Hina Memon Horror Novels Qaid

Qaid Novel By Hina Memon – Episode 2

Qaid Novel By Hina Memon
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

قید از حنا میمن – قسط نمبر 2

–**–**–

جن کو ڈر ہی نہیں تھا مجھے کھونے کا—-!!!
انہیں کیا افسوس ہوگا میرے نہ ہونے کا—-!!!!
نکاح خواں آگئے تھے وہ سفید گھٹنوں سے نیچے تک آتی فراک میں ملبوس تھی
اُس کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیا تھا اور لال چنری سے گھونگھٹ لیا گیا تھا
وہ صوفے پر بیٹھی تھی
ایک طرف مولوی صاحب بیٹھے تھی اُن کے ساتھ اصغر صاحب اور عرفان کے ابو جمشید کھڑے تھے
ہیر کے دائیں طرف ہیر کا بھائی سفدر کھڑا تھا اور اُس کے برابر میں ہیر کی بہن مہک کھڑی تھی
جبکہ اسماء آرا ہیر کے ساتھ اُس کے برابر میں ہی براجمان تھیں
مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا تھا وہ اُس کی رضامندی دریافت کررہے تھے
مگر وہ کیا بتاتی اُس کی رضامندی مانگی ہی کب گئی تھی
جو ابھی فرضی پوچھی جارہی ہے اُس کا دل کیا ابھی چیخ چیخ کر کہے نہیں مجھے نہیں منظور یہ نکاح مگر وہ ایسا نہ کہہ سکی اور قبول ہے کی تینوں دفع گردان الاپ لی اور سب سے مشکل مرحلہ تھا
نکاح نامہ پر دستخط!! آنسوں لڑیوں کی صورت بہنے لگے دل لرز رہا تھا
ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیدنی تھی چہرہ سفید پڑ گیا تھا
اُسے لگ رہا تھا اُسے موت کی نوید سنائی گئی اور جس پر اُس نے ہامی بھر لی ہے اور اب صرف دستخط باقی ہے
مولوی صاحب دستخط کرنے کا خانہ دیکھا رہے تھے مگر نظریں دھندھلائی ہوئی تھی بلاآخر ہیر نے قلم تھاما تھا
اور بامشکل مطلوبہ جگہ پر دستخط کر دئیے تھے اور پھر ضبط کے بندھن توڑتی وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کررو دی ہر طرف مبارک باد کی صدائیں گونج رہیں تھیں
مگر اُسے وہ موت کا سوگ لگ رہا تھا ہر ذی روح کی آنکھیں نم تھیں اور سب کا یہی اندازہ تھا
کے ہیر اپنوں سے دوری کی وجہ سے رورہی ہے مگر یہ محض غلط فہمی تھی کسی مانوس لمس کی وجہ سے وہ چہرے پر سے ہاتھ ہٹانے پر مجبور ہوگئی
اور سامنے تمنا کو دیکھ کر وہ اور زور سے رونے لگی تمنا نے اُسے سمیٹ لیا جو کام اسماء آرا نہ کرسکیں وہ تمنا نے کیا تھا
وہ اُس کی سسکیاں روکنے میں کامیاب ہوگئی تھی
“بس کرو ہیر! ان لوگوں نے تمہارے ساتھ جو کیا ہے وہ تو کرلیا اب تم اللہ پاک کی ذات پر یقینِ کامل رکھو وہ تمہیں کچھ نہیں ہونے دینگے
بس تم نماز مت چھوڑنا صراط المستقیم کا راستہ اپنائے رکھنا وہ ذلیل انسان تمہیں کھروچ بھی نہیں دے پائے گا”
وہ سامنے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اُس کے لبوں سے لگاتی ساتھ ساتھ دھیمی آواز میں تسلیاں دے رہی تھی
مگر اُس کی آواز اتنی تیز ضرور تھی جو اسماء آرا سفدر اور مہک تک بخوبی پہنچی تھی جبکہ اصغر صاحب کچھ فاصلہ پر تھے
اس لئے سن نہ سکے ہیر اب کچھ بہتر تھی اور کچھ ہی دیر بعد وہ رخصت ہونے لگی تھی
لیکن وہ تمنا کے سوا کسی سے بھی دل سے نہیں ملی تھی کسی پر بھی نگاہ نہیں ڈالی تھی اُس نے
“آپی!” مہک اُس کے قریب آئی تھی ہیر دھیمی سا مسکرائی تھی اُور اُس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“خوش رہو!” وہ ضبط سے بولی تھی
سفدر بھی اُس کے قریب آیا تھا مگر وہ دو قدم پیچھے ہوگئی تھی
مہک تو چھوٹی تھی اُس کا تو کوئی نہ سنتا مگر سفدر، سفدر تو بڑا تھا بہن کی حفاظت کرنا تو اُس کا فرض قرار دیا گیا تھا
پھر،پھر اُس نے کیسے اپنا فرض نبھایا تھا سفدر شرمندگی سے سر جھکا گیا تھا
اسماء آرا مچل رہیں تھیں ایک آخری دفع اپنی اولاد کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے مگر ہمت نہیں تھی
اُن میں مگر پھر انہوں نے ہیر کو کوئی بھی موقع دئیے اُسے اپنی آغوش میں لیا تھا ہیر بھی ماں کی محبت پاکر چند لمحہ کے لئے ہی صحیح مگر پُرسکون ہوگئی
تھی مگر یہ چند پل تھے پھر اسماء آرا اُس سے جدا ہوگئیں تھیں ہیر کو لگا کوئی بہت قیمتی چیز اُس نے جدا ہوگئی
مگر اُس نے سر جھٹک دیا اب وہاں اُسے صرف گرم آگ کے شعلہ ہی ملنے تھے پھر اِس ٹھنڈی پھوار کی کیا
اہمیت اصغر صاحب اُس کے پاس آئے تھے شاید باپ کی محبت اُمڈی تھی
مگر ہیر کو نفرت اور بدگمانی نے آگھیرا تھا جیسے جیسے اصغر صاحب کے قدم بڑھ رہے تھے ہیر کے آنسوں گرتے جارہی تھے
اصغر صاحب اُس کے جیسے قریب آئے اپنی آغوش میں چھپانے کے لئے وہ رُخ پھیر گئی
“جب باپ کا حق ادا کرنا تھا تب آپ کی انا آڑے آئی تھی آج بھی اُسی انا کے زیر اثر رہیں
آپکو یہ شہرت یہ انا یہ وعدیں اور بھائیوں کا پیار مبارک آج آپ کی بیٹی کی بَلی چڑھ گئی ہے جشن منائیں”
وہ تلخی سے کہتی گاڑی کے کھلے دروازہ سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
اُس کے برابر میں مہک کو بیٹھنے کے لئے کہا گیا تھا مگر وہ اب اپنے اس گھر کی کوئی بھی یاد اُدھر نہیں لے کر جانا چاہتی تھی
اِس لئے مہک کو لے جانے سے انکار کردیا تھا اُس نے اور تمنا کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا
گاڑی چند پل میں ہی زناٹے بھرنے لگی تھی مگر اُس نے ایک دفعہ بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا
صرف ناک کی سیدھ میں دیکھ رہی تھی
_____________
جہاں سسرال میں پھولوں سے ویلکم کیا جاتا ہے
وہاں سب ناک منہ چڑھا رہے تھے لیکن اب یہ سب تو اُسے سہنا ہی تھا
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی عجیب سی مہکار نے اُس کا سواگت کیا تھا
اُس نے مدد کے لئے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی موجود نہ تھا ہیر نے سر جھٹکا اور سر پر اُوڑھا دوپٹہ شانے پر پھیلایا
اور سامنے موجود کھڑکی کی جانب بڑھ گئی اور ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کہ پٹ وا کردئیے
ایک ٹھنڈی ہوا نے اُس کے وجود کو چھوا تو اتنی دیر سے اُس کی ذات میں چھائی سوگواری کا اثر ذائل ہوگیا
ہیر تھوڑی دیر وہاں کھڑی رہی اور پھر مڑ کر الماری میں اپنے کپڑے سیٹ کرنے لگی
ابھی وہ کپڑے سیٹ کررہی تھی کہ دھڑام سے دروازہ وا ہوا تھا
ہیر جو اپنے کام میں منہمک تھی یکدم پوری جان سے ہل گئی تھی
سامنے عرفان جمشید کھڑا تھا وہ عام شکل و صورت کا حامل شخص تھا
مگر ظالم و جابر شخص تھا اسکول میں بچوں کے سر پھاڑنا کالج میں ہاتھ پیر توڑنا اور اب گولیاں چلانا اُس کا پیشہ تھا
پورا گاؤں ہی اُس کی جابر طبیعت سے خوفزدہ رہتا تھا سیگریٹ سے لے کر شراب تک ہر ایک بری عادت اُس میں موجود تھی
ابھی بھی وہ پان چبا رہا تھا ہیر کو اُس سے گھن آنے لگی اس لئے وہ دوبارہ کام میں مصروف ہوگئی
“مجھے پانی دو” وہ بیڈ پر بیٹھتا دونوں ہتھیلیاں پیچھے کی جانب جھکائے وہ بولا ہیر ابھی بھی اپنا کام کررہی تھی
“میں نے کہا پانی پلاؤ” وہ دھاڑا ہیر کی سٹی گم ہوئی مگر وہ پھر بھی ڈٹ کر بے نیازی سے کام کررہی تھی عرفان دھپ سے بیڈ سے اُٹھا تھا اور جارحانہ انداز میں اُس کی جانب بڑھا تھا اور اُس کا بازو زور سے دبوچا تھا
“تمہیں کب سے بکواس کر رہا ہوں پانی دو کھوپڑی میں بیٹھتی نہیں کیا بات؟”
وہ نہایت بدتمیزی سے غرایا ہیر کی نظریں اُس کے چہرے سے ہوتیں اپنے سرخ بازو تک گئی تھیں
“میرا بازو چھوڑو” وہ آنکھیں میچتی ضبط سے بولی
“پہلے پانی!” وہ بھی ڈھٹائی سے بولا
“وہ پڑا سامنے پانی خون تو پی رہے ہو پانی کی کیا ضرورت ہے؟”
وہ بھی ناگواری سے دھاڑی اور اپنا بازو جھٹکے سے اُس کی گرفت سے آزاد کیا تھا
مگر اگلے ہی لمحہ اُس کی دنیا گھوم گئی تھی کیونکہ عرفان نے اپنی پوری قوت سے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا
“بیوی ہو میری حکم کی غلام!! اگر دوبارہ اونچی آواز میں بات کی تو ابھی صرف تھپڑ مارا ہے
اگلی دفع زبان گُدی سے کھینچ لونگا آئی سمجھ؟” وہ چیختا ہوا ٹیبل کی جانب بڑھا تھا
اور گلاس اُٹھا کر غٹاغٹ پانی اپنے حلق میں اُتار لیا تھا اور پانی کا گلاس دوبارہ بھر کے اُس کی جانب بڑھا
ہیر کب سے پیاسی تھی اُسے دکھ میں کچھ بھی نہیں سوجا تھا تمنا نے جو ایک گلاس پانی پلایا تھا اُس کے بعد سے وہ پیاسی تھی
۔ پانی کو دیکھ کر اُس کے سوکھے لب اور بے چین ہوگئے تھے
اُس نے سوکھے لبوں پر زبان پھیر کر اُسے تر کیا عرفان نے اُس کی جانب پانی بڑھایا جسے ہیر نے لینے چاہا
مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی سفید ماربل کی زینت بن گیا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی
“تم نے مجھے آج پانی سے انکار کیا ہے نہ! آج تمہیں پانی اور کھانا دونوں نصیب نہیں ہوگا اور تم سارا کام خود کروگی نوکروں کو میں چھٹی دے چکا ہوں”
وہ سفاکی سے کہتا گلاس بھی اُسی زمین کی زینت بن گیا
“اب جاؤ اسے بھی صاف کرو” وہ اُسے اشارہ کرتا خود فریش ہونے چلا گیا
وہ کوئی کپڑا ڈھونڈنے لگی مگر اُسے کچھ نہ ملا تو مجبورا اُس نے اپنے گرد لپیٹا دوپٹے کا ایک سرا پھاڑ دیا
کیونکہ یہ صاف کرنا بھی لازمی تھا وہ ہاتھ سے ہی کانچ کے ٹکڑے اُٹھانے لگی
“آہ!!۔۔” ایک دلخرش چیخ اُس کی حلق سے برآمد ہوئی
جو واش روم سے نکلتے عرفان نے نہایت ناگواری سے سنی تھی
“یہ چیخ و پکار آج برداشت کرلی ہے کل سے ایسا کچھ ہوا تو زبان جلی نہ ملے تمہیں دھیان رکھنا!”
وہ تنبیہہ کرتے بولا اور ہیر کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ اُٹھی اُس نے اپنی سفید ہتھیلی دیکھی جو خون سے لت پت تھی
مگر وہ ضبط کرگئی آج تک وہ ضبط ہی تو کرتی آئی تھی
ابھی وہ کانچ کے ٹکڑے صاف کرکے اُٹھی ہی تھی
کے زمین پر گرے پانی کی وجہ سے اُس کا پاؤں پھسلا تھا اور وہ زمین بوس ہوگئی
تھی اور ساری کانچ کے ٹکڑے اُس کے جسم کے مختلف حصوں میں پیوست ہوگئے اور ایک دو ٹکڑے اُس کے چہرے پر بھی لگے تھے وہ بلبلا اُٹھی تھی
ہیر کی تکلیف سے سسکیان گونجنے لگیں
“عر۔۔عرفان!!۔۔۔” وہ بامشکل بولی
اور اُٹھنے کی کوشش کی مگر جان نکلتی محسوس ہوئی دوبارہ وہ زمین بوس ہوگئی
عرفان بال بنانے میں مصروف تھا اِس لئے سن نہ سکا یا سن کر بھی ان سنا کر گیا
“عرفان! پلیز یہ کانچ نکالیں بہت تکلیف ہورہی ہے” وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا رہی تھی
“تو کس نے کہا تھا کہ اندھوں کی طرح چلو؟
خود نکالو نہ میرے پاس وقت ہے کے تمہارے یہ کانچ نکالوں نہ اتنے پیسے کے شہر جاکر ہسپتال کے دھکے کھاؤں”
وہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھتا بولا ہیر کی نظر اُس کی کلائی پر پڑی تو ایک تلخ مسکراہٹ اُس کے چہرے کا احاطہ کر گئی
“گھڑی لاکھوں کی اور مجھے ہسپتال لے جانے کی حیثیت نہیں” وہ بڑبڑائی اور اس دفعہ زور دے کر آخر کار اُٹھ بیٹھی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: