Hina Memon Horror Novels Qaid

Qaid Novel By Hina Memon – Episode 3

Qaid Novel By Hina Memon
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

قید از حنا میمن – قسط نمبر 3

–**–**–

سوچتی ہوں۔۔۔۔!!!!
جس دن مجھے صبر آگیا اُس کی کیا اہمیت رہ جائے گی۔۔۔۔۔!!!!
“میں آؤ تو یہ سب نظر نہ آئے اور آکر امی سے دریافت کروں گا
گھر بھی تم اکیلی صاف کروگی
اور امی سے پوچھ کر آج میری پسند کی چیزیں بنانا”
وہ سارے حکم صادر کرتا وہاں سے چلا گیا
ہیر نے اپنا جائزہ لینا شروع کیا ہتھیلی جل رہی تھی
اُس نے آنکھوں کے سامنے ہتھیلی کی تو دل خون کے آنسوں رونے لگا
جہاں پہلے سے کانچ سے کھروچ آئی تھی اور خون رس رہا تھا
دوبارہ وہیں کانچ گھسا ہوا تھا وہ درد کی شدت سے آنکھیں میچ گئی
اور پھر اگلے لمحہ ہی بنا کسی تاخیر کے دوسرے ہاتھ سے وہاں سے کانچ کھینچ نکالا
اور پھر چیخیں اس کمرے میں گونجنے لگیں جو نیچے تک جارہیں تھیں
“یہ لڑکی اتنا چیخ کیوں رہی ہے؟ جاؤ جاکر دیکھ کر آؤ”
غزالہ بیگم ناگواری سے بولیں تو آمنہ عرفان کی بہن خاموشی سے اُٹھی
اور اوپر کی جانب بڑھی اور دروازہ کی ناب گھما کر اندر آئی
تو ہیر کی یہ حالت دیکھ کر اس کا دل کانپ اُٹھا
وہ فورا سے آگے بڑھی جو درد کی وجہ سے نیم بیہوشی کی حالت میں جاچکی تھی
“بھابھی!!!” اُس نے ہیر کا گال تھپتھپایا
جو آنکھیں کھلی رکھنے کی سعی میں دھری ہوئی جارہی تھی
“بھابھی! آنکھیں کھولیں” وہ پانی کی بوندیں اس کے اوپر چھڑکتی بولی
ہیر کے مسلسل ہلتے لب پر جب اُس نے غور سنا تو وہ بے تابی سے پانی مانگ رہی
تھی اُس نے فورا پانی کا گلاس اُس کے لبوں سے لگایا
جو وہ ایک ہی سانس میں پی گئی اور وہ اور پانی کی طلب کرنے لگی
تبھی ہیر کی ساس دندناتی ہوئی آئیں
“تم ابھی تک یہاں مری ہوئی ہو پتا ہے نہ کام کرنا ہے؟” وہ غصہ سے بولیں
“امی! بھابھی کو بہت چوٹ آئی ہے
دیکھیں جگہ جگہ شیشہ کے ٹکڑے پیوست ہیں پلیز ڈاکٹر کو فون کریں” آمنہ منت کرتی بولی
“چوٹ خود کی غلطی کی وجہ سے لگی ہے اس کی سزا ہم کیوں بھگتیں؟ پورا گھر گندہ پڑا ہے
اوپر سے کھانے کے لئے ایک نوالہ نہیں اور تم کہہ رہی ہو ڈاکٹر کو بلاؤ کہاں سے بلاؤں!
نہ تمہارے ابو گھر پر ہیں نہ بھائی خود چادر اُوڑھ کر لاؤ کیا؟ اسے بولے ناٹک بند کرے اور سارے کام سر انجام دے” وہ ہاتھ جھلا کر کہتیں وہاں سے چلی گئیں
آمنہ نے تاسف سے اُن کی پشت دیکھی
“بھابھی آپ فکر مت کریں میں نکالتی ہوں”! وہ اُسے تسلی دیتی اُٹھی
اور دراز سے ڈیٹول اور روئی لے آئی پہلے آرام سے ہر جگہ سے کانچ نکالے ڈیٹول سے صفائی کرکے سب جگہ پٹی کردی ہیر اب تھوڑا بہتر محسوس کررہی تھی
“بھابھی آپ آرام کریں” وہ اُسے کھڑا کرتی کہنے لگی تو ہیر نفی میں سر ہلانے لگی
“نہیں میں آرام نہیں کرسکتی سارا کام کرنا ہے عرفان آئے اور انہیں پتا چلا میں نے کام نہیں کیا تو وہ بہت ماریں گے”
وہ خوفزدہ سی بولی آمنہ بے بسی سے اُسے دیکھنے لگی جسے ابھی آئے چند گھنٹہ بھی بامشکل ہوئے ہیں
کیا حالت ہوگئی تھی اُس کی مگر بولی کچھ ناں
“لیں بھابھی پانی پی لیں” وہ اُسے پانی دیتی بولی ہیر جو گلاس تھامنے لگی تھی مگر پھر کچھ یاد آنے پر ہاتھ کھینچ لیا
“نن۔۔نہیں عرفان نے منع کیا ہے” اُس کی آنکھوں میں ہرس ہلکورے لے رہا تھا
“بھابھی آپ پانی پی لیں یہ بات صرف ہم دونوں کے بیچ رہے گی” وہ اُسے تسلی دیتی بولی
“نن۔۔نہیں اگر،اگر تت۔۔تم نے اُسے بب۔۔بتا دیا تو؟ نہیں تم جاؤ” وہ خوف سے کانپ رہی تھی
“بھابھی آئی پرامس! نہیں بتاؤنگی آپ پانی تو پی لیں” وہ اُس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ دھرتی بولی
ہیر نے پیاس کی شدت کی وجہ سے فورا گلاس تھام لیا اور پانی غٹاغٹ اُلٹ گئی آمنہ اُس کا یہ انداز دیکھ کر اندر تک کٹ گئی
کیا کررہے تھے وہ لوگ صرف جائیداد کے بدلے کے لئے ایک معصوم جان پر دو گھنٹوں میں ہی اتنا ظلم اور چاچو اور چاچی کیسے مان گئے اس سب کے لئے اس قدر بےقدری وہ نفرت سے سوچنے لگی
“چلو آؤ باہر چلئیں کام بھی کرنا ہے” ہیر عجلت میں بولی اور چلنے کی کوشش کرنے لگی مگر پاؤں میں درد کی وجہ سے دو قدم ہی چل پائی اور پھر وہیں گر گئی
“بھابھی آرام سے” آمنہ نے اُسے فورا تھاما ہیر دل سے مسکرائی
“میں ٹھیک ہوں! آمنہ” وہ اُس کی بازو کی مدد سے اُٹھتی بولی
“ارے تم رو کیوں رہی ہو؟” وہ اُس کی نم آنکھیں دیکھ کر حیرت سے استفسار کرنے لگی
“بھابھی بھائی اور نے آپکی کیا حالت کردی؟ آپ تو یہ سب جانتی تھیں نہ پھر کیوں ہاں کی اس شادی کے لئے؟”
وہ روتے ہوئے بولی ہیر نے محبت سے اُس کے آنسوں صاف کئے
“کچھ نہیں کیا تمہارے بھائی نے یہ میری غلطی کی وجہ سے ہوا
اور منع کیسے کرسکتی تھی جب تمہارے بھائی کے نصیب میں ،میں ہی لکھی تھی”
بجا کہتے ہیں عورت ہی اپنوں کے عیب چھپا کررکھتی ہے
ورنہ وہ کہیں منہ دکھانے کے لائق نہ بچیں ہیر نے اپنے باپ اور شوہر دونوں کا بھرم رکھ لیا تھا اتنا سب برداشت کرنے کے باوجود
“چلو اب نہیں تو امی پھر آجائینگی”
وہ اُس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتی بولی اور ہونٹ دانتوں تلے دبا کر تکلیف برداشت کرتی وہ چل پڑی تھی
__________
“ارے ہیر! کھانا تیار ہوا کے نہیں؟” وہ ہانک لگاتی کچن میں آئیں اور سامنے آمنہ کو روٹی بیلتے دیکھ اُن کا خون کھول اُٹھا
“تیری ہمت کیسی ہوئی میری پھول سی بچی کو کام پر لگانے کی؟” وہ اُسے بالوں سے دبوچتی بولیں ہیر کے لبوں سے سسکی برآمد ہوئی
“امی!” آمنہ بے ساختہ چیخی
“چپ رہ تو! اس منحوس کی ہمت کیسے ہوئی تجھ سے کام کروانے کی آج تک تجھے ایک تنکا تک نہ اُٹھانے دیا اور یہ تجھ سے روٹیاں بیلوا رہی ہے ہاں!”
انہوں نے بالوں پر گرفت سخت کی اور دوسرے ہاتھ کی پشت سے اُس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا اور اس سے بھی دل نہ بھرا تو چمٹا جو پہلے ہی گرم تھا
وہ اُس کی گردن پر چپٹا دیا ہیر کی چیخیں گونجنے لگیں اور عرفان جو ابھی گھر آیا تھا چیخیں سن کر اُدھر ہی چلا آیا
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟” وہ پیشانی مسلتا بولا
“دیکھ اس منحوس کو تیری بہن سے کام کروا رہی تھی”
اور اُسے بالوں سے جھٹکا دیتی عرفان کی جانب پھینک چکی تھیں جو توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے اُس کے پیروں میں جاگری تھی
“کیا؟”
وہ حیرت سے بولا اور اُس نے بھی بالوں سے پکڑا تھا لیکن وہ مرد تھا
گرفت سخت تھی اُس کی ہیر کو لگا اُس کے بال ابھی نکل کر عرفان کے ہاتھ میں آجائیں گے
“بھائی میں خود آئی تھی پلیز انہیں چھوڑ دیں” وہ منت کرتی بولی لیکن عرفان پر اثر نہ ہوا اس نے لوہے کا آلہ گرم کیا جو اُس کے چہر ے پر زخم چھوڑ گیا اس گھر میں ہیر کی دلخرش چیخوں کے ساتھ آمنہ کی دردناک چیخیں گونج رہی تھیں عرفان کاجارحانہ انداز ہیر کی جان نکال رہا تھا
کہا تھا نہ اگر کچھ ہوا تو اچھا نہیں ہوگا؟ ابھی شکر کرو زبان نہیں جلائی ورنہ تم اس زبان سے بھی محروم ہوجاتیں”!!!
وہ چنگھاڑتا ہوا بولا اور پھر بغیر اُس کی آہ و بکا سننے وہ اُسے لئے کچن سے باہر نکل گیا
وہ دونوں بھی اُس کے پیچھے لپکیں عرفان نے اُسے اسٹور روم میں دھکا دیا اور دروازہ لاک کردیا
“رہنے دیں دو تین دن ادھر خود عقل آجائے گی” وہ ناگواری سے بولتا چلا گیا
آمنہ کا جسم اب تک لرز رہا تھا وہ بھی خاموشی سے وہاں سے نکل گئی
اور وہ پوری رات ہیر نے ڈر کر دروازہ پیٹتے گزاریں تھی پانی کے بنا کھانے کے بنا وہ مرجھائی ہوئی لڑی بن گئی تھی
اور اوپر سے اتنی مٹی کے سانس کا مسئلہ ہورہا تھا
وہ بامشکل زندہ تھی اور بے ہوشی کے عالم میں چلی گئی تھی
بے ہوشی کے عالم میں جاتے ہوئے سب کے چہرے اُس کی نظروں کے سامنے آئے تھے
اپنے بابا کا آیا تو اس کی آنکھوں میں نفرت اُتر آئی
ماں کو دیکھا تو ترس نے گھیر لیا بہن کی شکل آئی تو دل سے دعائیں نکلیں
اور بھائی کو دیکھ کر اُس کا چہرہ سپاٹ تھا
اُس نے ان لوگوں کے ساتھ اچھے پل بتائے ہی کتنے تھے آخر میں اُس کی جگری دوست تمنا کا آیا تھا
جس کو سوچ کر وہ دل و جان سے مسکرائی تھی اور پھر اُس کا سانس اُکھڑنے لگا تھا
اور پھر آہستہ آہستہ اُس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں تھیں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: