Nimra Khan Urdu Novels

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Episode 9

Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan
Written by Peerzada M Mohin

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 9

مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – قسط نمبر 9

–**–**–

شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں
سب بہت خوش تھے ماریہ اور دانی کی فروا سے اچھی دوستی تھی اس لیے ان لوگوں نے ساتھ شاپنگ کی تھی سواے سلمان کے جس نے ایک بھی کام میں حصہ نہیں لیا سارا انتظام معراج صاحب اور وہاج صاحب نے مل کر کیا تھا یہاں تک کے سلمان نے اپنی شادی ہی شیروانی بھی نہیں لی تھی دانیہ کیلیے منہ دیکھای کا تحفہ بھی نایمہ نے لیا تھا کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ سلمان یہ بھی نہیں لےگا معراج اور نایمہ سلمان کا یہ رویہ دیکھ کر بیت اداس تھے لیکن انہیں یقین تھا ایک دن وہ ٹھیک ہوجایگا…
***
آج دانیہ اور سلمان کا نکاح تھا
صبح سے سب کام میں مصروف تھے اور دانیہ ایک مہینے کی تھکن آج ہی نکال رہی تھی دن کے بارہ بج گیے تھی لیکن ابھی تک سو رہی تھی
آپی ماما بلارہی ہیں اٹھ جایں بہت کام ہے پہلے آکر ناشتہ کرلیں پھر آپکو سب کے کپڑوں پریس بھی تو کرنے ہیں…آخری بات ماریہ نے اسے اٹھانے کیلیے کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیی
کیا مطلب تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے میرا ہی نکاح ہے اور آج بھی میں ہی سب کے کپڑے پریس کروں شیم آن یو ماریہ…
اچھا آپ اٹھ گیی ہیں نا تو فریش ہو جایں پارلر جانا ہے کپڑے میں نے پریس کرلیے ہیں صرف آپ کو اٹھانے کیلیے بولا تھا اب اتنی بھی بری نہیں ہوں میں…
اچھی بات ہے تم نے خود ہی اعتراف کرلیا کہ تم بری ہو بس تھوڑی سی اچھی ہو…اب دانی کی باری تھی
***
دانیہ اور ماریہ پارلر سے واپس آگییں تھیں عصر کے بعد نکاح تھا
دانیہ نے خوبصورت سی وایٹ فراک جس پر ریڈاور وایٹ کام تھا وایٹ چوڑی دار پاجامہ اور ریڈ دوپٹہ جس میں اسنے بیوٹیشن سے کہہ کر خود ہی ہلکا سا میک اپ کروایا تھا بالوں میں جوڑا بنا کر اوپر سے دوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا اور وہ کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی
سلمان نے بھی وایٹ ہی قمیض شلوار پہنی ہوی تھی اور بالوں کو اچھے سے پف میں سیٹ کیے ہوے تھے بھلے ہی وہ اس شادی سے خوش نہیں تھا لیکن اپنی تیاری میں کوی کثر نہیں چھوڑی تھی کیوں کہ اچھا تیار ہونا پرفیکٹ دکھنا اسے بچپن سے ہی پسند تھا
نکاح گھر میں ہی رکھا گیا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ایک دم شور ہوا لڑکے والے آگیے جو کہ انکی چھوٹی چھوٹی کزنز نے مچایا یہ سن کر دانی کا ذور سے دھڑکا
نکاح خواں اور کچھ مرد حضرات دانیہ کے پاس آے وہاج صاحب دانیہ کے پاس ہی بیٹھ گیے تو فورا دانیہ نے انکا ہاتھ پکڑلیا دانیہ سے اجازت لی تو اس نے جواب دے کر دستخط کردیے سب نے اسے دعا دی اور پھر سلمان کے پاس چلے گیے
سلمان احمد ولد معراج احمد کیا آپکو دانیہ وہاج ولد وہاج ذولفقار کے حق مہر دس لاکھ روپے میں کیا آپکو نکاح میں قبول میں ہیں
قبول ہے…
قبول ہے…
قبول ہے…
اسنے دستخط کیے تو نایمہ اور معراج صاحب نے سکون کا سانس لیا
سب نے باری باری اسے گلے مل کر مبارک باد دی
دانیہ کو اسکے برابر میں لا کر بیٹھا دیا سب نے انکو دیکھ کر کہا
MashaAllah made for each other ❤
یہ الفاظ جب سلمان کے کانوں میں پڑے تو فورا لب بھینج کر ضبط کیا سب نے باری باری ان دونوں کو میٹھای کھلای
سلمان کو عجیب اکتاہٹ ہورہی تھی یہاں بیٹھے بیٹھے لیکن اٹھ نہیں سکتا تھا وہیں وہاج صاحب آے
سلمان بیٹا میں نے اپنے جگر کا ٹکڑا دیا ہے تمہیں اسکا بہت خیال رکھنا
جی انکل…یہ کہہ کر وہ بس پھیکا سا مسکرادیا
***
نکاح کے بعد سلمان اٹھ کر باہر جانے لگا جاتے جاتے اچانک ذہن میں کچھ آنے پر یہاں وہاں دیکھا تو نظر اپنے مطلوبا جگہ آکر رکی وہ تھا دانیہ کا کمرا جہاں سے ماریہ اور فروا نکل رہے تھے اسنے اپنا رخ اسی طرف کرلیا
سلمان نے فروا سے کہا مجھے دانیہ سے ملنا ہے…
کیوں بھای پرسوں آپکی شادی ہے جبھی مل لیےگا…فروا نے اپنے بھای کو چھیڑا
شرافت سے ملوادو بات کرنی ہے اور ویسے بھی میرے نکاح ہے وہ میں چاہوں تو خود مل لوں بس مجھے روم نہیں پتا…
اچھا ٹھیک ہے میں ملوادونگی لیکن پہلے آپ ڈیل فاینل کریں…
کیا مسلہ ہے تمہارا مطلب تمہاری یہ ڈیلیں ختم ہی نہیں ہوتی…سلمان نے جھنجھلا کر کہا
فروا کیسی ڈیل.. فروا کے ساتھ کھڑی ماریہ نے پوچھا جو کب سے دونوں بھای بہنوں کی باتیں سن رہی تھی
پیسے کمانے ہیں تم نے—اگر کمانے ہیں خاموش رہو—تم تو اتنی معصوم ہو کہ مجھے ایسا لگتا ہے اپنا نیک بھی چھوڑدوگی لیکن میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دونگی…
یہ تو بےچاری شکل سے ہی معصوم لگرہی ہے اور بڑی بہن دیکھو—اسکا انتظام تو میں خود کرونگا…وہ صرف سوچ ہی سکا یہ
یہ لو اپنے پیسے اور چلو…سلمان نے ایک ہزار کے تین نوٹ فروا کے ہاتھ پر رکھے
ارے اوہ شکریہ بھای…فروا نے خوشی سے جھوم کر کہا
***
دانیہ جو کہ اپنا دوپٹہ بیڈ پر رکھ کر واشروم جارہی تھی اچانک روم کا دروازہ کھلا کوی اندر آیا اور کسی نے دروازہ لاک کردیا…
ماریہ دروازہ لاک کیوں کیا ہے ابھی سب آے ہوے کسی کو کام ہوسکتا ہے…وہ بغیر دیکھے واشروم جاتے جاتے بولی سمجھی ماریہ آی ہے
ماریہ نہیں سلمان…مردانہ آواز اور سلمان کا نام سن کر ایک دم پیچھےمڑ کر دیکھا
سلمان نے اسے دیکھا جو بغیر دوپٹہ کھڑی تھی اسنے فورا دوپٹہ اٹھایا اور سر پر اوڑھا
مجھے تم سے بات کرنی ہے…سپاٹ لہجے میں بولا
جج–جی بولیں…پہلی دفعہ کوی مرد اکیلے اسکے روم میں آیا تھا وہ بھی اسکا شوہر اسلیے اسے ایک الگ ہی جھجھک. محسوس ہورہی تھی
تم تو پہلے ہی سے جانتی ہو کہ میں کون ہوں…
جی جانتی ہوں…اسنے اپنی جھکی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا سلمان کی نظر جیسے ہی اسکی بڑی خوبصورت آنکھوں پر پڑی جس پر لمبی پلکوں کا پردہ تھا اسکی آنکھوں میں ہی کھو سا گیا دانیہ نے سلمان کو دیکھا جو مسلسل اسے ہی دیکھے جا رہا تھا تو فورا اسنے اپنی آنکھیں جھکالیں سلمان ایک دم سٹپٹا گیا کہ اسے ہوا کیا ہے اسنے اپنی سوچ جھٹکی
ہاں تم مجھے جانتی اور اب میں تمہیں بھی اچھی طرح سے جان گیا ہوں یہ جو تم سب کے سامنے اچھی بنی ہوی نا تمہارا سچ سب کے سامنے لاونگا…
سلمان کی اس بات نے دانی کا دماغ گھوما دیا ساری شرم جھجھک بھلا کر دوبدو ہو کر بولی…
کون سا سچ پہلے مجھے بھی تو بتایں…
تمہارا افییر…شادی مجھ سے کررہی ہو اور افییر کسی اور سے تمہیں تو میں بہت اچھی لڑکی سمجھتا تھا تمہیں ریلیشنز پسند ہی نہیں تھے اور اندر ہی اندر ریلیشن چل رہا ہے تمہارا تم یہ بتاو دھوکا کس کو دے رہی ہو مجھے یا پھر اس بیچارے کو جسکو آس دے کر آج مجھ سے نکاح کرلیا نے سب کی نظر میں اچھا بن نے کیلیے…سلمان کی بات پر دانی اسے بےیقینی سے دیکھے جارہی تھی
آپ ہوش میں تو ہیں کیا کہہ رہے ہیں کونسا افییر اور کس سے آپکو اگر شادی نہیں کرنی تھی تو نا کرتے لیکن بلاوجہ مجھ پر اتنا گندا الزام نہیں لگایں…دانی نے غصے میں لیکن اپنا لہجہ دھیما رکھ کر بولا
ہاں نہیں کرنی تھی مجھے تم سے شادی لیکن اب تو کرلی اعت ایک بات یاد رکھنا اگر تمہیں کسی اور کے ساتھ مینے دیکھ لیا نا تو اچھا نہیں ہوگا اور ایک اور بات تمہارا یہ سچ تو سب کے سامنے لانگا میں ثبوت کے ساتھ…
ہاں تو اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی نکاح تو اب ہوگیا ہے کچھ نہیں ہوسکتا اور کیا لاینگے آپ سب کے سامنے میرا سچ میں بھی دیکھتی ہوں میں یہیں ہو اور آپ بھی یہیں…وہ بھی دانیہ تھی کبھی نا ہار ماننے والی
اوکے لیٹس سی..
سلمان کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا…
پتا نہیں کیا اپنے آپ میں بلاوجہ مجھ پر الزام لگاگیے لیکن میرا نام بھی دانیہ ہے ہار تو میں بھی نہیں مانونگی اور یہ جو اکڑو پن ہے نا اسکو تو میں ہی ختم کرونگی…
***
دانیہ نے سلمان کے رویے کا ذکر کسی سے بھی نہیں کیا تھا بس خود کو نارمل رکھا ہر مسلے کو خود حل کرنے کی ہمت تھی اس میں
لیکن اتنا بڑا الزام لگایا تھا اسنے دل اسکا دکھا تھا رات کو سونے کیلیےلیٹی تو نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی یہی سوچے جارہی تھی کہ جس سے شادی ہورہی ہے وہ خود شادی نہیں کرنا چاہ رہا تھا اب آگے کی ذندگی کیسے گزرے گی باقی گھر والے تو بہت اچھے ہیں ابھی تک لیکن اپنا خود کا شوہر ہی کھڑوس ہے واہ ورنہ تو شوہر اچھا ہوتا ہے اور سسرال والے کھڑوس ہوتے ہیں مطلب یار میرے ساتھ الٹا ہی حساب ہے…اپنی سوچ پر خود ہی ہنس گیی اور سونے کی کوشش کرنے لگی
***
آج مایوں کا فنکشن تھا فنکشن بینکیوٹ میں رکھا گیا تھا نکاح کے بعد دونوں کو کمباین مایوں بیٹھای گیی سب فنکشن کی تیاروں میں مصروف تھے
ماما پلیز دونٹ ٹیل می میں یہ ڈریس نہیں پہنونگی…
کیوں نہیں پہنوگی میں لای ہوں یہ…
سیریسلی ماما یہ آپکی چوایس ہے آپکو نہیں کے میں ایسے ڈریسس نہیں پہنتی پلیز ماما…
دانی تمہیں میں نے پہلے ہی کہا تھا اپنا ڈریس دیکھ لو اگر سمجھ نہ آے تو بتادینا میں چینج کروادونگی لیکن تم نے کہا تھا کہ آپ لای ہیں تو اچھا ہی ہوگا اب مجھے تنگ کررہی ہو تم…اب تمہارے بابا تو تمہیں لے کر نہیں جاینگے اتنا کام ہے
تو میں خود چلی جاونگی ماریہ کے ساتھ آپ بس گاڑی کی چابی دلوادیں
آج تمہاری مایوں ہے تین بج رہے ہیں آٹھ بجے ہال کیلیے نکلنا ہے اور تم اب جاوگی نہیں بلکل بھی نہیں بس یہی پہن لو…
نو سوری ماما میں یہ نہیں پہنونگی…
اچھا جاو تم میں دلواتی ہوں چابی تمہارے باپ نے بگاڑا ہے تمہیں ڈھیٹ ہوگیی ہو بہت
تھینک یو سو مچ ماما….انکے گلے لگ کر پیار سے کہا
اب مکھن نا لگاو اور بس خوش رہو ہمیشہ
***
وہ لوگ شاپنگ کر چکی تھیں اب گھر واپس جارہی تھیں
فروا یہاں کیسے تم…ماریہ نے فروا کو دیکھا تو دونوں وہیں آگیے
بھای کے ساتھ آی تھی آپ لوگ یہاں کیسے…
یار یہ جو تمہاری بھابھی ہیں نا انہیں اپنا مایوں کا ڈریس اب اچھا نہیں لگ رہا تھا تو وہ ہی لینے آے تھے…
اسلام وعلیکم سلمان بھای کیسے ہیں آپ…
وعلیکم سلام میں ٹھیک…
جس مال میں دانیہ اور ماریہ آی تھیں اتفاق سے وہیں سلمان اور فروا بھی فروا کیلیے شاپنگ کرنے آے تھے
دانی نے سلمان کو ایک نظر دیکھا اور کہا…چلو ماریہ ویسے دیر ہوگیی ہے ہمیں ماما بابا ڈانٹیں گے
آپی ابھی تک تو آپکو دیر نہیں ہورہی تھی اب اچانک دیر ہورہی ہے واہ…ماریہ نے کہا
اچھا ہم چلتے ہیں اللہ حافظ …کہتی ماریہ کا ہاتھ پکڑکر لے گیی
***
سب ہال میں تیار ہوکر پہنچ چکے تھے ہر طرف گانوں کی آواز سب اپنی خوش گپیوں میں مصروف جب دانیہ کو سلمان کے ساتھ لاکر بیٹھایا گیا
دانیہ نے گٹھنوں سے نیچے تک آتی پیلے رنگ کی فراک کے ہم رنگ دوپٹہ اور چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا فراک پر سفید رنگ کا خوبصورت کام ہوا تھا ساتھ میں پھولوں کے زیور گندمی رنگ کے ساتھ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
وہیں سلمان نے سفید قمیض شلوار کے ساتھ پیلیی واسکٹ اس پر بہت جچ رہی تھی
دانیہ کو سلمان کے بہت قریب بیٹھایا لیکن اس نے تھوڑا فاصلہ قایم کرلیا…
باری باری سب نے انکی رسم کی…
ماریہ نے میٹھای کھلای اور سلمان کے ہاتھ پر ابٹن لگانے کے بہانے اسکی چھوٹی انگلی پکڑلی…
یہ کیا ہے.. سلمان نے دیکھا تو ایک دم پوچھا کہ یہ اسنے کیاکیا ہے
بھای یہ رسم ہے اب آپکو اپنی انگلی چھوڑوانے کیلیے پیسے دینے پڑینگے…
سلمان نے اکتاکے اپنی ماں کو دیکھا
بیٹا یہ رسم ہے حق ہے تمہاری سالی کا دیدو…
جی بھای اب آپ دیں پیسے اور پورے دس ہزار نا ایک کم ایک زیادہ…
دس ہزار…میں نے کوی ایسی رسم نہیں دیکھی…
بھای آپ پہلے کبھی کسی کی شادی میں بھی نہیں گیے دیں اب ماریہ کو دس ہزار اور مجھے بھی دیں پیسے…
تمہیں کس خوشی میں…
بس ایسے ہی…
اچھا یہ لو خوش ہو جاو…یہ بول کر وہاں سے یہ کہہ کر اٹھ گیا کہ دوستوں کو دیکھ لوں
اور دانیہ کو بھی ماریہ اور فروا لے گییں اسکے کہنے پر…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: