Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 5

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 5

–**–**–

نورالعین اپنی ہی سوچوں میں گم ہوتی ہے کہ اچانک زوردار آواز سے دروازہ کھلتا ہے داور خان بہت غصے میں اس کے پاس آتے ہیں نورالعین ڈر کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔داور خان نورالعین کو چلا کر بولتے ہیں :
تمہاری اتنی ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بیٹے کو نفرت سے جواب دو اگر وہ تم سے پیار سے بات کر رہا ہے تو اسے اپنی خوش قسمتی سمجھو شکر کرو تم زندہ ہو ورنہ اب تک تم بھی اپنے بھائی کی طرح قبر میں ہوتی !
نورالعین داور خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموشی سے کھڑی رہتی ہے داور خان اُس کے بال پکڑتےہوئے کہتے ہیں :
تم جو یہ آنکھیں مجھے دکھا رہی ہو یہ سب اِس لیئے برداشت کر رہا ہوں کہ میرا بیٹا تم سے محبت کرنے لگا ہے لہذا تمہیں بھی اُس سے محبت سے پیش آنا ہوگا اِسے میری مجبوری مت سمجھنا میں تمہیں پہلی اور آخری بار سمجھا رہا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ تمہارا ایک اور بھائی بھی ہے اور میں اسے مارنے میں ذرا رحم نہیں کھاؤنگا یاد رکھو میرا بیٹا میری زندگی ہے اور اسے بچانے کے لیے میں کسی کی بھی جان لے سکتا ہوں یہاں تک کہ تمہاری بھی ۔۔۔ زیادہ لمبی بات کرنے کا میرے پاس وقت نہیں بس تمہیں اتنا کرنا ہے عیسی خان کو پیار اور محبت سے جواب دینا ہے اور ہاں اسے تمہاری آنکھوں میں صرف محبت نظر آنی چاہیے۔۔۔ اب چلو میں تمہیں اس کے پاس لے کر جا رہا ہوں اور جو سمجھایا ہے وہی کرنا ہوگا ورنہ تم سمجھدار ہو!
یہ کہہ کر داور خان نورالعین کا بازو کھینچھتے ہوئے اپنے ساتھ ہوسپٹل لے جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داورخان عیسی خان کہ کمرے میں جانے سے پہلے ایک بار پھر نورالعین کو اپنی باتیں یاد کرواتے ہیں اور اسے دھمکی دیتے ہیں ۔ نورالعین خاموشی سے سنتی ہے اور داور خان کے ساتھ عیسیٰ خان کے روم میں چلی جاتی ہے۔ عیسیٰ خان اس وقت خاموشی سے آنکھیں بند کیئے سیدھا لیٹا ہوتا ہے۔ ہارون خان بھی وہاں موجود ہوتا ہے۔ ہارون جب نورالعین کو داور خان کے ساتھ دیکھتا ہے تو عیسی خان کے پاس جاکر اسے کان میں کہتا ہے :
Open your eyes ! Esa look Who has come here
عیسی خان آہستہ سے آنکھیں کھولتا ہے تو نورالعین کا چہرہ دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے وہ نورالعین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے جسے نورالعین داورخان کی طرف دیکھتے ہوئے تھام لیتی ہے اور اس کے پاس بیٹھ جاتی ہے ! داور خان خوش ہوتے ہوئے عیسی خان سے بولتے ہیں :
میں نے جیسے ہی اسے تمہارے ایکسیڈنٹ کا بتایا تو یہ رونے لگی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میرے ساتھ تمہیں دیکھنے جائیگی اس لیے میں اسے لے آیا !
عیسی خان غور سے نورالعین کا چہرہ دیکھتا ہے تو اسے محسوس نہیں ہوتا کے نور اس کے لیئے روئی ہو گی۔ مگر اس کے لیئے یہ ہی بہت تھا کے وہ اِسے ملنے آئی ہے۔ وہ نور کے چہرے پہ اس کے ایک ایک نقش کو چھوتے ہوئے بولتا ہے:
مجھے بہت سکون ملا ہے نور تمہیں یہاں دیکھ کر مجھے یقین تھا کے تم میرے پاس آؤ گی !
یہ کہ کر عیسی خان بے اختیار اس کے ہونٹوں پر جُھکنے لگتا ہے کے نور اپنا منہ دوسری طرف کر لیتی ہے۔ ۔ عیسیٰ خان خود کو ایک ہلکا سا تپھڑ لگاتا ہے اور ہارون خان اور داور خان کو دیکھ کر کہتا ہے:
یہ بہت شرماتی ہے بابا میں کچھ دیر اکیلے ملنا چاہتا ہوں نور سے۔ ۔۔
داور خان: ہہمممممم ٹھیک ہے یہ واقعی شرما رہی ہے چلو آو ہارون ہم باہر چلتے ہیں۔۔
داور خان کمرے سے نکلنے سے پہلے دوبارہ نورالعین کے پاس آتے ہیں اور مسکرا کر بولتے ہیں:
مجھے یقین ہے تم میرے بیٹے کو زیادہ تنگ نہیں کروگی ہمم۔ ۔۔۔
یہ کہہ کر داور خان تیزی سے کمرے سے چلے جاتے ہیں ۔ عیسی خان نورالعین کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں پہ لگاتا ہے اور اپنے سینے پہ رکھ کر سکون سے آنکھیں بند کر لیتا ہے نورالعین تھوڑی دیر عیسی خان کو دیکھتی ہے اور ایک دم ہنسنے لگتی ہے عیسی خان حیران ہو کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو نورالعین کی ہنسی میں گم ہو جاتا ہے نورالعین ہنسی روک کر عیسی خان کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھ سے جھٹکے کے ساتھ نکال لیتی ہے اور تالیاں بجاتی ہوئی کہتی ہے :
واہ عیسیٰ خان تمہیں محبت ہوگی وہ بھی مجھ سے میں حیران ہوں۔۔۔ how is it possible i am surprized
یہ کہہ کر نورالعین عیسی خان پر جھکتی ہے سر گوشی میں بولتی ہے : آج میں مان گئی اپنے رب کے فیصلے کو وہ کیسے کیسے بدلے لیتا ہے !
عیسی خان حیران ہو کر بولتا ہے :
مگر تم بھی تو مجھے پسند کرنے لگی ہو جب ہی تو تم میرے پاس آئی ہو مجھے دیکھنے!
نورالعین : شٹ اپ عیسی خان تمہیں دیکھنے کا مجھے بلکل شوق نہیں تمہارا باپ مجھے یہاں زبردستی لایا ہے مجھے سمجھ نہیں آتی تمہارے باپ کا راج ہے کیا جب چاہو گے بندوق دکھا کر محبت ختم کر دو گے جب چاہو گے بندوق دکھا کر کسی سے زبردستی محبت کرواؤ گے ۔۔۔ سنو عیسی خان محبت تو خود بخود ہو جاتی ہے اس پہ کسی کا اختیار نہیں لیکن نفرت بہت سی وجوہات کی وجہ سے ہوتی ہے اور جب تک یہ وجہ ختم نہ ہو جائیں نفرت ساری زندگی پیچھا نہیں چھوڑتی ۔
عیسیٰ خان نورالعین کو اپنے قریب کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے :
ایسا مت کہو نور میں جانتا ہوں میں نے تمہارے بھائی کا قتل کیا ہے مگر یہ بھی تو دیکھو میں نے اپنی بہن کو بھی مارا تھا اُس نے ہماری روایات توڑی تھی وہ جانتی تھی کے خاندان سے باہر محبت یا شادی کرنے کا انجام یہ ہی ہو گا۔ ۔!
نورالعین عیسیٰ خان کا گربان پکڑ کر کہتی ہے!
اچھا تو پھر تمہارا کیا انجام ہونا چاہیئے تم نے بھی تو بلکل ویسا ہی جرم کیا ہے بولو خود کو بھی مار سکتے ہو؟
عیسیٰ خان:
تم یہ چاہتی ہو تو خود مار دو مجھے میں اُف تک نہیں کہوں گا!
نورالعین : کاش کے میں یہ کر سکتی تمہیں مارا تو تمہارا باپ میری بچی ہوئی فیملی کو بھی مار دے گا نہیں عیسیٰ خان میں یہ نہیں چاہتی۔ ۔۔!
عیسیٰ خان نرمی سے اسے اپنے بہت قریب کرتا ہے اور نور کی گردن پہ اپنی انگلی پھیرنے لگتا ہے پھر سر اٹھا کر بولتا ہے:
تم جانتی ہو نور میں خود حیران ہوں کے اتنی محبت مجھے کیسے ہو گئی۔ ۔ شاید تمہاری اور وفا کی بد دعا لگی ہے مگر ایسا مت سمجھنا کے میں پچھتا رہا ہوں محبت کر کے۔ ۔ نہیں میں بہت خوش ہوں۔ آج پہلی بار مجھے لگ رہا ہے میں واقعی بہادر ہوں بندوق کے بغیر اور محبت کے ساتھ جینے میں بہادری ہے ۔۔۔۔ تم کہو میری جان میں یقین دلاتا ہوں تمہاری فیملی اور تمہیں کوئی کچھ نہیں کہ سکتا تمہارا جو فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہے۔ ۔!
نورالعین : ایک بار پھر سوچ لو عیسیٰ خان مُکر مت جانا:
عیسیٰ خان : میں اپنی بات سے مُکرتا نہیں ہوں اتنا تو جان گئی ہو گی تم…
نورالعین: ٹھیک ہے عیسیٰ خان تمہیں بھی مرنا ہوگا مگر اسطرح نہیں جیسے تم نے اُن دونوں کو رات کے اندھیرے میں مارا تھا بلکہ تم سب کے سامنے مرو گے دنیا کو بھی پتا لگے کے محبت کے قاتل کا کیا انجام ہوتا ہے!
عیسٰی خان: مجھے منظور ہے نور تم جو بھی سزا دینا چاہو!
یہ کہ کر عیسیٰ خان اپنا سر نورالعین کے آگے جُکھا لیتا ہے۔۔۔!
_____________________________________________
نورالعین تھوڑی دیر خاموشی کے بعد بولتی ہے :
عیسی خان تمہیں خود کو پولیس کے حوالے کرنا ہوگا اور کوٹ میں بیان دینا ہوگا کہ تم نے میرے بھائی اور بھابھی کو قتل کیا ہے اور مجھے اغوا کرکے زبردستی اپنے ساتھ رکھا ہے اِس کے بعد تمہیں جو سزا ہوئی وہ قبول کرنی ہوگی ۔۔۔
عیسی خان : مگر تم جانتی ہو نور میرے بابا کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے اب تو الیکشن بھی قریب ہیں اور پھر یہ ساری پولیس بابا کی جیب میں ہے!
نورالعین : یہ سب مجھے نہیں پتا اب تمہیں دیکھنا ہے کہ تم کیسے اپنے باپ کے آگے کھڑے ہوتے ہو اور انہیں مجبور کرتے ہو اور تم ایسا کر سکتے ہو عیسی خان اگر تم خود چاہو !
عیسیٰ خان مسکراتے ہوئے نور کے اوپر جھکتا ہے اور کہتا ہے : ہاں میں سب کچھ کر سکتا ہوں مگر اس کے بدلے تم مجھے کیا دوں گی ؟
نورالعین : مجھے معلوم تھا تم اپنے نقصان کے ساتھ ساتھ تھوڑا بہت فائدہ ضرور حاصل کرو گے آخر ہو نہ ایک سیاستدان کے بیٹے !
عیسی خان : ہممم بہت کچھ جان گئی ہوں میرے بارے میں خیر تمہیں یہ بھی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مجھے تم سے کیا چاہیے بس کچھ حسین لمحے جن کے سہارے میں اپنی سزا کاٹ سکوں !
نورالعین : منظور ہے !
عیسیٰ خان : ہاں ایک اور بات مجھے جب بھی تم سے ملنا ہوا تو تمہیں ملنے کے لیے آنا ہوگا کیونکہ تمہیں دیکھنا میرے لیے بہت ضروری ہے اگر تم نہ آئی تو ہو سکتا ہے میں اپنی سزا سے پہلے ہی مر جاؤں یقیناً تم یہ نہیں چاہوں گی کہ میں اپنی سزا کاٹے بغیر مر جاؤں !
نورالعین : فکر مت کرو عیسیٰ خان میں آؤں گی تم سے ملنے آخر مجھے بھی دیکھنا ہے تم بےبس اور سزا کاٹتے ہوئے کیسے لگو گے!
یہ کہ کر نورالعین کمرے سے جانے لگتی ہے کہ عیسٰی خان اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے اور کہتا ہے :
اتنی جلدی کیوں جا رہی ہو ابھی تو میں نے تمہیں دل بھر کے دیکھا بھی نہیں !
نورالعین : مگر میرا دل بہت خراب ہو رہا ہے تمہیں اتنی دیر دیکھ کر !
یہ کہہ کر نورالعین اپنا ہاتھ چُھڑوا کر کمرے سے نکل جاتی ہے۔ عیسی خان زور سے اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی شام وعدے کے مطابق نورالعین عیسٰی خان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر تیار ہو جاتی ہے ۔ عیسی خان بھی بہت دل لگا کر تیار ہوکر نورالعین کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔ نورالعین نظر اٹھا کر عیسی خان کو دیکھتی ہے تو اس کے دل کی دھڑکن آج پہلی بار تیز ہو جاتی ہے۔ وہ گھبرا کر آنکھیں جُھکا لیتی ہے جب کے عیسیٰ خان یہ دیکھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے: بہت حسین لگ رہی ہو نور ۔۔۔ میں تو آج ہی مر نہ جاوں کہیں!
پھر وہ اسے خود سے الگ کر کے اپنے سامنے بیٹھاتا ہے اور دیکھنے لگتا ہے۔۔۔۔ نورالعین اُس کی نظروں سے گھبرا کر اس سے بولتی ہے:
تم نے اپنے باپ سے بات کی تم کب خود کو پولیس کے حوالے کرو گے؟
عیسی خان گہری سانس لیتے ہوئے نورالعین کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیتا ہے او ر کہتا ہے: پلیز ابھی یہ میرا وقت ہے یہ سب باتیں رات ختم ہونے کے بعد کریں گے!
یہ کہ کر عیسیٰ خان نورالعین کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر ان کی جگہ اپنے لب رکھ دیتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہے جب کے نورالعین اپنے ہاتھ زور سے بند کر لیتی ہے تھوڑی دیر بعد عیسیٰ خان نورالعین کو خود سے الگ کر کے دیکھنے لگتا ہے نورالعین کا چہرہ لال ہو جاتا ہے آج پہلی بار نورالعین کا دل عیسیٰ خان کے پاس آنے پہ اتنا زور سے دڑکھتا ہے وہ اپنا لال چہرہ جُھکا لیتی ہے جبکہ عیسیٰ خان اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں سے اوپر کرتا ہے اور اُسکی گردن پہ موجود تلوں پر اپنے لب پھیرنے لگتا ہے کافی دیر وہ نورالعین کی خشبو اپنے انرر اُتارتا ہے اور پھر اس سے دور ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: یہ جو تمہارے دو تل ہیں یہ میرے لیئے دو جہاں ییں نور۔ ۔ میری امانت ہیں یہ۔ میں یہ نہیں کہتا کے تم کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل مت کرنا مگر بس اتنی التجا ہے کے انہیں کوئی اور نہ چھوئے مجھے تکلیف ہو گی!
یہ کہ کر عیسیٰ خان نورالعین کو آہستہ سے بیڈ پر لیٹا دیتا ہے جب کے نورالعین یہ سوچ کر زور سے آنکھیں بند کر لیتی ہے کے اب عیسیٰ خان اُس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔۔۔
عیسیٰ خان بھی خاموشی سے نورالعین کے ساتھ لیٹ جاتا ہے اور اسے کمفرٹر سے ڈھک دیتا ہے وہ نور کے ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر اسے دیکھنے لگتا ہے!
نورالعین عیسیٰ کی شور مچاتی ہوئی دھڑکنوں کو محسوس کر کے آنکھیں کھولتی ہے تو عیسیٰ خان مسکراتے ہوئے کہتا ہے:
گھبراو نہیں میری جان تم سو جاو ریلکس ہو کر میں تمہیں جی بھر کے دیکھنا چاہتا ہوں۔ ۔!
نورالعین حیران ہو کر عیسیٰ خان کو دیکھتی ہے تو عیسیٰ ہنسنتے ہوئے کہتا ہے: ارے مجھے تمہیں دیکھ کر ہی بہت سکون مل جاتا ہے نور تم بے فکر ہو کر سو جاو!
تھوڑی ہی دیر میں نورالعین خاموشی سے اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے اور عیسیٰ خان اُسکے گھنے بالوں کی خشبو اپنے اندر اُتارنے لگتا ہے۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نورالعین کی آنکھ کُھلتی ہے تو خود کو عیسیٰ خان کے حسار میں دیکھتی ہےعیسیٰ خان کے بھاری ہاتھ اسکے ارد گرد ہوتے ہیں اور وہ خود گہری نیند میں سکون سے سو رہا ہوتا ہے نور کو یاد آتا ہے کے واقعی عیسیٰ خان نے یہ رات صرف اُسے دیکھتے ہوئے ہی گزاری ہے جب بھی رات میں نور کی آنکھ کُھلتی تو عیسیٰ خان اسکا چہرہ دیکھ رہا ہوتا اور مسکرا دیتا اور نورالعین پھر سے آنکھیں بند کر کے سو جاتی ۔پتا نہیں کب عیسیٰ خان خود بھی سویا تھا۔ نورالعین تھوڑی دیر عیسیٰ کے اُٹھنے کا انتظار کرتی ہے جب وہ نہیں اُٹھتا تو اُسکے ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشیش کرتی ہے اتنی ہی دیر میں عیسیٰ خان اپنی آنکھیں بہت مشکل سے کھولتا ہے اور نورالعین کو یہ جدوجہد کرتے ہوئے دیکھتا ہے اور مسکرا کر اسے اپنے اور قریب کرتے ہوئے کہتا ہے: کیوں اپنی نازک سی جان کو تنگ کر رہی ہو خود تو تم مزے سے پوری رات سوئی ہو اتنا سا خیال کر لو میں ایک لمحے کے لیئے نہیں سویا!
نورالعین کوفت بھرے لہجے میں کہتی ہے: تو مسٹر عیسیٰ میں نے نہیں کہا تھا کے اُلو کی طرح پوری رات جاگ کے گزاریں!
عیسیٰ خان ہنستے ہوئے نور کو زور سے گلے لگاتا ہے اور کہتا ہے : اُف جب تمہیں محبت ہو گی تب معلوم ہو گا تمہیں کے سونے سے کہیں زیادہ سکون اپنے محبوب کا چہرہ دیکھنے سے ملتا ہےاور ہاں میں اُلو کی طرح نہیں دیوانوں کی طرح جگا ہوں!
نورالعین خود کو عیسیٰ خان سے چُھوڑواتے ہوئے کہتی ہے: اچھا اس وقت مجھے باتھ روم جانا ہے پلیززز۔۔۔
عیسٰی خان نورالعین کو خود سے الگ کر دیتا اور نورالعین تیزی سے باتھروم چلی جاتی ہے جبکے عیسیٰ خان پاس پڑا ہوا نورالعین کا دوپٹہ اپنے ہاتھوں میں لے کر دوبارہ سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں جب نورالعین باہر آتی ہے تو عیسٰی خان کو سویا ہوا دیکھتی ہے اور غصے میں پاس آکر اپنا دوپٹہ لینے لگتی ہے کہ کچھ سوچ کر ہاتھ پیچھے کر لیتی ہے اور ونہی بیٹھ کر عیسٰی خان کو دیکھنے لگتی ہے۔۔۔
تھوڑی دیر میں عیسٰی اپنی آنکھیں کھول کر نورالعین کو مسکرا کر دیکھتا ہے اور اُٹھ کردوپٹا نور کے اوپر پھیلا دیتا ہے اور خود باتھروم کی طرف فریش ہونے چلا جاتا ہے!

 

Read More:  In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 15

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: