Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 4

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 4

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 4

–**–**–

ارے آرام سے…
آر یو اوکے ? اور یہ ہیں کون جسنے آپکو اس طرح دھکا دیا اور کیوں…
جی میں ٹھیک ہوں…یہ دوست ہے میری اور یہ ہمارا مرسنل میٹر ہے…دانیہ نے سنبھلتے ہوےء اس شخص کو جواب دیا
باے دی وے میرا نام مزمل ہے اور مجھے آپ سے کہنا تھا کہ آپ کی تقریر بہت ہی اچھی تھی…اس لڑکے نے اپنا تعارف کروایا جو دکھنے میں خوبصورت اور کسی بڑے امیر گھر کا لگ رہا تھا
جی شکریہ…دانیہ نے مسکرا کر کہا
آپ مجھ سے دوستی کرینگی…مزمل نے مسکرا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
دانیہ نے اسکے پہلے اسکا ہاتھ دیکھا اور پھر جواب دیا”سوری لیکن میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی”
مزمل نے شرمندگی سے اپنا ہاتھ کھینچا ” سوری”
اوکے اللہ حافظ مجھے دیر ہورہی ہے…دانیہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گیی
***
ماہم غصے میں سڑک کے کنارے چل رہی تھی
یار جو بھی تھا مجھے اسکو دھکا نہیں دینا چاہیے تھا…اف
لیکن کوی نہیں غلطی اسکی بھی تھی
دل و دماغ کی جنگ میں دماغ بازی لے گیا
چلتے چلتے اسکو ایسا لگا کے کوی اسکا پیچھا کررہا ہے ہمت کرکے اسنے پیچھے دیکھا تو کوی بھی نہیں تھا جو مشکوک لگے اپنا وہم سمجھ کر چلنے لگی
***
دانیہ کو ماہم پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا وہیں مرہا کی کال آگیی
کہاں چلی گیی تھی یار تم لوگ اتنا ڈھونڈا تم دونوں کو ہم بے بغیر بتاےء ہی چلی گییں تھی
دانیہ نے مرہا کو ساری رواد سنا دی
یار ماہم کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا…مرہا کو بھی غصہ آیا
تم دیکھنا اب میں بھی نہیں مناونگی خود ہی آیگی ویسے بھی وہ خود زیادہ دن تک غصہ نہیں رہ سکتی مجھسے…دانیہ نے کہا
***
ایک ہفتہ بعد
ماہم کینٹین میں آی تو دیکھا کہ دانیہ بیٹھی اپنا پڑھ رہی تھی اور باقی وہ تینوں اپنی باتوں میں مصروف تھیں وہ انکے پاس آی اور بیٹھ گیی
یار تم لوگوں کو ذرا احساس نہیں ہے میرا ناراض ہوں بات نہیں کررہی اور تم لوگوں نے منایا بھی نہیں…ماہم نے خفگی سے کہا
کینٹین والے انکل آپکے پاس ایک روپے والی ٹافی ہے مجھے اپنی روٹھی ہوی دوست کو دے کر منانا ہے.. دانیہ نے زور دے آواز لگای جسے سارے اسٹوڈنس نے سنا تو پوری کینٹین میں سب کے قہقے گونجے تو وہیں ماہم بھی اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں کر پای
چلو یار اب چھوڑو یہ غصہ وصہ … عاءشہ نے کہا تو ماہم نے دانیہ کو گلے لگا لیا
سوری یار میں نے بلاوجہ تم پر غصہ کیا اور دھکا بھی دیا لگی تو نہیں تھی…اسنے شرمندگی سے کہا
ارے نہیں یار کوی بات نہیں اور اب تو ایک ہفتہ بھی گزرگیا چھوڑو اس بات کو
ایک چیز دکھاتی ہوں تم لوگو کیا
یہ دیکھو ماہم نے ایک خوبصورت سا بریسلٹ دکھایا
یہ دیکھو سلمان نے دیا ہے
سب نے اسکے بریسلٹ کی تعریف کی
یار دانیہ پین دینا…رادفعیہ نے کہا
کیوں رکھوا یا تھا کیا…دانی نے جواب دیا تو سب دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے
یار مزاق نہیں کرو کام ہے بہت ضروری
اچھا بیگ سے لےلو
سب باتوں میں لگ گیی
یہ کہا ہے دانی…رافعیہ دانیہ کے بیگ سے ڈاءری نکال کر دیکھ رہی تھی
جیسے ہی دانیہ نے دیکھا تو فورا جھپٹ کر لی شرم نہین آتی کسی کی ہرسنل ڈاءری دیکھتے ہوے کچھ پڑھا تو نہیں تم نے
اب ہم سے کیا پرسنل…ماہم نے آنکھ مار کر کہا
نہیں کچھ خاص تو نہیں دیکھا بس ہر پیج پر لکھا تھا “مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا”
یہ سن کر دانی نے اپنی آنکھیں بند کیں
وہیں سب نے اسکو گھور دیکھا جیسے پوچھا ہو اسکی کیا کہانی ہے…
ارے یار کچھ بھی نہیں بس کہیں پڑھا ہوا دیکھا تھا تو تو اچھی لگی یہ لاین
اور اس لاین میں چھپی آپکی خواہش کتنی پرسنٹ ہے ? مرہا نے جستجو سے پوچھا
کیوں کہ انکو پتا تھا کہ کوی بھی چیز اگر دانیہ کو چاہیے ہوتی ہے یا اسکی کوی خواہش ہوتی ہے تو وہ کہیں اسکو اپنے ہر نوٹس ہر بک میں لکھتی ہے
99 %
کیا سچ میں ? اگر یہ خواہش پوری نہ ہوی تو اور اس خواہش کی وجہ
اگر ہوی تو کوی بات نہیں اللہ پاک نے میرے نصیب میں جو لکھا ہوگا بہتر ہی ہوگا اور اسکی وجہ تو مجھے بھی ابھی نہیں پتہ
یار دانی تو اور تیری خواہشیں…عاءشہ نے گہرا سانس بھر کر کہا…
***
رات کے ایک کا ٹاءم تھا
ماہم سلمان سے مسیجز پر بات کررہی تھی جبھی اسکو ایک رانگ نمبر سے واٹس ایپ پر میسج آیا
اسلام علیکم!
وعلیکم سلام آپ کون?
میرا نام شاہزیب ہے آپکا نام ماہم ہے نہ?
جی میرا نام ماہم ہے لیکن سوری میں شاہ زیب نامی کسی کو نہیں جانتی
جی آپ مجھے نہیں جانتی لیکن میں آپکو پچھلے ایک ماہ سے جانتا ہوں
کیسے اور آپکو میرا نمبر کہاں سے ملا
بس میں نے آپکو ایک مال میں دیکھا تھا کسی شخص کے ساتھ
جی وہ میرا بواے فرینڈ ہے آپ یہ بتاءیں آپکو میرا نمبر کہاں سے ملا
اچھا جی بواے فرینڈ…اور رہی نمبر کی بات تو جسکے ساتھ دل جڑ جاے تو نمبر تو پھر ایک چھوٹی سی چیز ہے
آپ ہوش میں تو ہیں آپ کہہ کیا رہے ہیں میں کمیٹڈ ہوں
جی میں بلکل ہوش میں ہوں اور آپ کمیٹڈ ہیں میرڈ تو نہیں
دیکھیں میں آپکو بلاک کر دونگی اگر اس قسم کی باتیں کی آپنے تو
دیکھیے میم میں آپکو صرف پسند نہیں آپسے محبت کرتا آپ صرف مجھ سے ایک بار مل لیں پھر جو آپکی مرضی
ماہم نے اسکی ڈی پی تو ایک مر سڈیز میں خود بیٹھا ہوا تھا لھکا تھا الحمداللہ پیچھا کا ایسا لگ رہا تھا کہ کوی باہر ملک ہو اس نے سوچا ایک دفعہ ملنے میں کیا ہرج ہے مل کر منع کر دونگی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: