Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 5

0
مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 5

–**–**–

میں پہنچ گیی ہوں آپ کہاں ہیں…ماہم نے میسج کرکے پوچھا
آپ اوپر آجاءیں…فورا ہی جواب آگیا
یہ ایک شاندار ریسٹورنٹ تھا جہاں شاہزیب نے ماہم کو بلایا تھا
اوپر کا پورشن بلکل خالی ریڈ غباروں اور موم بتیوں سے سجا ہوا تھا جہاں صرف ایک ٹیبل کے ساتھ دو کرسیاں رکھی ہویء تھیں
ہاے بیوٹیفل …اسنے سامنے دیکھا تو شاہ زیب کو دیکھا گورا رنگ کسرتی جسم کالے بال جس پر ہلکا سا براون شیڈ پر پف بنایا ہوا جینس کے ساتھ سفید شرٹ اس پر جچ رہی تھی
آ–آپ ہیں شاہ زیب…اسنے پوچھا
جی میں ہی ہوں
ی—یہ سب کیا ہے…اسنے ڈیکوریشن دیکھ کر ہوچھا
یہ سب آپکے لیے
مم—میرے لیے…کیوں? وہ بہت نروس ہورہی تھی کیوں کہ سلمان کے علاوہ پہلی بار کسی سے یوں ملنے آی
اپنی محبت کیلیے…اسنے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوے پیار بھرے لہجے میں بولا
آپکو کیا بات کرنی تھی مجھسے?
پہلے بیٹھ جایں…
کیا لینگی کھانے میں…شاہزیب نے پوچھا
کچھ بھی نہیں
نہیں ایسے تو نہیں چلے گا…کچھ تو لینا ہی پڑےگا آپ نے…
اچھا بس ایک جوس منگوادیں…مسکراکر کہا ماہم نے
چلیں پہلے جوس پی لیں بعد میں کچھ کھانے کیلیے آرڈر کر دینگے…
جی تو میرا نام محمد شاہزیب ہے میں دبیء میں رہتا ہوں یہاں پاکستان گھومنے آیا تھا پندرہ دن کیلیے لیکن جب سے آپکو دیکھا تو ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا جانے کا دل ہی نہیں کررہا دل کہہ رہا ہے آپکو ساتھ لے کر ہی جاوں اپنی عزت بنا کر…
دیکھیں مسٹر شاہ زیب میں نے آپکو پہلے ہی بتایا تھا کہ میں کمیٹڈ ہوں اور بہت محبت کرتی ہوں سلمان سے…ماہم نے اسے سمجھانا چاہا
جی مجھے پتا ہے لیکن میں آپ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور یہ چھوٹا سا تحفہ آپکے لیے لیا تھا میں نے…شاہ زیب نے ڈاءمنڈ کا نیکلس دکھایا اسے
ی—یہ میں نہیں لے سکتی آءم سوری
بہت دل سے لیا ہے بہت جچے گا آپ پر
دیکھیں یہ بہت قیمتی میں نہیں رکھ سکتی
آپ سے زیادہ قیمتی نہیں ہے میں افورڈ کر سکتا ہوں…شاہزیب نے انسسٹ کیا اسے
ااا–اب مجھے چلنا چاہیے…اسنے گھبرا کر کہا
اچھا آپ ریلکس کریں اور میرے بارے میں سوچییے گا ضرور…شاہزیب نے مسکرا کر کہا
ماہم کو وہ مسکراتا ہوا اور بھی اچھا لگا اور اسکے دل میں ایک بیٹ مس ہوی تو فورا وہاں سے چلی گیی
***
پتا نہیں کیا ہوگیا تھا مجھے اسکے سامنے…ماہم گھر آکر شاہزیب کے بارے میں ہی سوچے جا رہی تھی
میں کیوں سوچ رہی ہوں اسکے بارے اف…میں سلمان کو دھوکہ نہیں دے سکتی
اسے اچانک سلمان کا خیال آیا ماہم آن کیا تو 10 مس کالز اور 25 میسزج اف یار حد ہوتی اسکی بھی اتنے مجسز اور کال کون کرتا ہے ماہم نے کال کی تو فورا ہی کال پک کرلی گیی
کہاں ہو تم اور یہ تمہارا فون کیوں آف تھا تمہیں پتا ہے تم سے روز بات کرنے کا عادی ہوں میں لیکن تمہیں تو فکر ہی نہیں میری…سلمان فون ریسیو ہونے کے فورا بعد اسکے اوپر برس پڑا
ایک منٹ چپ میری بات سنو تم میں سو رہی تھی اور موباءل کی بیٹری ڈیڈ ہوگیی تھی اسلیے آف تھا فون…ماہم نے جھوٹ بولا کیوں کہ اگر وہ سلمان کو شاہزیب کے بارے میں بتادیتی تو وہ اسکو باتیں الگ سناتا کہ کیوں کسی اور سے ملنے گیی اور ناراض الگ ہوتا
اچھا چلو مجھے بتاو کب ملیں گے ہم…
ابھی نہیں…پتا کیوں لیکن آج پہلی بار ماہم نے سلمان کو ملنے سے منع کیا
واٹ یہ تم کہہ رہی ہو ملنے سے منع کررہی ہو…
ہاں یار ابھی نہیں لیکن کچھ دنوں میں میں خود بتاونگی تمہیں
تھوڑی بہت باتیں کرکے اسنے فون کاٹ دیا
***
جیسے جیسے دن گزرتے ھٹ رہے تھے ماہم شاہزیب کے باتیں کرتی اسسے ملنے جاتی شاہزیب کی باتیں اسے بہت ایٹریکٹ کرتی وہ اسکی خوب تعریفیں کرتا جو کبھی سلمان نے نہیں کی یہی وجہ تھی کہ وہ سلمان سے دور گیی جسے سلمان نے یہ سمجھا کہ اسکے پیپرز ہونے والے ہیں اس وجہ سے بزی ہوگی اور یہاں اسکی دوستیں بھی رہیں کہ شاید پیپرز کی پرپریشن میں بزی ہوگی کیوں کہ وہ انسے بھی زیادہ باتیں نہیں کررہی تھی اگنور کررہی تھی سب کو صرف شاہزیب کیلیے
***
کیسے ہورہے نہیں پیپرز میرے بیٹے کے…وہاج صاحب نے پیار سے چور لہجے میں اپنی لاڈلی سے ہوچھا
ایک دم فرسٹ کلاس بابا جانی…دانیہ نے چہکتے ہوے لہجے میں کہا
ارے واہ بھیی ماشاءاللہ
یہ کیا بابا میں آپکا بیٹا ہوں دانی آپی آپکی بیٹی ہیں…شہریار نے خفگی سے جواب دیا
ہاہاہا ہاں تم بھی ہو لیکن وہ بھی میرے بیٹے جیسی ہی ہے تمہاری کے ساتھ ساتھ مجھے ہر بات میں ہمت دینے والی میری بیٹی اور تم دونوں بھی مجھے بہت عزیز ہوی بتاو مجھے کبھی میں نے آپ لوگو میں فرق کیا ہے…
ارے نہیں بابا ایسی کوی بات نہیں آپ ہم سب سے بہت پیار کرتے ہمیں پتا ہے…ماریہ نے پیار سے کہا
جی ہاں مجھے بھی پتا ہے…
My baba is the most careful and lovely father
I love you baba Jani ❤️😘
شہریار نے کہا اور وہاج صاحب سے گلے لگ گیا
اچھا اگر ہوگیا ہو باپ بچوں کا پیار تو میں چاے لے آی ہوں یہاں بھی توجہ دے دیں
وہاج صاحب دانیہ اگلے مہینے پورے 20 کی ہوجایگی آپ نے چار سال کے بی بی اے میں اسکا ایڈمیشن دلوادیا اسکی شادی نہیں کرنی کیا… آسیہ بیگم کی اس بات پر جہاں دانیہ نے اپنی ماما کو گھورا اور فورا نظریں دوسری طرف کرلیں ہلکی سی شرم کی وجہ سے کیوں کہ انکے گھر میں اسکی شادی کی بعد سبکے سامنے پہلی دفعہ ہوی تھی تو وہیں دونوں بہن بھای بہن کی شادی کا سوچ کر چہکے
ارے بھیی ہوجایگی شادی بھی اور ویسے بھی ابھی وہ 20 کی ہوی بھی نہیں اور تم بول ایسے رہی ہو جیسے 25 کی ہوگیی ہو میری بیٹی ابھی اسکی پڑھای مکمل ہوجانے دیں جب اللہ چاہے گا تو یہ بھی ہوجایگا…وہاج صاحب نے انہیں سمجھایا
ہممم جیسے اللہ کی مرضی بس اللہ میرے بچوں کے نصیب اچھے کرے…آسیہ بیگم نے دعا کی تو سب نےآمین کہا
***
شاہزیب میں نے اپنے پیرنٹس سے بات کی ہے وہ کہہ رہے ہیں تم اپنے والدین کو لے کر آو رشتے کیلیے پھر ہم پوری انوسٹیگشن کے بعد ہی جواب دینگے…ماہم نے شاہزیب سے کہا وہ لوگ اسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے
اچھا تم نے کرلی نا بات اب میں کرلونگا…شاہ زیب نے خوشی سے اسے جواب دیا
تمہارے موم ڈیڈ مان تو جاینگے نہ…اسنے ڈرتے ہوے پوچھا
تم ڈرو نہیں میں انکا اکلوتا بیٹا ہوں انکو ماننا ہی پڑےگا کیوں کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ میرے بغیر…
تم سچ میں مجھسے اتنا پیار کرتے…
کیا تمہیں ابھی ابھی ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ کھیل کھیل رہا ہوں یا مزاق کررہا ہوں…
ارے نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا…ماہم نے اسکے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا تو مسکراکر شاہزیب نے اپنا دوسرا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: