Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 2

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 2

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 2

–**–**–

ابے یار آج تو لیٹ ہو گیء مما سے ڈانٹ پکی ہے یہ لوگ باتوں میں لگا دیتی ہیں خود تو لیٹ ہوتی ہیں مجھے بھی کر دیتی ہیں…وہ بڑبڑاتی ہویء تیز تیز قدم بڑھا رہی تھی
اوچچ…! ایک دم وہ کسی سے ٹکراتی ہے
کیا اندھی ہو یا ان بڑی بڑی آنکھوں کی جگہ بٹن ہیں ?
او ہیلو مسٹر جلدی جلدی میں اگر میں آپ سے ٹکرا گیء تو اسکا کیا ہے کہ آپکا جو دل میں آءیگا بولیں گے اور ویسے بھی اگر میں دیکھ کر نہیں چل رہی تھی تو آپ کی آنکھی تو سہی سلامت ہیں یا یہ بھی آپ کے دماغ کی طرح کم کام کرتی ہیں…اسے اپنی آنکھوں کے بارے میں ایسا سننا بلکل پسند نہ آیا
اے لڑکی بہت بول رہی ہو تم…
ابھی میں نے کچھ بولا ہی کہاں اگر مجھے دیر نہیں ہو رہی ہوتی نہ تو آپ کے یہ کان مجھے اور بھی اچھی اچھی تعریفیں سننتے
ہیلو سلمان ! کب آءے تم ?
بس ابھی تھوڑی ریر پہلے ہی…
دانیہ تم گیء نہیں ابھی تک? ماہم نے اس سے پوچھا جو ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ سچ میں یہ سلمان ہے جسے ماہم پسند کرتی ہے
ہاں بس جا ہی رہی تھی….
پہلے ان سے ملو یہ ہے سلمان ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور سلمان یہ ہے دانیہ جو میری سب سے اچھی اور پیاری دوست ہے
اسلام علیکم…سلمان نے معتبر انداز میں سلام کیا کے جیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو
وعلیکم سلام…پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دانی نے جواب دیا اور خداحافظ کہہ کر وہاں سے چلی گیء
***
ماہم اور سلمان ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے کھانا کھانے کے ساتھ انصاف کررہے تھے
ماہم یہ جو تمہاری دوست تھی جس سے تم نے تعارف کروایا تھا میرا یہ مزاج میں کیسی ہے
کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو ?
نہیں بس ایسے ہی پوچھ لیا
تمہیں کیسی لگی مزاج میں…ماہم نے سادہ سے لہجے میں سوال کیا کیوں کہ وہ سلمان کو اچھی طرح جانتی تھی کہ کچھ بھی ہوجاےء یہ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا اور دانیہ بھی ایسی لڑکی نہیں ہے
بہت غصے والی کھڑوس سی
اسکی اس بات پر دانیہ کے قہقے گونجے
کیا ہوگیا ایسا کیا بول دیا میں نے کہ جو تم اس طرح ہنس رہی ہو
سچ میں نہ کرو یار دانی اور وہ بھی غصہ نیور
ہاں لیکن ایک بات پر اسے ضرور غصہ آتا ہے
کس بات پر?
اگر ہم میں سے کویء ریلیشن یا لڑکوں کی باتیں کریں تو…ماہم نے جواب دیا
بھلا وہ کیوں ?
اب اس کیوں کا جواب اسی کے پاس ہے
اچھا تو پوچھنا اس سے اس کیوں کا جواب
ہاں آءیڈیا تو اچھا ہے پوچھونگی ضرور…
***
سلمان اور ماہم کے ریلیشن کو دو سال ہوگےء تھے دونوں اپنے ریلیشن شپ کو لے کر بہت سنجیدہ تھے سلمان کے گھر والوں کو اور دوستوں کو ماہم کے بارے میں سب پتہ تھا لیکن ماہم کی صرف دوستوں کو پتہ تھا اس بارے میں…
ماہم کو جب بھی سلمان سے ملنا ہوتا تو وہ کسی نہ کسی دوست کے گھر کا بہانا کر دیتی ماہم کا کویء بہن بھایء نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی امی اور ابو دونوں کی لاڈلی ہے اس لیے کویء زیادہ روک ٹوک نہیں اور سلمان کو یہ بات ہر گز پسند نہیں تھی کہ یہ اس سے ملنے کیلیے اپنے والدین سے جھوٹ بولے کتنی بار سلمان نے اسکو بولا بھی کے سچ بتادو گھر والوں کو تو جواب دیتی کہ ابھی یہ لاءف انجواءے کررہی ہوں بعد میں بتانے کے بعد یہ مزہ کہاں
سلمان بھی اپنے والدین کا اک لوتا بیٹا جسکی ایک چھوٹی بہن ہے.
ماہم اور سلمان کی ملاقات ایک مال میں ہویء تھی سلمان ماہم کی بچپن کی دوست حریم کے بھایء کا دوست تھا ماہم حریم کے ساتھ جس مال میں آیء ہویء تھی اتفاق سے یاور(حریم کا بھایء) اور سلمان بھی وہیں آےء ہوےء تھے وہیں ان دونوں کی ملاقات ہویء اور جبھی سے دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کیا ماہم دیکھنے بہت معصوم لگتی تھی گورا شفاف رنگ کے ساتھ چھوٹی چھوٹی آنکھیں کھڑی ناک اور بڑے ہونٹوں کے ساتھ گال میں پڑھتا گہرا ڈمپل اسے اور بھی خوبصورت کرتا ہے
سلمان گندمی رنگت کے ساتھ بلاشبہ حسین دکھنے والا مرد جسے کویء بھی لڑکی دیکھتی تو فورا اس پر اپنا دل دے بیٹھتی لیکن وہ مغرور سا دکھنے والا کسی لڑکی کو اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتا لیکن یہاں ماہم کی قسمت اچھی تھی جسے سلمان نے خود پروپوز کیا تھا
سلمان کے والد معراج صاحب کا اپنا چھوٹا سا کاروبار ہے جسے سلمان معراج صاحب کے ساتھ مل کر چلاتے اور سلمان کا خواب تھا اس بزنس کو ترقی دے کر آگے بڑھنا اور اس چھوٹے سے بزنس کو بڑے پیمانے پر کرنا
***
ہاہاہاہا…..
آپی کیا ہنسے جا رہی ہیں خود خود ہی موباءل میں دیکھ کر…ماریہ نے جوستجو سے پوچھا
ارے یار میمز پڑھ رہی تھی ہاہاہا اتنے اچھے اچھے میمز بناتے ہیں یہ میمرز…دانیہ نے مصروف انداز میں جواب دیا
بیٹا جی میں نے بھی بابا سے کہا ہے کہ میرا موباءل بھی لا کر دیں آپ تو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی آنے دیں میرا فون پھر میں پڑھونگی یہ میمز
پڑھایء تم سے ہوتی نہیں ہے اور میمز پڑھوالو.. شہریار نے اسے چڑھانا چاہا جس کی بات پر دانیہ دبی دبی ہنسی ہنسنے لگی
تم کتنی کر لیتے ہو یہ پڑھایء جو ماریہ کو بول رہے ہو…آسیہ بیگم نے بھی انکی نوک جھونک میں اپنا حصہ ڈالا
ماما آپ ماریہ کو سپورٹ کررہی ہیں…اسنے خفگی سے کہا تو اس بار دانیہ اور ماریہ دونوں کا چھت پھاڑ قہقہ گونجا
اس میں سپورٹ کرنے کی کیا بات ہے میں نے بس ایسے ہی بول دیا تھا…تم تینوں میرے لیے برابر ہو اور اب آجاو تینوں کھانا لگا دیا ہے میں نے…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: