Hina Memon Horror Novels Qaid

Qaid Novel By Hina Memon – Last Episode 4

Qaid Novel By Hina Memon
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

قید از حنا میمن – آخری قسط نمبر 4

–**–**–

بس مٹی میں جانے کی دیر ہے اے دوست____!!!!
پھر ہر شخص ڈھونڈے گا آنکھوں میں نمی لے کر_____!!!
آج دوسرا دن تھا آمنہ کو نہیں معلوم تھا کہ اُنہوں نے ہیر کو نکالا کے نہیں مگر اب وہ اور صبر نہیں کرسکتی تھی
صبح کے ناشتے کے بعد سب لاؤنج میں تھے کیونکہ آج اتوار تھا سب گھر پر تھے
اور یہی موقع ٹھیک تھا وہ چپ چاپ دبے پیر اپنے کمرے میں آئی
تکیہ کے نیچے چھپا چھوٹا سا موبائل نکالا جو وہ سب سے چھپا کر استعمال کرتی تھی
کیونکہ وہ لوگ عورت ذات کو موبائل دینے کے خلاف تھے
آمنہ نے احتیاط کمرہ کو لاک کیا اور مطلوبہ نمبر ملایا دوسری بیل پر ہی کال اُٹھا لی گئی
“ہیلو!” یہ آواز یقینا اسماء آرا کی تھی
“ہیلو چاچی! میں آمنہ بات کررہی ہوں”
آمنہ نے دھیرے سے بولا جبکہ اسماء آرا موبائل کو گھورنے لگیں
“آمنہ! تمہارے پاس موبائل کیسے آیا؟” وہ حیرت سے بولیں
“چاچی کیسے آیا؟ کیوں آیا؟ یہ سب کرنے کا وقت نہیں ہے میری بات دھیان سے سننیں اور جلد از جلد ادھر پہنچیں
نہیں تو آپ لوگوں کی بقیہ زندگی پچھتاوہ میں گزر جائیگی اور میری بھی کہ کاش !میں آپ لوگوں کو بتا دیتی”
آمنہ دھیرے دھیرے انہیں سب بتاتی چلی گئی اور سامنے والوں کو لگا ان کا سب لٹ گیا
اسماء آرا چونکہ کھانا کھا رہی تھیں اس لئے فون اسپیکر پر تھا
اور سب ہی ادھر موجود تھے
آمنہ کا ایک ایک لفظ سب بخوبی سن چکے تھے اسماء آرا کی سسکیاں اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کررہیں تھیں
“چاچی پہلے آپ نہ لڑیں تھیں مگر خدارا آج دیر مت کریں آج اپنی بیٹی کا دِفع کرلیں نہیں تو اللہ کو کیا جواب دینگی
میرے پاس وقت نہیں میں انتظار کرونگی” آمنہ نے کہا اور فون کاٹ دیا
اور دوبارہ موبائل تکیہ میں چھپا کر خود کو نارمل کرتی باہر نکل آئی
وہاں سب سکتے میں تھے یہ گناہ تو انہوں نے جان بھوج کر کیا تھا اب اس کی معافی انہیں کیسے ملے گی
“اصغر میں آپ کے ہاتھ جوڑی ہوں پیر پڑتی ہوں میری بیٹی کو وہاں سے نکال لے
باخدا!میں اور میری بیٹی آپکی زندگی سے دور چلے جائینگے آپ پر بوجھ نہیں بنینگے مگر خدارا اُسے وہاں سے نکال لائے ایک آخری احسان کردیں” وہ منتیں کرتی بولیں
“امی کن کے سامنے ہاتھ پھیلا رہی ہیں جو اتنے خود غرض اور دولت کے پجاری ہیں
کے اپنی اولاد کو آگ میں جھونک دیا اور ہمیں اتنا موقع بھی فراہم نہ کیا کے ہم صرف درخواست کرسکتے
ہم تو کہتے ہوئے بھی ڈرتے تھے کے کہیں ہمیں ہی جان سے نہ مار ڈالیں” مہک روتے ہوئے بولی
“چلئیں امی ہم چلتے ہیں میں اب اور اپنی بہن کو اُدھر نہیں رہنے دونگا”
سفدر نے اپنے باپ کے تاثرات کو بغور تکا جو اتنے سب کے بعد بھی سپاٹ تھے
اُسے لگا اگر اب وہ باپ کے ڈر سے بیٹھا رہا تو یقینا اپنی بہن کو کھو دیگا
وہ لوگوں آگے پیچھے بھاگتے ہوئے نکل گئے تھے
اُس کے نکلتے ہی اصغر صاحب کی آنکھ سے آنسوں بہا تھا جو اُن کے کُرتے میں جذب ہوگیا
“کیا وہ اپنی بیٹی کو کھو دینگے؟” یہ ایک سوالیہ نشان تھا
جب تک ان کی بیٹی صحیح سلامت ان کی نظروں کے سامنے نہ آجاتی وہ بے سکون رہتے
وہ اضطرابی انداز میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہے تھے
_________
وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو سب لوگ جو پرسکون بیٹھے تھے یکدم سٹپٹا گئے
“ارے سفدر بیٹا آپ یہاں؟” جمشید صاحب کی رنگت زرد پڑ گئی
“کیوں تایا ابو ہم نہیں آسکتے کیا؟” وہ آبرو اچکا کر تیز لہجہ میں بولا
“ارے،ننن۔۔نہیں مم۔۔میرا یہ مم۔۔مطلب نہیں تھا بتاکے آتے تو اچھا رہتا آؤ بیٹھو” وہ گڑبڑا گئے
“بتا کر آتے تو اپنی بہن کو یہاں پاتے نہیں بتا کر آئے تبھی تو آپ لوگوں کی کرتوتوں کا اندازہ ہوا ہے” وہ غصہ سے دھاڑا
“جائیں مہک امی جائیں دیکھیں انہوں نے کہاں رکھا ہے میری بہن” کو وہ سرخ آنکھوں سے بولا
“ارے کہاں؟ تمہاری بہن اوپر کمرے میں آرام کررہی ہے” جمشید صاحب ان کی راہ میں حائل ہوئے
“راستہ چھوڑئیے بھائی صاحب ہمارا” اسماء آرا چنگاڑیں
“بہن میں کہہ رہا ہوں نہ وہ آرام کررہی ہے ہم بلا دیتے ہیں”!!
وہ بس اُنہیں کسی بھی طرح سے روکنا چاہتے تھے لیکن آج آمنہ انہیں واپس پلٹا نہیں دیکھ سکتی تھی
“آؤ میں ساتھ چلتی ہوں آپ لوگوں کے” آمنہ بھی فورا اُٹھ کھڑی ہوئی
سب ہی آمنہ کو گھورنے لگے کے وہ کیا کررہی ہے لیکن آمنہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
اس وقت آمنہ کو اپنی فیملی درندگی کا منہ بولتا ثبوت لگ رہی تھی
اور وہ اپنی بہن جیسی بھابھی کو ان کے چنگول سے نکلوانا چاہتی تھی
وہ تینوں ایک ایک کمرہ چیک کرنے لگ گئی تھیں
“اگر میری بہن کو کچھ ہوا نہ عرفان قسم سے تمہیں چھوڑوں کا نہیں” سفدر چنگاڑا تھا
“یہ تو دینے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا
تمہارا باپ خود ہی اُسے یہاں لاوارثوں کی طرح پھینک گیا تھا” عرفان مزہ سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر صوفے پر براجمان تھا
سفدر نے غصہ سے مٹھیاں بھینچ لیں
“وہ میرے باپ نے پھینکا تھا مگر اب وہ یہاں”۔۔۔
اس سے پہلے سفدر اپنا جملا مکمل کرتا اوپر سے چیخوں کی آواز سن کر اُس نے بوکھلا کر سب کو دیکھا
اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا اوپر پہنچا باقی سب بھی تماشائی بنے اوپر کو بھاگے
سفدر اندھا دھند بھاگ رہا تھا اس کے پاؤں اسٹور روم کا کھلا دروازہ اور اندر سے آتی سسکیوں اور چیخوں کو سن کر رکے تھے
سفدر کو وسوسوں نے گھیر لیا وہ دھڑکتے دل کو قابو کرتا اندر داخل ہوا تو اپنی بہن کے بے سدھ اور زخمی وجود کو دیکھ کر اُسے لگا
اُس کے جسم سے جان کھینچ لی گئی ہے وہ تیر کی طرح اُس کے پاس پہنچا
اور سب کو دور پھینکتا اپنی بہن کے پاس پہنچا اُس کا سر اپنے گود میں رکھ کر ہیر کو تھپتھپانے لگا تھا
مگر اُس کے نازک وجود میں جنبش ختم ہوچکی تھی
اُس کے جسم پر جگہ جگہ زخم دیکھ سفدر کو اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی
وہ کتنا چیخی تھی مگر کسی نے اُس کی نہ سنی اور آج وہ کسی کی نا سن رہی تھی سب ہی اُسے جھنجھوڑ رہے تھے
“آمنہ یہ یہاں کب سے ہے؟” سفدر کو اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی
“ددد۔۔۔دو دن مجھے لگا تھا ان لوگوں نے بھابھی کو نکال لیا
بھلا کون ظالم کسی کو دو دن بنا پانی بنا کھانے کے بند رکھتا ہے مگر،مگر میں غلط نکلی بھائی میں غلط نکلی یہ لوگ وہ درندہ صفت انسان ہیں جو کچھ بھی کر سکتے ہیں”
وہ دیوانہ وار رو رہی تھی
آمنہ اُٹھی اور ان سب کے مقابل آکھڑی ہوئی
“امی مجھے ماریں آپ کو اچھا نہیں لگا بھابھی نے مجھ سے کام کروایا
کیوں،کیونکہ میں آپکی اولاد تھی
تو دیکھیں ناں یہ نہیں کسی کی اولاد
بولیں نہ امی لیں مجھے ماریں،ماریں نہ”!
وہ ان کا ہاتھ لیتی زبردستی اپنے رخسار پر ضربیں لگانے لگی
“نہ میرا بچہ اس کی موت ایسے لکھی تھی اس میں ہمارا کیا قصور؟”
وہ اب بھی اپنی غلطی ماننے سے انکاری تھیں
آمنہ فورا پیچھے ہٹی اور نفرت سے اُن کا چہرہ دیکھنے لگی
اگر آپ کو میری فکر ہوتی یا آپ میں ذرا سی بھی ممتا ہوتی تو آپکو احساس ہوتا
بھابھی کا مگر آپ جلاد سے بھی بری ہے گھن آتی ہے
مجھے آپکو اپنی مان کہتے ہوئے وہ نفرت سے پھنکاری اور غزالہ دوپٹہ میں منہ چھپا کر رونے لگیں
کیا فائدہ جھوٹے آنسوں بہانے کا جب آپ لوگوں کو کسی کے آہوں سسکیوں سے فرق نہ پڑا
اب وہ جمشید صاحب کے پاس آئی تھی
“ابو!! چاچو نے کتنے مان سے آپکو اپنی اولاد سونپی تھی
اتنا مان تھا آپ پر کے جب ہیر چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی
وہ وہاں شادی نہیں کرے گی تب بھی وہ نہ مانے اور اس قید میں جھونک دیا
کیوں آپ نے ایسا کیا ابو آخر کیوں؟”
آج ان کی اولاد اُن کے سامنے سوالیہ نشان بنی کھڑی تھی لیکن جمشید صاحب کے پاس کوئی جواب نہ تھا
وہ تو بس اپنے بچے کی پردہ داری کرتے رہے تھے
پوری زندگی اور اُس کے ساتھ گناہ میں شامل ہوتے رہے تھے
ایسے ہی گناہ میں لذت نہیں رکھی گئی جب ہم گناہ کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ ضمیر کی عدالت ختم ہوتی جاتی ہے
اور ایک دن وہ مکمل ختم ہوجاتی ہے اور ہر گناہ ہمیں صحیح لگتا ہے لیکن جب کوئی ہماری ذات کو جھنجھوڑ دے خاص کر
کوئی اپنا تو لگتا ہے ہم کیا کر بیٹھے گناہ کے اوپر گناہ وہ شرمندگی سے سر جھکا گئے
وہ عرفان کے پاس آئی
“آپ نے جو جو ظلم کئے ہیں
نہ اس معصوم پر بھائی قیامت والے دن آپ اللہ کو کیا جواب دینگے؟
اس کا تو کوئی قصور تھا ہی نہیں عرفان بھائی پھر بھی اتنا ظلم اتنا تو کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہ کرے
اور آپ،اب تیار ہوجائیں بھائی اللہ نے مکافات عمل رکھا ہے اور اس کا صلہ ہمیں دنیا میں ہی مل جاتا ہے
اب کچھ دنوں بعد آپکی بہن بھی اسی جگہ اسی مقام پر بے سدھ پڑی ہوگی
اچھا ہوگا نہ تب آپکو ان کے اوپر برپا ہوئی قیامت کا اندازہ ہوگا” وہ ان لوگوں کی جانب اشارہ کرتی
طنزیہ ہنس کر بولی جو سکتے کی کیفیت میں ہیر کو تکے جارہے تھے
جیسے کسی نے اُنہیں انسان سے مورتی بنا دیا ہو
وہ لوگ تڑپ اُٹھے تھے
“مجھے بھی سزا ملنی چاہئے مجھے ہیر بھابھی کو بچانا چاہئے تھے
کیوں نہیں بچایا میں نے آج میں نے اپنی ذات کھو دی”
وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی سب ہی وہاں رو رہے تھے آج سب کا غرور اکڑ سب ختم ہوچکا تھا
وہ ایک ایسی بنجر زمین ہوگئے تھے جسے بنجر کرنے والے وہ خود تھے
انہوں نے جو ہیر کے ساتھ کیا اُس عمل کی سزا تو انہیں خدا دینے والا تھا
اور اب تو ہیر بھی زندہ نہیں تھی
کے وہ انہیں معاف کرتی وہ تو سب سے رسوا اور ناراض ہوکر گئی تھی
اور جب تک اللہ کا بندہ اُس انسان کو نہیں بخش دیتا جس نے اُس کے ساتھ زیادتی کی ہو
اللہ بھی اُسے نہیں بخشتا اور ایسی سزا دیتا ہے جو بے شک انسان کی سوچ سے بھی بلاتر ہوتا ہے
نیچے پولیس کا سائرن بجا تو سب اپنی اپنی سوچوں سے نکلے پولیس کا سائرن تھا
یا زندگی کی نوید سب کے چہرے کھل اُٹھے اور جمشید صاحب کو یہ سائرن موت کی نوید لگا ان کے رنگ سفید پڑ گئے تھے
پولیس اُنہیں لے کر بھی چلی گئی عرفان کو علم نہ ہوا اُس کے کانوں میں تو آمنہ کے بس انہی الفاظوں کا تصادم چل رہا تھا
“اللہ کو کیا جواب دینگے”؟،”تیار رہیں بھائی کچھ دنوں بعد آپکی بہن بھی اسی طرح پڑی ہوگی” وہ چیخنے لگا تھا
بالوں کو نوچنے لگا تھا مگر وہ کہاوت کیا خوب کہی گئی ہے
اب پچتائے کیا ہوت ، جب چڑیا چُک گئیں کھیت
______________
وہ لوگ تھکے ماندے گھر میں داخل ہوئے تھے ایسے جیسے اُن کے کندھوں پر ہی ہیر کی میت ہو منوں بوجھ لئے وہ آئے تھے
کندھے جھکے ہوئے تھے
آنکھوں میں سرخی مائل تھی لاؤنج میں ابھی بھی اصغر صاحب بے چینی سے ٹہل رہے تھے
جیسے وہ داخل ہوئے اصغر صاحب بے چینی سے اُن کے پیچھے دیکھنے لگی مگر ان بیٹی تو کہیں نہیں تھی
“کہاں ہے ہیر؟” آج انہوں نے اپنی انا بالائے طاق کرکے آخر پوچھ ہی لیا
سب خاموش رہے
“بتاؤ کہاں ہے میری بیٹی؟” اُنہیں اپنی آواز گہری کھائی سے آتی
محسوس ہوئی اُن کی آواز پر سفدر نے جھکا سر جھٹکے سے اُٹھایا تھا
اور انہیں دیکھتے اُس کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ اُبھری تھی
“آرہی ہے”! وہ محض اتنا بول کر خاموش ہوگیا اصغر صاحب تو جیسے یہی الفاظ سننا چاہتے تھے
ان کے چہرے پر اطمینان بھری
مسکراہٹ دوڑی مگر اگلے ہی لمحے کندھے دیتے لوگوں کو کسی کی میت لاتے دیکھ ان کی مطمئن مسکراہٹ غائب ہوگئی اور ان کے ماتھے پر بل پڑے
“یہ۔۔یہ سب”؟ ان کا جسم بکھرنے لگا تھا
“دیکھ لیں اب مل گیا سکون یہ رہی ہماری ہیر اب مردہ ہے خوش ہوجائیں” اسماء آرا ٹوٹے لہجہ میں بولی اصغر صاحب پورے قد سے زمین بوس ہوئے تھے
اُن کی کُل کائنات لُٹ گئی انہوں نے کتنے مان سے دی تھی
اپنی بیٹی اپنے بھائی کو کے وہ اُسے خوش رکھئینگے مگر یہ،یہ کیا انہوں نے تو اتنا خیال رکھا
کہ وہ دو دن میں اس طرح گھر آگئی
وہ زمین سے ہی اپنا وجود گھسیٹتے اپنی بیٹی کی میت کے پاس آئے اور مغرور اکڑ والے اصغر چیخ چیخ کر رونے لگے
“کیوں کیا آپ نے اصغر ایسا کیوں میری بیٹی کی بات نہیں سنی دیکھیں کس حال میں ہے وہ”؟ وہ چیختی ہوئی ان کے قریب آئیں
“آپ لوگ صرف اصغر انکل کو قصوروار نہیں ٹہرا سکتیں آنٹی خود آپ نے کب اُس کی حمایت کی تھی اگر آپ اُس کی حمایت کرتیں
تو وہ آج ہمارے ساتھ ہوتی” کسی کی آواز پر وہ لوگ پلٹے تھے سامنے تمنا روتی ہوئی کھڑی تھی
“وہ روز تل تل مرتی تھی آنٹی اُسے تو اس وقت ایک ماں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی مگر وہ تو کہیں تھیں
ہی نہیں آپ نے کتنی آسانی سے اپنا سارا الزام اپنے شوہر پر ڈال کر اپنے آپ کو ہر گناہ سے بری کر لیا
نہیں آنٹی آپ بھی گناہ گار ہیں اگر آپ انہیں سمجھاتی تو انکل سمجھ جاتے
تھوڑے توقف کے بعد ہی سہی مگر آپ نے کیا کیا خود جاکر اُسے زلزلوں کی زد میں چھوڑ آئیں اس کے بعد اُس پر کیا قیامت برپا ہوئی
آپ تو اُس سے لاعلم ہی ہیں” تمنا بول رہی تھی اور سب سن رہے تھے اب بچا ہی کیا تھا نہ سننے کے سواء
“آپ لوگوں نے جو کچھ کیا ہے نہ اس میں کوئی ایک نہیں سب قصوروار ہیں
ہیر نے تو اپنی میت تک آپ لوگوں کو نہ دیکھانے کا کہا تھا کیونکہ وہ آپ لوگوں سے اس قدر نفرت کرتی تھی
کیسے آپ لوگ اُس سے معافی طلب کرینگے؟ آنٹی وہ تو چلی گئی آپ لوگوں نے اُس کا کبھی ساتھ نہیں دیا آنٹی انکل آپ لوگ تھوڑا تو اُسے اسپیس دیتے اتنا تو اعتماد دیتے
کے وہ اتنا حق رکھتی کہ آپ لوگوں سے کہہ سکتی
آپ لوگوں سے فرمائش کرسکتی آپ نے تو بچپن سے اُس پر صرف اپنے حکم تھوپے ہیں
اگر تھوڑا اُس کا سنتے تھوڑی اپنی کرتے تو آج وہ ہمارے ساتھ ہوتی
میرا آپ لوگوں سے سوال ہے کہ کیا ملا آخر زندگی ہیر نے گزارنی تھی
آپ لوگوں نے نہیں پھر کیوں اپنے بے جا فیصلہ اُس پر تھوپ کر اُس کی چند دن کی بقیہ زندگی چھین لی
میری گزارش ہے جو آپ لوگ ہیر کے ساتھ کر چکے ہیں خدارا!! مہک کے ساتھ نہ کیجئے گا اُس کی خوشی اُس کی رضامندی جان لیجئے گا
نہیں تو ایک اور ہیر اس خاندان میں پیدا ہوجائے گی شاید ہیر کی زندگی اتنی تھی
مگر آپ یہ سب مہک کے ساتھ مت دھرائیے گا”–
وہ سب کو آئینہ دیکھا کر جاچکی تھی
سب کے دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا مگر یہ بوجھ تو تاعمر کا ہی تھا
اور کچھ دیر بعد اُس کی میت اُٹھی تھی اور اُسے قبرستان لے کر جایا جارہا تھا
اور اصغر صاحب اپنی جوان بیٹی کو اپنے ضعیف ہاتھوں سے مٹی میں اُتار آئے
تھے وہ پرسکون نیند سوگئی تھی لیکن سب کو بے چین کرکے اُس نے اپنی زندگی بے چینی میں گزاری
اور اب وہ پرسکون تھی اور سب بے چین تمنا کو دوست کے جانے کا غم ضرور تھا
مگر وہ پرسکون تھی وہ اس دنیا کی قید سے رِہا ہوگئی تھی
آمنہ کو اسماء آرا اپنے ساتھ لے آئیں تھیں کیونکہ اس میں اُس کا کوئی قصور نہیں تھا
عرفان کو پاگل مریض قرار دے کر اُس کی سزا معاف کردی گئی تھی
اور اُسے پاگل خانہ منتقل کردیا گیا تھا
جمشید صاحب یہ سب برداشت نہ کر پائے تھے
اور ہارٹ اٹیک کی وجہ سے موت کی نیند جا سوئے تھے غزالہ بیگم جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے آخری دن گن رہی ہیں
اُن کی حالت بھی بدتر ہے صبح اپنے خون سے دیواروں پر لکھنا اور رات میں چیخنا ان کا روز کا مشغلہ جیسے بن گیا
تھا سب ہی اپنے اختتام کو پہنچ چلے تھے
لیکن ایک ہیر تھی جو اس دنیا کی قید سے آزاد ہوکر پرسکون نیند سو گئی تھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
__________
گاڑی قبرستان کے قریب آکر رکی تھی کوئی باہر نکلا تھا مگر آج اُن کی چال ڈھال میں مغروریت نہیں لڑکھڑاہٹ تھی
ہاتھوں میں پھولوں کی تھیلی تھامے
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے قبرستان کے اندر داخل ہوئے تھے اور اُن کے قدم ایک قبر پر آکر رکے تھے
“ہیر عرفان”!!
“ولد اصغر چوہدری”!!
وہ اُسے دیکھ کر رونے لگے تھے
اور گھٹنوں کے بل گر گئے تھے اُن کا نحیف وجود بکھر گیا تھا
“مجھے معاف کردینا بیٹا میں ایک باپ ہونے کا فرض ادا نہ کرسکا تمہیں وہ تحفظ فراہم نہ کرسکا وہ اعتماد ناں دے سکا
جس کی تم حقدار تھیں میں لالچ میں آگیا تھا اور میں نے تمہیں طیاق دیا
ایک بار پوچھا بھی نہیں کے کیا وہ میری بیٹی کو خوش رکھینگے
بس بھروسے کے تحت دے دیا اور یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی مجھے لگا جائیداد بھی ہاتھ آجائے گی
اور تمہاری زندگی بھی دیر سویر سدھر جائے گی مگر اُنہوں نے ،
انہوں نے تو تمہیں دو دن میں مردہ حال میری گھر کی چوکھٹ پر پہنچا دیا
تم فریاد کرتی رہیں مگر میں جلدبازی میں یہ سب کرگیا ماں باپ کو کبھی بھی بیٹیوں کے معاملے میں جلدبازی نہیں کرنی چاہئے
اچھی طرح جانچ پڑتال کرکے ہی اپنی بیٹی سونپنی چاہئے”!! وہ زاروقطار رونے لگے تھے
“مجھے معاف کردینا میرے بچے”– وہ آنسوں رگڑتے بولے
اور قبر پر پھول رکھنے لگے
ایک دفع اپنا ہاتھ ہیر کی مٹی پر پھیرا اور پھر اپنے تشنہ لب اُس کی قبر پر رکھ کر وہ نحیف چال چلتے پلٹ گئے تھے
عورت تو بہت نازک ہوتی ہے اُسے جس رنگ میں ڈھالو ڈھل جاتی ہے
یہ کہانی صرف ہیر کی نہیں بہت سی لڑکیوں کی ہے جنہیں صرف رشتوں اور پیسوں کی عوض میں کہیں بھی پھینک دیا جاتا ہے
ایسا پیسہ کس کام کا جس سے اولاد کا نقصان ہو خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اپنی اولاد کا مستقبل سنواریں نہ کے تباہ و برباد کریں
_________
وہ قدم قدم چلتی داخل ہوئی تھی
اندر سب ادھر سے اُدھر بکھری ہوئی حالت میں گھوم رہے تھے
کوئی اُسے دیکھ کر بچوں کی طرح اُچھلتا ہوا آیا تھا
“تتت۔۔تو پھر آج اکیلی آگئی وہ۔۔۔وہ میری بیوی۔۔بیوی ککک۔۔کہاں ہے!!!”
وہ سر کھجاتا بولا آمنہ نے اُسے بغور دیکھا وہ درندہ آج بلکل پاگل سا لگ رہا تھا
سفید مگر مٹی کی بدولت کالا ہوجانے والا کُرتا پہنے بکھرے بال وہ ملگجے سے حلیہ میں تھا
” نہیں آپ نے اُسے دُکھ پہنچایا ناں اس لئے وہ نہیں آئی وہ بھول گئی ہے آپکو”
وہ ضبط سے بولی مگر آنسوؤں پر کس کا بس چلتا ہے
“ہووو۔۔!! وہ مجھ سے ناراض ہوگئی اوہ امی” وہ اتنا کہہ کر بچوں کی طرح رونے لگا اور بالوں کو نوچنے لگا
“وہ مجھے بھول گئی لیکن میں بھی اپنے آپ کو بھول گیا”
“کون ہوں میں؟،کیا نام ہے؟ میرا بتا نہ لڑکی کون ہوں میں کیا نام ہے میرا؟”
وہ سلاخوں کی طرح بنے دروازہ کو دھکا دیتے بولا
آمنہ اُسے تاسف سے دیکھنے لگی
مگر اُسے معلوم تھا یہ دنیا مکافات ء عمل ہے وہ اُلٹے پیر پیچھے جانے لگی
اور عرفان کی دہائیاں بڑھنے لگیں
اُسے آج صرف وہی نام وہی انسان یاد تھا جس کے ساتھ اُس نے اتنے ظلم کئے تھے
آمنہ کے ہر دفعہ جانے پر وہ اُسی انسان کے بارے میں دریافت کرتا تھا
اور وہ ہر دفعہ کی طرح آج بھی بنا جواب دئیے پلٹ آئی تھی
__________ وہ اب چلتی ہوئی جیل میں آئی تھی
“مجھے جیلر نمبر تین سو دو سے ملنا ہے؟” وہ وہاں بیٹھے کانسٹیبل سے بولی
“وہاں سے دائیں جائیں مگر یاد رکھے صرف دس منٹ ورنہ وہ بہت ہائیپر ہوجاتی ہیں
پھر پورا تھانہ سر پر اُٹھا لیتی ہیں” وہ اُسے تنبیہہ کرتا بولا تو وہ سر ہلا کر آگے بڑھ گئی
اُس کے قدم اپنی مطلوبہ جگہ پر آکر تھم گئے تھے
“ماں!!” اُس نے پکارا جہاں گھپ اندھیرا تھا بس ایک چھوٹی سی جگہ سے روشنی تھوڑی سی آرہی تھی
جس سے کسی کا چہرہ دیکھنا نہ ممکن تھا تبھی کوئی اُس اندھیری نگری سے برآمد ہوئی تھی
“آمنہ!!” اُن کے لب پھڑپھڑائے
“کیسی ہیں ماں؟” آمنہ نے نم آواز میں پوچھا جیسی بھی تھیں وہ اس کی ماں تھیں
آخر اور اب تو وہ نیم پاگل سی رہنے لگی تھیں
“ٹھیک نہیں ہوں بیٹا ہیر نے مجھے بددعائیں دی ہیں میری حالت ایسی ہوگئی ہے”
وہ پلٹ کر اُداسی سے بولیں
“ماں آپ، آپ شروع میں اپنے بیٹے کو ڈانٹ ڈپٹ کر یہ سب کرنے سے روک دیتیں تو آج یہ سب نہ ہوتا جو ہو چکا ہے”
” لیکن آپ نے اور بابا نے اُسے بڑھاوا دیا اور دیکھیں آج ہم کہاں ہیں بھائی پاگل خانے میں اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں”
“بابا تو اس دنیا سے ہی چلے گئے اور آپ یہاں ہیں اور دیکھیں جن کی بیٹی کے ساتھ آپ نے ایسا کیا”
“وہ بغیر مجھے اس بات کا احساس دلائے اپنے ساتھ رکھ رہے ہیں اگر وہ لوگ آپکی اولاد کو نہ رکھتے تو میں بھی سڑکوں کی خاک چھان رہی ہوتی”
“آپ اپنے کئے کی سزا بھگت رہی ہیں ماں اور اس معاملے میں،میں کچھ بھی نہیں کرسکتی”
“مجبور ہوں میں خیال رکھئے گا چلتی ہوں پھر کبھی نہیں آؤنگی” وہ نم آواز میں کہتی سلاخوں کے اندر ہاتھ ڈالتی اپنی ماں کا گال تھپتھپایا اور وہاں سے چلی گئی
اور اس کے پیچھے آج پھر وہ چیخ و پکار کرنے لگیں اپنے آپ کو کاٹنے لگیں مارنے لگیں وہ بلکل پاگل ہوگئیں تھیں اُنہوں نے اپنی سزا دنیا میں ہی پالی تھی
“مت جاؤ آمنہ میرا دم گھٹتا ہے یہاں پلیز ایک بار صرف ایک بار اُس لڑکی کو لے آؤ میری روح میرے جسم سے تب تک جدا نہیں ہوگی”
“جب تک میں اُس سے معافی نہیں مانگ لیتی پلیز اُسے لے آؤ میں ایک بار معافی مانگ لوں۔”
“پھر میں سکون سے مر جاؤں مجھے یہاں وحشت ہوتی ہے ایسا لگتا ہے وہ مجھ پر ہنس رہی ہے” وہ چیخ چیخ کر کہہ رہیں تھیں
اور ان سے دور جاتی آمنہ انہیں سن رہی تھی اُسے لگا اُس نے ہیر کو انصاف دلا دیا ہے اور اب اُس کی روح مطمئن ہے

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: