Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 16

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 16

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 16

–**–**–

مل گیی فرصت تمہیں اپنی دوست سے…جب وہ ماہم کے جانے کے بعد روم میں آی تو سلمان نے غصے سے اسے دیکھ کر بولا
سلمان آ تو گیی ویسے بھی وہ بہت شرمندہ ہے وہ معا….
کس چیز کی معافی مانگ رہی تھی وہ…سلمان نے اسکی بات بیچ میں کاٹ کر بولا
سلمان پلیز وہ شرمندہ ہے…دانیہ پھر سے ماہم کیلیے بولی
تو سلما بغیر کچھ کہے بالکونی میں چلے گیا
سلمان کیا ہوگیا ہے آپکو اس طرح کیوں رییکٹ کررہے ہیں…دانیہ بھی اسکے پیچھے گیی
دیکھو دانیہ تمہیں آسان لگ رہا ہوگا اسے معاف کرنا لیکن میں کیسے کردوں معاف جسکی وجہ سے میں اتنے دن تک اذیت میں تھا اپنے ماں باپ سے اتنے دن تک دور رہا تم سے کیسا رویہ تھا میرا پھر بھی مجھ سے بول رہی ہو کہ میں معاف کردوں—کیسے کردوں کیا اتنا آسان ہے…سلمان کرب سے بولا
سلمان ایک بات بتایں مجھے آپ—کہ جب ہم کوی غلطی کرتے ہیں کوی گناہ کرتے ہیں پھر اسکے بعد جب ہم اس گناہ پر شرمندہ ہوتے ہیں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے یہ غلط کیا ہے آیندہ ایسا نہیں کرینگے یہ ٹھان لیتے ہیں اس غلطی یا گناہ کو زندگی کا دیا ہوا ایک سبق تصور کرلیتے ہیں پھر ہم اپنی غلطی کی معافی مانگنے اس غلطی پر شرمندہ ہونے اور اس آیندہ ایسی کسی غلطی جو دوبارہ نا دوہرانے کا عہد وعدہ کرنے کس کے پاس جاتے ہیں اللہ کے پاس نا اور وہ ہمارے ایک ندامت کے ایک آنسوں پر ہمیں معاف کردیتا ہے بشرط یہ کہ وہ آنسوں دیکھاوے کا آنسوں نا ہو اسکے دل سے نکلا ہوا آنسوں ہو وہ ہمیں معاف کردیتا ہے اور اپنے بندوں کو بھی یہی حکم دیتا ہے کہ وہ اسکے بندوں کی ہر غلطی پر اسے معاف کردیں اگر وہ آپ سے سچے دل سے معافی مانگ رہے ہوں اور سلمان ماہم بھی تو سچے دل اے معافی مانگ رہی ہے تو آپ اسے بھی معاف کردیں…دانیہ نے بہت پیار سے اسے سمجھارہی تھی اور سلمان اسکے ایک ایک کہے گیے لفظ کو بہت غور سے سن رہا تھا لیکن ماہم کا نام آتے ہی دوبارہ اسکی رگیں تن گییں
وہ معافی نہیں مانگ رہی تھی مجھ سے وہ جو کہہ رہی تھی وہ میں مر کر بھی نہیں کر سکتا دانیہ…سلمان نے اسے دیکھتےبولا
ہاں لیکن وہ جب یہ نہیں جانتی تھی کہ آپکی شادی مجھ سے ہوگیی ہے لیکن اب وہ اپنی کہی گیی بات پر بہت شرمندہ ہے…
دانیہ میں ایک انسان ہوں میرا اتنا بڑا ظرف نہیں ہے کہ میں ایک ایسے انسان کو معاف کردوں جسنے مجھے دھوکہ دیا…
سلمان میں بھی تو ایک انسان ہوں کیا میں نے آپکے یر رویے ہر غلط بیہیویر پر کوی رییکٹ کیا یا آپنے معافی مانگی تو میں نے یہ کہا کہ میں ایسا نہیں کرسکتی میں آپکو معاف نہیں کرسکتی کیا ایسا میں نے کہا…دانیہ کو یہ بولنا اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن سمجھانا ضروری تھا
دانیہ تم—کہاں لا کر کھڑا کردیا تم نے مجھے…سلمان جھنجھلا کر بولا
کیا میں—اور کہاں لا کر کھڑا کیا میں…دانیہ آنکھیں سکیڑ کر بولی
اچھا جاو معاف کیا میں تمہاری دوست کو کیا یاد رکھوگی…سلمان نے احسان کرنے والے انداز میں بولا
او تھینک یو سو مچ سلمان…دانیہ نے خوشی سے کہا اور اسکے پیچھے اپنے ہاتھ لے جاکر اسے ہگ کرلیا
ایسا تھینک یو بولنا تھا تو پہلے ہی بتادیتیں کب کا تمہاری دوست جو معاف کرچکا ہوتا…سلمان نے اسکو کمر سے پکڑ کر اسکے پیچھے ہونے سے پہلے آنکھوں میں شرارت لیے بولا
سلمان آپ بھی نا فورا ہی رومینٹک ہوجاتے ہیں…دانیہ نے اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر فورا پیچھے ہوتے ہوی بولی جو کہ سلمان نے ناکام بنادی
***
ماہم نے آج سب دوستوں کو اپنے گھر میں بلایا تھا تاکہ اپنے رویے کی معافی مانگ سکے آنے کیلیے تو کوی تیار نہیں تھا لیکن دانیہ کے کہنے پر سب کو آنا پڑا اور دانیہ نے بھی سلمان سے اجازت لےلی تھی ماہم کی طرف آنے کی سلمان نے بھی ماہم کی ہر غلطی پر اسے معاف کردیا تھا کرتا بھی کیوں نہیں اسکے چھوڑنے پر ہی سلمان کو دانیہ جیسی سمجھدار اور پیار کرنے والی ساتھی ملی تھی
میں نے آج تم سب کو اس لیے بلایا ہے تاکہ میں تم لوگوں سے اپنے کیے کی اپنے رویے کی معافی مانگ سکوں مجھے پتا ہے کہ میں معافی کے لایق نہیں ہوں لیکن میں جانے انجانے میں تم سب کا بھی دل دکھایا تھا تو پلیز ہوسکے تو مجھے معاف کردینا…ماہم کے لہجے میں بہت شرمندگی تھی جو سب کو نظر آی
ماہم دیکھو یار غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے تم سے ہوی تم اپنی کی ہوی غلطی پر نادم ہو اور ویسے بھی تم نے ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی کوی زیادتی نہیں کی جس کے ساتھ کی جب وہ تمہیں معاف کرچکا ہے تو ہم سے کیوں معافی مانگ رہی ہو اور بس اللہ تعالی سے معافی مانگو اللہ پاک سب کو معاف کردیتا ہے…رافعیہ نے اسکے لہجے میں شرمندگی دیکھ کر اسے یقین دلایا کہ وہ ابھی بھی اسکی دوست ہے
ہاں تم بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو رافعیہ اور ویسے بھی اب ان سب باتوں کو چھوڑو یار ہم اتنے دن بعد ملے ہیں اب ایسی اداسی والی باتیں نا کرو پلیز…مرہا نے بھی رافعیہ کی ہاں میں ہاں ملا کر ماہم کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی
اور یار ماہم یہ کیا حال بنایا ہوا ہے اپنا تم نے کیا تھیں تم کیا حال کرلیا تم نے اپنا ایک ٹھوکر سے زندگی ختم نہیں ہوجاتی تم اب ہمیں پہلی والی ہماری ماہم دکھو…رافعیہ نے اسکی حالت دیکھ کر اسے دوبارہ سمجھایا
یار پہلے والی ماہم تو کہیں کھو گیی ہے لیکن اب جا ماہم ہے وہ صرف اپنی بیٹی کیلیے ہے مجھے بہت فکر رہتی ہے اسکی کیسے پالوں گی میں اسے میرے امی ابو خود میرے لیے پریشان ہوتے رہتے ہیں سوچ رہی ہوں کوی جاب دیکھ لوں تاکہ اپنی بیٹی کا پیٹ تو پال سکوں ابو بھی ریٹایر ہوگیے ہیں تو امی ابو پر بوجھ نہیں بننا چاہتی اب میں بس خود سے کچھ کرنا ہے اب اپنی بیٹی کیلیے…ماہم کو اپنی بیٹی سجل کا خیال آیا
یار دیکھاو تو اپنی بیٹی کو ہم سے بھی ملواو کہاں ہے وہ چھوٹی کیسی ہے…عایشہ جو کب سے چپ بیٹھی ان سب کی باتیں سن رہی تھی اچانک سے سجل کا نام آنے پر خوشی سے بولی کیوں کہ اسے بچوں سے ویسے ہی پیار تھا
ہاں وہ اپنی نانو کے پاس ہے ابھی لای…ماہم یہ کہتی کمرے سے باہر جاکر سجل کو لے کر آگیء
لاو اسے سب سے پہلے مجھے دو اسکی پھوپھو کو…وہاں بیٹھی حریم نے اپنے الفاظ سے سب کو چونکنے پرمجبور کردیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: