Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 4

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 4

–**–**–

داور خان بہت غصے میں عیسیٰ خان کو ڈھونڈتے ہوئے خان ولا پہنچتے ہیں وہ مجید سے پوچھتے ہیں!
عیسی خان کہاں ہے کل رات سے میرا فون نہیں اٹھا رہا!
مجید: خان صاحب چھوٹھے خان صاحب کل رات سے شراب خانے میں ہیں اور بہت غصے میں تھے!
یہ سن کر داور خان شراب خانے میں جاتے ہیں تو کمرے کا حال دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں ہر طرف کانچ ہوتا ہے اور عیسیٰ خان سوفے پر لیٹا ہوتا ہے اس کے ایک ہاتھ میں خون کا نیشان ہوتا ہے جو کہ خشک ہوتا ہے داور خان پریشانی سے عیسیٰ خان کو اٹھاتے ہیں تو وہ بہت مشکل سے آنکھیں کھولتا ہے داور خان پوچھتے ہیں:
یہ سب کیا ہے عیسیٰ خان! کس نے کیا ہے یہ سب!
عیسیٰ خان آہستہ سے جواب دیتا ہے:
بابا یہ میں نے نہیں کیا وہ آئی تھی اس نے کہا وہ مجھے تباہ کر دے گی۔
داور خان : کون آئی تھی تم کیا بول رہے ہو کس میں اتنی ہمت کے تمہیں تباہ کر سکے!
عیسیٰ خان :
نہیں بابا اسے کوئی تباہ نہیں کر سکتا وہ بہت طاقت ور ہے بابا !
داور خان: کیسی بہکی باتیں کر رہے ہو لگتا ہے کل رات تم نے بہت پی لی ہے جبھی ابھی تک نشے میں ہو تمہں کہا تھا کے آج کل کم پیو میں نہیں چاہتا کے کوئی سکینڈل بنے مگر تم میری بات سنتے ہی کہاں ہو۔ ۔۔ خیر اب اٹھو فریش ہو جاو بہت ضروری پارٹی میٹنگ ہے۔
داور خان خود اُسے اٹھا کر باتھ روم لے کر جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹی میٹنگ میں بھی وہ دیہان نہیں دے پاتا جیسے ہی میٹنگ ختم ہوتی ہے ہارون خان عیسیٰ خان سے ملتا ہے اور بولتا ہے:
یہ کیا حرکت کی تُو نے عیسیٰ خان ! پری کو جٹھک دیا تیرے کہنے پہ ہی بلایا تھا میں نے پھر تو وہاں سے چلا کیوں گیا وہ تو نورالعین سے زیادہ پیاری ہے!
عیسیٰ خان کسی سوچ میں گم کہتا ہے : نہیں وہ اس سے زیارہ پیاری نہیں !
ہارون خان : تیری نظر میں نورالعین ہی سب سے زیادہ پیاری ہے اب تجھے اس سے زیادہ کوئی پیاری نہیں لگے گی۔
عیسیٰ خان اس بار خاموش رہتا ہے۔ ہارون خان بولتا ہے۔
کل رات تو کہاں تھا یار اور مجھے تو تُو اس وقت بھی یہاں نہیں لگ رہا کیا ہو گیا ہے تجھے!
عیسیٰ خان بالوں میں اُنگلیاں پھساتے ہوئے جواب دیتا ہے۔
مجھے نہیں یاد کل رات کیا ہوا میں کہاں تھا مجھے خود یاد نہیں بس اتنا یاد ہے کہ میں پہلی بار خوفزدہ ہوا ہوں!
یہ کہ کر عیسیٰ خان وہاں سے چلا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت دیر تک بلا وجہ گاڑی چلاتا رہتا ہے بہت سوچتا ہے کے کل رات کیا ہوا تھا مگر اسے یاد نہیں آتا وہ بے بس ہو کر خان ولا کی طرف گاڑی موڑ دیتا ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ نورالعین کے پاس جاتا ہے۔ نورالعین کمرے میں نہیں ہوتی باتھ روم کا دروازہ بند ہوتا ہے عیسیٰ خان وہی بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد نورالعین باتھ روم سے باہر آتی ہے عیسیٰ خان نور کا صاف ستھرا اور اُجھلا چہرہ دیکھنے لگتا ہے نورالعین اس وقت وضو کر کے آتی ہے وہ نماز کی طرح دوپٹا باندھتی ہے وہ عیسیٰ خان کو بلکل نزرانداز کر دیتی ہے۔ عیسیٰ خان اسے خاموشی سے یہ سب کرتے دیکھتا رہتا ہے آخر اٹھ کر خود اس کے قریب آتا ہے نور کو بازو سے پکڑ کے اپنی طرف کرتا ہے اور نرمی سے بولتا ہے۔
تم واقعی خوبصورت ہو یا اب مجھے لگنے لگی ہو۔
وہ نور کا چہرہ اوپر کرتا ہے اور بولتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو تم مجھے اتنی خوبصورت کیوں لگنے لگی ہو۔ ۔۔ ہارون کہتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے اس لیئے تم مجھے پیاری لگتی ہو!
عیسیٰ خان ایسے بول رہا ہوتا ہے جیسے خود سے باتیں کر رہا ہو ۔ نور بھی خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی ہوتی ہے جیسے وہ زبردستی سن رہی ہو۔
بولو نا جواب دو میں تمہیں پیارا لگتا ہوں نا!
نورالعین اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی کہتی ہے:
بہت بدضورت لگتے ہو مجھے تم اتنے کے تمہیں دیکھ کر مجھے گِہن آتی ہے!
عیسیٰ خان ایک قدم پیچھے ہوتا ہے اور دکھ سے بولتا ہے:
مگر کیوں میں تو خوبصورت ہوں سب کہتے ہیں۔ تم مجھے غور سے دیکھو!
نورالعین: ہنہ غور سے کیا میرا تو تمہیں سرسری سا بھی دیکھنے کا دل نہیں کرتا۔
عیسیٰ خان نور کے پاس آکر بولتا ہے: ایسا مت کہو نور ! تمہیں پتا ہے میں کبھی کسی سے نہیں ڈرا مگر اب مجھے تمہاری آنکھوں سے خوف آنے لگا ہے ایسا لگتا ہے یہ مجھے قتل کر دینگی بلکل ویسی ہی جیسے میں نے وفا اور عادل کو کیا تھا۔
نور دل ہی دل میں حیران ہوتی ہے کے آخر یہ سب باتیں مجھ سے کیوں کہ رہا ہے وہ سمجھتی ہے کے شاید عیسیٰ خان نے پی رکھی ہے۔ عیسیٰ خان نور کے بہت قریب آکر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولتا ہے:
دراز پلکیں، وسال آنکھیں۔۔
مصوری کا کمال آنکھیں۔۔
شراب رب نے حرام کر دی۔۔
مگر کیوں رکھیں حلال آنکھیں۔۔
ہزازوں اِن سے قتل ہونگے۔۔
خدا کے بندے سمبھال آنکھیں !
یہ بول کر عیسیٰ خان بے خودی میں نور کی آنکھوں پہ جھکنے لگتا ہے کے نور اسے خود سے دور کرتی ہے اور بولتی ہے:
مجھے نماز پڑھنی ہے میرا وضو ہے۔
عیسیٰ خان خاموشی سے پیچھے ہو جاتا ہے اور کہتا ہے:
ٹھیک ہے تم نماز پڑھو میں یہں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
نورالعین چڑ کر بولتی ہے:
مجھے بہت ٹائم لگے گا تم جاو یہاں سے۔
عیسیٰ خان اسے ہاتھ کے اشارے سےنماز پڑھنے کا کہتا ہے اور خود سائڈ پر پڑے سوفے پر بیٹھ جاتا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین جان بوجھ کر بہت لمبی نماز ادا کرتی ہے اور دعا مانگتی ہے اس کے باوجود عیسیٰ خان اس کا انتظار کرتا ہے نورالعین جیسے ہی نماز ختم کرکے جائے نماز سمیٹ کر رلکھنے لگتی ہے عیسی خان خاموشی سے اٹھ کر اس کے بالکل پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے نورالعین جیسے ہی پلٹتی ہے عیسی خان کو ایک دم اپنے پیچھے کھڑا دیکھ کر ڈر جاتی ہے اور غصے میں بولتی ہے:
یہ کیا بدتمیزی ہے عیسی خان !
عیسی خان : بد تمیزی تو میں نے ابھی کی ہی نہیں اسی کا تو انتظار کر رہا ہوں کہ کب تمہاری نماز ختم ہو اور میں بدتمیزی کروں!
یہ کہہ کر عیسی خان نورالعین کا دوپٹہ کھول دیتا ہے اور اس کا چہرہ اوپر کرکے کہتا ہے !
مجھے یہ اپنے دو ستارے تو دیکھنے دو ویسے کمال بنائے ہیں بنانے والے نے جو ان تلوں کو دیکھے گا اپنا دل کھوبیٹھے گا!
یہ کہہ کر عیسیٰ خان نورالعین کی گردن پر جُھکنے لگتا ہے کہ نورالعین اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر خود سے دور کرتی ہے اور حیران ہوتی ہوئی پوچھتی ہے ۔
کیا بات ہے عیسی خان کیا دن میں بھی پینے لگے ہو؟
عیسی خان مسکراتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ میں اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے اور کہتا ہے :
نہیں میری جان اب تو لگتا ہے رات میں بھی پینے کی ضرورت نہیں پڑے گی تم بھی اچھا خاصا نشہ چڑھا دیتی ہوں !
نورالعین : میں کوئی نشہ آور چیز نہیں ہوں جاؤ اپنی ضروریات کہیں اور سے پوری کرو !
عیسی خان سر ہلاتے ہوئے اس کے اور قریب آجاتا ہے اور کہتا ہے :
یہ بھی کرنے گیا تھا مگر پھر معلوم ہوا کہ اب میری ضروریات تم ہی پوری کر سکتی ہو!
یہ کہہ کر عیسی خان ایک بار پھر نورالعین کی گردن پر جھکنے لگتا ہے کہ نورالعین اسے روک دیتی ہے۔ عیسی خان غصے سے نورالعین وہ دیکھتا ہے اور بولتا ہے:
دیکھو نور مجھے زبردستی کرنے کی عادت نہیں ہے مجھے روکا مت کرو تم سمجھ کیوں نہیں رہی مجھے تمہاری ضرورت محسوس ہو رہی ہے !
نورالعین : یہ کیا بکواس ہےعیسی خان تمہارا جب دل کرے گا تم مجھے استعمال کرنے آ جاؤ گے اب اور نہیں بس مجھے فیصلہ سناؤ! یا مجھے آزاد کر دو یا پھر مار دو میں یہ اذیت روز روز برداشت نہیں کر سکتی !
عیسی خان نرمی سے نورالعین کے ہاتھوں پہ اپنے لب رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے :
نہیں نور اب میں تمہیں آزاد نہیں کر سکتا تم بتاؤ کہ میں آخر ایسا کیا کروں کہ تمہاری آنکھوں سے یہ نفرت دور ہو جائے !
نورالعین : ہنہ میری نفرت! میری نفرت تو شاید تب بھی دور نہ ہو جب تم اپنے جسم کے ٹکرے کر کے اپنے کتوں کو کھلا دو۔۔ خیر میں نے اپنا بدلہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے اب وہ ہی بہترین بدلہ لے گا!
عیسیٰ خان یہ سن کر بہت بے چین ہو جاتا ہے اور کہتا ہے:
نہیں نور ایسا مت کہو مجھے دیکھو مجھے محسوس کرو میں ۔۔
اس سے پہلے کے عیسیٰ خان اپنی بات مکمل کرتا نورالعین غصے میں بولتی ہے:
تمہیں دیکھنے سے ہی مجھے نفرت ہوتی ہے میرا بس چلے توتم جہاں مجھے چُھوتے ہو میں اپنا وہ حصہ کاٹ کر پھینک دوں مجھے اتنی گِہن آتی ہے تمہاری قربت سے مسٹر عیسیٰ خان!
عیسیٰ خان یہ سن کر نورالعین کے ہاتھ چھوڑ دیتا ہے اور تیزی سے وہاں سے نکل جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسیٰ خان شراب خانے میں آکر بوتل منہ کو لگاتا ہے اور بہت تیزی سے پینے لگتا ہے کے اچانک اس کے سینے میں عجیب درد ہونے لگتا ہے وہ بوتل چھوڑ کر اپنا سینا مٙلنے لگتا ہے اسے نورالعین کی باتیں بہت تکلیف دیتی ہیں اسے لگتا ہے اسکا یہاں سانس لینا مشکل ہو گیا ہے وہ اپنی گاڑی اٹھا کر باہر نکل جاتا ہے ہونہی نشے کی حالت میں گاڑی چلانے لگتا ہے اُس کے پیچھے گارڈز کی کار ہوتی ہے ۔ عیسی خان بہت عجیب طرح گاڑی چلا رہا ہوتا ہے اُس کے دماغ میں صرف نورالعین کی نفرت بھری باتیں گونج رہی ہوتی ہیں اسے معلوم ہوتا ہے کہ نورالعین اس سے نفرت کرتی ہے مگر اس حد تک یہ بات اسے بہت تکلیف دیتی ہے۔ وہ یہ سب سوچ رہا ہوتا ہے کے اچانک عیسیٰ خان کی گاڑی کے سامنے اچانک ایک بچہ آ جاتا ہے جسے بچانے کے لیئے وہ ایک دم بریک لگاتا ہے اس کا سر اسٹیرنگ پر لگتا ہے اور اس کے سر سے خون نکلنے لگتا ہے وہ اپنی پروہ کیئے بغیر گاڑی سے باہر آکر بپے کو دیکھتا ہے بچہ بہت رو رہا ہوتا ہے عیسیٰ خان لڑکھڑاتا ہوا بچے کے پاس آنے لگتا ہے کے آس پاس جمع ہو ئے لوگ عیسیٰ خان کو پہچان لیتے ہیں اُن میں سے ایک آدمی کہتا ہے:
ارے یہ تو داور خان کا بیٹا عیسیٰ خان ہے!
دوسرا آدمی بولتا ہے:
ہاں وہ ہی ہے اس نے پی رکھی ہے جبھی اس بچارے بچے پہ گاڑی مار دی:
یہ کہ کر وہ آدمی موبائل نکال کر عیسیٰ خان کی ویڈیو بناننے لگتا ہے جبکہ عیسیٰ خان اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اس آدمی کو اٹک اٹک کر جواب دیتا ہے:
م م میں نے کک کچھ نہیں ک کیا میں نے ک کچھ نہیں پپ پیا بند کو اپنا فون!
عیسیٰ خان اس کے ہاتھ سے فون لینے لگتا ہے کے وہ آدمی اپنا فون فوراً بند کر کے جیب میں رکھ لیتا ہے اتنی دیر میں گارڈز اتنے رش میں اپنی جگہ بناتے ہوئے عیسیٰ خان کو سمبھالتے ہیں عیسیٰ خان اپنے ایک گارڈ کو بچے کا بولتا ہے گارڈ فوراً بچے کو اور عیسیٰ خان کو گاڑی میں ڈال کر ہوسپٹل لے جاتا ہے۔ سر پر چُوٹ لگنے کی وجہ سے اور کچھ نشے کی وجہ سے عیسی خان ہوسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی بے ہوش ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف عیسیٰ خان کی ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے جس میں صاف پتا لگتا ہے کے عیسیٰ خان نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا سب نیوز چینل یہ بریکنگ نیوز دینے لگتے ہیں!
جب یہ بات داور خان اور ہارون خان کو معلوم ہوتی ہے تو وہ فوراً ہوسپٹل پہنچتے ہیں۔ داور خان کو عیسیٰ خان کی اس حرکت پہ بہت غصہ ہوتا ہے آخر الیکشن قریب ہیں اور اُن کی پارٹی کے خلاف لوگوں کو موقع مل گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہی عیسیٰ خان کو ہوش آ جاتا ہے۔ داور خان اور ہارون خان اُس کے پاس روم میں جاتے ہیں ۔ عیسیٰ خان بہت مشکل سے آنکھیں کھلنے کی کوشیش کرتا ہے۔ ۔ داور خان اس کے پاس آکر غصے میں کہتے ہیں۔
منع بھی کیا تھا عیسیٰ خان تمہیں کے شراب مت پینا آج کل الیکشن سر پہ ہیں اور تم نے یہ سب کیا کر دیا!
عیسیٰ خان بےبس ہو کر اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھتا ہے جیسے ابھی بھی اُسے نورالعین کی آواز آ رہی ہو۔ وہ داور خان سے کہتا ہے:
بابا ، آپ کو الیکشن کی پڑی ہے یہاں میں مر رہا ہوں۔۔۔۔ وہ اتنی نفرت کرتی ہے مجھ سے اسے گِہن آتی ہے مجھ سے بابا اسے کہیں میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے وہ میرے ساتھ ایسا مت کرے!
یہ سن کر داور خان حیران ہو جاتے ہیں جب کہ ہارون خان کو سب سمجھ آجاتی ہے۔ داور خان عیسیٰ کے پاس جا کر اس سے پوچھنے لگتے ہیں کہ وہ آخر کس کی بات کر رہا ہے عیسیٰ خان اس وقت اپنے آپ میں نہیں ہوتا وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ ہارون خان داور خان کو سائڈ پر لے جا کر نورالعین کے بارے میں سب بتا دیتا ہے۔ یہ سن کر داور خان غصے میں بولتے ہیں:
اُس معمولی لڑکی کی اتنی ہمت کے میرے بیٹے سے نفرت کرے!
ہارون خان: انکل پلیز آرام سے میری بات سنیں میں نے دیکھا ہے عیسیٰ اس سے واقعی بہت محبت کرنے لگا ہے اس لیئے اس لڑکی کو کوئی نقصان مت پہنچائے گا۔
داور خان غصےمیں بولتے ہیں۔
مجھے کیا کرنا ہے یہ مجھ پہ چھوڑ دو تم بتاؤ کے وہ لڑکی اس وقت کہاں ہے؟
ہارون خان: وہ خان ولا میں ہے۔
یہ سن کر داور خان وہاں سے چلے جاتے ہیں۔

 

Read More:  Qissa Aik ishq Ka Novel by Aish Khan – Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: