Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 3

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 3

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 3

–**–**–

یار تم اپنے گھر میں کب بات کروگی…خوش مزاج انداز میں باتیں کرتے کرتے اس بات پر ماہم کا موڈ آف ہوگیا
تمہارے پاس اس کیلیے اور کویء بات نہیں ہے کیا کتنی دفعہ تو کہا ہے میں نے ابھی نہیں…وہ غصے میں بولی
میں سوچ رہا تھا کہ ہم دونوں کی فیملیز مل لیتی ایک دوسرے سے تو اچھا ہوتا…سلمان نے وہی اپنا دھیما لہجہ اپنایا
ویسے سلمان ہد ہوتی ایک بات کی مطلب لڑکی ہو کر مجھے فکر نہیں ہے اور تم اپنے آپ کو دیکھو کتنی جلدی ہے تمہیں…اسنے طنزیہ بولا
ہاں لڑکی ہو تم جبھی تو تمہیں فکر نہیں ہے…وہ بڑبڑایا
کیا کہا تم نے ہاں میں لڑکی ہوں جبھی مجھے فکر نہیں جاو میں اب تم سے بات ہی نہیں کررہی…یہ کہہ کر ماہم نے فون رکھ دیا
رات کے بارہ بجے کا ٹاءم تھا ایک گھنٹے سے دونوں باتوں میں مصروف تھے اور اکثر یہی ہوتا تھا دونوں کے بیچ باتیں کرتےکرتے لڑتے اور پھر ماہم خفا ہوکر فون بند کر دیتی پھر سلمان کو کویء گفٹ دے کر ہی اسے منانا پڑتا
***
وہ چاروں کچھ کھسر پھسر میں لگی ہویء تھیں جب دانیہ نے ان سے پوچھا کیا ہوا کیا خود ہی چاروں باتیں کی جارہی ہو میں بھی ایک عدد دوست ہوں تم لوگوں کی بتاو کیا بات ہے…اسنے اپنی آنکھیں چھوٹی چھوٹی کر کے تجسس سے دیکھا
یار تم سے کچھ پوچھنا لیکن پہلے وعدہ کرو غصہ نہیں کروگی…ماہم نے ڈرتے ہوےء کہا
ماہم تم مجھ سے ڈر رہی ہو…دانی نے اسکا چہرہ دیکھ کر بولی
تم سے نہیں تمہارے غصے سے ڈر لگتا ہے ہمیں…عاءشہ نے کہا
ہاں ہاں ایک ہی بات ہے…
نہیں مطلب سیریسلی تم لوگوں کو میرے غصے سے ڈر لگتا ہے…دانیہ نے اپنی نہ رکنے والی ہنسی کو قابو کرتے ہوےء بمشکل بولا
یار بات تو سن لو…
ہاہاہا ہاں ہاں بولو نہیں کرونگی غصہ ہاہاہا…یہ بول کر دوبارہ ہنسنے لگی
اپنی ہنسی روکے ان کی طرف پوری طرح متوجہ ہویء
یار تم بتاو کہ تمہیں لڑکا اور لڑکی سے چڑھ کیوں ہے مطلب اگر لڑکے نے لڑکی کو پروپوز کردیا اور وہ دونوں نکاح کر لیں تو اس میں کیا برایء ہے ? بتاو
ہمممم….دانیہ سوچنے لگی یا پھر شاید سوچنے کی ایکٹنگ کررہی تھی
اسکا جواب تم لوگوں کو کل ملےگا…دانیہ نے جواب دیا
لیکن کل کیوں آج اور ابھی کیوں نہیں… ماہم نے پوچھا
ایک منٹ کل ایسا کیا ہے…مرہا نے کچھ سوچنے کی کوشش کی
کل کل تو یونی میں اسپیچ کومپیٹیشن ہے…رافعیہ نے مرہا کی طرف دیکھ کر کہا
تم اسپیچ اس ٹاپک پر تو نہیں دے رہی ہوں نا…
سمجھ دار ہوگےء ہو تم لوگ میرے ساتھ رہ رہ کر…دانی نے خوشی سے کہا
تم نہیں کروگی اس ٹاپک پر…
یار اب تو میں نے اپنا نام اور ٹاپک لکھوادیا ٹیچرز کو کویء مسلہ نہیں ہے اس ٹاپک سے تو اگر تم لوگوں کو اپنے سوال کا جواب چاہیے تو آجانا کل…
***
اگلے دن تقریر کے مقابلے میں اسکا سب سے آخری نمبر تھا
دانیہ کو اسکی باری کا بےصبری سے انتظار تھا اور اب اسکے انتظار کے لمحے ختم ہوےء اور وہ اسٹیج پر تھی اسٹیج پر ڈاءس کے آگے کھڑی سامنے سارے اسادتذہ اور طالب علم بیٹھے اسکی تقریر کے انتظار میں تھے یونی کے اس پورے ہال میں خاموشی چھایء ہوی تھی جسے اسکی آواز نے توڑا
اسلام وعلیکم!
میرے پیارے اساتذہ اور ہر دل عزیز ساتھیوں
میرا نام دانیہ وہاج ہے اور میں بی بی اے سال دوءم کی طالب علم ہوں
میری آج کی یہ تقریر ہم جیسے ایسے نوجوان نسلوں کے لیے ہے جو ان سوکولڈ ریلیشن شپ میں الجھے ہوےء ہیں
لڑکا اور لڑکی آپس میں باتیں کرتے ملتے ہیں میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپس میں باتیں کرنا غلط ہے
نہیں باتیں تو ہم اور آپ بھی کرتے ہیں اپنے ماں باپ سے چھپ کر جو آپ پر اعتماد کرتے ہیں بھروسہ کرتے ابکو دھوکہ دے کر آپس میں فون پر گھنٹوں لگے رہنا پھر انسے جھوٹ بول کر انکی آنکھوں میں دھول جھونک کر کسی نامحرم سے ملنے جانا
لڑکیوں کو اسلام نے آزادی تو دی ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے وہ اپنی آزادی کا غلط فایدہ اٹھاے اور نامحرم سے باتیں کریں
صرف لڑکی ہی نہیں لڑکوں پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ بھی ان غلاظتوں سے دور رہیں لڑکے خود کسی کی بیٹی , بہن کے ساتھ ریلیشن میں ہوتے ہیں لیکن اگر اپنی بہن کی بات آیء تو انکی غیرت واپس آگیء
کسی بھی لڑکے نے لڑکی کو پروپوز کیا وہ نہیں مانتی وہ اسکو فورس کرنا شروع کردیا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا جان لے لونگا اپنی فلاں فلاں بولا اور پھر اس سوکولڈ ریلیشن کے نام پر باتیں کرتے ہیں اور نفس کے چسکے لیتے ہیں پھر جب نکاح کا ٹایم آتا ہے تو یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں ماں باپ نہیں مان رہے لیکن اصل وجہ ہوتی ہے کہ انہیں کویء اور مل جاتا ہے صرف لڑکے ہی نہیں کہیں لڑکیاں بھی ایسی ہوتی ہیں
اور ایک بات جو رشتہ اللہ کو نامنظور ہو وہ آپ کہاں تک نباہ سکتے ہیں ایسے حرام رشتے کب تک نبھاپاوگے
کسی لڑکا اور لڑکی کا حلال ریلیشن صرف نکاح میں ہے اسکے علاوہ اگر محبت کو زمزم سے بھی دھو دیا جاے تو پھر بھی وہ پاک نہیں ہوجاتی…
آخر میں ایک کہونگی کہ میری اس تقریر کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا اگر کسی کو برا لگا ہو تو بہت معزرت…
شکریہ
اسکی تقریر ختم ہوتے ہوےء سارے ہال میں تالیوں کی آواز گونجی جہاں سب نے اسکو سراہا فرسٹ پراءز کا ایوارڈ ملا تو وہیں اسکی اپنی دوست غصے سے اسکی تقریر سن رہی تھی اور اٹھ کر چلی گیء
دانیہ کی نظر جیسے ہی ماہم پر گیی وہ سمجھ گیی اور اسکے پیچھے بھاگی
ماہم رکو…دانی نے آواز لگای
کیا ہے ہاں تم نے یہ سب صرف مجھے سنانے کیلیے بولا نا…ماہم نے غصے میں بولا
ارے نہیں یار تمہیں کیوں سناونگی میں بھلا…
ارے جاو یار…ماہم طیش میں آءی
اچھا بات تو سنو…دانیہ نے اطمینان سے کہا
مجھے تم سے بات ہی نہیں کرنی…ماہم نے غصے سے بولتے ہوےاسے دھکہ دیا تو گرتے گرتے بچی اور ماہم وہاں سے دانیہ کو دیکھے بغیر ہی چلی گیی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: