Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 8

0
مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 8

–**–**–

کمرے کے باہر سے دروازہ ناک ہوا
اسنے جلدی جلدی سے سیگریٹ پھینکی اور ہاتھ ہوا گھما کر اسکی اسمیل کو ختم کرنا چاہا لیکن ناکام
کون ہیں آجاءیں
عجیب سی ناک میں چھڑتے ہی نایمہ بیگم نے پوچھا
تم نے سیگریٹ پی ہے
وہ انسے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا چاہ کر بھی نہیں تو فورا سر جھکا دیا کہ جیسے اپنے جرم کا اعتراف کررہا ہو
سلمان میں نے اور تمہارے بابا نے تمہاری ایسی تربیت تو نہیں کہ تھی کہ تم سیگریٹ پیو کب سے تمہاری عادت بن گیی
وہ کچھ نہیں بول پایا…
یہ کہیں اس لڑکی کے جانے کے بعد سے تو شروع نہیں کی تم نے…
وہ ایسے ہی سر جھکاے کھڑا رہا
اپنے آپ کو دیکھا ہے تم نے کیا حشر کرلیا ہے تم نے اپنا صرف ایک لڑکی کیلیے جو تمہیں چھوڑ کر جا چکی ہے…
ماما آپکو پتا ہے آپ سے کوی بات نہیں چھپای میں نے میں اس سے محبت کرتا تھا بے پناہ…اسنے تڑپ کر کہا
تم اس سے محبت کرتے تھے اور اس محبت کا کیا جو میں تمہارے بابا اور تمہاری بہن تم سے کرتے ہیں ہاں کیا ہم نے بھی تمہارے ساتھ ایسا کیا جو اس لڑکی نے تمہارے ساتھ کیا اس کی محبت کی وجہ سے تم نے پورے چھ مہینے اپنا کیا حال رکھا پچیس سال میں مینے اور تمہارے بابا نے تمہاری پرورش کرکے اتنا بڑا کیا اور اس لڑکی کی وجہ سے چھ مہینے میں تم ہم سے اتنا دور ہوگیے تم ایک ہفتہ وہ ایک ہفتہ تمہیں پتا ہے کیسے گزارا تھا میں نے جب تم نے ٹپنے آپ کو اس کمرے میں قید کرلیا تھا تمہیں صرف اپنا خیال ہے ہم میں سے کسی کا خیال رہا ہی نہیں تمہیں…تمہیں پتا ہے وہ کتنا روتی تھی کہ ماما بھای کیوں باہر نہیں آرہے کمرے سے تمہارے بابا الگ پریشان پھر جب آہستہ آہستہ تم نے اپنے آپ کو کام مصروف کیا تو میں نے کچھ سکون کا سانس لیا کہ شاید اب تم نورمل ہر جاو لیکن تم نے صرف اپنے کام سے کام رکھا کہ جیسے ہم تو تمہاری ذندگی میم ہیں ہی نہیں اس سے ایک بات تو ثابت ہو گیی کہ ہم تو تمہاری ذندگی میں کہیں تھے ہی نہیں صرف وہ تھی جو تمہیں چھوڑ گیی تم نے اسکی سزا اپنے ساتھ ہم سب کو دینا شروع کردی…ناءمہ بیگم یہ کہتے ہوے رو دیں جو سلمان سے دیکھا نہیں گیا
نن—نہیں ماما ایسی بات نہیں سوری اب میں ایسا نہیں کرونگا…وہ انکے گلے لگ گیا
میں نے تمہارے لیے لڑکی دیکھ لی ہے اگر مجھے اپنی ماں مانتے ہو منع نہیں کروگے تم پتا ہے مجھے…
لل…لیکن ماما…
لیکن ویکن کچھ نہیں سوچ کر صبح جواب دے کر آفس جانا
وہ اسکی کچھ سنے بغیر وہاں سے چلی گییں…
میں اسکو خوش نہیں رکھ پاونگا آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں…اب وہ خود سے ہی بات کررہا تھا
آج پہلی دفعہ اسنے ماں کو روتے ہوے دیکھا تو جی بھر کے اپنے اوپر غصہ آیا کہ صرف ایک بےوفا کیلیے چھ مہینے تک اپنے جان سے پیاری فیملی کو اگنور کیا…ایک ذور دار مکا اسنے دیوار پر مارا اور آکر لیٹ گیا
***
ماما میں تیار ہوں شادی کرنے کےلیے
ناشتے کے ٹیبل پر اسنے اپنا فیصلا کسی کے پوچھے سنا دیا تو سب کے چہرے کھل اٹھے
ارے واہ بھیا پتا ہے آپکو وہ لڑکی کتنی اچھی ہے آپ اس چڑیل کو بھی بھول جاینگے
آج کے بعد اسکا ذکر نہیں کرنا جا رہا ہوں میں…
ناشتہ کرو پہلے معراج صاحب کی کڑک دار آواز نے اسے بیٹھنے پر مجبور کردیا
بیٹا کتنے دن سے تم ہم سب سے کٹ گیے صرف ایک لڑکی کیلیے لیکن اب نہیں اب تمہیں اپنے آپکو نارمل کرنا ہوگا…پیار سے معراج صاحب نے اسے سمجھایا
جی بابا…بس یہی کہہ سکا کیوں کہ وہ جیسا بھی ہوگیا ہو لیکن اپنے ماں باپ کی بات نہیں ٹال سکتا تھا
ہم کل جاینگے لڑکی والوں کے گھر چلوگے تم…نایمہ بیگم نے پوچھا
نہیں ماما آپ لوگ خود ہی چلے جاییگا مجھے ایک کام ہے کل…
چلو جیسا تمہیں بہتر لگے…
ٹھیک ہے کل نہیں لیکن جب بھی تم فری ہو تو مجھے تمہیں وہاج سے ملوانا ہے…
ککون وہاج بابا…
تمہارا ہونے والا سسر…
جی بہتر
***
اسلام وعلیکم کیسے یاد آگیی آج ہماری…فون میں سے چہکتی ہوی آواز آی
وعلیکم سلام ارے یار تمہیں بھولے ہی کہاں ہیں ہم…معراج صاحب نے بھی بلکل خوش اخلاقی سے جواب دیا
ہاہاہا…
اچھا یار کل ہمارا تمہاری طرف کا پروگرام بن رہا ہے اگر تم لوگ بزی نہیں ہو تو کیا ہم آجایں..
کیسی باتیں کررہے ہو معراج ضرور آو ہزار دفعہ آو تمہارا ہی گھر ہے اور ڈنر ساتھ کرینگے پھر
اوکے ملتے ہیں پھر کل
اللہ حافظ
اوکے خدا حافظ
***
سب بہت خوشی خوشی ملتے ہیں پہلی بار انکے گھر میں آے اور اتنا اچھا استقبال نا بچوں میں کوء ایٹیٹیوٹ بلکل تمیز اور سلیقے سے سب سے ملنا باتیں کرنا ایسا لگ رہا تھا کہ اس سے پہلے بہت دفعہ آچکے ہوں بلکل اپنا پن آسیہ بیگم اور وہاج صاحب نے اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے نایمہ بیگم تو اپنی ہونے والی بہو کو دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوے جارہی تھیں کہ ایک یہ ہی ہے جو میرے بیٹے کی ذندگی سنوار سکتی ہے اسکو پہلے والا سلمان بنا سکتی ہے…
ڈنر کا دور چلا دانیہ کے ہاتھ کے بنے ہوے فرایڈ رایس کی سب نے تعریف کی جوکہ اسنے فروا کیلیے بنایا تھا کیوں کہ شادی میں پہلی بار ملنے پر فروا نے دانیہ کو بتایا تھا کہ اسکی فیورٹ ڈش فرایڈرایس ہے…
ڈنر کے سب بڑے بیٹھے ٹی وی لاونج میں باتیں کررہے تھے جب بچے چھت پر چلے گیے
وہاج بھای اور بھابھی ہمارا یہاں آنے کا ایک مقصد ہے…
جی بھابھی بولیے…
میں آپسے آپ کی ایک قیمتی چیز مانگنے آی ہوں…
بھابھی کھل کر بلا جھجھک بات کریں.. آسیہ بیگم نے انہیں تسلی سے کہا جوکہ وہاج اور آسیہ پہلے ہی سمجھ چکے تھے
میں اپنے بیٹے سلمان کیلیے آپکی بیٹی دانیہ کا ہاتھ مانگنے آی ہوں…
وہاج کوی جلدی نہیں ہے تمہیں جتنا ٹایم چاہیے سوچنے کیلیے لو اور جو انویسٹیگیشن کروانی ہے اپنی تسلی کیلیے کروالوں…معراج صاحب نے کہا
یہ تو تمنے غیروں والی بات کردی
نہیں یہ آپکا حق ہے بھای…لیکن میں بس یہی کہونگی کہ دانیہ اپنے اس گھر سے نکل کر اپنے دوسرے گھر جایگی ہم میں سے کسی سے بھی اسے شکایت کا موقعہ نہیں ملیگا وہ بھی میری بیٹی ہی ہے جیسے فرواہے…
وہ سب تو ٹھیک ہے بھابھی لیکن وہ ابھی پڑھ رہی ہے…
پڑھای کا مسلہ نہیں ہے بھای وہ اپنی پڑھای نہ چھوڑے شادی کے بعد بھی پڑھے جتنا بھی پڑھے…
ٹھیک ہے مجھے کوی مسلہ نہیں ہے لیکن میں اسکا فیصلہ دانی ہی کریگی کیوں کہ ذندگی اسنے گزارنی ہے..
جی پورا حق ہے اسکا…
جاو آسیہ دانی کو بلاو…
جی بابا آپنے بلایا…
ہاں بیٹا ایک بات کرنی ہے ضروری آپ سے آپکے انکل اور آنٹی آپ کیلیے رشتہ لے کر آے ہیں اپنے بیٹے کیلیے مجھے اور تمہاری ماما کو کویء اعتراض نہیں ہے لیکن اصل فیصلہ تمہارا ہے…
بابا جیسی آپکی مرضی میں آپکی خوشی میں خوش ہوں…
دانی نے اپنا سر شرم سے جھکاتے ہوے اپنی ذندگی کا فیصلہ اپنے ماں باپ پر چھوڑ دیا
تو پھر ٹھیک ہے آج سے دانی بیٹی ہماری بھای صاحب آپکی اجازت ہوتو میں دانیہ کو انگوٹھی پہنادوں…
بھابھی یعنی آپ پوری تیاری کرکے آی تھیں…آسیہ بیگم نے کہا
جی کیوں کہ ہمیں پتا تھا آپ لوگ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹاینگے…نایمہ بیگم نے خوشی سے کہا
چلیں پھر بسم اللہ کریں…معراج صاحب نے بولا
اور خوشی خوشی دانی کو انگوٹھی پہنادی…
***
بابا میں اندر آجاوں…
ہاں بیٹا آو…
سب کے جانے کے بعد دانی وہاج اور آسیہ کے پاس آی…اسکے چہرے سے الگ ہی گھبراہٹ پتا چل رہی تھی
بیٹا کیا ہوا سب خیر تو ہے…آسیہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا
وہ ماما بابا بات یہ ہے کہ انکل آنٹی جلدی شادی کا کہہ رہے تھے اور آپ لوگ بھی مان گیے…بہت ہمت کرکے دانی نے بولا
کوی مسلہ ہے بیٹا اس رشتے سے آپکو..
ارے نہیں نہیں ماما…وہ بات میری پڑھای کی ہے اور میں اپنی پڑھای نہیں چھوڑ سکتی…اسکی اس بات پر دونوں مسکرادیے
بیٹا انہیں تمہاری پڑھای سے کوی مسلہ نہیں ہے تم شادی کے بعد بھی اپنی پڑھای جاری کرسکتی ہو میری جان…وہ بہت اچھے لوگ ہیں تم بہت خوش رہوگی…آسیہ نے پیار سے اسے سمجھایا
جی ماما بس پڑھای کا ہی مسلہ تھا…وہ مسکراکر کہتی وہاں سے چلی گیی…
آپی دیکھنا تمہارے فون میں کچھ میسجز آرہے ہیں کب سے دیکھ لیں کہیں انکے نہ ہوں…
شٹ اپ اپنا کام کرو تم…
دانی نے موبایل اٹھا کر دیکھا تو فروا کے مسجز تھے جس میں کچھ پکچرز تھی اور آخر میں میسج تھا کہ بھای کی پکچرز ہیں دیکھ لیں اور بتاییے گا ضرور کہ کیسے لگے آپکو میرے بھای بھابھی جان اور ایک آنکھ بند والا ایموجی تھا…
یہ نوٹیفیکیشن میں پڑھ کر دانی کا دل زور سے دھڑکا اور اسنے پکچرز دیکھے بغیر ہی فون آف کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: