Qabristan Novel By Nazia Shazia – Episode 1

0

قبرستان از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 1

–**–**–

ماریہ اپنی فیملی کے ساتھ اس گھر میں کچھ دن پہلے ہی شفٹ ہوئی تھی اس کے والدین کا تبادلہ کراچی سے حیدراباد ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی پوری فیملی کو حیدراباد شفٹ ہونا پڑا یہ بات تقریبن 1958 کی ہے تب کیوں کہ اتنی آبادی نہیں تھی ۔
جس گھر میں وہ شفٹ ہوئے تھے اس کے ساتھ ہی تھوڑی سی جگہ چھوڑ کر قبرستان تھا جب کہ دوسری جانب خالی پلاٹ تھا سامنے بھی خالی پلاٹ تھا۔
دو تین خالی پلاٹ چھوڑ کر ہی کوئی گھر ہوتا تھا ماریہ کی پوری فیملی میں ماں باپ اک بھائی بھابھی اور اس کے دو بچے تھے
ماریہ نے اپنا اوپر والا کمرہ منتخب کیا تھا ۔

( گھر میں آنے کے اک ہفتے بعد )
جب ماریہ کام سے فری ہونے کے بعد اپنے کمرے میں گئی اور تازہ ہوا لینے کے لئے کھڑکی کھولی تو اس نے دیکھا کے اس کی پوری فیملی قبرستان میں کھڑی تھی۔

(ماریہ کی کھڑکی سے قبرستان صاف دیکھائی دیتا تھا )

یہ سب رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہے ہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہے ہیں ۔

ماریہ جب بھاگ کر نیچے گئی تو سب اپنے کمرے میں ہی موجود تھے ۔
( ماریہ کے گھر میں نماز کوئی نہیں پڑھتا تھا )
ماریہ نے سوچا کے ہو سکتا ہے میرا وہم ہو مگر ماریہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے سب کا بدلا ہوا روایہ نوٹ کر رہی تھی ۔
جب اپنی امی کے پاس جاتی تو وہ اس غور کر دیکھتی رہتی۔
جب بھابھی سے بات کرتی تو اس کی بھابھی اس سے ایسے بات کرتی جیسے وہ اک دوسرے کو جانتی ہی نہ ہوں ۔

( ہفتہ پہلے )

امی جب کچن سے فری ہو کر کمرے میں گئی تو آرام کے لئے بیڈ پر لیٹ گئی۔
ماریہ کے ابو کمرے میں نہیں تھے اچانک ماریہ کی امی کو ایسا لگا کہ کوئی اس کے پاس کھڑا ہے۔
ماریہ کی امی نے جب آنکھیں کھولی تو کوئی نہیں تھا ۔
ماریہ کی امی نے اپنا وہم سمجھ کر کروٹ بدلی تو آئنے میں اک نہایت بدصورت شکل کی عورت کھڑی تھی۔
اس کی آنکھیں سفید تھی۔
مکمل چہرے پر جگہ جگہ خراشیں تھی۔
پیٹ میں خنجر لگا تھا ۔
جس میں سے تازہ خون بہہ رہا تھا ۔
ماریہ کی امی نے یہ دیکھ کر شیخ مارنا چاہی مگر اس کی آواز تو کہی گم ہو گئی ہے۔
اچانک ماریہ کی امی نے پیٹ میں درد محسوس کیا۔
جب اس نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا تو وہی خنجر اس کے پیٹ میں تھا ۔
جس میں سے خون نکل رہا تھا اب اس عورت نے اپنے پیٹ میں سے آنت نکال کر کھانا شروع کر دی۔
ماریہ کی امی کے منہ میں بھی آنت خود بہ خود اگئے۔
جو وہ چبانے لگی
ماریہ کی امی کی آنکھوں میں درد کے مارے آنسو نکلنے لگے
پھر اس عورت نے وہ آنت چھوڑ دی جو اس کے پیٹ سے لٹکنے لگی بالکل ماریہ کی امی کے پیٹ سے بھی ویسے ہی آنت لٹکنے لگی
اب عورت نے شیشہ توڑ کر اس کی کرچیاں منہ میں ڈال لی اور چبانے لگی۔
اور نگل لی
اس کے منہ سے خون کا فوارا نکلنے لگا ٹھیک ماریہ کی امی کے منہ سے بھی ویسے ہی خون کا فوارا پھوٹا۔
امی یہ درد برداشت نہ کر سکی اور موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
عورت امی کی ٹانگ کو منہ میں ڈال کر گھسیٹ کر قبرستان لے گئی۔
اور اس کے یانی امی کے خون کو ایسے چاٹ کر گئی جیسے وہاں خون کا اک قطرہ بھی نہ تھا ۔

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 7

ماریہ کی شادی بہت اچھے گھر میں ہوئی تھی اس کا خاوند جس کا نام اسد تھا اس سے بہت محبت کرتا اس کی ساس بھی بہت اچھے دل کی مالک تھیں سسر کا شادی سے پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا ماریه کے اسد سے دو بچے تھے بیٹی ہیرا اور بیٹا سعد بیٹی کی عمر پانچ سال اور بیٹا تین سال کا تھا شروع میں دن اچھے گزرے مگر پھر ماریا کی ماں نے ماریا سے کہنا شروع کردیا کے تم اپنے شوہر سے کہو کے تمھیں علیحدہ گھر لے کر دے مگر ماریا نا مانتی لیکن اپنے شوہر کے گھر جاتے ہی اسے پتہ نہیں کیا ہوجاتا اس کا اپنی زبان پر قابو نا رہتا وہ اسے کہتی کے مجھے الگ گھر لے کر دو مگر اس کا شوہر نا مانتا غرض دونوں کے بیچ لڑائی شروع ہو گی بات طلاق کی نوبت تک آگئی ماریا ناراض ہو کر مایکے چلی گی جن کا کراچی سے حیدرآباد تبادلہ ہوگیا جس کی وجہ سے ماریا کو بھی ساتھ جانا پڑا لیکن ابھی اس کی طلاق نہیں ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ابو کمرے میں آے تو امی بیڈ پر سو رہی تھی وہ بھی آ کر لیٹ گے رات کے قریباً تین بجے ان کی آنکھ کھلی تو امی کمرے میں نہیں تھی پھر ان کو باہر سے کچھ آواز آئ وہ باہر گئے تو یہ آواز کچن سے آرہی تھی جیسے کوئی ہنس رہا ہو جب وہ کچن میں گئے تو ان کی اپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گی امی کے پاس بلی پڑی ہوئی تھی اس کا پیٹ چاک تھا اور پورے فرش پر خون پھیلا تھا اور امی اس کے پیٹ کو منہ لگے بیٹھی تھی ابو کچن کے اندر آے یہ تم کیا کر رہی ہو اچانک کچن کا دروازہ بند ہو جاتا ہے ابو دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہے مگر دروازہ نہیں کھلتا جب واپس امی کی طرف دیکھتے ہے تو وہاں کچھ نہیں ہوتا ابو گھبرا جاتے ہے اچانک ابو کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کہ پاس کوئی کھڑا ہے جب ابو وہاں منہ کرتے ہے تو وہاں ایک لڑکا کھڑا ہوتا ہے کون ہو تم ابو نے پوچھا وہ کچھ نہیں بولتا اچانک ہوا میں ایک چھری اڑتی ہوئی آتی ہے اور وہ لڑکے کے تن کو سر سے جدا کر دیتی ہے خون کا فوارہ لڑکے کے گلے سے پھوٹا ابو یہ دیکھ کر نیچے گر گے لڑکے کے کا خون آلود منہ ابو کے پاس اڑ کر آتا ہے اور ہنسنے لگتا ہے تم کون ہو کیا چاھتے ہو مگر وہ ہنستا جاتا ہے اس کا دھڑ چھری پکڑتا ہے اور ابو کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے ابو رونے لگ جاتے ہے وہ چھری ابو کے پیٹ مارتا ہے ایک کی بعد دوسرا وار کرتا ہے اور لگاتار کرتا ہی رہتا ہے ایک زوردار چیخ ابو کے منہ سے نکلی اور ابو دم توڑ گئے وہ عورت جس نے امی کو مارا تھا اور اس سر کٹے کا منہ دونوں ابو کے خون کو چاٹتے ہیں اچھی طرح خون چاٹنے کے بعد وہ ابو کے جسم کو کھڑکی سے قبرستان کی طرف لے جاتے ہے اور کچن بلکل پہلے کی طرح صاف ہو جاتا ہے ۔

Read More:  Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 3

بھابھی جب صبح امی ابو سے ناشتے کا پوچھنے آتی ہیں تو امی اس سے کہتی ہیں بیٹا تم اپنی خیر مناؤ ہم تو ناشتہ کر لیں گے یہ کہ کر امی اور ابو مسکرانے لگتے ہیں ان کی مسکراہٹ بہت ہی پراسرار ہوتی ہے بھابھی فوری طور پر باہر آجاتی ہیں یہ کیا کہ رہی تھی امی خیر ناشتہ بنانا ہے ابھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچن میں بھابھی آکر جیسے ہی نل کھولتی ہیں تو نل میں سے پانی کی جگہ خون نکلنے لگتا ہے بھابھی گھبرا کر پیچھے ھٹ جاتی ہیں اور منہ دوسری طرف کر لیتی ہیں جیسے ہی دوبارہ نل کی طرف دیکھتی ہیں تو وہاں پانی ہی ہوتا ہے کیا یہ میرا وہم تھا ہو سکتا ہے خیر جب بھابھی انڈا پھینٹ کر پین میں ڈالتی ہے اور کچھ لینے کے لئے فریج کی طرف جاتی ہیں جیسے ہی وہ فرج کھولتی ہیں تو وہاں امی کا کٹا ہوا سر پڑا ہوتا ہے بھابھی یہ دیکھ کر زوردار چیخ مارتی ہیں جیسے ہی وہ بھاگ کر پین کی طرف جاتی ہیں تو وہاں مری ہوئی بلی پڑی ہوتی ہے جس کا خون پورے پین میں پھیلا ہوا تھا بھابھی ایک بار پھر چیخ مارتی ہیں اور بیہوش ہو جاتی ہیں بھابھی بھابھی کیا ہوا آپ کو ماریہ بھابھی کی آواز سن کر کچن میں جاتی ہے تو بھابھی بیہوش پڑی ہوتی ہیں بھائی بھائی دیکھیں بھابھی کو کیا ہوا بھائی بھاگ کر آتے ہیں بھابھی کو اٹھا کر کمرے میں لے جاتے ہیں۔
۔……………………………………
ماریہ قبرستان میں کھڑی ہوتی ہے ہر جگا سناٹا ہوتا ہے ماریہ چاروں طرف منہ گھوما کر دیکھتی ہے مگر اس کے علاوہ وہاں کوئی نہیں ہوتا (الو کی بھیانک آواز ماحول میں ایک عجیب پراسراریت پیدا کر رہی تھی ) اچانک ماریا کی سامنے والی قبر کھلتی ہے اور ایک بہت ہی بھیانک عورت جس کی آنکھیں سفید ہوتی ہیں نکلتی ہے ایک اور سامنے والی قبر کھلتی ہے اور ایک سر کٹا نکلتا ہے ماریا کی دائیں جانب والی قبر پھٹتی ہے اور اس کی امی نکلتی ہے دائیں جانب والی قبر سے ابو نکلتا ہے پیچھے سے آواز آتی ہے تو جیسے ہی وہ پیچھے مڑتی ہے تو اس کی بھائی اور بھابھی نکلتے ہے ہاہاہا نہیں بچے گی تو نہیں بچے گی تو مرے گی جیسے سب مرے ہیں تو بھی مرے گی تو بھی نہیں بچے گی نہیں بچے گی ہاہاہا ماریا کی آنکھ کھل جاتی ہے اف کتنا بھیانک خواب تھا ماریا اپنے بچوں کو دیکھتی ہے جو سہی سلامت سو رہے ہوتے ہے ماریا آنکھیں بند کر کے دوبارہ سونے کی کوشش کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھی رات کو قریباً تین بجے بھابھی کی آنکھ کھلتی ہے کوئی جیسے گنگنا رہا ہو یہ رات کے اس پہر کون گا رہا ہے ضرور ماریا ہوگی ایک تو یہ لڑکی بھی نا طلاق ہونے والی ہے اور ہال دیکھو ذرا اس لڑکی کا ابھی پوچھتی ہوں بھابھی جیسے ہی کمرے سے باہر آتی ہیں تو گنگانے کی آواز بند ہو جاتی ہے ماریا ماریا کہاں گئی سونے کا ارادہ نہیں اچانک بھابھی کو کسی چیز سے ٹھوکر لگتی ہے اور وہ نیچے گر جاتی ہیں یہ کیا تھا ابھی بتی چلا کر دیکھتی ہوں جیسے ہی بھابھی لائٹ چلاتی ہیں تو کیا دیکھتی ہے کہ امی اور ابو نیچے لیٹے ہوتے ان دونوں کی آنکھیں نیچے گری ہوتی ہیں بہو ذرا ہماری آنکھیں پکڑانا غلطی سے نیچے گر گئی دیکھ نہیں رہی کتنا خون نکل رہا ہے ہماری آنکھوں سے پکڑاو نا پکڑاو بہو ہاہاہا بھابھی چیخ مارتی ہیں اور
سیڑہیوں کی طرف بھاگتی ہے اور سامنے والے کمرے میں بھاگ جاتی ہے ان کی ہاتھ کانپ رہی ہوتے ہیں آواز تو کہیں گم ہوجاتی ہے ان سے کنڈی نہیں لگتی ابو امی بھی بھابھی کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں کہاں جائے گی بچ کر ہاہاہا بھابھی خود کو الماری میں چھپا لیتی ہیں امی اور ابو دروازہ کھولتے ہے کہاں ہے بہو اپنی موت کو خوش آمدید نہیں کہے گی بہو ارے بہو کہاں ہے کب تک چھپاے گی خود کو ہمیں پتا ہے تو کہاں ہے آجا باہر

Read More:  Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: