Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 13

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 13

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 13

–**–**–

صبح جب دانیہ کی آنکھ دیر سےکھلی تو اسنے اپنے آپ کو سلمان کے بازووں میں پایا دیر سے اٹھنے کی وجہ سے یونی سے بھی آف ہوگیا تھا اسنے سلمان کو دیکھا جو بے خبر سورہا تھا دانیہ نے سلمان کے چہرے کو غور سے دیکھا کھڑے نقش جس پر کھڑی مغرور ناک اور ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ وہ اسکا چہرا دیکھنے میں اتنی مصروف تھی کہ اسمیں کھوسی گیی تھی تو اچانک سلمان کی آنکھ کھل گیی سلمان کی آنکھ اپنے چہرے پر دانیہ کی نظروں کی تپش کی وجہ سے کھلی تو دانیہ ایک دم گڑبڑا کر اٹھنے لگی تو فورا ہی سلمان نے اسے بازو سے پکڑکر کھینچا کہ وہ اسکے اوپر گر گیی
پہلے دیکھ رہی تھیں اور اب بھاگ رہی ہو اب بھی دیکھ لو منع نہیں کررہا…سلمان نے اسے دیکھتے شرارت سے کہا
مم…میں تو نہیں دیکھ رہی تھی…پکڑے جانے پر وہ گڑبڑا گیی
اچھا چلو تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں…اسنے کہتے دانیہ کے بالوں میں پگا کیچر کھولا جس کی وجہ سے سارے بال کھل کر سلمان کے اوپر بھکر گیے
سلمان سب انتظار کررہے ہونگے دیر ہوگیی ہے ہمیں…دانیہ نے اپنے بال پیچھے کرتے ہوے کہا جسکو سلمان نے ناکام بنادیا
نہیں کرتا کوی انتظار…سلمان نے اسکے بال کان کے پیچھے کیے
سلمان چھوڑیں…دانیہ نے اٹھنا چاہا
اگر نا چھوڑوں تو…سلمان نے اسکی کمر پر اپنا ایک بازو باندھ دیا
سل…سلمان چھوڑیں پلیز…دانیہ دوبارہ کسمسای
سلمان نے اسکے اتنا کہنے پر اسکے ہونٹوں پر اپنے لب ہلکے سے رکھے اور اسے چھوڑ دیا اسکی اس حرکت پر دانیہ کی اپنی تیز چلتی سانسوں کو کنٹرول کرتی اٹھی اور اپنے کپڑے لیے واشروم میں بند ہوگیی اور سلمان نے بھی اسکے جاتے ہی اپنا فون اٹھایا اور دوبارہ لیٹ کر استعمال کرنے لگا
***
سلمان آپ ابھی تک نہیں اٹھے…دانیہ جب واشروم سے شاور لے کر نکلی تو اسنے دیکھا کہ سلمان ابھی بھی فون میں گھساہواہے
ہاں بس اٹھ رہا ہوں ایک میل آنی تھی وہی چیک کررہا تھا…وہ یہ کہتا اٹھ گیا اور وارڈراب سے اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گیا
جب وہ باہر آیا تو دیکھا کے دانیہ ابھی تک اپنے بال ڈراے کررہی تھی
مجھے تو ایسے بول رہی تھی کہ دیر ہورہی ہے اور اب خود آرام سے تیار ہورہی ہو یا میرا انتظار تھا…سلمان نے اسکے پیچھے آکر بولا
ہاہاہا اچھی خوش فہمی ہے آپکی مسٹر سلمان میں اپنے بال ڈراے کررہی تھی اسلیے لیٹ ہوگیی…دانیہ نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر کہا
خوش فہمی نہیں مجھے اس بات کا یقین ہے…سلمان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سے لگا کر کہا
سلمان کیا کرہے ہیں چھوڑیں دیر ہو رہی ہے…دانیہ نے بوکھلا کر کہا
ہاہاہا اب دیر ہورہی ہے…یہ کہہ کر سلمان نے اسکے بالوں میں اپنا چہرا چھپا کر اسکی شیمپو اور کنڈشنر کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
دانیہ نے سلمان کے پیٹ میں اپنی کہنی ماری اسکو پیچھے ہٹانے کیلیے جس میں وہ کامیاب ہوگیی اور سلمان نے جیسے ہی اسے چھوڑا وہ اسکے پاس سے نکل کر الگ ہوی
آہ ظالم لڑکی…یہ کہتا سلمان نے اپنے بال بناے اور وہ بھی دانیہ کے پیچھے ہی نیچے چل دیا
***
جب وہ دونوں نیچے اتر رہے تھے تو دانیہ سلمان کی کسی بات پر دانیہ اسے دیکھ کر مسکرارہی تھی اور ساتھ میں سلمان بھی اسے دیکھے مسکرارہا تھا یہ منظر جب نایمہ بیگم ہی دیکھ سکی کیوں کہ جس کرسی پر وہ بیٹھی تھیں وہاں سے سیڑھیاں صاف نظر آرہی تھیں یہ دیکھ کر مسکراہٹ انکے بھی چہرے کو جھول گیی اور انکی مسکراہٹ ایسی ہی قایم رہے اسکی دعایں دینے لگیں جب تک وہ دونوں آچکے تھے ٹیبل پر دونوں نے مل کر سلام کیا
وعلیکم السلام…نایمہ بیگم اور معراج صاحب نے جواب دیا
سلمان نایمہ بیگم کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا اور دانیہ اسکے سامنے فروا کے برابر والی چییر کھسکا کر بیٹھ گیی فروا کے پاس بیٹھنے پر دانیہ کو سلمان نے ایک گھوری سے نوازہ جیسے بول رہا ہو جیسے میرے پاس آکر بیٹھو اسکی آنکھوں کا اشارہ سمجھ کر دانیہ نے اپنی نظریں وہاں سے ہٹا کر اپنے لیے پراٹھا لینے لگی
دانیہ مجھے بھی دو میں بھی آج پراٹھا ہی کھاونگا…سلمان نے آج پہلی دفعہ دانیہ سے ناشتہ مانگا تھا ورنہ شادی کے بعد بھی نایمہ بیگم ہی اسے ناشتہ اور کھانا صرف کرتی تھیں یہ سن کر معراج صاحب اور فروا جہاں سلمان کی چینجنگ پر اسے حیرت سے دیکھا تو وہیں نایمہ بیگم کے دل سے دونوں کی خوشیوں کیلیے دعایں نکلی
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ لوگ…سلمان نے جب دیکھا تو دونوں اسی کو دیکھ رہے تھے اور نایمہ بیگم مسکرارہی تھیں
فروا زرا دیکھنا باہر جاکر سورج کہیں مغرب سے تو نہیں نکلا نا ہمارے نکچڑے میں یہ چینجنگ کیا جادو وادو تو نہیں ہوگیا…یہی تھا ان بات بیٹے کا پیار دونوں شروع سے ہی ایک دوسرے سے بہت فرینک تھے
کیا بابا میں نے اپنی بیوی سے ہی لیا ہے نا ناشتہ آج…سلمان نے بھی انہیں انکے ہی اسٹایل میں جواب دیا
بھابھی کونسا جادو کردیا ہے بھای جو اچانک ہی چینج ہوگیے…فروا نے بہت آہستہ سے کہا لیکن سب سن چکے تھے
فروا کیا بول رہی ہو چپ کرو کوی جادو نہیں کیا میں نے تمہارے بھای پر…دانیہ اسکی بات پر جھینپ گیی تھی
اچھا اب سب ناشتہ کرو خاموشی سے اور سلمان آفس بھی جانا ہے یا نہیں آج لیٹ ہوگیے ہو تم…معراج صاحب اب بلکل سییریس ہوکر بولے
جی بابا جانا ہے آفس بلکل…اور میں سوچ رہا تھا کے کافی ٹایم ہوگیا ہے کیوں نا آج کا ڈنر ہم سب باہر کریں…سلمان نے اپنا پلین سب جو بتایا جس پر فروا نے تو فورا کہا ہاں بھای چلیں گے ویسے بھی کافی ٹایم سے ہم سب ساتھ نہیں گیےتو وہیں پر معراج صاحب اور نایمہ بیگم نے منع کردیا کے ہم میں سے کوی نہیں جاییگا صرف تم دونوں جاوگے شادی کے بعد سے اتنا ٹایم ہوگیا ہے کہیں نہیں گیے تم دونوں…جس پر دانیہ نے سلمان نے فروا کو ساتھ لے کر جانے کا اتنا کہا تو دونوں نے منع کردیا کہ اسکو پھر کبھی لے جانا لیکن آج جاو اور صرف تم دونوں جاوگے ساتھ تو پھر آخر میں بڑوں کی بات مان کر دونوں خاموش ہرگیے…
***
ہیلو…دانیہ کا فون روم تھا جب وہ واپس آی تو سلمان کی غ مس کالز تھیں اوراسکے سنے کے بعد دوبارہ کال آی اسنے آتے ہی کال اٹھای
کہاں تھیں یار تم کب سے کالز کررہا ہوں.. سلمان نے پریشانی سے پوچھا
کچن میں تھی کھانا بنارہی تھی خیریت تو ہے کوی ضروری بات کرنی ہے…دانیہ نے جواب دے کر اتنی کالز دیکھ کر پریشانی سے پوچھا
مطلب میں اپنی وایف سے بات بھی نہیں کرسکتا کیا ہر وقت کوی کام ہی ہوگا مجھے تم سے…سلمان خفگی سے بولا
حد ہوگی ہے سلمان آپ نے ایسی بات کرنے کیلیے فون کیا ہے آفس میں ہیں آپ کام کریں اور مجھے بھی کردینے دیں…دانیہ نے اسے کہا
نہیں مجھے کام نہیں ہے ابھی فری ہوں تو تم مجھ سے بات کرو…سلمان نے فرمایش کی
سلمان بچوں کی طرح ریکٹ نہ کویں آپ مجھے کام ہے کھانا بنانا ہے جلدی آجایے گا پھر کرلیں گے باتیں جتنی کرنی ہوں اوکے…دانیہ نے اسے سمجھانا چاہا
اچھا ٹھیک ہے میں پھر جلدی آجاونگا ریڈی رہنا پھر شاپنگ پر بھی چلینگے…اسکی بات مانتے ہوے سلمان نے کہا
ایک منٹ—شاپنگ کس لیے…دانیہ نے پوچھا
تمہارے لیے ڈریس لینا ہے اور اپنے لیے بھی ویسے بھی تمہاری دوست کا نکاح بھی ہے اور میرے فرینڈ کی طرف سے بھی انویٹیشن آیا ہے اسکی شادی کا…سلمان نے اسے وضاحت. دی
وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن میرے پاس بہت سے ڈریسز ہیں نیو تو مجھے ضرورت نہیں ہے…دانیہ نے صاف لفظوں میں انکار کیا
ٹھیک ہے تمہارے پاس ہیں لیکن مجھے تو اپنے لیے لینے ہیں ہاں…تو چلنا ہے بس
سلمان نے یہ کہا اور خدا حافظ کہہ کر فون رکھ دیا
***
وہ دونوں شاپنگ مال میں گھوم رہے تھے آج دانیہ بہت خوش تھی کیونکہ وہ سلمان کے ساتھ پہلی مرتبہ شاپنگ کرنے آی تھی یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کہیں باہر گھوم نے آی تھی سلمان نے اپنے لیے شاپنگ کی اور کسی نا کسی بہانے سے لیڈیز بوتیک میں جا کر اپنے پسند کے دو ڈریسز دانیہ کے منع کرنے کے باوجود اسنے لے لیے
دانیہ تم میری زمہ داری ہو میری خوشی کےلیے بھی یہ نہیں لے سکتیں…اب وہ دونوں جیولری شوپ میں تھے تو سلمان نے دانیہ کی لیے خوبصورت سا گولڈ کا نیکلس پسند کیا جسکو دانیہ نے یہ کہہ کر منع کررہی تھی کے مجھے ضرورت نہیں ٹن سب کی جس پر سلمان نے پیار اسے کہٹ تو ہاں میں سر ہلاکر چپ ہوگیی
اسکے بعد ان دونوں نے ڈریسز سے میچنگ کی سینڈیلز لیں اور سلمان نے اپنے ڈریس کے ساتھ شوز پسند کیے اور پھر ریسٹورنٹ میں جاکر خوش گوار ماحول میں ڈنر کرکے واپس گھر آرہے تھے
تو کب ہے آپ کے دوست کی شادی…گاڑی میں خاموشی تھی تو اس خاموشی کو دانیہ نے ختم کیا
ابھی تو اسکی شادی میں ایک ماہ ہے پورا…سلمان نے بہت اطمینان سے اسے جواب دیا
ایک ماہ ہے ابھی آپ نے شاپنگ تو ایسے کی ہے جیسے کل ہی ہو انکی شادی…دانیہ نے حیرت سے بھرے لہجے میں بولا
اچھا تو کیا مطلب ہمارا حق نہیں ہے اپنے دوستوں کی شادی کی اکسایٹمنٹ کا تم لڑکیاں بھی تو یہی کرتی ہو دوست کی شادی سے دو ماہ پہلے ہی تیاریاں شروع کردیتے ہو ہم لڑکے بھی ایسے ہی کرتے ہیں…سلمان نے بڑے مزے سے یہ بات کی جس پر دانیہ کا گاڑی میں ہی قہقہ گونجا
مطلب سیریسلی سلمان آپ نے ایسے ہی شاپنگ کرلی…ہاہاہا…
کیا یار دانی میرا مزاق اڑارہی ہو تم…سلمان نے معصومیت سے کہا
نہیں نہیں میں کیوں مزاق اڑانے لگی آپ کا…دانیہ نے اپنی ہنسی کنٹرول کی
میں نہیں کررہا بات تم سے…سلمان نے خفگی سے کہا
اچھا نا سوری سلمان میں نہیں کررہی ایسا سوسوری…دانیہ نے اسے بازو سے پکڑکر جھنجھوڑا
اچھا چلو معاف کیا تمہیں…سلمان نے بھی ایٹیڈیوڈ سے کہا جیسے احسان کررہا ہو
ہاں مجھے پتا تھا آپ کردیں گے مجھے معاف…دانیہ نے مسکراکر اپنی آتی ہنسی کو کنٹرول کرنا چاہا
اتنے پیار سے معافی مانگوگی تو میں نے پھر تا معاف کرنا ہی تھا تمہیں…سلمان نے اپنے بازو پر نظریں ٹکا کر اسکے ہاتھ کی طرف متوجہ کروایا جو ابھی تک سلمان کے بازووں پر ہی تھا
اسکی اس بات پر دانیہ نے اپنی حرکت پر شرمندہ ہوکر ٹپنا ہٹتھ ہٹانا چاہا تو سلمان نے فورا اسکا ہاتھ پکڑلیا اور اپنے ہونٹوں تک لے جاکر اسکا ہاتھ چوما جس پر دانیہ فورا بوکھلا کر اپنا ہاتھ چھوڑوانا چاہا لیکن ناکام
کیا کررہے ہیں سلمان چھوڑیں ہم گاڑی میں ہیں یہ بیڈروم نہیں ہے…دانیہ نے بوکھلا کر کہہ تو دیا لیکن بیڈروم والی بات پر اپنی زبان کو دانتوں تلے دبادیا
اچھا تو تم چاہتی ہو کہ میں یہ سب اپنے بیڈروم جا کر کروں اوکے تو تمہاری یہ بات بھی مان لونگا…سلمان نے شرارت سے کہا
نن…نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا….دانیہ اسکی اس بات ایک دم گھبرا گیء
تو پھر کیا مطلب تھا…اب سلمان کو اسکو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا
کوی مطلب نہیں تھا میرا آپ ڈرایونگ پر توجہ دیں اپنی… دانیہ نے چڑکر کہا
تو سلمان بھی ہنس کر خاموشی سے ڈرایوو کرتا رہا لیکن دانیہ کا ہاتھ ابھی بھی سلمان کے ہاتھ میں تھا اور دانیہ نے بھی نہیں چھڑوایا تھا اسے بھی سلمان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھ کر سکون سا مل رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: