Hina Memon Horror Novels Qaid

Qaid Novel By Hina Memon – Episode 1

Qaid Novel By Hina Memon
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

قید از حنا میمن – قسط نمبر 1

–**–**–

میں ایک الجھی ہوئی لڑکی ھوں چھوڑ مجھے
ہر ایک سوچ میں الجھن، ہر اک خیال گِرہ۔۔۔۔۔!!
وہ خاموشی سے لہروں کو تکے جارہی تھی
جو آواز پیدا کرتی آتیں اور خاموشی سے لوٹ جاتیں
وہ بھی تو ایسی ہی تھی اُس نے بھی تو کتنا شور مچایا تھا
مگر اب اُسے خاموش ہی رہنا تھا سپاٹ خاموشی اُس کا مقدر بننے والیں تھی
“ہیر تم کیوں کچھ نہیں کہتیں تم کہو تو انکل آنٹی سے میں بات کروں؟ وہ کیوں تمہاری زندگی تباہ کرنا چاہ رہے ہیں؟”
تمنا کب سے اُسے سمجھا رہی تھی مگر وہ خاموش تھی جیسے الفاظ ختم ہوگئے ہوں
“ہیر!! میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں”!! تمنا نے اُسے جھنجھوڑا
“کیا چاہتی ہو تم بتاؤ؟ کیا کروں ایک مہینہ ہوا مجھے پورے ایک مہینہ میں نے شور مچایا ہے کبھی بھوک ہڈتال کبھی اپنے آپ کو نقصان پہنچایا سب سے تعلق قطع کرلیا
یہاں تک کے اُس ذلیل انسان کو بھی کھری کھری سنا دی مگر کیا ہوا کچھ ہوا بتاؤ تمنا کچھ ہوا” وہ بھی پھٹ پڑی
“جب اپنے آپ کو نقصان پہنچانے سے بھی بابا کو مجھ پر رحم نہیں آیا تو اور کیا حربہ آزماؤ اب میں نے اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے تمنا وہ ہی کچھ کرے گا”
وہ سر جھکا کر بے بسی سے بولی تمنا نے اُسے تاسف سے دیکھا اُس نے بچپن سے سفر کیا تھا اور آج زندگی اُس سے کتنا بڑا امتحان لینے جارہی تھی کاش!!وہ اُس کے لئے کچھ کر پاتی تمنا کی آنکھیں نم ہوگئیں
“تمہارے بابا ایسا کیوں کررہے ہیں؟ وہ تو تمہارے کزن کو جانتے ہیں وہ کیسا ہے پھر بھی!” وہ بھی سامنے موجوں کو دیکھتی استفسار کرنے لگی ہیر نے سرد سانس ہوا کے سپرد کی
“اپنےبھائی کی محبت، اور انا کی خاطر ،اور سب سے اہم پیسے کی خاطر کیونکہ ساری جائیداد عرفان کے نام کی گئی ہے
وعدہ کیا ہے بھائی سے اپنی بیٹی کو ان کے لنگور بیٹے سے باندھنے کا بس تین ہی چیزیں بابا کو عزیز ہیں پھر بھلے ان کی بیٹی مر کھپ جائے”
“اور ان دونوں چیزوں کے لئے وہ تمہیں قربان کررہیں ہیں اُس دلدل میں تمہیں جھونک رہے ہیں
ایسی آگ میں پھینک رہے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے وہ تمہیں کھو دینگے
ہیر تم پلیز میری خاطر ایک آخری دفع کوشش کرلو!” وہ منت کرتے ہوئے بولی
“آہ۔۔۔ ہزار دفع کوشش کرچکی ہوں
تو تمہاری خواہش بھی پوری کردیتی ہوں ویسے بھی میں تو سب کی خواہشوں کی تسکین کے لئے ہی رہ گئیں ہوں
سب مجھے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور پھر دہکتی ہوئی آگ کی نذر کردیتے ہیں”
اُس کے لہجہ میں کیا کچھ نہ تھا تمنا کو لگا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے
“بات کروں گی آج بابا سے اگر آج بھی وہ نہ مانے تو پھر میں کچھ بھی نہیں کہونگی اپنے آپ کو حالات کے سپرد کردونگی” وہ ٹھنڈی آہ بھر کربولی
“چلو گھر چلئیں” وہ جیب سے گاڑی کی چابی ٹٹولتی خود کو نارمل کرنے لگی
“کیا تم ٹھیک ہو؟” تمنا نے اُس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ دھرا
“اب ٹھیک لفظ میرے نصیب میں نہیں ہے” وہ تلخی سے بولی اور مڑ گئی
تمنا بھی خاموشی سے اُس کے پیچھے چل پڑی
____________
سب ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے
ہیر نے موقع کو غنیمت جانا کیونکہ سب ہی اس وقت وہاں موجود تھے
دل میں مبہم سی اُمید لئے وہ گویا ہوئی شاید کوئی اس کی حمایت میں بول کر اُسے اُس دلدل میں دھنسنے سے بچا لے
ہیر نے گلا کھنکھارا لیکن سب اپنے کام میں مصروف رہے جیسے اُس کی آواز کسی نے سنی ہی نہیں
ہیر نے سب کو دیکھا مگر کوئی ایک بھی اُس کی جانب متوجہ نہ ہوا ہیر کا دل ڈوب کر اُبھرا تھا
“بابا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے”. وہ بلاآخر بول پڑی
“ہیر اگر آپ دوبارہ اُسی موضوع پر بات کرنا چاہتی ہیں
تو آپ جانتی ہیں ہم پیچھے نہیں ہٹینگے ہم وعدے کے پابند ہیں اور پھر اگر آپ کے جگہ کوئی بھی ہوتا تو ہم اُسے قربان کردیتے”
وہ حتمی لہجہ میں بولے ہیر کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی
“بابا!!” لب پھڑپھڑائے مگر آواز نہ نکلی وہ کیا کہہ رہے تھے
یعنی وہ ایک ایک حرکت سے واقف تھے کہ عرفان کیسا تھا پھر بھی وہ،وہ کیسے باپ تھے ہیر کو سمجھ نہ آئی
اُس نے مدد طلب نگاہوں سے ماں کو دیکھا مگر وہ نظریں چرا گئیں بہن کو دیکھا
تو وہ سٹپٹا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی بھائی کو دیکھا تو محض تسلی سے آنکھیں بند ہوئیں
مگر کوئی بھی اُسے ڈھارس نہ دے سکا ہیر بے بسی سے نظریں جھکا گئی
اور اگلے لمحہ اُس نے آنسوں کا گلہ گھونٹ کر بولنا شروع کیا
اگر اب کچھ بچا ہی نہ تھا تو وہ کم از کم اپنی بھڑاس تو نکال لیتی
“آپ لوگ جانتے ہیں عرفان کن کن غلط کاموں میں ملوس ہے بلکہ یہ کہیں کے ایسا کونسا غلط کام ہے
جس میں وہ ملوس نہیں پھر بھی آپ اپنی بیٹی کو جانتے بوجھتے اُس دلدل میں پھینک رہے ہیں لیکن آپ لوگ یہ بھول رہے ہیں
کہ یہ زندگی میری ہے میرے اللہ نے مجھے دی ہے اسے گزارنے کا حق صرف مجھے ہے یہاں تک ہے
مجھے اتنا حق بھی حاصل ہے کہ میں کسی رشتہ کے لئے ناں بھی کرسکتی ہوں
مگر مجھ سے یہ سب حق تو بابا آپ نے چھین ہی لئے ہیں
کروا دیں آپ میرا نکاح اُس کے ساتھ مگر میری یہ شرط ہے کے میری میت پر بھی آپ لوگ مت آئیے گا”
وہ زاروقطار روتی بولی سب کو ہی اُس کے الفاظ مار گئے تھے
ایک ماں کی تڑپ جاگی تھی ایک بہن کی محبت جاگی تھی
ایک بھائی کی غیرت جاگی تھی باپ کے دل میں ٹیسیں اُٹھیں تھیں
مگر پھر بھی سب پتھر دل بن گئے تھے ہیر نے کچھ بھی نہ کھایا اور چپ چاپ وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی
پورے گھر میں وحشت زدہ خاموشی تھی
اس گھر کی درودیوار چیخ چیخ کر رو رہیں تھیں مگر یہاں کے فرد سفاک تھے
اور اصغر صاحب نے ایک اور فیصلہ کیا تھا
جو سب کو جھٹکوں کی زد میں لے آیا تھا
اور سب ہی یہ بات ہیر سے کرنے میں ہچکچا رہے تھے
“مگر اصغر یہ جلدی”۔۔ وہ کچھ بولنے لگیں مگر اصغر صاحب نے ہاتھ کے اشارہ سے روک دیا
“اگر آپ لوگ یہ کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں تو ہم خود کر لینگے” وہ سخت لہجہ میں بولے
“نہیں آپ رہنے دیں میں خود کرتی ہوں” اسماء آرا نے خوفزدہ ہوکر کہا ڈر تھا
کے باپ بیٹی میں تلخ کلامی نہ ہوجائے اور اصغر صاحب کوئی غلط قدم نہ اُٹھا لیں
“ٹھیک ہے جائیں مگر یاد رہے ہم نہ سننے کے قائل نہیں جواب ہاں ہی ہونا چاہئے”
لہجہ تنبیہہ کرنے والا تھا اسماء آرا محض سر ہلا سکیں اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی
زینیں طے کرنے لگیں دل بنجر لگ رہا تھا
وہ ایسا کیوں کر رہیں تھیں ہر دفع کی طرح وہ آج بھی اپنی اولاد کا دِفع نہ کرسکیں
تھیں کتنی مجبور ماں تھیں،بلکہ نہیں ماں کی ڈکشنری میں مجبوری نہیں ہوتی
وہ تو اولاد کی محبت میں بڑی سے بڑی چٹان کو بھی پار کرسکتی ہے
اگر وہ ڈٹ جائے تو کوئی ذات اُس کی اولاد کو خراش تک نہیں پہنچا سکتی
لیکن اسماء آرا شروع سے ہی خوفزدہ تھیں ان میں تو اپنے لئے لڑنے کی سکت نہ تھیں کیسے اُس کے لئے لڑتیں
وہ دروازہ کے سامنے آکھڑی ہوئیں مگر اندر سے آتیں دلخرش رونے کی آوازیں انہیں زِیر کرنے لگیں وہ رورہی تھی
رو نہیں چیخ رہی تھی کتنی مجبور ہوگئی تھی وہ، اسماء آرا کا دل کانپنے لگا انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے دروازہ کی ناب گھمائی
اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اُس کے مقابل آکھڑی ہوئیں کسی کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی ہیر نے گھٹنوں میں دیا سر دھیرے دھیرے اُٹھایا تھا
اور سامنے اپنی ماں کو دیکھ وہ بکھرتی چلی گئی تھی ماں خود دوسری جانب دیکھتی ضبط کے بندھن باندھے ہوئے تھیں
“ام۔۔امی” ہیر نے دھیرے سے پکارا اسماء آراء کی آنکھ سے ایک موتی گر کر قالین میں جذب ہوگیا وہ اب بھی کھڑکی سے پار دیکھ رہیں تھیں
“ہیر مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے” انہوں نے بامشکل کہا ہیر کو لگا وہ کوئی خوشی کی نوید سنانے آئیں ہیں اُس نے اپنے ہاتھ سے آنسوں پونچھے اور فورا سے اُٹھ گئی
“امی کہیں! آپ یہی کہنے آئی ہیں نہ کے بابا نے اُس رشتے سے منع کردیا؟” ہے وہ سرخ آنکھوں سے مسکرانے لگی
اسماء آرا خاموش رہیں
“کہیں نہ امی!” مسکراہٹ ابھی بھی سمٹی نہ تھی
“تمم۔۔تمہارا آج،آج شش۔۔شام نن۔۔۔نکاح ہے” ناچاہتے ہوئے بھی لہجہ نم ہوگیا تھا ہیر دو قدم پیچھے ہوئی تھی گہری ہوتی مسکراہٹ معدوم ہوگئی تھی آنسو دوبارہ بہنے لگے تھے
“آآ۔۔آپ،آپ مذاق کررہی ہیں نہ،ہیں نہ؟” وہ بے یقینی سے بولی اسماء آرا بھی اب رونے لگیں تھیں
“بولے نہ امی! آپ مذاق کررہی ہیں نہ” “بولیں نہ!” وہ آگے بڑھ کر اُنہیں جھنجھوڑتی ہوئی بولی
“ایسا، ایسا کیسے ہوسکتا ہے ،نکاح تو ایک ہفتہ بعد تھا آج،آج شام کیسے؟” وہ اپنے بال نوچنے لگی
“آپ لوگ ایسا نہیں کرسکتے نہیں” وہ دیوانہ وار بولنے لگی اور گردن نفی میں ہلانے لگی اسماء آرا کا ہاتھ اُٹھا تھا اور اُس کے رخسار کو سرخ کرگیا تھا
“ہوش میں آؤ ہیر! ہوش میں آؤ یہ تمہارے ابو کا حکم ہے
اور تم جانتی ہو وہ ناں سننے کے حق میں نہیں تمہاری بہن کے ہاتھوں نکاح کا جوڑا بھجوا رہی ہوں
تیار ہوجانا کوئی چوں چرا نہیں چلے گا” وہ سخت لہجے میں کہتیں جانے لگیں
مگر ہیر کے الفاظ سیسے کے مانند اُن کے کانوں میں لگے تھے اُن کے قدم جم گئے تھے
“آپ نے تو آج تک میری حمایت نہیں کی بلکہ میری کیا کسی کی نہیں کی کیونکہ آپ ایک بزدل ماں ہیں
جسے اپنے اولاد کا دِفع آتا ہی نہیں ایسا تھا تو بچپن میں ہی گلہ گھونٹ دیتیں یوں اذیت سے پُر زندگی مجھے نہیں درکار تھی
ارے ماں تو وہ ہوتی ہے جو کسی سے بھی لڑ جائے اور آپ اپنے شوہر سے نہیں لڑ پائیں جائیں کہہ دیں اپنے شوہر سے آج ابھی اور اسی وقت نکاح ہوگا نکال دیں
اپنی بیٹی کا جنازہ یہاں سے لیکن یاد رکھئے گا وہ جب بھی وہاں آئیں گے اپنے بھائی سے ملنے آئیے گے ان کی بیٹی آج اُن کے لئے مر جائے گی اور کبھی اپنا منہ نہیں دیکھائے گی مرا ہوا بھی نہیں”
اُس نے یہ الفاظ آنسوں کی آمیزش سے پاک لہجہ میں کہے تھے لیکن اسماء آرا کی روح فنا ہوگئی تھی
اُن میں تو پیچھے مڑنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی اور پھر اُن کے قدم باہر کی جانب بڑھ گئے تھے
مگر اُنہوں نے پیچھے سے کسی کے
گرنے کی آواز محسوس کی تھی
اُن کی بیٹی بکھر گئی تھی اور وہ کچھ نہ کر پائیں تھیں،کچھ بھی نہیں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: