Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 1

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 1

–**–**–

نورالعین اپنے سامنے اپنے بھائی اور دوست کو دیکھ کر پرسکون ہو گئی ۔جبکہ عیسی خان اپنی بہن کا ہاتھ کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں دیکھ کر غصہ کابو نہیں کر پاتا اور اپنے گارڈ سے گن چھین لیتا ہے اس سے پہلے کہ وہ فائر کرتا وفا اپنے بھائی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیتی ہے اور روتے ہوئے معافی مانگتی ہے “خدا کے لیے بھائی نورالعین کو چھوڑ دیں اس میں اس کا کوئی قصور نہیں آپ بیشک مجھے جان سے مار دیں مگر ان دونوں بہن بھائیوں کو چھوڑ دیں ” عیسی خان غصے میں چلا کر کہتا ہے اس شخص کا ہاتھ چھوڑو اور یہاں آؤ میرے پاس ” جبکہ دوسری طرف عادل وفا کا ہاتھ چھوڑنے کے لیے راضی نہیں ہوتا اور وہ وفا کو مزید قریب کر لیتا ہے ۔ یہ دیکھ کر عیسی خان اپنے آپ میں نہیں رہتا اورگن لوڈ کرتے ہی عادل کی طرف کردیتا ہے ۔دوسری طرف نورالعین کی جان نکل رہی ہوتی ہے کہیں اس کے بھائی کو یہ جانور مار نہ دے ۔ عادل یہ دیکھ کر عیسی خان سے کہتا ہے “ٹھیک ہے تم مجھے مارنا چاہتے ہو ماردو مگر میں تمہاری بہن سے بہت محبت کرتا ہوں نکاح کیا ہے اسے خود سے دور نہیں کروں گا میری بہن کا کوئی قصور نہیں اس کو جانے دو ” ۔عیسی خان یہ سن کر غصے میں دھاڑتا ہے “بقواس بند کرو محبت ہمارے ہاں جائز نہیں یہ نکاح کاغذ رشتہ ہے تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ہم خان ہیں خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے محبت کر کے اس کی ایسی سزا دونگا تمہاری آنے والی نسلیں بھی محبت نہیں کرسکیں گی ! عیسی خان اپنی بات مکمل کرتے ہی فائر کر دیتا ہے، نورالعین زور سے آنکھیں بند کر لیتی ہے اور گارڈ کے بازو میں مچلنے لگتی ہے ۔ اس سے پہلے کے فائر عادل کو لگتا وفا اس کے سامنے آ جاتی ہے اور گولی وفا کے سینے سے آر پار ہو جاتی ہے ۔ عیسی خان اپنی بہن کو مارنا نہیں چاہتا مگر جب یہ دیکھتا ہے وفا اپنے عاشق کے لئے اپنی جان دے دیتی ہے اور غصے میں آجاتا ہے جبکہ عادل بییقینی سے وفا کی طرف دیکھتا ہے جو اپنی آخری سانسیں لے رہی ہوتی ہے اس سے پہلے کہ عادل وفا کو پکارتا عیسی خان عادل پر گولیاں چلا دیتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے عادل بھی وفا کے پاس گر جاتا ہے عادل بہت مشکل سے اپنی آنکھیں کھول کر آخری بار وفا کو دیکھتا ہے اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے خاموشی سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ نورالعین جب اپنے بھائی کو مرتا ہوا دیکھتی ہے تو زور سے چلانے لگتی ہے “عادل بھائی پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائیں یہ سب تم نے کیا کر دیا عیسی خان تم جانور ہو ! عیسیٰ خان جتنے غصے میں ہوتا ہے وہاں کھڑے کسی میں بھی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ عیسی خان کو بتا سکتا کہ اس نے کیا کر دیا ہے ۔نورالعین اپنا بازو چھڑواتی ہوئی بھائی اور دوست کے پاس آتی ہے اور رونے لگتی ہے ۔دوسری طرف عیسی خان غصے میں نورالعین کی طرف آتا ہے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھاتا ہے اور چلا کر بولتا ہے “دیکھ لیا تم نے ان کا انجام کتنی آسانی سے میں نے ان کی محبت مار دی ! نورالعین بےدردی سے اپنے آنسو صاف کرتی ہے اور اتنا ہی چلہ کر بولتی ہے “تم نے محبت نہیں ماری عیسی خان تم نے ان دونوں کو مارا ہے انسانوں کے مرنے سے محبت مرتی نہیں ہے تم بہت پچھتاؤگے محبت کو مارنے کی کوشش کی تھی محبت تمہیں مار دے گی بد دعا ہے آج سے میں صرف اس لیے زندہ ہوں تمہارے لئے بددعا کرسکوں آنکھوں سے تمہارا عبرتناک انجام دیکھ سکوں ! اپنی بات مکمل کرتے ہی نورالعین عیسی خان کے منہ پر تھوک دیتی ہے ۔ عیسی خان ایسی جرات پر اپنا بھاری ہاتھ زور سے نورالعین کے منہ پر مارتا ہے جس سے نورالعین گر جاتی ہے !عیسی خان اپنا رومال نکال کر منہ صاف کرتا ہے اور گارڈ کو اشارہ کرتا ہے اور بولتا ہے “ان دونوں کی لاشوں کو دفنا دو اور اس لڑکی کو زندہ رکھو دیکھتے ہیں اب اس کی بددعا پوری ہوتی ہے ! نورالعین عیسیٰ خان کے پاؤں میں گر جاتی ہے ہاتھ جوڑ کر بولتی ہے میرے بھائی کو ایسے مت دفناؤ میری ماں کو اس کا آخری بار چہرہ دیکھنے دو تمہارا مقصد پورہ ہوگیا ہے مجھے جانے دو ! یہ سن کر عیسی خان ہنسنے لگتا ہے اور نورالعین کو اپنے سامنے کھڑا کرتا ہے “واہ نورالعین بیبی ابھی تو آپ بہت بول رہی تھی اب اچانک پاؤں پڑ گئی بہت افسوس ہوا مجھےتمہارے بھائی کی موت کا ۔ مگر اب وہی ہوگا وہ میں چاہوں گا ” عیسی خان اپنی بات مکمل کرکے گارڈز کو اشارہ کرتا ہے سب اس کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وفا اور عادل کے بے جان جسم کی طرف بڑھتے ہیں عادل کا ہاتھ ابھی بھی وفا کے ہاتھ میں ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک گارڈ نورالعین کو کھینچتا ہوا لے جاتا ہے ۔نورالعین خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگتی ہے گارڈ نورالعین کو کمرے میں بند کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسی خان بلند آواز میں گل خان کو پکارتا ہے اور خود اپنے شراب خانے میں چلا جاتا ہے ۔۔ یہ خان ولاہے ۔ یہ اکثر تب استعمال ہوتا ہے جب خان خاندان کسی خوشی کے موقع پر جشن مناتے ہیں اور اپنی رنگین راتیں یہاں گزارتے ہیں ۔ اسی لیے یہاں ایک کمرے کو مختلف شراب کی بوتلوں سے سجایا گیا ہے اور اس کمرے کا نام شراب خانا ہے ۔ اس محل نماں کوٹھی میں اس وقت دو لاشیں دفنائی جارہی ہوتی ہیں ۔ ایک طرف عیسی خان شراب کی بوتلوں سے اپنا غصہ ختم کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف محبت اپنے قاتل کو تلاش کر رہی ہوتی ہے ۔ سچ کہتے ہیں محبت نہیں مرتی ہاں مگر مار ڈالتی ہے عیسی خان اس بات سے لاپروا شراب خانے میں گلااس ہاتھ میں تھامے غم و غصے کو کم کر رہا ہے اس کی گرے آنکھیں شدید لال ہیں نورالعین پہ حیران ہوتا ہے جس کے سامنے اس نے نہ صرف اس کے بھائی بلکہ اپنی بہن کو بھی قتل کیا ہے پھر بھی وہ کتنی بہادری سے اس کے منہ پر تھوک دیتی ہے ۔ عیسی خان اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتا ہے اسے سمجھ نہیں آرہی ہوتی کے وہ نورالعین کو کس طرح اس بات کی سزا دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نورالعین کو ابھی بھی اس بات کا یقین نہیں آرہا ہوتا کہ اس کے سامنے اس کا بھائی اور اس کی عزیز دوست کومار دیا گیا ہے وہ سوچ رہی ہے ابھی کل کی تو بات تھی جب اس نے وفا سے دوستی کی تھی ۔
وفا اور نورالعین یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ نورالعین نے وفا کی طرف دوستی کا ہاتھ خود بڑھایا تھا نورالعین کووفا بہت پیاری لگی تھی ۔ وفا خاموشی سے اپنا سارا دن یونیورسٹی میں گزارتی تھی وفا کی کسی سے بھی دوستی نہ تھی ۔ نورالعین کو وہ چپ چاپ معصوم سی لڑکی بہت اچھی لگی اور ایک دن اس نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔
نورالعین ! “ہیلو کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں ؟
وفا ! ” کیا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے !
نورالعین ! “جی ہاں ، مجھے آپ سے دوستی کرنی ہے !
وفا ! “مگر میں کسی سے دوستی نہیں کرتی ۔
نورالعین ! “کیا میں اس کی وجہ یہ سمجھو کہ آپ بہت امیر ہیں۔
وفا ! ” نہیں میں دوستی کر نہیں سکتی مجھے اجازت نہیں ہے ۔
نورالعین ! “ارے میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہوں گی ۔
وفا ! “مجھے اپنے نہیں آپ کے نقصان کی فکر ہے کہیں میری دوستی آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ۔
نورالعین مسکراتے ہوئے ! “آپ فکر نہ کریں دوستی میں کوئی نقصان نہیں ہوتا آپ بس میرا دوستی کا ہاتھ تھام لین۔
نورالعین وفا کے سامنے اپنا ھاتھ آگے کردیتی ہے اور وفا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے اور یوں وفا اور نورالعین کی دوستی کا آغاز ہوجاتا ہے ۔
ایک دن نورالعین کو عادل اپنی بائیک پر یونیورسٹی سے لینے آتا ہے جہاں وہ وفا کو نورالعین کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ عادل کو وفا بہت مختلف لگتی ہے ۔ بڑی سی چادر سر پر ڈالے وفا کا خوبصورت اور معصوم چہرہ عادل کی آنکھوں میں بس جاتا ہے اور عادل وفا کو دیکھنے لگتا ہے ۔ نورالعین اپنے بھائی کو دیکھ کراس کی طرف آتی ہے پوچھتی ہے ۔
“کیا ہوا عادل میرے بھائی نظر لگانی ہے میری دوست کو !
عادل ! “یہ اتنی پیاری لڑکی نے تم سے دوستی کیسے کرلی۔
نورالعین ! “جناب پیاری لڑکیوں کی دوستی پیاری ہی ہوتی ہیں اور ہاں زیادہ مت دیکھو ورنہ اس کے گارڈز تمہیں اڑا دیں گے ۔
عادل ہنستے ہوئے نورالعین کو بیٹھنے کا کہتا ہے اور دل میں یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش یہ چہرہ دوبارہ دیکھنے کو ملے ۔
عادل نورالعین سے وفا کے بارے میں پوچھتا ہے نورالعین اس کو سمجھا دیتی ہے کہ وہ داور خان کی بیٹی ہے اور بہت مشکل سے اس کو یونیورسٹی میں پڑھنے کی اجازت ملی ہے ۔ ان کے خاندان میں لڑکیوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں مگر وفا کو آگے پڑھنے کا بہت شوق تھا اس لیے اس نےبہت مشکل سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا نورالعین یہ بھی بتاتی ہے کہ وفا نے بہت مشکل سے اسے دوستی کی ہے وہ کافی خاموش رہتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نورالعین پچھلے دس منٹ سےوفا کی منتیں کر رہی ہے کہ اس کی سالگرہ پر اسے لازمی آنا ہے ۔
وفا یار پلیز ایک گھنٹے کے لئے آ جاؤ میں تمہارے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ منانا چاہتی ہوں ۔”
وفا ! “یار سمجھنے کی کوشش کرو مجھے میرے بھائی اور بابا آنے نہیں دیں گے اگر بھائی کو پتہ لگا تو وہ میرا یونیورسٹی آنا بند کردیں گے ۔
نورالعین ! “تو تم اپنے بھائی اور بابا کو مت بتاؤ خاموشی سے آجاؤ صرف ایک گھنٹے کے لئے زیادہ دیر کے لئے مت آؤ یار مان جاؤ نا ۔
وفا پریشانی سے نورالعین کی سالگرہ پے آنے کی حامی بھر لیتی ہے ۔
وفا اپنی ماں سے پوچھ کر ایک گھنٹے کے لئے نورالعین کے گھر کی طرف روانہ ہوجاتی ہے ۔ نورالعین صرف وفا کا انتظار کر رہی ہے باقی دوستی آچکی ہوتی ہیں ۔ نورالعین کے ساتھ ساتھ عادل بھی وفا کا انتظار کر رہا ہوتا ہے آج پھر اس کو دیکھے گا ۔ وفا نورالعین کے بتائے گئے ایڈریس پر پہنچ جاتی ہے اور بیل بجاتی ہے ۔ عادل بھاگ کر دروازہ کھولنے جاتا ہے عادل کو دیکھ کر گھبرا جاتی ہے اور اپنی چادر سر سے اور آگے کر لیتی ہے ۔ عادل اس کی یہ گھبراہٹ دیکھ کر مسکرا کر بولتا ہے ۔
“آئے وفا صاحبہ آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا میرا مطلب نورالعین آپ کا انتظار کر رہی ہے”۔
وفا گھبراتے ہوئے ! “مگر نور العین ہے کہاں ؟ اور آپ کون ہیں ؟
عادل ! “آپ پریشان مت ہو یہ نورالعین کا ہی گھر ہے اور میں اس کا بڑا بھائی ہوں وہ اپنے روم میں اپنی تمام دوستوں کے ساتھ آپ ہی کا انتظار کر رہی ہے آپ اندر آ جائیں “۔
وفا ! “آپ پلیز نورالعین کو لے کر آئیں میں اس کے ساتھ اندر آؤ گی “۔
عادل یہ سن کر مسکراتا ہے اور خاموشی سے نورالعین کو بلا کر لے آتا ہے ۔ لیکن نظریں مسلسل وفا پر ہوتی ہیں اور وفا اس کی نظروں سے گھبرا رہی ہے جلدی سے وہ نورالعین کے ساتھ اس کے روم میں چلی جاتی ہے ۔ وفا کو نورالعین کی پوری فیملی بہت اچھی لگتی ہے ۔ وفا کی فیملی میں اس کا ایک بڑا بھائی عادل اور ایک چھوٹا بھائی عاقب ہیں نورالعین اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے ۔ وفا نورالعین کی ماں سے مل کر بہت خوش ہوتی ہے پہلی دفع وفا کو معلوم ہوتا ہے کے فیملی ایسی ہوتی ہے ۔ ورنہ وفا کے گھر میں اس کا ایک بھائی عیسی خان اس کا باپ داور خان اور اس کی ماں گل جہاں ہوتے ہیں مگر یہ تینوں افراد آپس میں ایک دوسرے سے بہت کم بات کرتے ہیں مہینوں میں ایک بار مل کر کھانا کھا لیتے ہیں۔ مگر نورالعین کے گھر والے آپس میں دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں وفا نورالعین کو دیکھ کر بولتی ہے بہت خوش نصیب ہو تمہاری فیملی بہت اچھی ہے نورالعین یہ سن کر اپنی ماں کے گلے لگ جاتی ہے ۔
نورالعین وفا کو دروازے تک چھوڑنے جا رہی ہوتی ہےکہ عادل پیچھے سے نورالعین کو بلاتا ہے اور کہتا ہے ۔
“کیسی بہن ہو تم امی ابو اور عاقب سے ملوا دیا کیا میں تمہارا بھائی نہیں تم اپنی دوست سے مجھے نہیں ملواؤں گی ۔
نورالعین ہنستے ہوئے ! “آپ خود ہی مل چکے ہیں اور اپنا تعارف بھی کروا چکے ہیں۔ اگر پھر بھی میں بتا دیتی ہوں (نورالعین وفا کی طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے ) ان سے ملیے وفا میرے بڑے بھائی عادل ہیں جو کہ انجینئر ہیں اور بہت اچھی جگہ جوب کر رہے ہیں ۔
یہ سن کر دل وفا کو دیکھتا ہے اور جھک کر سلام کرتا ہے ۔
وفا !”وعلیکم السلام عادل بھائی !
نورالعین بھائی کا لفظ سن کر ہنسنے لگتی ہے اور عدل کھانسنے لگتا ہے ۔
عادل وفا سے ناراضگی سے کہتا ہے ! میں صرف اپنی بہن کا بھائی ہوں میری ایک ہی بہن ہے اس لیے آپ مجھے بھائی مت بولین میں صرف عادل ہوں آپ کے لیے ۔
یہ سن کر وفا گھبرا جاتی ہے اور جلدی جلدی نورالعین اللہ حافظ کہہ دیتی ہے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے ۔
عادل نورالعین سے کہتا ہے۔
“یار بہنا مجھے تمہاری دوست بہت اچھی لگی جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تب سے یہ میرے دماغ میں بیٹھ گئی ہے اور آج تو لگتا ہے دل میں بھی آ گئی ہے کیا تم میری اس سے دوستی کرواؤں گی !
یہ سنکر نورالعین ہستی ہے اور بولتی ہے ۔
عادل میرے بھائی وفا کوئی عام لڑکی نہیں ہے دوستی تو دور کی بات آپ اس سے بات بھی نہیں کر سکتے اس لیے آپ بھول جائیں اور چپ کر کے اندر چلی اور میرا گفٹ دیں ۔
عادل سنجیدگی سے کہتا ہے !
“نورالعین پلیز میں بہت سنجیدہ ہوں اور سچ کہہ رہا ہوں مجھے وفا سے بات کرنی ہے تم کچھ بھی کر کے میری اس سے ایک بار بات کروا دو ۔
نورالعین ! “میں خود پہلے وفا سے بات کروں گی اگر وہ مان گئی تو پھر آپ سے بات کروا دوں گی اب خوش !
عادل ہنستے ہوئے “ہاں اب میں تو میں تمہارا گفت دیتا ہوں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نورالعین جب وفا کو بتاتی ہے کے عادل اس سے دوستی کرنا چاہتا ہے تو وفا نورالعین کے آگے ہاتھ جوڑ دیتی ہے سختی سے منع کردیتی ہے اور اس کو بتاتی ہے کہ اگر یہ بات اس کے بھائی یا بابا کو پتہ لگ گئی تو وہ اس کی جان لے لیں گے ۔نورالعین کو وفا کی باتیں عجیب لگتی ہیں مگر وہ وفا کو یقین دلاتی ہے اپنے بھائی کو منع کردے گی ۔ جب نورالعین یہ عادل کو بتاتی ہے تو عادل نورالعین سے کہتا ہے
“نورالعین تمہیں بات ہی کرنی نہیں آتی میں خود وفا سے بات کرنا چاہتا ہوں اور اسے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ ٹائم پاس کرنے کے لئے دوستی نہیں کر رہا تم بس مجھے اس کا نمبر دے دو اگر وہ مجھے بھی منع کر دے گی تو پھر میں اس سے بات نہیں کروں گا صرف ایک بار مجھے بات کرنے دو!
نورالعین کچھ سوچ کر اپنے بھائی کو وفا کا نمبر دے دیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عادل اس دعا کے ساتھ وفا کو کال ملاتا ہے کہ وفا اس کی بات کا یقین کرلے اور اس سے دوستی کرلے۔
وفا موبائل دیکھتی ہے تو اس میں کوئی ان نون نمبر دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہے پھر کچھ سوچ کر فون اٹھا لیتی ہے مگر آگے سے کچھ بولتی نہیں ۔
عادل !”السلام علیکم وفا میں آپ کا عادل بات کر رہا ہوں نورالعین کا بھائی !
یہ سن کر وفا کو حیرت ہوتی ہے اور وہ پوچھتی ہے ۔
“آ آپ نے مجھے فون کیوں کیا ۔۔۔ میں نے نورالعین کو بتا دیا تھا کہ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔
یہ سن کر عادل جلدی سے بولتا ہے ۔
“پلیز فون بند مت کریئے گا میری بات سن لیں ایک بار !
وفا جب فون بند کرنے لگتی ہے تو عدل کی منت بھرے لہجے کو سن کر دوبارہ کان سے لگا لیتی ہے اور کہتی ہے ۔
“جی بولے میں سن رہی ہوں مگر جلدی بولیئے گا ۔
عادل ! “بات یہ ہے وفا صاحبہ میں نے جب سے آپ کو دیکھا ہے میرے دل اور دماغ میں آپ کی تصویر چپک گئی ہے مجھے سمجھ نہیں آتا میں کیسے آپ کو بتاؤں اور یقین دلاؤں کہ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اس لیے آپ مجھ سے بھاگیے مت اب میں چاہ کر بھی آپ سے دور نہیں رہ سکتا میں نے بہت کوشش کی کہ آپ کو نہ سوچو مگر آپ بنا اجازت کے میری سوچوں پر قبضہ کر چکی ہیں اس لئے خدا کے لئے اتنی انجان مت بنے اور میرا پرپوزل قبول کرلین میں آپ کو یقین دلاتا ہوں میں ہمیشہ خوش رکھوں گا ۔
دوسری طرف وفا یہ سن کر گھبرا جاتی ہے وفا سے کچھ بولا ہی نہیں جاتا اس کی خاموشی محسوس کرکے عادل اس سے پوچھتا ہے
“پلیز وفا کچھ بولو مجھے غلط مت سمجھو میری نیت بہت صاف ہے !
وفا جواب دیتی ہے !
“عادل آپ نے مجھے سننے کو کہا تھا میں نے آپ کی بات سن لیں اور میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں اس لیے اب میں فون رکھ رہی ہو اس امید کے ساتھ کے آپ دوبارہ مجھے فون نہیں کریں گے ۔
اس سے پہلے کے عادل کچھ بولتا وفا فون بند کر دیتی ہے اور رونے لگتی ہے اس کا دل گواہی دے رہا ہے عادل کا جذبہ سچا ہے مگر دماغ کو سمجھا رہا ہے کہ اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا اس لیے وہ اپنے دل پر جبر کر لیتی ہے اور خاموشی سے لیٹ جاتی ہے ۔سچ تو یہ ہوتا ہے کیا اسکو نورالعین اس کا بھائی عادل بہت اچھا لگتا ہے مگر اس سے معلوم ہے کے ہر اچھی لگنے والی چیز ضروری نہیں اس کے نصیب میں بھی ہو اس لیے وہاں دل کو سختی سے منع کردیتی ہے ۔
دوسری طرف عادل وفا سے اس بات کی امید نہیں کر رہا ہوتا اور اس کا یہ جواب سن کر بہت دکھی ہو جاتا ہے ۔ نورالعین اپنے بھائی کو پریشان دیکھ کر اس سے پوچھتی ہے عادل اس کو ساری بات بتا دیتا ہے ۔نورالعین عادل کو سمجھ آتی ہے وفا کو بھول جائیں مگر عادل نورالعین کو بتا دیتا ہے اب اس کے بس میں نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بہت سے دن یونہی گزر جاتے ہیں اس کے بعد عادل وفا کو فون نہیں کرتا ۔اس کے باوجود وفا کو روزانہ یاد کرتا ہے بہت بار وفا کو کال ملاتے ملاتے بند کر دیتا ہے اور کبھی میسج کرتے ہوئے رہ جاتا ہے عادل کو سمجھ نہیں آتا کے آخر ایسا کیا ہوگیا جو وہ وفا کو بھلا نہیں پارہا تنگ آ کر وہ ایک دن نورالعین کو لینے جاتا ہے اور وہاں وفا کو بھی ڈھونڈتا ہے جب اسے وفا نورالعین کے ساتھ نظر آتی ہے تو بے چینی کے ساتھ وفا کی طرف بڑھتا ہے وفا عادل کو اپنے پاس آتا دیکھ کر گھبرا جاتی ہے اور اپنے گارڈز کو دیکھتی ہے جو کہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔وفا واپس جانے لگتی ہے تو عدل فورا وفا کو پکارتا ہے ۔
“وفا پلیز تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ میں نے بہت کوشش کی کہ میں آپ کو بھلا دوں آپ بھی جانتی ہیں میں نے اس دن کے بعد سے سے کوئی بات نہیں کی اس کے باوجود میں وہیں کھڑا ہوں ” واپس نہیں پلٹ سکا !
وفا عادل کی بات سن کر نورالعین کو دیکھتی ہے اور پریشان ہو جاتی ہے ۔ نورالعین وفا کو دیکھ کر مسکراتی ہے اور اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے اور کہتی ہے ۔
“وفا میں اپنے بھائی کو جانتی ہوں یہ ایک بہت مخلص انسان ہے میں آج سے پہلے انہیں اتنا بے بس نہیں دیکھا ایک بار ان کی بات کا اعتبار کر لو !
یہ سن کر وفا عادل کی طرف دیکھتی ہے دل بھی وفا کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے عادل کی آنکھوں میں اس کی سچائی وفا کو نظر آجاتی ہے وفا کا بھی ایک پل کے لئے دل کرتا ہے وہ شخص کا ہاتھ تھام لے مگر جب وہ اپنے گارڈ کو دیکھتی ہے یاد آجاتا ہے کہ اس کے ہاں محبت جائز نہیں وہاں عادل کو صاف بتانا چاہتی ہے کہ وہ چاہ کر بھی اس کی محبت کا جواب محبت سے نہیں دے سکتی ۔
وفا ! “عادل مجھے آپ کی بات پر یقین ہے مگر میں بہت مجبور ہوں میں داورخان کی بیٹی ہوں اور عیسی خان کی بہن محبت تو دور کی بات میں کسی غیر کو سوچ بھی نہیں سکتی ہمارے خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں اور اگر یہ بات میرے بھائی کو پتہ لگ گئی تو نا صرف مجھے بلکہ آپ کو بھی جان سے مار دینگے !
یہ سن کر عادل مسکرا کر وفا کو کہتا ہے ! “وفا محبت کا کوئی خاندان نہیں ہوتا آپ ایک بار میرا ہاتھ تھام لیں یقین کریں میری محبت بہت طاقتور ہے یہ آپ کے بھائی سے جیت جائے گی !
وفا یہ سن کر عادل کی طرف دیکھتی ہے اور خاموشی سے وہاں سے چلی جاتی ہے ۔
عادل بھی نورالعین کو لے کر گھر آ جاتا ہے ۔ نورالعین ایک بار پھر اپنے بھائی کو سمجھ آتی ہے کہ وہ اس راستے پر نہ چلے اسے وفا کی باتوں سے بہت ڈر لگتا ہے جبکہ عادل اسے کہتا ہے کہ مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا اس لیے تم پریشان مت ہو جب نیت صاف ہوتی ہے تو اللہ بھی ساتھ ہوتا ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہوتا ہے اسے کسی کے بھائی اور باپ سے ڈر نہیں لگتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وفا گھر آکر عادل کو ہی سوچ رہی ہوتی ہے وفا کا دل کرتا ہے کہ کاش وہ عدل کو اپنا سکتی اور خوشی خوشی اس کے گھر اپنی زندگی گزارتی مگر وہ جانتی ہے وہ صرف یہ سوچ سکتی ہے دوسری طرف عادل وفا کی خاموشی کو اس کا اقرار سمجھتا ہے اور وفا کو میسج کرتا ہے !
کیا میں آپ کی خاموشی کو اقرار سمجھو ں ؟
وفا عادل کا یہ میسج پڑھ کر اسے جواب دیتی ہے !
“عادل میں بہت ڈرتی ہوں میں آپ کی طرح بہادر نہیں !
عدل اس کا میسج پڑھ کر اسے جواب دیتا ہے !
ایک بار مجھ پر یقین کرلو اور میرا ساتھ دے دو دیکھنا تم بھی بہادر ہو جاؤں گی ۔
وفا اس کو جواب دیتی ہے !
“میں آپ کا ساتھ دینا چاہتی ہوں مگر میں جانتی ہوں کہ یہ سب آسان نہیں بہت بہت مشکل ہے !
عادل اسکو رپلائے کرتا ہے !
مشکل ہوگا مگر ناممکن نہیں بس اس بات کا یقین رکھو کہ میں ہمیشہ تم سے محبت کروں گا اور یہ محبت کبھی ختم نہیں ہو گی اپنی باقی زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں کیا تم میری یہ خواہش پوری کروں گی !
یہ میسج پڑھ کر وفا کے ہاتھوں میں پسینہ آ جاتا ہے اور وہ بہت دیر بعد جواب دیتی ہے ۔
“اگر میں ہاں کہوں تو پھر یہ سب کیسے ممکن ہوگا کہ ہم دونوں ایک ساتھ زندگی گزاریں !
عادل اس کا میسج پڑھ کر مسکراتا ہے وہ جواب دیتا ہے :
“ظاہر سی بات ہے شادی کر کے ہم دونوں ایک ساتھ زندگی گزاریں گے !
ابھی وفا یہ میسج پڑھ ہی رہی ہوتی ہے کیا عادل کی کال آ جاتی ہے اور وفا دھڑکتے دل کے ساتھ اس کا فون اٹھاتی ہے عادل اس وقت بہت خوش ہوتا ہے اور وفا سے خوشی کا اظہار کرتا ہے ۔
“وفا تھینک یو سو مچ تم نے میری محبت کا یقین کر کے مجھے مرنے سے بچالیا ورنہ مجھے تو یوں لگتا تھا کی اگر تم نہ مانی تو مجھے یقین دلانے کے لیے اپنی زندگی ختم کرنی پڑے گی شکر آج میں بہت خوش ہوں !
وفاعادل کی بات کاٹ دیتی ہے اور بیچ میں کہتی ہے ۔
“عادل آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے ہم دونوں کی شادی آسان نہیں اگر بھائی کو پتہ لگا تو ہم دونوں کو مار دیں گے !
عادل یہ سن کر شوخی سے کہتا ہے مر تو ہم ویسے بھی گئے ہیں آپ پر !
وفا شرماکر عادل سے بولتی ہے کے اگر آپ اس طرح کی باتیں کریں گے تو میں فون بند کر دوں گی !
عادل دل پر ہاتھ رکھ کے وفا کو بولتا ہے یہ ظلم مت کرنا ابھی تو تمہاری آواز سن کر سکون ملا ہے اتنی جلدی فون مت بند کرنا ۔
وفا گھبرا کر فون بند کر دیتی ہے ۔ عادل ہنستے ہوئے نورالعین کو یہ خوشخبری سنانے جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وفااور عادل ایک دوسرے کی محبت میں بہت آگے بڑھ جاتے ہیں کبھی کبھار کی ملاقات اور فون پر روزانہ بات چیت ان کی محبت کو عشق میں بدل دیتی ہے ۔عادل ہر بات نورالعین کو بتاتا ہے نورالعین بھی خوش ہوتی ہے کہ وفا جیسی پیاری لڑکی اس کی بھابھی بنے گی ۔جب عادل وفا کو بولتا ہے کہ وہ اس کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے تو وفا اس کو منع کر دیتی ہے مگر عادل کے اصرار پر وہ اپنی ماں سے بات کرتی ہے ۔وفا کی ماں یہ سنتی ہے تو اپنی معصوم بیٹی کو سمجھ آتی ہے کہ محبت کرنا اس خاندان میں ناممکن ہے اس محبت کو یہیں ختم کر دو وفا ماں کو بولتی ہے کے یہ اس کے بس میں یہ نہیں یا وہ خود ختم ہو سکتی ہے مگر محبت ختم نہیں کرسکتی ۔دوسری طرف عدل کو وفا یہ سب باتیں بتاتی ہے تو عادل پریشان ہو جاتا ہے اور اس کے ذہن میں صرف ایک یہی بات آتی ہے کہ وہ اور وفا چھپکے نکاح کر لیتے ہیں ۔وفا یہ بات سن کر عادل کو سختی سے منع کردیتی ہے اسے اپنی جان سے زیادہ عادل کی جان کی فکر ہوتی ہے ۔ عادل وفا کو بولتا ہے اس کی جان تو تبھی جائے گی اگر اسے وفا نہ ملی ۔ نورالعین بھی وفا کو سمجھ آتی ہے کہ اگر وہ دونوں خاموشی سے نکاح کر لیں اور چھپ کر کہیں زندگی گزاری تو ہو سکتا ہے اس کا بھائی اور باپ اسے معاف کر دیں ۔ وفا نورالعین کی باتوں میں آکرنکاح کرنے کے لیے مان جاتی ہے ۔وفا یونیورسٹی سے چپکے سے عادل اور نورالعین کے ساتھ اس کے گھر چلی جاتی ہے وہاں عادل اور وفا کا نکاح کر دیا جاتا ہے۔ وفا عادل سے کہتی ہے کہ جلد از جلد انہیں اس شہر سے نکل جانا چاہیے ۔ عادل پہلے ہی سارا انتظام کر چکا ہوتا ہے اس لیے وہ اپنی ماں بہن بھائی اور باپ سے مل کر وفا کے ساتھ شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔نورالعین جلدی سے واپس یونیورسٹی آجاتی ہے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وفا کے گارڈز وفا کو ڈھونڈنے لگتے ہیں مگر انہیں وفا نہیں ملتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک طرف عادل اور وفا ایک دوسرے کے ملنے پر بہت خوش ہوتے ہیں عادل وفا کو اپنی محبت کا بھرپور یقین دلاتا ہے وفا عادل کی محبت سے سرشار ہو جاتی ہے اور اپنی زندگی کی تمام کمیوں کو بھول جاتی ہے ۔وفا کا یہ دن زندگی کا خوبصورت ترین دن ہوتا ہے جب عادل کے ساتھ چھوٹے سے گھر میں رہنے لگتی ہے ۔دوسری طرف وفاکا بھائی عیسی خان غصے میں وفا کو ھر جگہ ڈھونڈتا ہے ۔
داور خان (وفا کے والد )!
آخر وفا کہاں چلی گئی زمین کھا گئی آسمان لے گیا ابھی تک تم لوگوں کو اس کا پتہ کیوں نہیں چلا !
عیسی خان ! “بابا سائیں آپ فکر نہ کریں بس تھوڑا ٹائم مجھے اور دیں میں پتا کروا رہا ہوں بہت جلد وفا کو
سامنے لا کر کھڑا کر دوں گا ! یہ کہتے ہی عیسی خان وفا کے گارڈ کی طرف جاتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے تو اس کا گارڈ عیسیٰ خان کو بتاتا ہے کے وفا کی ایک ہی دوست ہے نورالعین یہ بھی بتاتا ہے نورالعین کے گھر وفا کو لے کر گیا تھا ساتھ میں یہ بھی بتاتا ہے نورالعین کا بھائی بھی گھر سے دو دن سے غائب ہے۔یہ سنتے ہی عیسی خان غصے میں گارڈ کو پکڑتے نورالعین کے گھر لے جانے کا کہتا ہے نورالعین کو خبر بھی نہیں ہوتی کی زندگی میں اتنا بڑا طوفان آنے والا ہے !
جب نورالعین اپنی ماں کے ساتھ بستر پر سونے کے لئے آتی ہے تو اس کی ماں نورالعین سے کہتی ہے کے مجھے عادل کی بہت یاد آرہی ہے یہ سنتے ہی نورالعین خود بھی دکھی ہو جاتی ہے اپنی ماں کو سمجھ آتی ہے بس کچھ مہینوں کی بات ہے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا آپ یہ دیکھیں بھائی کتنا خوش ہیں اور ان کے لیے دعا کریں ۔
ابھی نورالعین بات ختم بھی نہیں کرتی کے باہر سے دروازہ بجنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں ۔نورالعین اور اس کی ماں ڈر کر اٹھ جاتے ہیں ۔عاقب اور اس کے والد گھبرا کر دروازہ کھولنے کے لیے جاتے ہیں دروازہ کھولتے ہیں پانچ آدمی گھر کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور عاقب کا گربان پکڑ لیتے ہیں عاقب یہ دیکھ کے ڈر جاتا ہے نورالعین یہ دیکھ کر بھاگتی ہوئی اپنے بھائی کے پاس آتی ہے کہ اچانک عیسی خان نورالعین کی طرف آتا ہے اور اسے پکڑ لیتا ہے اور غصے میں دھاڑتا ہے۔
“تو تم ہو نورالعین مجھے بتاؤ میری بہن وفا کہاں ہے ورنہ میں تم سب کو یہیں ختم کر دوں گا !
جب نورالعین اپنے سامنے عیسی خان کو دیکھتی ہے تو حقیقتً ڈر جاتی ہے آج اسے سمجھاتا ہے کہ وفا اتنا ڈرتی کیوں تھی عیسی خان کی آواز عجیب سا غرور ہوتا ہے اور اس کی آنکھوں میں وحشت ہوتی ہے جسے دیکھ کر نورالعین سانس لینا ہی بھول جاتی ہے نورالعین کی خاموشی سے عیسی خان دوبارہ نورالعین کو جھنجھوڑتا ہے اور بولتا ہے ۔
“میں دوبارہ نہیں پوچھوں گا مجھے بتاؤ میری بہن کہاں ہے !
نورالعین بمشکل بولتی ہے “مجھے نہیں پتا میں تو خود وفا کو ڈھونڈ رہی تھی میں سمجھی وہ بیمار ہے اس لیے یونیورسٹی نہیں آرہی !
یہ سن کر عیسی خان وفا کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے اس سے پہلے کہ بے وفا زمین پر گرتی عیسی خان اسے دوبارہ پکڑ لیتا ہے دوسری طرف نورالعین کے ماں باپ اور بھائی عیسی خان کی منتیں کرتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں پتہ اور ان کی بیٹی کو چھوڑ دو گارڈ نے بندوقیں ان تینوں کے سروں پر تان رکھی ہوتی ہیں ۔
نورالعین پھر چلا کر بولتی ہے !
“میں نے آپ کو بتایا نہ میں نہیں جانتی کہ آپ کی بہن کہاں ہے آپ ہم لوگوں کو تنگ مت کریں ورنہ میں پولیس بلا لوں گی !
یہ سن کر عیسی خان عجیب طرح سے ہنستا ہے نورالعین کو اپنے قریب کرکے اس کے چہرے پہ بندوق رکھتا ہے اور بولتا ہے !
“اچھا تو تم پولیس کو بلاؤ گی تمہیں لگتا ہے پولیس میرا کچھ بگاڑ سکتی ہے ! میں تمہیں دس سیکنڈ دے رہا ہوں مجھے شرافت سے بتا دو کہ تمہارا بھائی اور میری بہن کہاں ہیں ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں کیا کر سکتا ہوں !
یہ سن کر نورالعین کی ماں روتی ہوئی عیسی خان کے پاس جاتی ہے اور بولتی ہے !
“خدارا میری بیٹی کو چھوڑ دو میرا بیٹا تو ملک سے باہر گیا ہوا ہے وہ تو تمہاری بہن کو جانتا بھی نہیں “
عیسی خان غصے سے نورالعین کی ماں کی طرف آتا ہے بولتا ہے !
“ٹھیک ہے میں اس کی بہن کو لے کر جا رہا ہوں اگر اسے اپنی بہن چاہیے تو میری بہن کو لے کر اس ایڈریس پر آجائے میں تین دن کا وقت دے رہا ہوں وہ جس بھی ملک میں گیا ہے اسے کہو واپس آجائے اسی میں اس کی بہتری ہے اور آپ سب کی بھی !
یہ کہہ کر وہ نورالعین کی طرف بڑھتا ہے جبکہ نورالعین ڈر کر اپنے روم کی طرف بھاگتی ہے اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی عیسی خان اس کو اٹھا کر گاڑی میں پھینک دیتا ہے فورا ہی گارڈز تینوں کو چھوڑ کر عیسی خان کے پیچھے جاتے ہیں گاڑی بھگا لے جاتے ہیں ۔ پیچھے سے نورالعین کے ماں باپ زور زور سے چیختے ہیں آہستہ آہستہ پورا محلہ یہ منظر دیکھتا ہے مگر کوئی کچھ نہیں کہہ پاتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عیسی خان نورالعین کو تہ خانے میں لے جاتا ہے اور غصے میں بولتا ہے !
“یہ فون پکڑو اور اپنے بھائی کو کہو کی اگر اسے تمہاری عزت اور جان پیاری ہے تو آکر تمہیں لے جائے اگر اس میں اتنی سی بھی ہمت ہے تو میرے سامنے آئے ورنہ تم اچھے سے جانتی ہوں آگے کیا ہوگا !
نورالعین یہ سن کر عیسی خان کے پاؤں پڑ جاتی ہے اور اسے بولتی ہے !
خدا کے لئے میرے بھائی اور اپنی بہن کو معاف کردو اور ان دونوں کو اپنی زندگی جینے دو ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔
اس سے پہلے کہ نورالعین اپنی بات مکمل کرتی عیسی خان غصے میں نورالعین کہ بال پکڑ لیتا ہے اسے اٹھا کر اپنے سامنے کرتا ہے بولتا ہے !
“محبت اتنی ہمت ہے تمہارا بھائی عیسی خان کی بہن سے محبت کرے اور اسے بھگا لے جائیے تو نہیں جانتی کہ تم لوگوں نے بہت بڑی غلطی کردی ہے ! میں تمہیں آخری بار بتا رہا ہوں اپنے بھائی کو بولو یہاں آجائے ورنہ میں دوبارہ بولتا نہیں ہوں عمل کرتا ہوں ۔
عیسی خان اپنے گن کونور العین کے گردن پر رکھتا ہے اور اپنی آنکھوں سے اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
نورالعین ڈرتے ہوئے اپنے بھائی کو فون کرتی ہے اور اسے یہ سب بتا دیتی ہے ۔دوسری طرف عادل کوئی اس بات کا یقین ہی نہیں آتا کیا اس کی وجہ سے اس کی بہن مصیبت میں ہے مگر وہ وفا کو بھی کھونا نہیں چاہتا ۔مگر وفا جانتی ہے کہ اگر عادل اور وہ واپس نہ گئے تو عیسی خان نورالعین کو بے دردی سے مار دے گا ۔ یہ سوچ کر عادل اور وفا عیسی خان یہ بتائے ہوئے ایڈریس پر جانے کے لئے نکل جاتے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ موت کو اپنے پاس بلا لیتی ہیں ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: