Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 6

0
مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 6

–**–**–

امی جان شاہزیب کا فون آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ اسکے موم ڈیڈ آگیے ہیں پاکستان وہ وہ ایک دو دن میں آینگے یہاں…
اچھا بیٹا ٹھیک ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا یہ رشتہ ہم جبھی کرینگے جب ہم پوری طرح سے تسلی کرلینگے آخر کع تم ہماری اکلوتی اولاد ہو ہم ایسے ہی کسی کے ہاتھوں نہیں تھما دینگے تمہیں…صاءمہ بیگم نے اسے پیار سے کہا
جی جی اما میں نے شاہزیب کو بتا دیا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ ہم جیسی بھی انویسٹیگیشن کروانا چاہیں کروالیں…
اچھا چلو یہ بھی اچھا اس سے پوچھ کر بتانا کہ کب آینگے وہ لوگ…
اوکے پوچھ کر آپ کو بتا دونگی…
اپنے کمرے میں آکر ماہم وہ ساری چیزیں نکال کر دیکھنے لگی جو اسے شاہزیب نے گفٹ کی سب ڈاءمنڈ کی خوبصورت نیکلیس , پایل , رنگ , اءیر رنگس سب ایک ایک کرکے پہن کر دیکھنے لگی ان سب کے آگے اسے سلمان کے دیے ہوے گفٹس بے مول لگنے لگے یہی تو وجہ ہے جو ماہم نے سلمان کو اگنور کرکے شاہزیب کو ہاں کہہ دی
وہ ان سب چیزوں میں گم تھی جبھی فون پر رنگ ہوی دیکھا تو سلمان کالنگ لکھا تھا اسنے سوچا کیا اسکو جواب دےدوں
بلکہ نہیں ابھی نہیں کوی میس کرییٹ نہ کردے یہ بعد بتاونگی ابھی ٹال دیتی ہوں
ہیلو…
کہاں ہو یار نہ کالز نہ میسجز…
تمہیں پتا نہیں کیا پیپرز میں لگی ہوی ہوں ٹاءم نہیں ہے میرے پاس
یہ کس لہجے میں بات کررہی ہو دل بھر گیا ہے کیا مجھ سے?
میرے سر میں بہت درد پوری رات نہیں سو سکی پڑھای کی وجہ ابھی سو رہی تو تمہاری کال نے اٹھا دیا اب نیند میں بھی مجھ سے اچھے سے بات کرنے امید ہے…
اچھا چلو پھر سو جاو بعد میں بات کرینگے اور ہاں رات کو سوجایا کرو دن میں پڑھا کرو باے
اوکے…بس اتنا کہہ کر فون کاٹ دیا اس نے
سوری سلمان جی آپکی نہیں ہو سکتی یہ حسین لڑکی…ایک ادا سے کہتی اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ کر مسکرادی…
***
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ڈءیر دانی ہیپی برتھڈے ٹو یو
تالیاں بجا کر کینٹین میں کیک کٹ کرتی ہوی دانیہ کیلیے سب برتھڈے سونگ گا رہے تھے ساری دوستوں نے دانیہ کو برتھڈے سرپراءز دیا تھا وہ بہت خوش تھی لیکن ایک طرف اداس بھی کیوںکہ آج پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ اسکی برتھڈے پر ماہم نہیں تھی پیپرز ختم ہو چکے تھے انکے
کینٹین میں جتنے اسٹوڈنس تھے ون باے ون آکر دانیہ کو سالگرہ کی مبارک باد دے رہے تھے
ہیپی برتھڈے دانیہ…ایک جانی پہچانی مردانہ آواز پر اسنے دیکھا
شکریہ لیکن آآپ…شاید میں آپکو جانتی ہوں…
یار دانی یہ ہماری یونی کے ہی ہیں…عاءشہ اسکی کم عقلی پر اپنا سر پیٹتے ہوے بتایا
ارے وہ تو مجھے بھی پتا ہے کہ یہ ہماری یونی کے ہی ہیں لیکن انکا نام شاید پتا ہے مجھے آپ نے ہی تو بتایا تھا…
جی میں مزمل آپکو میں نے ہی بتایا تھا…اور سوری مجھے نہیں پتا تھا کہ آج آپکا برتھڈے ہے میں کوی گفٹ نہیں لا سکا آپکے لیے
ارے نہیں نہیں کوی بات نہیں اور ویسے بھی میں ان نون لوگوں سے گفٹ نہیں لیتی بلکہ صرف گفٹ کیا کچھ بھی نہیں لیتی …رافعیہ بیٹا انکو کیک دو برتھڈے کا…دانی نے رافعیہ کو کہا جو مسلسل مزمل کو ہی دیکھی جا رہی تھی
جب تک میں یہ کیک ٹیچرز کو کھلا کر آتی ہوں…یہ کہہ کر وہ بھاگ گیی
***
دانیہ کا برتھڈے بہت اچھا گزرا یونی میں فرینڈز کے ساتھ اور گھر آی تو اسکے فیورٹ ریسٹورنٹ میں ڈنر کا پروگرام بن گیا سب فرینڈز نے اسکو گفٹس دیے وہاج صاحب نے اور آسعیہ بیگم نے اسکو خوبصورت سا پینڈنٹ دیا جس دل کا لوکٹ تھا لوکٹ کھلو تو اسمیں دو تصوریں تھی ایک ساءڈ پر وہاج اور آسعیہ اور دوسرے ساءڈ پر دانی , ماریہ اور شہریار کی تصویریں لگی ہوی تھیں وہ یہ گفٹ دیکھ کر بہت ہوی دونوں بہن بھای نے اسکو پرفیوم اور رسٹ واچ دی تھی
رات گیارہ بجے کے ٹاءم وہ اپنے گفٹس دیکھ ہی رہہ تھی جب ماہم کا اسکے پاس میسج آیا
ہیپی برتھڈے ٹو یو بڈی.. سوری یار تمہارا برتھڈے تھا آج بس ابھی یاد آیا سو سوری یار…
بہت جلدی یاد آگیا آپکو ویسے آجکل کہاں گم ہو جو میرا برتھڈے تک بھول گیی اور پرسوں لاسٹ پیپر تھا اسکے بعد یونی بھی نہیں آی خیریت تو ہے
ہاں یار بس کچھ کام میں پھنسی ہوی تھی جبھی نہیں آی کل آونگی تو بتاونگی تم لوگوں کو
اچھا چلو جیسی تمہاری مرضی…یہ ٹایپ کرکے دانی نے فون سویچڈ آف کیا اور سو گیی
***
او ہو بھیی آج تو بڑے بڑے لوگ آءیں ہیں کہاں تھی بھیی آپ…مرہا نے ماہم کو دیکھ کر کہا
ہاں یار وہ دراصل بات یہ ہے کہ اگلے مہینے میری شادی ہے…
ماہم نے شرماتے ہوے کہا
وااااٹ…چاروں نے شوکنگ انداز میں کہا
اتنی جلدی شادی اچانک خیریت تو ہے…مرہا نے حیرانگی سے پوچھا
اور کیا پڑھای ادھوری چھوڑ دوگی.. دانیہ
ابے ہاں یار اتنی جلدی ہی وہ دراصل میں شادی کے بعد دبیی چلی جاونگی نہ تو اس وجہ سے میرے سسرال والوں نے کہا ہے پاسپورٹ , وغیرہ بنوانے میں ٹاءم نہ لگے اسلیے جلدی کرینگے اور ویسے بھی وہ خود بھی جلدی جاینگے کیوں کہ انکا سارا بزنس وہیں ہیں…بزبس اور دبیی کے نام پر ماہم پر کے لہجے پر غرور صاف ان چاروں نے نوٹ کی
ماہم سلمان بھای اور انکی فیملی تو پاکستان میں ہی رہتے ہیں نا…رافعیہ نے کنفرم کیا
یہ سلمان کہا ں سے آگیا بیچ میں…ماہم کا منہ بنا
کیا مطلب تمہاری شادی سلمان سے نہیں ہورہی…دانیہ نے شوکنگ انداز میں پوچھا
نہیں تو…
تو پھر کس سے ہو رہی ہے…عاءشہ نے پوچھا
شاہزیب سے…اس نے سب کے سر پر بم پھوڑا
اب یہ شاہزیب کون ہے…
ماہم نے اپنے اور شاہزیب کے ملنے کی ساری کہانی انہیں سنادی
یار وہ لوگ اتنے اچھے ہیں میرے لیے اور امی ابو کیلیے بھی بس پہلی دفعہ ملنے پت ہی اتنے سارے گفٹس لاے اور انکا خود کا بزنس ہے وہ بھی دبیی میں سلمان کا تو چھوٹا سا بزنس ہے وہ بھی پاکستان میں ہنہ…
یار لیکن سلمان تمہارے ساتھ بلکل لویل تھا اسکا کیا ہوگا…دانیہ نے کہا
ارے جاو یار لویل شاہزیب کے پاس پیسہ ہے اور وہ مجھسے بہت محبت کرتا ہے…
کیکن یہ غلط ہے ماہم کسی کے ساتھ دھوکا کرنا…دانیہ کا اندازہ بلکل ٹھیک تھا کہ کوی نامحرم کسی سے لویل نہیں ہوسکتا بلکل…اور اب تمنے سوچا ہے کہ دو سال کے ریلیشن کے بعد انکا کیا ہوگا…مرہا نے افسوس سے اسے کہا
اب اسکا جو بھی ہو مجھے کوی فرق نہیں پڑتا اس سے بلکہ ایک کام کرو نا اپنی اس چہیتی سے بولو دےدے یہ سلمان کو سہارا…
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ اپنے ان گندے خیالات کو اپنے پاس رکھو تم ماہم کتنا تمہیں سمجھانے کی کوشش کی میں نے لیکن تم افسوس ہوا مجھے بہت…دانیہ نے اسے غصے میں کہا تو ماہم وہا ں سے اٹھ کر چلی گیی
***
ماہم کا نکاح شاہزیب سے ہو گیا…
ہیلو سلمان مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے…
ہاں بولو ایسی بھی کیا بات ہے…
میرا نکاح ہوگیا ہے…
واااٹ نکاح کس سے…
شاہزیب سے میرے امی ابو نے رشتہ طے کردیا تھا میرا…
تمہاری بھی رضا مندی تھی اس میں…
ہا…ہاں
کیوں کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا…فون میں سے غصے سے بھری آواز آی
دیکھو تمہیں تمہاری بہین کی قسم ہے کہ تم مجھ سے اب رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنا
ماہم کی بات سن کر سلمان نے زور سے دیوار پر موباءل مارا…
***
واٹ مما رییلی اگلے ہفتے فہد بھای کی شادی ہے اور ہمیں یعنی اپنے اتنے قریبی رشتہ دار کو اب پتا چل رہا بلکہ ایک ہفتہ پہلے کارڈ دینے آے ہیں وہ لوگ بلکہ کارڈ کی بھی کیا ضرورت تھی فون پر ہی انوایٹ کر دیتے.
دانیہ بیٹا بری بات ہے ایسے نہیں بولتے…
ٹھیک ہے ماما لیکن میں نہیں جاونگی پہلے ہی بتارہی ہوں میں
چلنا تو پڑے گا ضرور…
***
وہاج صاحب کے ایک بھای ہیں بہزاد علی اور انکی اہلیہ صوفیہ بیگم بہت ہی مغرور قسم کی خاتون شوہر کی اچھی جوب کی وجہ سے اپنے دیور اور جیٹھ کو کم تر سمجھتی اور اپنے شوہر کو بھی اپنے ہی رنگ میں رنگ لیا ایک بیٹا فہد اور بیٹی فاءزہ دونوں بلکل ماں کے اوپر گیے ہیں …
***
ماہم کی شادی کو 6 ماہ ہو گیے تھے اب ان دوستوں میں ماہم کا ذکر بھی نہیں ہوتا تھا یاد آتی تھی اسکی لیکن اسکے متعلق بات کوی نہیں کرتا تھا اسکا رویہ آج بھی دانیہ کو دکھ پہچاتا…
***
اسلام وعلیکم…!
کسی نے پیچھے سے سلام کیا تو وہاج صاحب پیچھے مڑکر دیکھا
وعلیکم سلام…جواب دے کر وہاج صاحب اس شخص کو پہچان نے کی کوشش کررہے تھے
میں معراج وہاج بھول گیے اپنے دوست کو…
معراااج…
کیسے ہو یارا…وہ خوشی میں انکے گلے ملے
میں بلکل ٹھیک اور تم تو 25 سال بعد بھی ویسے کے ویسے ہی ہو جوان ہینڈسم…
ارے جاو یار کہاں سے جوان…اور تم یہاں کیا کررہے ہو…میرا مطلب یہاں کیسے
ارے یار یہ میری بیٹی کی دوست فاءزہ کے بھای کی شادی ہے…اور تم
یہ میرے بھتیجے کی شادی ہے…
اچھا یار بھابھی اور بچے کہاں ہیں ملواو ان سے…معراج صاحب نے کہا
ہاں ہاں ضرور
دونوں اپنی اپنی فیملیز کو لے کر ایک ہی ٹیبیل آگیے
وہاج اور معراج کی ملاقات کالج میں ہوی تھی اور وہیں سے دونوں کی بہت اچھی دوستی ہوگیے تھی پھر اپنی جاب کی وجہ سے وہاج صاحب اور گھر کی شفٹنگ کی وجہ سے معراج صاحب دونوں ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کر سکے
انکے بچوں اور بیگمات میں بھی بہت اچھی دوستی ہوگیی تھی
پتا ہے آپ لوگ آگیے تو میرا دل لگ گیا یہ فاءزہ تو چھوڑ کر اپنی دوسری دوستوں میں لگ جاتی ہے مہندی میں بھی اتنا بور ہوی تھی میں ماما بابا تو آہی نہیں رہے تھے اسکا زبردستی فون آیا کہ انکل آنٹی کو لے کر آنا مجھے اپنے موم ڈیڈ سے ملوانا ہے انکو ویسے آپ لوگ کیوں نہیں آے تھے مہندی میں… فروا ان لمیٹڈ بولے جا رہی تھی
مہندی والے دن میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی اسلیے اور یہ لوگ میری وجہ سے ہی نہیں آے تم بتاو پڑھتی ہو ? دانیہ نے کہا
میں نے سیکنڈ اییر کے پیپرز دیے ہیں ابھی اور آپ لوگ ?
میں یونی میں ہوں اور یہ فرسٹ اییر کے پیپرز دے کر اب سیکنڈ اییر میں گیء ہے…
اچھا اچھا گڈ…فروا کے اس طرح کہنے پر تینوں کھلکھلا کر ہنسی
فروا یہاں بیٹھی ہو میں تمہیں پورے ہال میں ڈھونڈ رہی ہوں اور تم دونوں بھی یہاں ہوآو بھابھی سے ملواوں تم تینوں کو…فایزہ جان بوجھ کر. انجان بنی کہ اسنے دانی اور ماریہ کو ابھی دیکھا ہے اسکے کہنے پر تینوں بے دلی سے اٹھ گییں
فروا تمہارا بھای نہیں آیا…میں نے تمہاری پوری فیملی کو اسپیشل انوایٹ کیا تھا اور وہ نہیں آیا نوٹ فییر…
وہ بزی تھے جب ہم یہاں آے ہیں تو وہ تب بھی آفس سے نہیں آے تھے بہت بزی شیڈیول ہے انکا…
اچھا چلو پھر تم انکو ولیمے میں لے کر ضرور آنا…
***
آپی آپ نے فایزہ آپی جو دیکھا تھا کیسے اترا رہی تھیں پارلر سے میک اپ کروالیا تو سمجھ رہی تھیں کہ ان سے زیادہ کوی حسین نہیں…
ماریہ کیوں دوسروں کی براءیاں کرتی ہو انکے گناہ کم کرتی ہو تم پتا ہے…دانیہ نے اسے کہا
ہیں کیا مطلب…
ارے میری بہن اگر تم کسی کی براءی کروگی نا تو اسکے گناہ دھل جاینگے اور تمہارے گناہ بڑھ جاینگے اس لیے جو جیسا بھی ہو اسکی برایء نہیں کرنی چاہیے…دانی نے اسکو سمجھایا
اچھاااااا…تو اب سے میں کسی کی بھی برایء نہیں کرونگی توبہ توبہ اللہ پاک مجھے معاف کرییگا…
اچھا آپی اچھایء تو کرسکتے ہیں نا…اس نے معصومیت کے سارے ریکورڈ توڑتے ہوے پوچھا
ہاہاہا…ہاں اچھایء کرلو
اچھا آپی فروا کتنی اچھی ہے بلکل باتونی
ہاں اچھی ہے وہ اور اب سو جاو اور مجھے بھی سونے دو
دونوں بہنیں شادی سے واپس آکر باتیں کرتے کرتے سوگییں…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: