Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 17

0
مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 17

–**–**–

کیا کہہ رہی ہو یہ تم حریم…ماہم نے ایک دم بوکھلا کر اس سے پوچھا کہ کہیں اسنے کچھ غلط تو نہیں سن لیا
کیا کہہ رہی ہوں میں بلکل ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں…حریم پھر بھی اپنی بات پر قایم تھی
لیکن شاہزیب کی تو کوی بہن نہیں تھی—ہیں نا…دانیہ نے ماہم کو دیکھ کر پوچھا
یہ شاہزیب کہاں سے بیچ میں آگیا…حریم نے جھنجھلا کر بولا
تم کہنا کیا چاہ رہی ہو حریم کھل کر بولو…ماہم نے ڈر اور خدشے کو سایڈ پر رکھ کر اس سے پوچھا
ماہم ہم تمہارے گھر پروپوزل لانا چاہ رہے ہیں تمہارے لیے…حریم نے سجل کے ساتھ کھیلتے ہوے اسے جواب دیا تو سب نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا
یہ—یہ کیا بول رہی ہو تم ہوش میں تو ہو—میں ایک طلاق یافتہ ہوں اور ایک بیٹی کی ماں—اور تمہارے بھای ایہ اچھے انسان ہیں کیوں مجھ جیسی گنہگار کو اپنے بھای کے پلے باندھ رہی ہو…ماہم نے ایک دم سے اسکی بات پر سٹپٹا کر بولا
دیکھو ماہم جو بھی تھا وہ تمہارا ماضی تھا اب حال ہے جو تم ماضی میں تھی حال میں اس سے مختلف ہو بہت بدل گیء ہو اور ویسے بھی ایک طلاق یافتہ اور ایک بچے کی ماں ہونے سے تمہاری زندگی رک نہیں گیی اور دوسری بات یہ کہ میں نہیں بلکہ یاور بھای خود تمہیں اپنے پلے سے باندھنے کیلیے کہہ رہے ہیں جس پر ہم میں سے کسی گھر والوں کو کوی اعتراض نہیں ہے مجھے ہی ماما نے یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ پہلے تمہارے والدین سے بات کرلیں اور پھر ہم باقاعدہ رشتہ لے کر آجایں…حریم بولتی جارہی تھی اور ماہن کے پیروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ زمین کھسکتی جا رہی ہے
لیکن حریم میں ہی کیوں تمہارے بھای کی تو شادی بھی نہیں ہوی اتنء اچھے ہیں وہ تو مجھ جیسی ہی کیوں انکیلیے تو کوی بھی اچھی سے اچھی لڑکی مل جاےگی…
ماہم نے ڈرتے ہوے بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے
انہوں نے شادی اسلیے ہی تو نہیں کی کہ صرف تم ہی تھیں…حریم نے بغور اسکو دیکھتے ہوے کہا
کیا مطلب…سب کو جستجو ہوی
مطلب یہ کہ وہ تو تمہیں بہت پہلے سے پسند کرتے تھے لیکن جب سے سلمان بھای نے تمہارے لیے اپنی پسندیدگی ظاہر کی تو وہ دوست کی خاطر خاموش ہوگیے اور تمہاری کسی اور سے شادی کے بعد بھی شادی نہیں کی انہوں نے شاید اللہ پاک کو یہی منظور تھا کہ تم ہی انکی قسمت میں لکھی تھیں… حریم نے اسے بہت اطمینان سے اسے ساری بات بتادی
لیکن حریم یی—یہ نہیں ہوسکتا یہ نا ممکن ہے…ماہم نے بہت اٹکتے ہوے اپنے اندر کے آنسوں کے گولے کو اپنے اندر ہی دفن کرتے ہوے بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے
کیوں ناممکن ہے اور کیوں نہیں ہوسکتا…اس بار اس سے دانیہ نے پوچھا
کیوں کہ میری ایک بیٹی ہے…
تو تو کیا ہوا ماہم کیا سوچ رہی ہو خود سے جب قسمت تمہیں ایک موقع دے رہی ہے خوشیاں تمہارے دروازے پر دستک خود دے رہیں ہیں تو کیوں انکیلیے دروازہ نہیں کھول رہی ہو…رافعیہ نے اسکے پاس آکر اسے سمجھایا
ماہم جتنا ٹایم چاہیے سوچنے کیلیے سوچ لو لیکن جواب ہاں میں ہی ہونا چاہیے اب ہمیں اپنے بھای کی شادی کرنی ہے بھیی…
ماہم نے اسکی بات کا کوی جواب نہیں دیا صرف سب کو دیکھ ہہ رہی تھی خاموشی سے تو دانیہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسنے دانیہ کی طرف دیکھا تو دانیہ نے اپنی دونوں آنکھیں جھپک کر اسے ریلیکس رہنے کا اشارہ کیا…
***
دیکھیں بہن جی ہم بہت امید سے آپ لوگوں کے پاس آے ہیں ماہم کا اپنے بیٹے کیلیے ہاتھ مانگنے آپ لوگ انکار نہیں کریےگا ماہم کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس میں اس بچی کا تو کوی قصور نہیں ہے جو اسکی قسمت میں لکھا تھا وہ ہوگیا ہماری سوچ دقیانوسی بلکل بھی نہیں ہے کہ اگر ایک بچی کے ساتھ بد قسمتی سےبرا ہوگیا ہے تو ہم اسے اپنے بیٹے کیلیے پسند نہیں کرسکتے ماہم بہت پیاری بچی ہے اسکو تو ہم بچپن سے ہی جانتے ہیں اور یاور کی بھی یہی خواہش ہے…حریم کی امی فوزیا بیگم ماہم کے گھر میں رشتہ لے کر آی تھیں دانیہ اور باقی سب دوستوں نے ہی ماہم کے امی ابو سے یاور کے رشتے والی بات کی تھی ماہم کے اتنا منع کرنے کے باوجود بھی انہونے یہ کہہ جر چپ کروادیا تھا کہ پہلے تمہاری مرضی سے دیکھا تھا کہ کیا ہوگیا ہے اب ہمیں اپنا فیصلہ کرنے دو یاور اچھا لڑکا جب بھی حریم ماہم سے ملنے اس کے گھر آتی تھی یاور ہی چھوڑنے آتا تھا تو ماہم کے والد سے کافی اچھی سلام دعا ہوگیی تھی یاور کی
بہن وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن سجل بھی تو ہے ماہم کے ساتھ…ماہم کی امی یہ کہتے کہتے رکیں
ارے تو کیا ہوا وہ بھی ہماری بیٹی ہے اور اچھی بات ہے نا ہمارے گھر میں کوی چھوٹا بچہ نہیں یہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں ایک میں ہی پورے گھر میں اکیلی رہتی ہوں تو میرے ساتھ رہے گی سجل…انہوں نے بہت پیار سے بھرے لہجے میں کہا تو وہاں بیٹھی ماہم نے انکو دیکھا کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں اور ایک اسکی ساس تھیں جو بیٹی کو ہی منحوس سمجھتی تھیں
یاور کو تو سجل سے کوی مسلہ نہیں ہے نا…انہونے دوبارہ اپنی تسلی کیلیے پوچھا
نہیں ہے کوی مسلہ اسکو بھی اور کیوں ہونے لگا کوی مسلہ وہ ماہم کی بیٹی ہے تو بعد میں اسکی بھی ہوی نا…!
یہاں پر ان لوگوں کو بہت تسلی ہوی ماہم نے بھی سجل کے اچھے مستقبل کیلیے ہاں کہہ دیا تھا اور اگلے جمعے کو سادگی کے ساتھ ان دونوں کا نکاح اور رخصتی بھی ساتھ قرار پایا
***
نکاح ہوچکا تھا ماہم کو حریم یاور کے کمرے میں بیٹھا کر جارہی تھی جب ماہم نے اسکو پکارا ” حریم سجل کہاں ہے “
وہ اپنی دادو کے پاس ہے تم بےفکر رہو اور بس بھای کے بارے میں سوچو…حریم اسکو بولتی ہوی آنکھ مار کر وہاں سے چلی گیی
وہ بہت نروس تھی پہلے بھی وہ اس جگہ آکر بیٹھی تھی لیکن ان وہ کسی اور کی دلہن کسی اور کی عزت بن کر اور اب اس عزت کو برقرار رکھنا تھا اس گھر کے ہر فرد کو اپنا مان کر جیسے وہ اسکو اپنا مانتے ہیں انکی خدمت کرنا اسنے کمرے کا جایزہ لیا جو کہ زیادہ بڑا تو نہیں تھا لیکن نفاست سے سیٹ کیا ہوا تھا جسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یاور کو صفای پسند رہنا بہت پسند ہے وہ دیکھ ہی رہی تھی ایک ایک چیز تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور یاور اندر آیا اسک دل زور زور سے دھڑکنے لگا یاور اسکے بلکل سامنے آکر بیٹھا اور اپنی گھمبیر آواز میں اسے سلام کیا جسکے جواب میں ماہم نے سر ہلا دیا
ماہم مجھے نہیں پتا کہ اپنے رب کا شکر کیسے ادا کروں میں نے آپکو چاہا اور دیر سے ہی سہی رب نے مجھے آپ کو دے دیا…یاور کی اس بات پر ماہم نے اسے سر اٹھا کر دیکھا
میں نے اپنے دوست اور آپکی اسکیلیے پسند جان کر صبر کرلیا پھر آپکی کسی اور سے شادی—لیکن اس صبر کا پھل مجھے آج ملا ہے…یاور نے ماہم کا ہاتھ تھامتے ہوے کہا
لیکن آپکو پتا ہے میری شادی کیسے ہوی تھی…ماہم نے ڈر ڈر کر اس سے ہوچھا
جانتا ہوں…یاور نے مسکراکر جواب دیا
پھر بھی آپنے مجھ سے نکاح کیا…?
ہاں کیونکہ مجھے پتا ہے وہ آپکی غلطی تھی اور وہ ماضی تھا میں ایک اسٹریٹ فارورڈ انسان ہوں ماضی میں نہیں رہتا حال میں ہی جیتا ہوں اور آپ سے بھی یہی توقع کرتا ہوں کہ آپ بھی پرانی ساری باتیں بھول کر میرے ساتھ اپنی نیی زندگی کی شروعات کریں…یاور نے اسکے ہاتھ پر دباو ڈاتے ہوے بولا
یاور میری ایک بیٹی بھی…
ششش وہ صرف تمہاری ہی نہیں میری بھی بیٹی ہے اب—اتنا نہیں سوچو…
اسکی اس بات ہر ماہم کی آنکھیں بھیک گییں…
رو کیوں رہی ہو تم…یاور نے پریشانی سے پوچھا
رو نہیں رہی یہ تو خوشی کے آنسوں ہیں کہ میری پتا نہیں کونسی نیکی کا تحفہ اللہ پاک نے مجھے آپ لوگوں کی صورت میں دیا ہے…
اچھا اب رو نہیں اور بتاو کہ ہماری نیی زندگی میں ساتھ دوگی میرا…یاور نے اسے دیکھتے ہوے پوچھا تو ماہم نے مسکراکر اپنا سر ہاں میں ہلادیا تو یہ دیکھتے یاور اٹھ کر جانے لگا
کہاں جارہے ہیں…اسے اٹھتے دیکھ ماہم نے اس سے پوچھا
اپنی بیٹی کو لینے…وہ مسکراکر جواب دیتا کمرے سے باہر نکل گیا تو ماہم نے لمبا سانس خراج کیا اور اپنے پروردگار کا شکر ادا کیا
یاور جب دو سال کی سجل کو لے کر کمرے میں آیا تو احتیاط سے اسے بیڈ پر لیٹایا
کل اسکیلیے جا کر سنگل بیڈ لے کر آجاینگے…یاور نے اسے دیکھتے ہوے کہا
ماہم صرف سر ہی ہلا سکی تو وہ اسکے چہرے کے نقش غور سے دیکھنے لگا ماہم نے اسکے دیکھنے پر اپنے پلکیں نیچے گرالیں یہ دیکھ کر یاور مسکرایا اور اسکے قریب ہوکر اسکی پیشانی ہر اپنے ہونٹ رکھ دیے تو ماہم نے اسکے سینے پر اپنا سر رکھ دیا
تھینک یو سو مچ یاور میری زندگی میں آنے کیلیے…ماہم نے اپنا سر اٹھا کر اسے بولا
تھینکس کس بات کا جب ابھی تک میں نے تمہیں منہ دکھای کا تحفہ ہی نہیں دیا…یاور نے یہ بولتے ہوے اپنی قمیض کی جیب میں سے چھوٹا سا مخملی بوکس نکلا جس میں ہیرے کی انگوٹھی تھی اسنے وہ نکال کر ماہم کی انگلی میں ڈال دی جسے دیکھ کر ماہم نے پھر سے اسکا شکریہ ادا کیا
ایسے نہیں اب دوسرے طریقے سے شکریہ ادا کرنے کا وقت ہے…اسے دیکھتے ہی معنی خیزی سے کہنے لگا تو ماہم نے بھی اپنی پلکیں جھکاکر اسکی معنی خیز بات کا جواب دیا پہلے تو ماہم نے سوچا تھا کہ اپنے اور اسکے رشتے کیلیے اس سے تھوڑا ٹایم لےگی لیکن پھر اسکا اپنایت بھرا رویہ اور پیار دیکھ کر اپنا آپ اسکو سونپ دیا اور یہاں سے ان دونوں کی زندگی کی ایک نیی شروعات ہوی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: