Qabool Hai Ishq Me Hara Hua Larka Novel by Nimra Khan – Last Episode 18

0
مجھے قبول ہے کسی کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا از نمرہ خان – آخری قسط نمبر 18

–**–**–

ایک سال بعد…!!
یار دانیہ کیا ہوگیا ہے تمہیں کیوں بچوں والی حرکتیں کرکے مجھے تنگ کررہی ہو اٹھو شاباش سیریل کھاو شاباش…سلمان دانیہ کو کھانا کھلانے کی کوشش کررہا تھا وہ امید سے تھی چوتھا مہینہ چل رہا تھا اسکا سلمان شروع ہی سے دانیہ کی ڈایٹ کا بہت خیال رکھنے لگا تھا
سلمان میں بچی نہیں ہوں جو آپ مجھے یہ سیریل کھلا رہے ہیں مجھے پیزا کھانا ہے بس اور کچھ اور کچھ نہیں کھاونگی میں…دانیہ نے بھی معصومیت سے بچوں والی ضد کو برقرار رکھ کر کہا
دانیہ میری جان دیکھو اگر تم یہ ان ہیلدی چیزیں کھاوگی تو ہمارے بےبی پر اثر پڑےگا تمہاری طبعیت کے ساتھ ساتھ اسکی طبعیت پر بھی اثر پڑیگا اور میں یہ بلکل بھی نہیں چاہتا…سلمان نے دوبارہ باول اٹھا کر سیریل سے بھرا اسپون اسکے منہ میں ڈالنا چاہا
سلمان اب آپ بچوں جیسی باتیں کررہے ہیں ایسے کیسے ہمارے بےبی کی طبعیت خراب ہوجایگی…دانیہ سلمان کی اس بات پر ہنستے ہوے بولی
اچھا نا چکو شاباش منہ کھولو…سلمان نے دوبارہ اسپون اسکے منہ کے قریب کیا
ٹھیک ہے پھر میں ابھی کھالونگی یہ لیکن آپ رات میں مجھے منع نہیں کرینگے…دانیہ نے شرط رکھی
اوکے ٹھیک ہے رات کو کھالینا جو بھی کھانا ہو لیکن احتیاط سے…سلمان نے اسکی شرط مانتے ہوے کہا
پکا…خوشی سے چہکتی ہوی بولی
ارے ہاں بھیی پکا—اب کھاو یہ…سلمان اسے کہتا ہوا سیریل کھلانے لگا
***
آج سجل کی برتھڈے تھی یاور نے بہت شاندار پارٹی رکھی تھی اسکی برتھڈے کی
ماہم جلدی تیار ہو یار سب مہمان آنا شروع ہوگیے ہیں…تھیر پیس سوٹ میں تیار یاور کمرے میں آکر ماہم سے کہتا ہے ھو اپنی ساڑھی باندھنے میں الجھی ہوی تھی
جی بس میں ریڈی ہوں…مصروف انداز میں کہتی ہے
کہاں سے ریڈی ہو یہ تم سے ساڑھی کا پلو ہی پن اپ نہیں ہورہا…یہ کہتا اسکے پاس آکر ساڑھی کا پلو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور ڈریسنگ پر رکھی ہوی پن اٹھا کر پلو کو پن اپ کرتا ہے
بس اتنی سی بات تھی…یہ کہہ کر اسکا چہرا بغور دیکھ کر اس پر جھکنے ہی والا ہوتا ہے
یاور کیا کررہے ہیں سب آگیے ہیں اور ویسے بھی ابھی آپ ہی کہہ رہے تھے کہ دیر ہوگیی ہے…یہ کہتی ماہم پیچھے ہوی
ہاں لیکن اب اتنی حسین بیوی ہو اور اوپر سے ساڑھی پہن کر اپنے شوہر پر غضب ڈھاے تو بےچارہ شوہر تو سب بھول بھال اسی کے پاس آےگا نا…یاور معصومیت اپنی شکل پہ سجاے بولتا ہے
یاور پلیز ابھی چلیں میری دوستیں بھی آگییں ہوگیں…
ہاں چلو آپکی دوستیں آگییں ہوگیں…یاور نے دوستوں پر زور دیا اور اسکے ساتھ چل دیا
سب مہمان آگیے تھے مہمانوں میں ماہم ہی دوستیں اور یاور کے کچھ دوستوں کی فیملی کے ساتھ آے تھے
رافعیہ کی رخصتی بھی ہوگیی تھی اور عایشہ اور مرہا کی بھی شادیاں ہو چکی تھیں عایشہ کی شادی اسکے پھپھو زاد کزن سے ہوی تھی اور مرہا کی غیروں میں اور سب ہی اپنی اپنی زندگیوں میں اب خوش تھے
ارے بھای بس کردے بھابھی کو گھر جاکر جتنا دیکھنا ہو دیکھ لینا تھوڑا لحاظ کرلے سب مہمان بیٹھیں ہیں…یاور نے سلمان کو چھیڑا جو مسلسل دانیہ کو ہی دیکھا جارہا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد
ابے بیوی ہے میری مرضی میری سب کے سامنے دیکھوں تو اپنا کام کر…سلمان نے بھی یاور کو جواب دیا
چلو گایز اب کیک کٹ کرلیتے ہیں ورنہ یہ تاریخ چینج ہوجایگی…یاور نے کہا تو سب ٹیبل پر آگیے جہاں کیک رکھٹ تھا
سجل نے کیک کاٹا اور سبکی ایک ساتھ تصویر بنی
***
السلام علیکم…!!
خیریت تو ہے کیا ہوا اچانک.. دانیہ آسیہ بیگم سے فون پر بات کررہی تھی
اچھا پھر ہم آتے ہیں—جی جی آرہے ہیں…
کیا ہوا خیریت تو ہے…سلمان نے اسے پریشان دیکھ کر پوچھا
نہیں خیریت نہیں فایزہ کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے نہت خطرناک اللہ پاک نے زندگی تو دیدی لیکن وہ چل نہیں سکتی ماما بتا رہی ہیں کہ وہ بار بار بول رہی ہے کہ ہم دونوں کو بلاو ہم سے ملنا ہے…دانیہ نے پریشانی سے پوری بات سلمان کو بتا دی
اچھا…سلمان نے سوچو میں گم رہ کر با اتنا ہی کہا
کیا اچھا چلیں نا جلدی…یہ کہہ کر دانیہ فورا اٹھ کھڑی ہوی
چلو لیکن وہ اسپیشلی ہمیں کیوں بلا رہی ہے…سلمان نے پھر سے رک کر پوچھا
اب یہ تو وہاں جا کر ہی پتا چلے گا نا—چلیں اب جلدی…یہ کہہ کر وہ سلمان کے ساتھ ہسپتال کے لیے نکل دی
***
وہاں پہنچ کر دیکھا تو فایزہ ہسپتال کے روم میں لیٹی ہوی تھی اسکے برابر میں دانیہ کی تای بیٹھی اور باقی سب خاموشی سے صوفے پر بیٹھے تو کوی کھڑا ہوا تھا
دانیہ اور سلمان نے کمرے میں داخل ہوکر سب کو سلام کیا تو سب جواب دے کر خاموش ہوگیے خاموشی ایسی تھی کہ کچھ ہوا ہے
کیسے ہوا تمہارا ایکسیڈنٹ فایزہ…دانیہ نے اسکے پاس پہنچ کر پوچھا
دانیہ اور سلمان مجھے معاف کردو…فایزہ کے یہ بولتے ہی آنسوں نکلنا شروع ہوگیے
فاءزہ تم اس حالت میں ہم سے کیوں معافی مانگ رہی ہو…دانیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا
تم بس بولو مجھے معاف کروگی نا…فایزہ نے پھر سے پوچھا
ہاں—ہاں کردیا معاف تم بس یہ بتاو کہ اتنا برا ایکسیڈینٹ ہوا کیسے اور تم ہم سے کیوں معافی مانگ رہی ہو…دانیہ نے پھر اس سے پوچھا
دانیہ تمہاری شادی سے پہلے تمہاری اور اور تمہاری دوست کے ہسبینڈ کی باتوں کی ویڈیو میں نے ہی بنای تھی تاکہ سلمان کو دکھا کر تمہیں اسکی نظروں سے گراسکوں کیونکہ سلمان سے میں محبت کرتی تھی لیکن ایسا نا ہوا سلمان نے میری بات جھٹلا کر تم سے شادء بھی کی اور مجھے باتیں بھی سنایں جب مجھے بہت غصہ اس ٹایم تو میں اپنا غصہ پی گیی لیکن اب تم دونوں کو خوش دیکھ کر تم دونوں کی خوشی مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی تو ممم—میں…فایزہ یہاں پر رک گیی دانیہ جو غور سے اسکی باتیں سن رہی تو اچانک اسکے رکنے پر بولی
تو آگے پھر…!
تو میں تم دونوں کو مروانے کیلیے ایک کلر کے پاس جارہی تھی کیونکہ میں یہ سمجھتی تھی کہ جو میرا نہیں ہوا تق وہ دوسروں کے پاس جاکر خوش ہے لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ میں جب جارہی تھی تو میری گاڑی رانگ وے میں تھی اچانک سامنے سے ٹرک آیا تیز اسپیڈ کی وجہ سے گاڑی کنٹرول نہیں ہوی مجھ سے اور یہ ایکسیڈینٹ ہوگیا—مم—مجھے پلیز معاف کردو دانیہ اور سلمان دیکھو تم دونوں کیلیے ھڑھا کھودا تھا اور خود ہی اسمیں گر گیی…فایزہ نے بولتے ہوے ایک بار پھر معافی مانگی
دانیہ میں گاڑی میں ویٹ کررہا ہوں مل کر آجانا…ماہم کے ساتھ ہوا پورا واقع سن کر سلمان غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا بغیر کسی کی بھی سنے وہاں سے واک آوٹ کرگیا
تم بےفکر رہو اور اب سوچو نہیں اللہ پاک جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے تم جلد ہی ٹھیک ہو جاو گی… یہ کہہ کردانیہ بھی وہاں موجود سب سے ملی اور وہاں سے نکل گیی
***
سلمان آپ ایسے بغیر کسی سے ملے وہاں سے کیوں آگیے…دانیہ جب وہاں گاڑی کے پاس پہنچی تو سلمان اسکا ویٹ کررہا تھا اسکے آتے ہی گاڑی میں بیٹھا اور وہاں سے گاڑی بھگا ڈالی کافی دیر تک تو گاڑی میں خاموشی رہی پھر اس خاموشی کو دانیہ کی آواز نے توڑا
تو تمہیں کیا لگا اسکی اس حرکت پہ میں اسے ایوارڈ دے کر آتا…سلمان نے اسے دیکھے بغیر اپنے غصے پر کنٹرول کرتے ہوے بولا
اب تو اسے اسکی سزا مل گیی اور بےشک اللہ بہترین بدلہ لینے والا ہے…
اگر وہ جو کرنے جارہی تھی وہ ہوجاتا تو میری اپنی تو خیر ہے لیکن تم اور ہمارا ہونے والا بچہ…اسنے ضبط سے کہتے اسٹیرنگ ویل پر زور دیا
یہ کیا بات ہوی کہ آپکی خیر ہے سلمان آپ کے بغیر میں نہیں رہ سکتی مر جاونگی پلیز آیندہ ایسی باتیں نہیں کریےگا اور ویسے بھی کچھ ہوا تو نہیں نا…دانیہ نے تڑپ کر اپنا ہاتھ اسکے بازو پر رکھا
دانیہ تمہارا بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کیلیے تم میری زندگی میں ہو تو کوی بھی ہمیں الگ نہیں کرسکتا…دانیہ کی اس بات نے سلمان کا موڈ ٹھیک کردیا تھا وہ اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر بولا
اور اسطرح اسکا ہاتھ سلمان کے ہی ہاتھ میں تھا جیسے کبھی انہونے یہ ہاتھ چھوڑنا ہی نہیں ہے اور انکا ہاتھ چھوڑنے والا انہیں الگ کرنے والا موت کے علاوہ کوی تھا ہی نہیں کیونکہ جو فیصلے اللہ کرتا ہے بےشک وہ ہی فیصلے ہمارے لیے بہتر ہوتے ہیں کبھی کبھی جو ہم سوچتے ہیں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ جو ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے لیتے ایسا نہیں ہوتا پا کچھ اور ہی ہو جاتا ہے کیوں اللہ بہتر جانتا ہے ہمارے بارے میں کہ ہمارے لیے کیا برا ہے اور کیا بھلا یہی ہوا سلمان کے ساتھ بھی اس لیے ہمیں اپنے فیصلے اللہ پر پورے یقین و ایمان کے ساتھ چھوڑ دینے چاہیے تاکہ جو فیصلہ وہ کرے وہ ہمارے لیے بہترین ہو….❤

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: