Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 2

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 2

–**–**–

خان ولا جتنا خوبصورت اوپر سے بنا ہوا ہے اتنا ہی خوفناک اس کا تہ خانہ ہے جہاں نہ روشنی جاتی ہے اور نہ ہی ہوا ایک بند کمرے میں نورالعین اپنی بربادی پر سسک رہی ہے روتے روتے اس کی آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں ۔وہ یک ٹک سامنے دیوار پر نظر جمائے بیٹھی ہے اپنے ماں باپ اور بھائی کے غم میں نڈھال اس کے سوچنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ اسے کچھ محسوس نہیں ہو رہا نہ ڈر نا خوف!
عیسی خان غصے سے دروازہ کھولتا ہے اور نورالعین کو اپنے سامنے کھڑا کرتا ہے نورالعین بے دماغی سے عیسی خان کو دیکھتی رہ جاتی ہے ۔ عیسی خان اس کے چہرے کے پاس آکر زور سے بولتا ہے !
“تم نے دیکھا تھا میں نے تمہارے بھائی اور اپنی بہن کو تمہارے سامنے مار دیا پھر تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر تھوکنے کی تمہیں ڈر نہیں لگتا میں تمہیں بھی مار سکتا ہوں !
نورالعین خاموشی سے عیسی خان کی بات سنتی ہے مگر کوئی جواب نہیں دیتی ۔ عیسی خان کو اس کی یہ خاموشی اور غصہ دلاتی ہے اور وہ نورالعین کے بال کھینچ کر خود کے قریب کر لیتا ہے اور غُراتا ہے!
“تم جانتی ہو تمہارے اس تھوکنے کی میں تمہیں کیا سزا دے سکتا ہوں تم سوچ بھی نہیں سکتی !
یہ سن کر نورالعین ایک بار پھر عیسی خان کے منہ پر تھوک دیتی ہے اور چلاتی ہے !
“اور کیا نقصان کرو گے تم میرا سب کچھ چھین لیا مار دو گے تولومار دو “
عیسی خان اپنا منہ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور مسکراتا ہے !
“آہ تمہیں لگتا ہے میں تمہیں اتنی آسان موت دوں گا پہلے میں نے سوچا تھا کہ میرا مقصد پورا ہو گیا ہے میں تمہیں چھوڑ دوں گا مگر تمہاری اس غلطی کی وجہ سے تم اب بہت پچھتاؤ گی !
یہ کہتے ہی عیسیٰ خان نورالعین کو وہاں موجود ایک چھوٹی سی چارپائی پر اٹھا کر پھینک دیتا ہے ۔ نورالعین اس سب کے لئے تیار نہیں ہوتی اور چارپائی پر گر جاتی ہے اس سے پہلے کہ نورالعین چارپائی سے اٹھتی عیسی خان اس کے اوپر جھک جاتا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے قابو میں کر لیتا ہے نورالعین بے بس ہو جاتی ہے اور غصے سے عیسیٰ خان کو دیکھنے لگتی ہے اور کہتی ہے تم مجھے فرعون لگ رہے ہو عیسی خان اس کی یہ بات سن کر زور سے ہنستا ہے اور کہتا ہے ۔
“ھا ھا کیا ہوا ابھی تو میں نے صرف تمہارے ہاتھ پکڑے ہیں اور تم نے مجھے فرعون کہہ دیا جب میں آگے اور بہت کچھ کروں گا تب میں تمہیں کیا لگوں گا !
یہ سن کر نورالعین اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیتی ہے جبکہ عیسی خان اس کی لمبی گردن پے جھک جاتا ہے غور سے دیکھتا ہے نورالعین کی گردن پر دو چھوٹے چھوٹے خوبصورت تل ہوتے ہیں جن کو عیسی خان دلچسپی سے دیکھتا ہے اور نورالعین کا چہرا اپنی طرف کرتا ہےاور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا ہے !
“واہ میں نے تو اب غور کیا تم پر تم تو خوبصورت ہو اور تمہارے یہ تل دو ستارے لگ رہے ہیں تمہیں پتا ہے میں نے کبھی کسی بھی لڑکی کا جسم زبردستی استعمال نہیں کیا مگر تم نے مجھے مجبور کر دیا میں اپنی عادت کے خلاف جاکر یہ سب کروں”
نورالعین خاموشی سے عیسی خان کا چہرہ دیکھتی ہے اور آنکھیں بند کر لیتی ہے ۔ عیسی خان حیران ہوتا ہے نورالعین کا چہرہ دیکھتا ہے نورالعین کا چہرہ ایک عام سا چہرہ نہیں ہوتا ہے۔ خوبصورت آنکھیں ، خوبصورت ناک، خوبصورت ہونٹ اور صاف چہرہ مگر اس کے گردن پر وہ دو تل بہت خاص ہوتے ہیں ۔ عیسی خان خاموشی سے نورالعین کہ ان تلوں پر اپنے لب رکھ دیتا ہے ۔اور اس کی اس حرکت پرکہیں دور کھڑی محبت عیسی خان پہ مسکرا دیتی ہے ۔ جبکہ نورالعین جو بے دماغی سے آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوتی ہے یکدم اٹھ جاتی ہے ۔ نورالعین کو احساس ہوتا ہے کہ ابھی اس کے پاس کھونے کے لئے اس کی عزت محفوظ ہے ۔ عیسی خان کی پکڑ بھی ڈھیلی ہوتی ہے اور نورالعین اس سے دور ہو جاتی ہے نفرت بھری نظروں سے عیسی خان کو دیکھتی ہے اور خود کو اپنے دوپٹے سے چھپا لیتی ہے !
عیسی خان نورالعین کو دیکھتا ہے اٹھ کر باہر چلا جاتا ہے ۔ عیسی خان میں تمام برائیاں ہوتی ہیں ہم مگر اس نے کبھی کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی نہیں کی ہوتی عیسی خان کا ماننا تھا کے جب اس کے پاس وہ سب کچھ ہے جس کی وجہ سے ایک سے ایک خوبصورت لڑکی اس کے پاس خود چل کر آتی ہے تو وہ زبردستی کیوں کرے۔ کچھ لڑکیاں عیسی خان کی خوبصورتی اور وجاہت کی وجہ سے اس کی قربت حاصل کرتی ہیں جبکہ کچھ پیسوں کی خاطر اپنی عزت عیسی خان کے حوالے کر دیتی ہیں عیسی خان یہی سوچ کر ان لڑکیوں کو پیسے دے دیتا ہے کہ جب انہوں نے اپنی عزت بیچ دی ہے تو کیوں نہ وہ کچھ کما بھی لیں۔ مگر اس کے علاوہ وہ کبھی بھی کسی بھی لڑکی کی طرف خود سے نہیں بڑھا ۔ یہی سوچ کر وہ نورالعین کے کمرے سے نکل جاتا ہے ۔ اور دوسری طرف نورالعین اپنے قسمت پر آنسو بہانے لگتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب عیسیٰ خان اپنے کوٹھی پہنچتا ہے تو داور خان اسی کے انتظار میں ہوتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ۔
“کیا یہ سچ ہے یہ تم نے اپنی بہن کو بھی مار دیا بولو “!
عیسیٰ خان اپنے باپ کو جواب دیتا ہے ۔
“جی بابا میں نے ان دونوں کو مار دیا اور محبت ختم کردی “
یہ سن کر داور خان غصے میں عیسی خان کو گربان سے پکڑتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
“تم نے اپنی بہن کو کیوں مارا تمہیں اسے زندہ یہاں لانا چاہیے تھا “
عیسی خان !”بابا وہ میرے سامنے اپنے عشق کی جان بچانے آ گئی تھی اور بے شرموں کی طرح اس کا ہاتھ تھا مے کھڑی تھی میری غیرت نے گوارہ نہیں کیا اور میں نے دونوں کو مار دیا !
یہ سن کر گل جہاں (داور خان کی بیوی ) زور سے رونے لگتی ہیں اور عیسی خان کے سینے پر ہاتھ مارنے لگتی ہیں ۔
“تمہیں ذرا رحم نہ آیا دو جوان لوگوں کو مارتے ہوئے ایک تو تمہاری سگی بہن تھی تم اتنے سنگدل کیسے ہوگئے “
عیسی خان !
“بس اب آپ میرے سامنے روئے مت اس بےشرم کے لیے بلکہ آپ بھی اسی کے ساتھ شامل ہونگی سزا بھگتیں اپنی بیٹی کی جدائی کی میں نے اس کو دفنا دیا ہے
یہ سن کر گل جہاں اپنا سینا پیٹنے لگتی ہیں اور کہتی ہیں !
“عیسی خان تم خود کیوں خدا بن گئے خدا سے ڈرو !”
یہ سن کر عیسی خان جواب دیتا ہے !
“میں خدا نہیں بنا بلکہ خدا کی دی ہوئی طاقت کو استعمال کیا ہے “
یہ کہہ کر عیسی خان اپنے روم میں چلا جاتا ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
داور خان کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عادل کی بہن عیسی خان کے پاس ہے تو وہ عیسی خان کے کمرے میں جاتے ہیں ۔ اور پوچھتے ہیں ۔
“تم نے اُس عادل کی بہن کو اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے اس کا قصہ ختم کرو اس کے ماں باپ بہت شور مچا رہے ہیں اور اوپر سے میڈیا والوں نے دماغ کھایا ہوا ہے !
عیسی خان اٹھ کر بیٹھتا ہے اپنے باپ کو جواب دیتا ہے ۔
“بابا آپ اس لڑکی کی فکر چھوڑ دیں اسے میں دیکھ لوں گا آپ بس میڈیا والوں کو چپ کروائیں “
داور خان : “کیا مطلب تم دیکھ لو گے جہاں اپنی بہن کو مار سکتے ہو اس کو بھی ختم کرو میں کوئی رزق نہیں لے سکتا الیکشن قریب آرہے ہیں !
یہ سن کر عیسی خان اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے : “میں نے آپ سے کہا نہ آپ فکر نہ کریں جہاں تک اسے ختم کرنے کی بات ہے میں اس کو اتنی آسان موت نہیں دوں گا”۔
داور خان سوچتے ہوئے اسے آرام کرنے کا کہتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین کا باپ ہاسپٹل میں زندگی موت کی جنگ لڑا رہا ہے ۔ نورالعین کی ماں اور بھائی غمزدہ ہوتے ہیں اور دعائیں مانگ رہے ہیں دوسری طرف نورالعین بغیرکچھ کھائے پئے نڈھال ہوکر بے ہوش ہوجاتی ہے عیسی خان کے کسی بھی نوکر نے تہہ خانے میں جانے کی جرات نہیں اس لیے کوئی بھی نورالعین کو روٹی اور پانی کا نہیں پوچھتا جب تک عیسی خان کا کوئی حکم نہ ملے تب تک کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔
عیسی خان بچپن سے ہی غصے کا بہت تیز ہے جو کہہ دیا وہ کرتا ہے اور کرنے کے بعد اس میں پچھتاتا نہیں داور خان اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے ہیں اور اُس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا ان سے بھی زیادہ بہادر ہے بلکہ کبھی کبھی تو داورخان بھی عیسی خان کے غصے سے ڈر جاتے ہیں ۔
ایسا نہیں تھا کہ ایسی خان کو اپنی بہن سے محبت نہیں تھی مگر اسے اپنی بات اور غیرت زیادہ عزیز تھی یہی وجہ تھی کہ وہ وفا خان کو مارنے کے بعد بھی دکھی نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کے وفا خان جو گناہ کیا اس کی سزا اس کو مل گئی !
__________________________________
عیسی خان ایک دم آنکھیں کھولتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے خواب میں وہی دو تل آئے ہیں جو نورالعین کی گردن پر تھے ۔ عیسی خان زور سے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولتا ہے اور کچھ سوچ کر اپنے موبائل سے بانو بی بی (جو کہ خان ولا کی خادما ہیں ) انہیں کال کرتا ہے اور کہتا ہے:
گل بی بی جائیں اس لڑکی کو کھانے اور پینے کے لئے کچھ دیں!
یہ سن کر گل بی بی نورالعین کے پاس جاتی ہیں اور بے ہوش پڑی نورالعین کو پکارتی ہیں مگر کوئی جواب نہیں آتا تو پریشان ہو کر مجید کے پاس (گل بی بی کا شوہر ) جاتی ہیں اور انہیں نورالعین کی بے ہوشی کا بتاتی ہیں مجید ان سے کہتا ہے کے پانی ڈالو شاہد وہ ہوش میں آ جائے جب بانو بی بی نورالعین کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی ہیں تو نورالعین ہوش میں آ جاتی ہے پھر بانو بی بی نورالعین کو کھانا اور پانی دے کر چلی جاتی ہے ۔ بہت ہمت کرکے نورالعین کھانا کھاتی ہے ۔ کھانا کھانے کے بعد نورالعین کو صحیح ہوش آتا ہے ایک بار پھراُس کے سامنے اس کے بھائی کا بیجان چہرہ نظر آجاتا ہے پھر اسے اپنے ماں باپ دوسرے بھائی کا خیال آتا ہے تو وہ اٹھ کر باتھ روم جا کر وضو کرنے لگتی ہے اور اپنے رب کے آگے دعائیں مانگنے لگتی ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن صبح میں مجید نورالعین کو ناشتہ دینے آتا ہے تو نورالعین غصے میں اس پررات میں دیئے جانے والے گلاس سے اس پر حملہ کرتی ہے جس سے مجید کے سر سے خون نکلنے لگتا ہے اور وہ تیزی سے اوپر آ جاتا ہے جبکہ عیسی خان اپنا موبائل کان پر لگائے اندر داخل ہوتا ہے اور مجید کی حالت دیکھ کر اس سے پوچھتا ہے کہ یہ کس نے کیا تو مجید اسے نورالعین کا بتا دیتا ہے جس پر عیسی خان مسکراتا ہوا کہتا ہے !
ایک لڑکی نہیں سنبھالی جارہی کیا ہیجڑے رکھ لیے ہیں میں نے !
یہ بول کر عیسی خان نورالعین کے پاس جاتا ہے وہ جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے نورالعین برتن سے عیسی خان پہ بھی حملہ کرنے کی کوشش کرتی ہے جس سے عیسی خان بہت خوبصورتی سے بچ جاتا ہے ۔اور تیزی سے نورالعین کو کابو کر لیتا ہے اور بولتا ہے !
یہ میں ہوں عیسی خان بیچارے میرے نوکر کو زخمی کر دیا تم نے اور وہ ہجڑوں کی طرح تم سے مار کھا کر اوپر آ گیا !
نورالعین عیسی خان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی ہے !
ہجڑے تو تم بھی ہو ایک کمزور لڑکی کو روم میں بند کرکے سمجھتے ہو بہت مردوں والا کام کیا ہے ! یہ کہہ کر نورالعین ہنسنے لگتی ہے جبکہ ایسی خان یہ بات سن کر غصے میں اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اس کی ہنسی بند کر دیتا ہے غصے میں کہتا ہے !
“او اچھا تو میں تمہیں بتاتا ہوں یہ میں ہجڑا نہیں مرد ہوں اب مجھ سے شکایت مت کرنا تم نے مجھے خود مجبور کیا ہے” !
یہ کہہ کر عیسی خان غصے میں نورالعین کا دوپٹہ اس کے گلے سے اتار کر پھینک دیتا ہے نورالعین کو دیوار کے ساتھ لگا کر کے اوپر جُھک جاتا ہے اور وہ سب حدیں پار کر لیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسی خان اپنا غصہ اتار کر نورالعین کو ایک جھٹکے سے سے الگ کرتا ہے اور ایک نظر ڈال کر کمرے سے باہر چلا جاتا ہے اور آپنے شراب خانے میں بیٹھ کر شراب پینے لگتا ہے نہ جانے کیوں عیسی خان نورالعین کے ساتھ یہ سب کر کے بے چین سا ہو جاتا ہے وہ سوچتا ہے کے شاید اس لیے کہ اس نے کبھی کسی لڑکی کے ساتھ خود سے یہ زبردستی نہیں کی وہ بے چینی سے اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں ڈال کر سوچنے لگتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے آنکھیں بند کرتے ہی اس کی آنکھوں میں وہ دو تل سامنے آجاتے ہیں اور وہ فوراً آنکھیں کھول دیتا ہے ۔ دوسری طرف نورالعین بے بسی سے اپنی بربادی پر ماتم کرنے لگتی ہے اور زور زور سے رونے لگتی ہے اتنا چلاتی ہے اس کی آواز عیسی خان تک پہنچ جاتی ہے اور وہ عیسی خان کو موت کی بد دعائیں دینے لگتی ہے۔
۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داور خان کا تعلق سیاسی خاندان سے ہوتا ہے داور خان ایک بہت عقلمند اور موقع پرست سیاستدان ہیں ان کا اکلوتا بیٹا عیسی خان بھی اپنے والد کی طرح سیاست میں شامل ہوتا ہے بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ عیسی خان کو جھوٹ بولنا نہیں آتا وہ بہت بہادری کے ساتھ سچ بولتا ہے چاہے اس میں اس کا نقصان ہی کیوں نہ ہو اور یہی بات داور خان اس کو بہت بار سمجھا چکے ہوتے ہیں کہ سیاست میں دکھانا کچھ اور ہے اور کرنا کچھ اور مگر عیسی خان صاف کہہ دیتا ہے وہ کسی سے ڈرتا نہیں ہے جو جھوٹ بولے۔ اس لیے داور خان اسے میڈیا کے سامنے کم ہی لاتے تھے۔ عیسی خان کہ آپنے کچھ اصول تھے جن سے وہ ایک انچ بھی نہیں ہلتا تھا۔ پہلا اصول جھوٹ نہ بولنا تھا ! دوسرا اصول اس کی عزت اور غیرت تھی جس کے لیے وہ کسی کی بھی جان لے سکتا تھا تیسرا وہ جو کہتا تھا وہ کر گزرتا تھا چاہے کوئی بھی نقصان ہو ایک بار کیا ہوا وعدہ توڑتا نہیں تھا اس کے علاوہ کبھی کسی کی طرف خود نہیں جھکا تھا کوئی بھی اسے پسند آتی تو وہ اسے آفر کرتا اگر وہ مان جاتی اس کے ساتھ وقت گزارتا اور اگر نہیں مانتی تو وہ اسے عزت کے ساتھ چھوڑ دیتا (جو کہ شاید ہی ہوا ہو)۔
یہی وجہ تھی کہ عیسی خان نورالعین کے ساتھ زبردستی کرنے سے بے چین ہو جاتا ہے خود کو تسلی دیتا ہے کہ اس نے نورالعین کو اس کے آگے بولنے کی سزا دی ہے اور اب وہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ بہت جلد وہ نورالعین کو آزاد کردے گا ۔ جبکہ دور کھڑی محبت ایک قدم آگے آکر عیسیٰ خان کی سوچ پر مسکرا دیتی ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد خان سارے میڈیا والوں کو پیسے دے کر ان کا منہ بند کروا دیتے ہیں اور ایک بار پھر سارے معاملات روز مرہ کی طرح چلنے لگتے ہیں ۔ داورخان اور عیسی خان اس وقت ایک جلسے میں بیٹھے اپنی تعریفوں کے پھول سمیٹ رہے ہوتے ہیں بہت سے لوگ عیسی خان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں عیسیٰ خان اپنی سیٹ سے اٹھ کر سب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور مائک ہاتھ میں لے کر اپنی تقریر کا آغاز کرتا ہے ہمیشہ کی طرح پرچے پر لکھی ہوئی تقریر ایک ریڈنگ کی طرح پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔وہ اپنی مضبوط آواز میں بولتا ہے !
میرے بھائیو اور بزرگو آپ کو عیسی خان سلام پیش کرتا ہے اس ملک کو اور آپ لوگوں کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا آج میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہاں پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ناصرف کالج بنواؤں گا بلکہ ان کو آنے جانے کے لیے مفت سواری بھی فراہم کروں گا۔ آپ کی بیٹیوں کی عزت مجھے اپنی عزت کی طرح پیاری ہے جو آج کل ہو رہا ہے جس سے ایک لڑکی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے ڈرتی ہے وہ کل نہیں ہوگا !
یہ بولتے ہی عیسی خان کو نور العین کاچہرہ یاد آجاتا ہے وہ خاموش ہو جاتا ہے آگے کی تقریر میں بھی اسی طرح لکھا ہوتا ہے لڑکیوں کی عزت کی حفاظت اور بہت کچھ مگر عیسی خان خاموشی سے وہ پرچہ اپنے ہاتھ میں موڑ کر پھینک دیتا ہے بہت غصے میں وہاں سے چلا جاتا ہے سب لوگ اس حرکت کو حیران ہو کر دیکھتے ہیں جبکہ کچھ جیالے ہوش میں آ کر عیسی خان زندآباد کے نعرے لگانے لگتے ہیں ۔ داور خان فوراً اپنی سیٹ سے اٹھ کر مائیک سنبھال لیتے ہیں عیسیٰ خان اپنی گاڑی کی طرف چلا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسی خان جلسے سے سیدھا نورالعین کے پاس آتا ہے نورالعین اس وقت جائے نماز پر بیٹھی آنکھیں بند کئے دعا کررہی ہوتی ہے وہ دعا میں اتنی مگن ہوتی ہے کہ اسے کسی کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا ۔ عیسی خان خاموشی سے بیٹھ کر نورالعین کا آنسوؤں سے ترچہرہ دیکھتا ہے ۔ کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب نورالعین کی دعا مکمل نہیں ہوتی عیسی خان آہستہ سے بولتا ہے !
کس کے لیے اتنی دعائیں مانگی جا رہی ہیں !
نورالعین آنکھیں کھولتی ہے اور عیسیٰ خان کو دیکھتی ہے طنزیہ بولتی ہے :
دعائیں نہیں بد دعائیں مانگ رہی ہوں ایک شیطان کے لیے !
یہ سن کر عیسی خان مسکرا دیتا ہے اور نورالعین کے قریب جاتا ہے پوچھتا ہے ۔
کیا تم آزاد ہونا چاہتی ہوں ؟
نورالعین : کیوں تم ڈر گئے بد دعاؤں سے ؟
عیسی خان : میں کسی سے نہیں ڈرتا تم سے جو پوچھا ہے اس کا جواب دو !
نورالعین : ہاں میں آزاد ہونا چاہتی ہوں !
عیسی خان : تو ٹھیک ہے تمہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی آج رات تیار رہنا اوپر جشن ہوگا تم وہاں باقی لڑکیوں کی طرح رقص کرنا اور میرے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش کرنا اگر وہ خوش ہوگئے کو تم آزاد ہو یہ عیسی خان کا تم سے وعدہ ہے !
یہ سن کر نورالعین ڈر کر عیسی خان کو دیکھتی ہے اور سوچ میں پڑ جاتی ہے !
عیسی خان خاموشی سے اس کے جواب کا انتظار کرتا ہے سوچ لیتا ہے کہ اگر نورالعین اپنے عزت کے بدلے آزادی چاہے گی تو وہ اسے آزاد کردے گا اس طرح عیسی خان اپنے دل کا بوجھ بھی حلقہ کرلے گا کیونکہ اگر نورالعین ہاں کرتی
ہے تو اس کا مطلب اسے اپنی عزت سے زیادہ آزادی منظور ہے اور یہی بات عیسی خان کے دل کا بوجھ کم کر دیتی ۔
دوسری طرف نورالعین سوچ میں پڑ جاتی ہے وہ سوچتی ہے اس کی عزت ویسے بھی داغدار ہو چکی ہے تو کیوں نا وہ اس کے بدلے آزاد ہوجائے اس کے بعد وہ عیسی خان سے بدلہ لے گی !تھوڑی دیر بعد نورالعین فیصلہ کن انداز میں بولتی ہے !
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے میں آزاد ہونا چاہتی ہوں اس کے لئے چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی ہو !
عیسی خان یہ سن کر مایوس ہو جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کے شاید نورالعین اس کے منہ پر دوبارہ تھوک دے گی مگر ایسا نہیں ہوتا۔ وہ جواب دیتا ہے :
ٹھیک ہے تو آج رات تیار رہنا میں کپڑے بھیجوا دوں گا اور ایک تیار کرنے والی عورت کو بھی پھر صبح ہوتے ہی میں تمہیں تمہارے گھر بھیج دوں گا اس کے بعد تمہارا اور میرا کوئی واسطہ نہیں!
یہ سن کر نورالعین عجیب سی نظروں سے عیسی خان کو دیکھتی ہے ایک پل کو عیسی خان کا دل کرتا ہے کہ نورالعین کا دوپٹہ کھول کر وہ دو ستارے دیکھے جو اکثر آنکھیں بند کر لینے پہ اس کے سامنے آجاتے ہیں ۔ بے اختیار ہی عیسی خان نورالعین کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس کا دوپٹہ کھول دیتا ہے اور نورالعین فوراً اپنا دوپٹہ تھام لیتی ہے اور بولتی ہے !
پلیز اس وقت میں وضو میں ہوں اور جائے نماز پر بیٹھی ہوں اسی کا تھوڑا احترام کر لو !
عیسی خان : احترام کس بات کا ابھی تم نے اسی حالت میں اپنی عزت کے بدلے آزادی کو چنا ہے اب یہ ڈرامہ کیوں کر رہی ہو ؟
نورالعین سن کر خاموش ہو جاتی ہے اور اپنا دوپٹہ چھوڑ دیتی ہے ۔عیسی خان اس کا دوپٹہ تھوڑا سا ہٹا کر اس کے وہ تل دیکھتا ہے اور انہیں اپنی انگلیوں سے چھوتا ہے ۔ نورالعین کو عجیب گھن آتی ہے اور وہ عیسی خان کا ہاتھ جھٹک دیتی ہے ۔ عیسی خان بے خودی میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہے اور بولتا ہے :
میرا ہاتھ آئندہ اس طرح مت جھٹکنا!
یہ کہہ کر عیسی خان تیزی سے کمرے سے نکل جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان ولا میں اس وقت رنگین محفل سجی ہوتی ہے عیسی خان اپنی بھر پور وجاہت کے ساتھ ایک بہت بڑے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ہوتا ہے اس کے ایک ہاتھ میں شراب کا گلاس ہوتا ہے کب سے نورالعین کا انتظار کر رہا ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ اس کا واحد دوست ہارون خان بیٹھا عیسیٰ خان کو دیکھتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے :
کیا ہوا جانی اتنی دیر سے کیا سوچ رہا ہے وہاں دیکھ کتنے خوبصورت پریاں رقص کر رہی ہیں !
عیسی خان : بس ان پریوں کا رقص میں کئی بار دیکھ چکا ہوں اب ایک اور پری کا انتظار کر رہا ہوں !
ہارون خان : ارے تو بلا اس کو میں نے بھی دیکھنا ہے !
عیسی خان دوبارہ مجید کو کہتا ہے کہ جاؤ نورالعین کو لے کر آؤ ۔
نورالعین خود کو آئینے میں دیکھتی ہے تو شرم آ جاتی ہے ۔ گہرے گلے کی میکسی جوکہ سلیو لیس ہوتی ہے وہ بے اختیار ہی اپنے گلے کے آگے ہاتھ رکھ لیتی ہے اتنی دیر میں بانو اسے لےجانے آجاتی ہے اور اس کی تعریف کرتی ہے کہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے ۔ جیسے ہی نورالعین ان سب کے سامنے جاتی ہے تو سب کی نظریں نورالعین پہ ٹھہر جاتی ہیں اس نئی لڑکی کو دیکھ کر سب اپنی جگہ مدہوش ہوجاتے ہیں جبکہ دوسری طرف عیسی خان نورالعین کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔ وہاں پر موجود سب مرد نورالعین کی طرف آتے ہیں اور اس کا ہاتھ پکڑ کر رقص کی فرمائشیں کرنے لگتے ہیں ایک ساتھ اتنے سارے مرد جب نورالعین کو چھوتے ہیں تو وہ ڈر کر پیچھے ہوجاتی ہے یہ دیکھ کر عیسی خان کا دوست ہارون خان پریشان ہو جاتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی لڑکی یہاں زبردستی نہیں لائی جاتی ۔ وہ عیسی خان کے پاس آتا ہے اور اس کو بولتا ہے :
یہ لڑکی اتنا ڈر کیوں رہی ہے !
عیسی خان اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو سامنے کا منظر دیکھ کر غصے میں کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ نورالعین ان سب سے اپنا آپ چھوڑوآ رہی ہوتی ہے عیسی خان تیزی سے نورالعین کی طرف جاتا ہے اور اسے تھام لیتا ہے یہ دیکھ کر سب لوگ پیچھے ہوجاتے ہیں عیسیٰ خان ڈری ہوئی نورالعین کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے جاتا ہے ۔ کمرے میں آکر وہاں اسے بیڈ پر بٹھا دیتا ہے اور خود اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ نورالعین اپنے ہاتھوں سے اپنا جسم صاف کرنے لگتی ہے ایسے جیسے کے اس کے جسم پر کوئی کیچڑ لگ گیا ہوں ۔ عیسی خان بے اختیار ہوکر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیتا ہے نورالعین عیسی خان کو دیکھتی ہے عیسی خان کی دی ہوئی چادر نورالعین کے کندھوں سے پھسل کر گر جاتی ہے عیسی خان کی نظر اس کے ان دو تلوں پر ٹھہر جاتی ہے ۔ اس وقت نورالعین عیسی خان کا امتحان بن جاتی ہے اور وہ اس کے بہت قریب آ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی گردن کے ان تلوں پر اپنے لب رکھنے لگتا ہے نورالعین ایک دم ہوش میں آ جاتی ہے اور عیسیٰ خان کو پیچھے کردیتی ہے عیسی خان جو کہ نورالعین کی خوشبو سے مدھوش ہو رہا ہوتا ہے ایک دم غصے میں آ جاتا ہے اور نورالعین کے دونوں ہاتھوں کو اس کے سر کے اوپر لے جا کر پکڑ لیتا ہے اور اس کے بہت قریب آ کر غصے میں کہتا ہے :
میں نے تمہیں منع کیا تھا نا کہ مجھے جھٹکنا مت آپ نے پھر وہی غلطی کی !
نورالعین نفرت سے جواب دیتی ہے :
ہاں کیونکہ مجھے تم سے گِھن آتی ہے !
عیسی خان : اچھا تو پھر آج یہ لباس اور اتنی تیاری حج پہ جانے کے لئے کی تھی۔ تم نے میرے مہمانوں کو خوش نہیں کیا اس کی تمہیں سزا ملے گی !
عیسی خان اپنی گرفت نورالعین پر مضبوط کر لیتا ہے اور زبردستی اس کی گردن پر جھک جاتا ہے۔ عیسیٰ خان ایک بار پھر اپنا اصول توڑ دیتا ہے ۔ ناجانے کیوں عیسی خان کو اپنے اور نورالعین کہ ان دو تلوں کے درمیان کچھ برداشت نہیں ہوتا نورالعین کا جھٹکنا عیسی خان کو بہت برا لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ نور العین کے کمزور سے وجود کو اپنی باہوں میں بھر لیتا ہے !

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: