اوکے…فروا نے کہا
ہاں ٹھیک ہے…
جاو بیٹا تم آرام کرو…نایمہ بیگم نے اسے بولا تو وہ فورا وہاں سے اٹھ گیی
***
جب سلمان کمرے میں پہنچا تو اسنے دیکھا اوپر تک کمفرٹر اوڑھے وہ لیٹی ہوی
دانیہ…اسنے اسے آواز دی لیکن جواب نہیں آیا
دانیہ ٹیبلٹ لی…ابھی بھی کوی جواب نہیں آیا
سو گیی ہو…سلمان نے دوبارہ آواز دی
دانیہ اٹھی ہوی تھی لیکن پھر بھی جواب نہیں دیا اسے میرا دل دکھایا ہے نا اب میں بھی بات نہیں کرونگی یہ سوچتے ہی سونے کی کوشش کرنے لگی
شاید سوگیی…خود سے کہتا چینج کرکے سونے لیٹ گیا
اسکو اپنے کیے پر افسوس تھا لیکن اسے یہ بھی یقین تھا کہ دانیہ مان جایگی پر اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اب نخرے اٹھانے کی باری اسکی ہے
***
صبح جب سلمان اٹھا تو وہ روم میں نہیں تھی نا ہی واشروم میں تھی شاید آج جلدی تیار ہوگیی یہ سوچتے ہی خود اٹھ کر آفس کی تیاری کرنے لگا
نیچے آکر دیکھا تو وہ ناشتہ کرنے مصروف تھی اور ساتھ فروا بھی تھی باقی نایمہ بیگم کچن میں اور معراج صاحب لان میں پودوں کو پانی دے رہے تھے
دانیہ اب سر کا درد کیسا ہے تمہارا…اسنے کرسی پر بیٹھتے ہوے پوچھا
جی ٹھیک ہے اب…اسنے ایک نظر دیکھ کر جواب دیا اور اپنے کھانے میں مصروف ہوگیی
ماما میرا پواینٹ آگیا ہے میں جارہی ہوں…کچن میں کھڑی نایمہ بیگم کو کہہ کر ایک نظر سلمان کو دیکھ کر نکل گیی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
اچھا جاو آرام سے…نایمہ بیگم نے آواز کچن سے ہی آواز لگای
سلمان اپنا ناشتہ چھوڑکر اسکے پیچھے بھاگا لیکن ناکام رہا کیونکہ وہ جاچکی تھی
بہت تیز ہے یار ہے بات کرنے تک کا بھی موقعہ نہیں دے رہی چلو آوگی تو تم میرے پاس ہی کتنا بھاگوگی مجھ سے…وہ سوچتا سر جھٹک کر واپس اندر چلا گیا
***
مسلسل دو دن سے اسے اگنور کررہی تھی یا تو جلدی سو جاتی یا پھر فروا کے روم سے رات دیر سے آتی جب تک وہ اسکا انتظار کرتے کرتے سو جاتا پھر ہی روم میں آتی اور صبح بھی جلدی اسکے اٹھنے سے پہلے ہی تیار ہوکر ناشتہ بنانے چلی جاتی اور یونی کیلیے بغیر اس سے بات کیے چلی جاتی
***
آج جب دانیہ روم میں وہی اپنے وقت پر آی تو پہلے ہی سو رہا تھا لایٹس آف کرکے اپنی سایڈ پر آکر لیٹ گیی
جیسے ہی اسکی آنکھ لگنے ہی والی تھی کے فورا سلمان نے اسے اپنے پاس کھینچا وہ اس حملے کےلیے تیار نا تھی تو فورا اسکی ہلکی سی چیخ نکلی
شش لڑکی چیخو نہیں…سلمان نے اسکے کان کے پاس اپنے ہونٹ لے جا کر بولا جیسے ہی سلمان کے ہونٹ اسکے کان کی لو سے ٹکراے تو فورا اسے اپنے جسم پر سا لگتا محسوس ہوا
آپ سوے نہیں ابھی تک…اسنے حیرت سے پوچھا کیونکہ جب وہ آی تھی تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کے وہ بے خبر سو رہا ہے
اچھٹ تو تم اسی بات کا فایدہ اٹھا کر دیر سے آتی تھی نا کے میں سو چکا ہونگا…یہ کہہ کر سلمان نے اسے اور قریب کیا
سل…سلمان کیا کررہے ہیں چھوڑیں…اسنے سلمان سے اپنا ہاتھ چھوڑوانا چاہا
کیوں مجھ سے بھاگتی پھررہی ہو…سلمان نے اسکے منہ پر آتے بال کان کے پیچھے کرتے ہوے پوچھا
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی سلمان…چھچھ…چھوڑیں مجھے…دانیہ نے خفگی سے کہا
آی ایم سوری دانی…مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگیی کہ میں نے نا چاہتے ہوے بھی تم پر شک کیا جو آنکھوں سے دیکھا اسے سچ مان لیا…آی ایم رییلی سوری
سلمان کے لہجے سے لگ رہا تھا کے وہ واقع شرمندہ ہے
سلمان آپنے مجھ پر الزام لگایا تھا کے میں کسی اور نامحرم لڑکے سے…اسکو بریک لگا
میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی آپکے علاوہ کسی اور کا…وہ آگے بھی بولی اور ساتھ میں اسکی آنکھوں میں نمی تھی جو سلمان نے محسوس کیا
دانی آی ایم سو سوری آیندہ ایسا کبھی نہیں کرونگا اور تم مجھے ہستی ہوی نظر آو کبھی تمہاری یہ آنکھیں جن کٹ میں دیوانہ ہوں ان میں آنسوں نا دکھے کبھی مجھے…سلمان نے اسکی آنکھوں کو پیار سے پہلی بار چھوتے ہوے کہا
اسکے اس اظہار پر دانیہ جی جان سے خوش ہوی اسکی آنکھیں مسکرای جس جو دیکھتے ہوے سلمان نے انہیں اپنے لبوں سے چھوا دانیہ اسکے لمس پر اچانک بوکھلا گیی
پتا ہے دانیہ جس پر میں نے سب سے زیادہ بھروسہ کیا تھا اسنے مجھے دھوکہ دیا ماہم سے میں نے محبت کی تھی اسنے میرء ساتھ بےوفای کی وہ تو میری نفرت کے بھی قابل نہیں تھی صرف اسکی وجہ سے مجھے ہر لڑکی سے نفرت ہونے لگی مجھے ہر لڑکی میں ایک فریب نظر آنے لگا میں سمجھ نے لگا تھا کہ ساری لڑکیاں ایک جیسی یوتی ہیں لیکن پھر تم آییں میری زندگی میں اور تم نے مجھے بتایا اپنے انداز سے اپنے رویے سے کہ جیسے ہر لڑکا ایک جیسا نہیں ہوتا ویسے ہی ہر لڑکی ایک جیسی نہیں ہوتی میری زندگی میں آکر مجھے زندگی کی طرف دوبارہ لانے کیلیے شکریہ…سلمان نے اپنا دل کھول لر اسکے آگے رکھ دیا تھا
سلمان…دانیہ نے اسے آہستہ سے پکارا
جی جان سلمان… سلمان نے اسے پہلی بار ایسا کہا تھا جسے سن کر دانیہ کا دل زور سے دھڑکا
مجھے نیند آرہی…
لیکن مجھے نیند نہیں آرہی…سلمان نے معنی خیزی سے اسے دیکھتے آنکھوں میں شرارت لیے کہا جسے دانیہ فورا سمجھ گیی
سلمان پلیز مجھ…مجھے کل یونی جانا ہے…دانیہ سے اسکی آنکھوں میں دیکھا نہیں جارہا تھا
یار یہ تمہاری یونی ختم ہونے میں کتنا ٹایم ہے اب…سلمان بدمزہ ہوکر بولا
ایک مہینہ باقی ہے…وہ دور ہوکر بولی
جہاں اتنا انتظار کیا ہے وہاں یہ ایک مہینہ اور کرلینگے پھر ماما بابا کو گرینڈ پیرینٹس بھی تو بنانا ہے…سلمان کے اتنا بےباکی ہر کہتے وہ شرم سے لال ہوگیی
ابھی کیوں شرمارہی ہو ابھی ایک مہینے کا ٹایم دیا ہے میں نے تمہیں اچھی طرح سے ہیپرز کی تیاری کرلو اور شرما لو…وہ شرارت سے بولا
سلمان مجھے نیند آرہی ہے سونے دیں…دانیہ نے اسکے بازو پر ہلکی سی چپت لگای تو سلمان اسکے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ کر آنکھیں موند گیا
تیرا یقین کیوں میں نے کیا نہیں تجھسے رہا کیوں جدا
مجھ پہ یہ زندگی کرتی رہی ستم تو نے ہی دی ہے پناہ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: