Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 3

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 3

–**–**–

کچھ شراب کا نشہ ہوتا ہے اور کچھ نورالعین کی قربت کا کہ تھوڑی ہی دیر میں عیسی خان نورالعین کے سینے پر سر رکھ کرگہری نیند سو جاتا ہے ۔ نورالعین بہت ہمت کرکے عیسی خان کو خود سے الگ کرتی ہے اور زمین پر بیٹھ کر رونے لگتی ہے !
کاش تم تڑپ تڑپ کر مرو کے لوگ تم سے عبرت حاصل کریں !
تھوڑی ہی دیر میں عیسی خان نیند سے اٹھ جاتا ہے اور گھبرا کر نورالعین کو پکارنے لگتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کے نورالعین باتھ روم میں ہے تو وہ خاموشی سے اٹھ کر آپنے شراب خانے میں آ جاتا ہے۔ وہ اپنی اس کیفیت پہ بہت حیران ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ خود نورالعین کے قریب کیسے چلا جاتا ہے جبکہ نورالعین کی ایسی کوئی خواہش نہیں ہوتی ۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید میں اس لیے بے چین ہوں کے نورالعین کی مرضی کے بغیر اس کی قربت حاصل کر رہا ہوں۔ جس دن نورالعین اپنی مرضی سے اپنا آپ عیسی خان کے حوالے کرے گی تو اس کی یہ بے چینی ختم ہو جائے گی یہ سوچ کر وہ اپنے دوست ہارون خان کے پاس چلا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہارون خان کہ پاس پہنچ کر عیسی خان اسے سب کچھ بتا دیتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ وہ ایسا کیا کرے نورالعین اس کواپنی رضامندی کے ساتھ قریب آنے دے !
یہ سن کر ہارون خان غور سے عیسی خان کو دیکھتا ہے اور بولتا ہے ۔
وہ تم سے نفرت کرتی ہے تو پھر تم اس کی قربت کیوں چاہتے ہو نورالعین سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں تمہارے قریب آنے کے لیے مچل رہی ہیں تو پھر نورالعین ہی کیوں !
عیسی خان : میں نہیں جانتا کیا ہے آخر یہ بے چینی مجھے کیوں ہے مجھے اس کا حل یہی لگا کہ جس دن نورالعین میرے پاس خود آئے گی اس دن یہ بے چینی ختم ہو جائے گی ۔ میں نے سوچا ہے کہ میں نورالعین کو اس کی ماں سے ملوا دیتا ہوں اس کے بدلے وہ مجھے اپنا آپ دے دے ۔
ہارون خان : اگر یہ بات تمہارے بابا کوپتہ لگی تم جانتے ہو کہ مسئلہ ہو جائے گا اور پھر آج کل تمہیں بہت احتیاط کے ساتھ چلنا ہے الیکشن بہت قریب آرہے ہیں اگر اس کی ماں نے کوئی ثبوت میڈیا والوں کو یا کسی اور کو دے دیا بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا !
یہ سن کر عیسی خان ہارون خان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہے :
اسی لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں کہ تم میرا ساتھ دو خاموشی سے نورالعین کی ماں کو ڈرا کر لے آنا مجھے نہیں لگتا آب ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ہمارے خلاف کچھ کر سکیں !
ہارون خان کتنی دیر سوچنے کے بعد کہتا ہے :
اچھا ٹھیک ہے پہلے تم نورالعین کو راضی کرلو اگر وہ مانتی ہے تو میں باقی انتظام کرلونگا بس خیال رہے یہ تمھارے بابا کو کچھ پتہ نہ لگے ۔
عیسی خان : فکر مت کرو بابا سائیں آج کل بہت مصروف ہیں ۔
ہارون خان : اور اگر یہ سب ہونے کے بعد بھی تُو بے چین رہا تو پھر کیا کرے گا ؟
عیسی خان اس مسکراتے ہوئے : تو جانتا ہے میں کسی کو زبردستی اپنے قریب نہیں رکھتا مجھے یقین ہے اس کے بعد میری طلب ختم ہو جائے گی اور میں اسے آزاد کر دوں گا !
ہارون خان : اللہ کرے ایسا ہی ہو ورنہ مجھے کچھ اور ہی لگ رہا ہے۔
عیسیٰ خان : کیا مطلب کیا لگ رہا ہے ؟
ہارون خان : کہیں تجھے محبت تو نہیں ہوگی !
عیسی خان ہستے ہوئے : مجھے اور محبت پاگل ہے تو یہ صرف طلب ہے جب یہ پوری ہو جائے گی خود بخود چین آ جائے گا خیر تو اتنا مت سوچ میں چلتا ہوں بابا میرا انتظار کر رہے ہوں گے اور آج شام تک میں تجھے بتا دوں گا کہ آگے کیا کرنا ہے۔
یہ کہہ کر عیسی خان چلا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی کوٹھی پہنچ کر عیسیٰ خان اپنے باپ کے کمرے میں جاتا ہے۔ داور خان اپنا سگار بجھا کر عیسی خان کو اپنے سامنے بیٹھنے کا کہتے ہیں بولتے ہیں ۔
میں نے سنا ہے کہ تم جشن میں سے اٹھ کر اس لڑکی کے ساتھ چلے گئے تھے پوچھ سکتا ہوں یہ سب کیا کر رہے ہو ؟
عیسی خان : بابا اس لڑکی نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا اسی لیے اسے اس کی سزا دے کر آ رہا ہوں !
داور خان : تمہیں اس لڑکی کو وہاں رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے آخر تم اس کا قصہ ختم کیوں نہیں کر دیتے تم جانتے ہو دوست کے روپ میں ہمارے کتنے دشمن چھپے ہوئے ہیں اگر کسی نے پہچان لیا کہ یہ وہی لڑکی ہے تو بہت مسئلہ ہو جائے گا ۔
عیسی خان : آپ فکر مت کریں میں جانتا ہوں کہ یہ قصہ کیسے ختم کرنا ہے بہت جلد آپ کو بھی پتہ لگ جائے گا۔ آپ بتائیں جلسہ کیسا رہا ؟
داور خان : تم جلسہ چھوڑ کر کیوں آگئے تھے ؟
عیسی خان : مجھے بہت ضروری کام یاد آ گیا تھا ویسے بھی مجھے کوئی شوق نہیں آپ کے کہنے پر چلا گیا تھا ورنہ میں بہت سخت بور ہوتا ہوں !
داور خان : میرے شہزادے الیکشن تک تمہیں یہ سب برداشت کرنا ہوگا اس کے بعد تمہارا جو دل کرے ۔
عیسیٰ خان : ٹھیک ہے بابا آپ آرام کریں مجھے کچھ ضروری کام ہے گڈ نائٹ !
یہ کہہ کر عیسی خان نورالعین کے پاس جانے کے لیے نکل جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین نہا کر بانو کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر آرام کرنے کے لئے لیٹ جاتی ہے آج اسے تہ خانے میں بند نہیں کیا جاتا بلکہ وہ ابھی تک اسی کمرے میں ہوتی ہے جہاں رات میں عیسی خان اسے چھوڑ کر جاتا ہے ۔ نورالعین بہت بڑے اور خوبصورت سے بیڈ پر لیٹ جاتی ہے تھوڑی ہی دیر میں تھکاوٹ کی وجہ سے وہ گہری نیند سو جاتی ہے ۔ عیسی خان خاموشی سے جب کمرے میں داخل ہوتا ہے توسوئی ہوئی نورالعین کو دیکھتا ہے اور اس کے قریب بیٹھ جاتا ہے نورالعین کے گیلے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں عیسیٰ خان اس کے بالوں کو گردن سے ہٹاتا ہے اور وہ دو تل دیکھتا ہے ناجانے اس کو یہ دو تل اتنے خوبصورت کیوں لگتے ہیں وہ کافی دیر نورالعین کو دیکھتا ہے اور بہت نرمی کے ساتھ اس کے تل کو چھوتا ہے۔ عیسی خان آہستہ آہستہ اس کے چہرے پر ہاتھ لگاتا ہے مگر نورالعین نیند سے نہیں جاگتی عیسی خان بہت بے بس ہو جاتا ہے وہ اس کے قریب آنے لگتا ہے مگر کچھ سوچ کر پیچھے ہو جاتا ہے خود پہ قابو کرتے ہوئے کمرے سے نکل جاتا ہے ۔
بانو کو بولتا ہے کہ جب یہ لڑکی جاگ جائے تو مجھے بتانا میں اِس کا انتظار کر رہا ہوں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسی خان دوسرے کمرے میں جا کر خود بھی لیٹ جاتا ہے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد بانو اس کو اطلاع دیتی ہے کے نورالعین جاگ چُکی ہے یہ سن کر عیسی خان نورالعین کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔ نورالعین اپنا سر تھا مے بیڈ پر بیٹھی ہوتی ہے عیسی خان تیزی سے اس کے پاس آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے ۔
کیا ہوا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ؟
نورالعین کوئی جواب نہیں دیتی عیسی خان اس کے ہاتھ تھام کر کا چہرہ اوپر کرتا ہے اور کہتا ہے ۔
میں نے کچھ پوچھا ہے کیا تمہارے سر میں درد ہے کچھ چاہیے تو بتاؤ ؟
نورالعین : مجھے تمہارے اس وجود سے نجات چاہیے !
عیسیٰ خان : اچھا میں بھی کچھ یہی چاہتا ہوں خیر یہ بتاؤ تم اپنی ماں سے ملنا چاہتی ہو؟
نورالعین حیران ہو کر پوچھتی ہے : اس کے بدلے تم مجھ سے کیا لو گے کیونکہ میں اتنا جان گئی ہوں کہ تم کچھ لیئے بنا دیتے نہیں !
عیسی خان مسکراتے ہوئے: آہا تم تو مجھے بہت جان گئی ہو کیا بات ہے کہیں مجھ پر دل تو نہیں آ گیا ؟
نورالعین : کاش میں تمہیں اپنا دل دکھا سکتی جہاں تمہارے لیے اتنی نفرت ہے کہ تم خود ڈر جاؤگے۔
عیسی خان : یہ سوچ ہے تمہاری میں کسی سے نہیں ڈرتا نا نفرت سے اور نہ محبت سے۔ خیر میں یہ کہہ رہا تھا تمہاری ماں تمہیں بہت یاد کرتی ہیں اگر تم چاہو تو میں تمہیں ملوا دوں گا مگر اس کے لیے تمہیں میرے لیے تیار ہونا ہوگا میرے ساتھ کچھ لمحوں کے لیے وقت گزارنا ہوگا اپنی مرضی سے اور مجھے خوش کرنا ہوگا بولو منظور ہے ؟
نورالعین : مجھے معلوم تھا کہ تمہاری ایسی ہی فرمائش ہوگی مجھے حیرت ہے یہ تمہاری حوس پوری نہیں ہوئی !
عیسی خان غصے سے نورالعین کا بازو تھام لیتا ہے اور کہتا ہے !
حوس پرست نہیں ہوں میں تم سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں موجود ہیں میرے لیے !
نورالعین :تو ان کے پاس جاؤ مجھے کیوں اذیت دیتے ہو !
عیسی خان : تم میری ضد بن گئی ہو میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی مرضی سے مجھے اسی طرح خوش کرو وہ ہی ادائیں دکھاؤ جو دوسری لڑکیاں مجھے خوش کرنے کے لئے کرتی ہیں ۔ تم پر کوئی زبردستی نہیں اگر منظور ہے تو بتا دو ورنہ تمہاری ماں صبر کر لے گی !
نورالعین : واہ اتنا مجبور کر کے کہتے ہو کہ کوئی زبردستی نہیں تم کتنے منافق ہو پر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جسم کو تم پہلے ہی استعمال کر چکے ہو۔ میں بھی تھوڑی دیر کے لیے منافق بن جاؤں گی۔
یہ سن کر عیسی خان نورالعین کی گردن پر ہاتھ لگاتا ہے اور کہتا ہے :
okay be ready for tonight darling
یہ کہہ کر وہ باہرچلا جاتا ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین اس وقت لال رنگ کی ساڑھی اور مناسب میکپ کے ساتھ تیار ہوتی ہے اور عیسی خان کا انتظار کرنے لگتی ہے نورالعین سوچتی ہے جب ایک بار عیسیٰ خان نے کچرا پھینک دیا ہے تو اب اسے فرق نہیں پڑتا !
عیسی خان جب کمرے میں داخل ہوتا ہے تو نورالعین کو دیکھ کر بے خود ہو جاتا ہے وہ اسے لال ساڑھی میں اتنی حسین لگتی ہے کہ وہ اسے دیکھتا رہ جاتا ہے ! نورالعین عیسی خان کو دیکھ کر اس کے قریب آتی ہے اور مسکرا کر کہتی ہے !
میں تمہارا ہی انتظارہی کر رہی تھی بتاؤ کیسی لگ رہی ہوں!
عیسی خان اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتا ہے اور بولتا ہے !
میں لفظوں میں بتا نہیں سکتا کہ تم کیسی لگ رہی ہو !
یہ سن کر نورالعین شرمانے کی ایکٹینگ کرتی ہے اور عیسی خان کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر لے جاتی ہے !
عیسی خان نورالعین کا ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پہ پھیرتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے! تھوڑی دیر بعد عیسی خان اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور نورالعین کے قریب آ کر اسے بولتا ہے !
Kiss me نور!
نورالعین گھبرا جاتی ہے اس نے سوچا ہی نہیں ہوتا کے اسے خود بھی یہ سب کرنا ہو گا۔ عیسی خان بولتا ہے !
کیا ہوا کیا تم نہیں چاہتی تو ٹھیک ہے اب بھی منع کر سکتی ہو!
نورالعین تھوڑی دیر بعد خاموشی سے اپنے لب عیسی خان کے ماتھے پر رکھ دیتی ہے ۔ عیسی خان مسکرا کر بولتا ہے !
No not here
اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے ہونٹ پر رکھ دہتا ہے۔
نورالعین ڈر جاتی ہے اور بولتی ہے!
مجھے یہ سب نہیں آتا عیسٰی خان!
عیسی خان مسکرا کر کہتا ہے :
ٹھیک ہے میری جان تم بس میرا ساتھ دو نفرت سے اپنا منہ مت پھیرنا یہ کہہ کر وہ اپنے ہونٹ نرمی سے نورالعین کے ہونٹوں پر رکھ دیتا ہے اور یوں چھپکے سے محبت عیسی خان کے دل میں قدم رکھ لیتی ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین اپنا وعدہ پورا کرکے نہانے چلی جاتی ہے جبکہ عیسیٰ خان ابھی بھی سکون سے سو رہا ہوتا ہے۔ نورالعین اپنے گیلے بال جھٹکتی ہے تو عیسی خان کہ اوپر کچھ چھینٹے گر جاتے ہیں جس کی وجہ سے عیسی خان اٹھ جاتا ہے اور اپنے گرے آنکھوں سے نورالعین کو دیکھنے لگتا ہے ۔ نورالعین اس کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے !
میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا اب تم بتاؤ میری ماں سے مجھے کب ملوآؤگے !
عیسی خان اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے بال ٹھیک کرتے ہوئے کہتا ہے !
جب تم کہو میری جان !
نورالعین : میں ابھی ملنا چاہتی ہوں
عیسیٰ خان : ٹھیک ہے میں بلوا لیتا ہوں !
یہ کہہ کر عیسی خان نورالعین کی گردن کے پاس جھک کر بولتا ہے۔
تمہارے یہ تل بہت تنگ کرنے لگے ہیں مجھے!
یہ کہ کر وہ نورالعین کو اپنے قریب کرنے لگتا ہے تو وہ نفرت سے اُس کا ہاتھ جٹھک دیتی ہے اور بولتی ہے!
بس عیسی خان ایک رات کی ہی بات ہوئی تھی اب صبح ہو گئی ہے اب تم اپنا وعدہ پورا کرو ۔
یہ سن کر عیسی خان مسکراتا ہے اور بولتا ہے !
ہممم ٹھیک کہا تم نے رات تو بیت گئی مگر تم نے مجھے بہت خوش کیا نور مجھے لگ رہا ہے جیسے میں ابھی بھی تمہارے حسار میں ہوں !
نورالعین حیران ہو کر عیسی خان کو دیکھتی ہے اور بولتی ہے۔
تم ہوش میں ہو عیسی خان کیسی بہکی باتیں کر رہے ہو !
عیسی خان :آں ہاں پتا نہیں میں شاید ابھی بھی مدحوش ہوں۔
یہ کہ کر عیسیٰ خان نورالعین کا ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے نورالعین تھوڑی دیر اسے خاموشی سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے ۔
عیسی خان کیا میں یہ سمجھوں کہ اب تم اپنا وعدہ بھول رہے ہو ؟
عیسی خان آنکھیں کھولتا ہے اور کہتا ہے ۔
نہیں میں کبھی اپنے وعدے سے مُکرتا نہیں ہوں !
یہ کہہ کر عیسیٰ خان کمرے سے چلا جاتا ہے ہارون خان کو فون کرنے لگتا ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہارون خان نورالعین کی ماں کے ساتھ اندرآتا ہے۔ نورالعین کی ماں عیسی خان کو دیکھ کر ڈر جاتی ہے جبکہ عیسی خان آہستہ آہستہ چل کر ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اندر آپ کی بیٹی آپ کا انتظار کر رہی ہے مگر ایک بات یاد رکھیے گا کہ ابھی آپ کا چھوٹا بیٹا اور شوہر زندہ ہیں اس لیے صرف ملاقات کرنی ہے اور کوئی چلاکی نہیں کریئے گا ورنہ ‏نقصان کی ذمہ دار آپ خود ہوگی !
یہ کہہ کر عیسی خان ہارون خان کے ساتھ کمرے میں چلا جاتا ہے جبکہ نورالعین کی ماں بانو کے ساتھ نورالعین سے ملنےاس کے پیچھے چلنے لگتی ہیں۔
نورالعین اپنی ماں کو دیکھ کر ان سے لپٹ جاتی ہے اور شدید رونے لگتی ہے نورالعین کی ماں بھی اپنی بیٹی کو چومنے لگتی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دونوں اپنے آپ پر قابو پا کر اپنا اپنا حال سنانے لگتی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف عیسی خان اپنا سر ہاتھوں میں تھامے ہارون خان کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے ہارون خان اس کی حالت دیکھ کر اس سے پوچھتا ہے ۔
کیا بات ہے تو اس طرح کیوں بیٹھا ہے مجھے بتا اب آگے کیا کرنا ہے !
عیسی خان بے بسی سے ہارون خان کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے میں نے اپنی بے چینی ختم کرنے کے لئے یہ سب کیا اور سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہوا مگر مجھے اب ایسا لگ رہا ہے جیسے میری بے چینی اور بڑھ گئی ہے کل رات کا حسار ٹوٹ ہی نہیں رہا عجیب بےبسی محسوس ہو رہی ہے۔
ہارون خان : میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا یہ بےچینی نہیں پیاس ہے محبت کی۔ ۔ تُو محبت کر بیٹھا ہے میرے دوست!
یہ سن کر عیسی خان غصے سے چیختا ہے !
ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں نے تو محبت کرنے والوں کو قتل کیا تھا تو پھر میں کسی سے محبت کیسے کر سکتا ہوں !
ہارون خان : میری جان محبت خود تجھے ڈھونڈتی ہوئی آئی ہے اب تیرا اس سے بچنا مشکل ہے میرا مشورہ ہے کہ تو مان لے اور محبت کو اپنا لے۔۔۔
عیسی خان: نہیں یہ ناممکن ہے میں اور محبت کروں تو میرا ایک اور کام کر مجھے ایک بہت خوبصورت لڑکی چاہیے جس کی گردن پر تل ہوں۔
ہارون خان : تجھے لگتا ہے کہ اگر اس سے زیادہ حسین لڑکی کے ساتھ وقت گزارے گا تو محبت سے پیچھا چُھوڑا لے گا!
عیسی خان : میں نے کہا نا مجھے محبت نہیں ہے میں نے تجھ سے جو کہاں ہے وہ کرو ۔
یہ کہہ کر عیسی خان خاموشی سے چلا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین کو اپنی ماں سے مل کر بہت سکون ملتا ہے اسے اُس کی ماں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے بابا بستر پر ہیں جوان بیٹے اور بیٹی کی جدائی میں وہ ذندہ لاش بن گئے ہیں۔ عاقب پڑھائی کے ساتھ کام بھی کرتا ہے۔ یہ سب سننے کے بعد اس کے دل سے پھر بدعائیں نکلنے لگتی ہیں عیسیٰ خان کےلئے۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون خان اپنی جاننے والی ایک خاتون سے ویسی لڑکی کا بندوبست کروالیتا ہے۔ پری وش اک بہت خوبصورت اور کم عمر کی لڑکی ہوتی ہے اور اس کی گردن پر نورالعین کی طرح تل ہوتے ہیں۔ ہارون کو یقین ہوتا ہے کے اگرعیسی خان کا دل اس سے نہیں بہلا تو وہ محبت میں پھس چکا ہے۔ جب عیسی خان پری وش کو دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بیشک وہ نورالعین سے زیادہ حسین ہوتی ہے وہ اس کے پاس جا کر کہتا ہے!
تم تو بہت حسین ہو آج سے پہلے کہاں تھی؟
پری وش شرما کر بولتی ہے۔
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ نے خود مجھے بلایا ہے!
یہ کہ کر پری عیسی خان کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لے جاتی ہے اور بیڈ پر بیٹھا دیتی ہے عیسیٰ خان خاموشی سے پری کو اپنے قریب کر لیتا ہے ۔ غور سے دیکھتا ہے تو پری کی گردن پر بھی وہ ہی تل ہوتے ہیں وہ بے اختیار ہو کر چُھونے لگتا ہے۔ پری اس کی اس حرکت پر اس کے اُپر جُھکنے لگتی ہے کہ اچانک عیسیٰ خان اس کے ہاتھ تھام لیتا ہےاور چیخ کر کہتا ہے۔
Don’t touch me ok
یہ کہ کر وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ جاتا ہے۔ پری تیزی سے اس کا بازوپکڑ لیتی ہے اور بولتی ہے۔
کیا ہوا سرکار کوئی غلطی ہو گئی مجھ سے؟
عیسیٰ خان : میں نے کہا نا ہاتھ مت لگاو مجھے تم اس جیسی نہیں ہو مجھے تمہاری طلب نہیں ہے سمجھی۔
پری:
تو آپ کو کس کی طلب ہے؟
عیسیٰ خان خاموشی سے اپنا بازو چھڑوا کر تیزی سے باہر نکل جاتا ہے۔ ہارون خان عیسی خان کو اتنے غصے میں باہر جاتا دیکھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے اور پری کے پاس جا کر پوچھتا ہے کہ ایسا کیا ہوا جو وہ غصے میں ہے پری اسے ساری بات بتاتی ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ عیسی خان پہ محبت نے حملہ کر دیا ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسیٰ خان بہت تیز گاڑی چلاتا ہوا خان ولا پہنچتا ہے۔ شراب خانے میں جا کر ایک کے بعد ایک شراب سے بھرا گلاس پینے لگتا ہے۔ اچانک اسے کسی کے ہنسنے کی آواز آتی ہے وہ گھبرا کر بولتا ہے!
ک کون ہو؟
آواز آتی ہے! میں محبت ہوں عیسیٰ خان!
وہ گھبرا کر جواب دیتا ہے: کیوں آئی ہو کیا چاہتی ہو!
ڈرو مت عیسیٰ خان میں تمہیں سمجھانے آئی ہوں۔ مجھ سے لڑو مت مجھے اپنا لو!
عیسیٰ خان چِلا کر بولتا ہے: میں کسی سے نہیں ڈرتا چلی جاو یہاں سے ورنہ میں تمہں مار دوں گا۔
ایک بار پھر وہ ہی ہنسنی گونجتی ہے اور آواز آتی ہے!
مجھ سے مت لڑو عیسیٰ خان! میں شروع تو ‘م’ سے ہوتی ہوں ‘مہربان’ ‘ میٹھی’ مگر ختم ‘ت’ پر ہوتی ہوں ‘تباہی’ ۔ مجھے اپنا لوگے تو میں تم پر مہربان ہو جاوں گی اگر مجھے رد کرو گے تو میں تمہیں تباہ کر دوں گی پھر تم کہیں کے نہیں رہو گے!
عیسیٰ خان غسے میں گلاس اس آواز کی طرف پھینکتا ہے اور کمرے میں موجود بہت سی چیزیں توڑنے لگتا ہے اسے بہنت سی آوازیں آنے لگتی ہیں جن میں وفا خان کا رونا ، نور کی بدعائیں، عادل کا آخری بار وفا کو دیکھنا، ہارون خان کا اسے احساس دلانا۔ ۔۔ وہ خوفزدہ ہو کر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتاہے! پہلی بار عیسیٰ خان کو کسی سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔!

 

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 57

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: