Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 15

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 15

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 15

–**–**–

آج اتوار کا دن تھا جب رافعیہ اور مزمل کے نکاح میں سے تھے
السلام وعلیکم… دانیہ نے سب کو سلام کیا
دانیہ نے ہال کے برایڈل روم جا اپنی دوستوں سے ملنے گیی تو سلمان مزمل کو دیکھ کر اسی پاس چلا گیا کیونکہ اس سے ہی ملا ہوا باقی وہاں کسی کو بھی نہیں جانتا تھا
ارے وعلیکم السلام بڑے بڑے لوگ آے ہیں بھیی…سب نے سلام کا جواب دیا پھر عایشہ نے اسے آنکھ مار کر کہا
شٹ اپ عاشی کوی بڑے بڑے لوگ نہیں میں وہی تم لوگوں کی دانی ہی ہوں…دانیہ نے چڑکر بولا
ہاں یار یہ وہی ہماری دانی ہی ہے… مرہا نے اسکا ساتھ دیا
کس کے ساتھ آی ہو دانی…رافعیہ نے اس سے پوچھا
کیا مطلب کس کے ساتھ بھیی سلمان کے ساتھ ہی آی ہوں…سلمان کے نام پر چہرے پر آنے والا بلش سب نے دیکھا
اہممم…بلشنگ بلشنگ…عایشہ پھر سے چھیڑا اسے
یار پلیز عایشہ تنگ نہیں کرو…دانیہ نے مصنوعی غصے سے کہا
اچھا نہیں کرتی تنگ یہ بتاو کے سلمان بھای کا رویہ کیسا ہے…عایشہ نے اب بلکل سیریس ہوکر پوچھا
بہت اچھا ہے اب تو…دانیہ نے ان سب کو مزمل کے علاوہ والی ساری بات بتای ہوی تھی اسلیے ان سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں تھا
دانیہ نے مزمل والی بات اسلیے نہیں بتای کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی پرسنل بات کسی سے بھی شییر کرے اور باقی رویہ کا ان لوگوں اس لیے علم تھا کہ ماہم کے بعد دانیہ کے ساتھ کیسا رویہ ہوتا ہے اسکا
چلو یار یہ تو اچھی بات ہے ماشاءاللہ…مرہا نے کہا تو سب نے بھی ماشاءاللہ بول کر اسکو دعایں دیں تبھی وہاں مولوی صاحب آگیے نکاک پڑھایا اور پھر باہر جاکر مزمل کی بھی رضا مندی کے بعد رافعیہ کو باہر مزمل کے پاس بہٹھا دیا گیا
سلمان کی مزمل سے اچھی خاصی دوستی ہوگیی تھی سلمان نے مزمل سے اپنے پہلی دفعہ ملنے والے رویہ کی معافی یہ کہہ کر مانگی کہ وہ سمجھا کہ اسکا کوی پرانا دوست تھا جس سے اسکی ابھی لڑای ہے یا دوستی ختم ہوچکی ہے تو مزمل نے بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرکے بات کو ختم کیا
ان سب نے اسٹیج پر اچھی خاصی گپ شپ کی سلمان نے بھی سب سے بہت اچھے سے بات کی دانیہ کو بہت اچھا لگ رہا تھا کہ وہ اسکی فرینڈز کے ساتھ بلکل ایسے بات کررہا تھا جیسے وہ فروا سے کرتا ہے ایک اچھا ایونٹ گزارنے کے بعد وہ سب اپنے اپنے گھر کو روانہ ہوگیے…
***
وقت گزرتا جارہا تھا آج دانیہ کا آخری پیپر تھا جو کہ وہ دے کر آی تھی
بھابھی کیا بن رہا ہے آج کھانے میں…دانیہ اور فروا ٹی وی دیکھ رہے تھے جب فروا نے دانیہ سے پوچھا جو ابھی رات کیلیے کھانا چڑھاکر آی تھی
بیف قورمہ…دانیہ نے منہ بنا کر جواب دیا
آپکو بھی نہیں پسند بیف قورمہ…فروا نے اس سے پوچھا تو اسنے ناں میں سر ہلایا
یہ تو اچھا ہے نا مجھے بھی نہیں پسند—تو کیا خیال ہے کچھ آرڈر کریں باہر سے…فروا نے اسے مسکراتے ہوے کہا
یار کوی نہیں کرنے دیگا…دانیہ نے افسوس سے کہا
کیوں نہیں کرنے دیگا— ہم کرینگے لیکن کسی کو بھی بتاینگے نہیں…فروا نے شرارت سے اسے دیکھتے کہا
کیسے…دانیی نے جستجو سے کہا
فروا نے اپنے دماغ میں جو بھی پلینگ تھی وہ دانیہ کو بتا ڈالی جس دانیہ اور فروا نے خوش ہوتے آپس میں تالی ماری
لیکن ایک کام کرتے ہیں ابھی چاے کے ساتھ کچھ اسنیکس کھالیتے ہیں تاکہ ہمیں کوی کھانے کا بولے تو ہم ثبوت کے طور پر بہانا تو بنا سکیں کہ ہمیں ابھی بھوک نہیں ہے…دانیہ نے اسے تفصیل سے بتایا
ارے واہ بھابھی یہ تو اچھا پلین ہے…فروا نے خوشی سے کہا تو دانیہ چاے بنانے کیلیے اٹھ گیی…
***
سلمان صاحب آپسے کوی ملنے آیا ہے…سلمان جب اسٹڈی روم میں بیٹھ کر اپنا آفس کا کام کررہا تھا تب چوکیدار اسے بلانے آیا
کون آیا ہے بابا…سلمان نے پوچھا
پتا نہیں انہوں نے بتایا نہیں مینے پوچھا بھی تھا تو کہہ رہے ہیں کہ بس آپکو دروازے پر ہی بلادیں…چوکیدار نے اسے پوری تفصیل بتادی تاکہ وہ آگے کوی سوال نا پوچھے
اچھا میں آرہا ہوں پتا نہیں ایسا کون ہے جو اندر ہی نہیں آرہا…سلمان جستجو سے بولتے اسکے پیچھے چل دیا
سلمان جب گھر کے مین گیٹ پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پیزاڈیلیوری والا کھڑا تھا
یہ پیزاڈیلیوری والا یہاں کیا کررہا ہے اور مجھ سے ملنے کیوں آیا ہے…سلمان یہ سوچتے ہوے اس سے ملنے گیا
سر آپکا آرڈر…ڈیلیوری بواے نے کہا
میرا آرڈر…سلمان نے حیرانگی سے پوچھا
جی سر آپکے نام سے ہمیں آرڈر ملا تھا اب آپ اپنا آرڈر ریسیو کرلیں اور پےمنٹ بھی کردیں…ڈیلیوری بواے نے اطمینان سے کہا
یار مینے جب آرڈر دیا ہی نہیں تو میں کیوں ریسیو کروں…سلمان نے بہت آرام سے اس سے کہا لیکن پھر دماغ کے کام کرنے پر اور فروا اور دانیہ کے کھانا نا کھانے پر سب کڑیاں سلجھتی چلی گییں
اچھا آپ بتایں کتنے پیسے ہوے اور یہ آرڈر دیں دیں مجھے…سلمان نے کہا یہ کہہ کر اسنے چوکیدار بابا کو دیکھا جو ان دونوں کے ساتھ دینے پر اپنی نظریں چرا کر وہاں سے چلا گیا
سلمان پیزا اور کولڈ ڈرنک لے کر جب واپس اندر آرہا تو اندر کے دروازے پر ایک جگہ دانیہ اور دوسری جگہ فروا کھڑی تھی تو ان دونوں کو نظر انداز کرکے اندر جانے لگا
بھای یہ ہمارا ہے کہاں جارہے ہیں آپ یہ لے کر…پیچھے سے فروا نے آواز لگای تو وہ وہیں رک کر پیچھے مڑا تو دیکھا دونوں اسکے بلکل پیچھے ہی کھڑی تھیں
ایکس کیوز می یہ آرڈر مینے کیا تھا تو آپ دونوں کا کیسے ہوگیا…سلمان نے جتنے اطمینان سے یہ بات کہی اتنے ہی حیرت کے جھٹکے ان دونوں کو لگے
کی نہیں یہ آرڈر ہم نے کیا تھا وہ الگ بات ہے کہ نام آپکا لیا اور پے منٹ آپنے کی مسٹر سلمان…اب کی بار دانیہ بولی
چلو مان لیتے ہیں لیکن اب یہ میرا ہوا اوکے مسسز سلمان…سلمان نے بھی اسکے ہی انداز میں جواب دیا
اچھااااا آپکا….دانیہ نے آنکھوں میں شرارت لیے یہ کہا اور پیزا کا بوکس جو کہ سلمان نے اپنے دایں ہاتھ میں پکڑ رکھا اور دانیہ بھی دایں جانب ہی کھڑی تھی اسکے ہاتھ سے چھینا اور بھاگی یہ دیکھ کر سلمان نے اسکی طرف دیکھا تو فروا اسکی چلاکی سمجھ کر اس نے سلمان کے بایں ہاتھ میں ہاتھ میں پکڑی کولڈ ڈرنک کی بوتل اس سے چھینی اور وہ بھی بھاگی اور پھر دونوں جا کر فروا کے کمرے میں بند ہوگییں جب تک سلمان کو ہوش آیا انکی بات سمجھنے کے بعد وہ بھی انکے پیچھا بھاگا لیکن تب تک وہ دونوں دروازہ بند کرچکی تھیں
دانیہ فروا دروازہ کھولو یار مجھے بھی کھانا ہے پیزا میں نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا…سلمان نے دروازہ بجا کر کہا
تو بھای ہم نے کہا تھا کیا آپسے نہیں کھایں کھانا…فروا نے اندر سے آواز لگای
اچھا بیٹا بھابھی کے آتے ہی بھای کو بھول گییں…سلمان نے شکوہ کیا
نہیں آپکو نہیں بھولی لیکن بھابھی کی بات بہت الگ ہے…دوبارہ فروا نے دانیہ کی سایڈ لی
اچھا یار تمہاری بھابھی اچھی ہیں اب تو دروازہ کھولو بہت بھوک لگ رہی ہے…سلمان نے ہار مان لی
فروا کھول دو یار…ابکی بار دانیہ نے بھی کہا
اچھا بھابھی آپ بولتی ہیں تو کھول رہی ہوں…فروا نے سلمان کو سنانے کیلیے اور زور سے آواز لگای
اچھا بچو اندر آنے دو زرا پھر بتاتا ہوں بھابھی کی چمچی…سلمان نے بھی تپ کرکہا
اب آپ ایسے دھمکی دینگے تو میں نہیں کھول رہی…
اچھا نہیں کررہا یار کچھ بھی کھول دو اب…سلمان نے دوبارہ ہار مان لی تھی تو فروا نے بھی دروازہ کھول اور تینوں نے مل کر پیزا کھایا سلمان تو ڈنر کرکے فورا کمرے میں چلاگیا لیکن دانیہ کو فروا نے روک لیا تھا کیونکہ دانیہ اسکو اسٹڈیز میں اچھی ہیلپ کر دیتی ہے اسلیے
***
دانیہ جب روم میں آی تو سلمان روم میں نہیں تھا شاید واشروم میں تھا یہ سوچ کر وہ کمرے کے اندر آکر دروازہ بند کیا ہی تھا کہ پیچھے سے سلمان نے اسے پکڑا
آآآ سلمان…اسکی چیخ نکلی
ارے لڑکی کیوں چیخ رہی ہو سب کو دعوت دوگی کیا…سلمان نے ہلکے سے کہا
تو آپ بھی تو کیا کررہے ہیں چھوڑیں…دانیہ نے اپنا آپ اس سے چھڑوانا چاہا
کیوں چھوڑوں ہاں—کیسے پیزا لے کر بھاگی تھیں ہاں— میرے ہوتے ہوے فروا کا ساتھ دیا اب تو تمہیں نہیں چھوڑوں گا…سلمان نے کہا
اچھا نا سوری اب نہیں کرونگی ایسا اور ویسے بھی فروا میری بہن ہے تو اسکا ساتھ دونگی نا…دانیہ نے بھی اسکو چھیڑا
اچھا ٹھیک ہے وہ بہن ہے اور میں کون ہوں—شوہر ہوں نا تمہارہ تو اب نہیں بخشنے والا میں تمہیں… سلمان یہ کہتے ہوے اسکی دل کی دھڑکن میں اضافہ کر گیا
یہ کہہ کر اسے بیڈ پر لایا اور دانیہ کی رضامندی سے اس پر اپنی محبت کی بارش کرتا رہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: