Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 6

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 6

–**–**–

اُسی دن عیسیٰ خان ہارون سے ملتا ہے اور اُسے وہ سب بتا دیتا ہے جسے ہارون خان سن کر افسوس سے بولتا ہے:
عیسٰی تُو پاگل ہو گیا ہے کیا یار یہ سب آسان نہیں اگر تیرے والدِ محترم کو پتا لگا تو وہ نورالعین کے پورے خاندان کو ختم کر دینگے!
عیسیٰ خان: بابا کو میں خود اپنے طریقے سے سمجھا لوں گا تُو بس اس بات کی assurity دے کے تُو نورالعین اور اُسکے گھر والوں کو کچھ نہیں ہونے دے گا اگر تجھے گارڈز یا بندوں کی ضرورت ہے تو میرے لے لینا مگر نور اور اس کے گھر والوں کا خیال رکھنا!
ہارون خان: مگر واقعی میں تجھے کوئی سخت سزا ہو گئی تو۔ ۔۔
عیسیٰ خان: میں ہر طرح کی سزا کے لیئے تیار ہوں۔!
ہارون خان: مجھے یہ سب اچھا تو نہیں لگ رہا مگر تیرے لیئے کرنا پڑے گا۔ ۔۔ میں نورالعین کی فیملی کو اپنے گاوں بھیج دیتا ہوں اور نور۔ ۔۔
عیسٰی خان ہارون کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہے: نور کو گاوں مت بیجھنا وہ یہی رہے گی اور اپنا کیس لڑے گی اس کا ساتھ تُو دیگاآج ہی نور کی طرف سے مجھ پر ایف آئی آر کٹوادو! دو قتل اور ایک اغوا کی اور نور کے لیئےاچھا سا وکیل کروا پلیز یہ سب آج ہی کر دے میں بابا کے پاس جا کراُنہیں سمجھا دوں۔ ۔۔!
یہ کہتے ہی عیسیٰ تیزی سے باہر چلا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داور خان ہمیشہ کی طرح اپنی کسی پارٹی میٹینگ میں مصروف ہوتے ہیں۔ عیسٰی خان میٹینگ کے درمیان میں ہی اُن کے پاس جاتا ہے اور کھڑے کھڑے ہی بولتا ہے: بابا مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔ ۔
داور خان: اس وقت میں مصروف ہوں بلکہ تم آو اور میٹنگ اٹینڈ کرو!
عیسٰی خان: پلیز بابا مجھے ابھی اور اسی وقت آپ سے بات کرنی ہے آپ میرے ساتھ چلیں!
یہ بولتے ہی عیسٰی خان داور خان کا ہاتھ تھامیں اُنہیں باہر لے آتا ہے۔۔۔
وہ ساتھ والے روم میں جا کر دروازہ بند کرتے ہی داور خان کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے اور اپنی بات کا آغاز کرتا ہے:
بابا آپ جانتے ہیں نا میں نے دو قتل کیئے ییں ؟
داور خان حیران ہوتے ہوئے کہتے ہیں: کیا مطلب کونسے دو قتل؟
عیسی خان: عادل اور اپنی بہن کا بابا۔ ۔۔
داور خان: وہ قتل نہیں تھا سزا تھی اُن دونوں کے گناہ کی!
عیسٰی خان افسوس کرتے ہوئے کہتا ہے: نہیں بابا محبت اور شادی کرنا گناہ نہیں اُنہیں بھاگنے پہ بھی ہم نے مجبور کیا اگر ہم اتنے سخت دل نہ ہوتے تو وہ زندہ اور خوش ہوتے!
داور خان: اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں چُھوڑو یہ سب!
عیسٰی خان: بابا ہر وقت فائدے کی بات مت کیا کریں ۔۔۔ میں نے فیصلہ کیا ہے میں خود کو پولیس کے حوالے کر رہا ہوں اپنے جرم کا اقرار کروں گا!
داور خان غصے میں کھڑے ہوتے ہوئے کہتے ہیں: کیا بکواس کر رہے ہو میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دونگا!
عیسیٰ خان: بابا آپ آرام سے بیٹھ کر میری بات سنیں۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں جو فیصلہ کرلوں اس سے اک انچ بھی نہیں ہٹتا اس لیئے آپ کچھ بھی کہیں میں اپنا فیصلہ نہیں بدلوں گا اس لیئے میں چاہتا ہوں آپ میرا ساتھ دیں!
داورخان: یہ تم اُس معمولی سی لڑکی کا دل جیتنے کے لیئے کر رہے ہو نا۔۔۔۔
عیسٰی خان اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ معمولی لڑکی نہیں ہے بابا اگر آپ نے اُسے ہلکا سا بھی نقصان پنچانے کا سوچا بھی تو میں اپنے ساتھ آپ کی بھی جان لے سکتا ہوں & u know i mean it
عیسٰی خان اپنی بات مکمل کر کے داور خان کی آنکھوں میں دیکھتا ہے تو وہ داور خان کو اُس کی آنکھوں سے خوف آتا ہے وہ پیار سے بولتے ہیں: دیکھو میرے شہزادے میں جانتا ہوں تمہیں محبت ہو گئی ہے اُس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس بات کا میں تمہیں یقین دلاتا ہوں وہ لڑکی خود تمہارے پاس آئے گی تم سے پیار کرے گی ۔یہ سب کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں میری جان!
عیسی خان : میں جانتا ہوں بابا آپ کے پاس بہت طریقے ہیں مگر مجھے زبردستی پسند نہیں اس لیئے میں آپ سے کہنے آیا ہوں آپ اس معاملے سے دور رہیں!
اس سے پہلے کے داور خان کچھ بولتے عیسٰی خان تیزی سے دروازہ کھول کر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ ۔۔
__________________________,,,________________
ہارون خان سارے کام کروا لیتا ہے نور کی فیملی کو اپنے گاوں بجھوا دیتا ہے جبکے نور کو عیسٰی کے بتائے ہوئے گھر میں بھیج دیتا ہے۔ عیسٰی خان ہارون خان سے سب کچھ پوچھ کر نورالعین سے ملنے چلا جاتا ہے۔
_______________________،_____________
نورالعین حیران پریشان سی اِس نئے گھر کو دیکھ رہی ہوتی ہے یہ ایک چھوٹا اور خوبصورت گھر ہوتا ہے باہر چھوٹا سا باغ بنا ہوتا ہے نور وہاں پہ رکھی کرسیوں میں سے ایک کُرسی پے بیٹھ جاتی ہے کے اُسے دروازہ کُھلنے کی آواز آتی ہے وہ ڈر کر دوبارہ کھڑی ہوجاتی ہے تو سامنے سے عیسیٰ خان مضبوط قدموں کے ساتھ چلتا ہوا نور کے پاس آتا ہے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کے دوبارہ بیٹھا دیتا ہے اور کہتا ہے: تو بتایئے نور العین صاحبہ اور کوئی آپکا حکم؟
نورالعین: نہیں بس اپنی بات پے قائم رہنا۔ ۔۔ کوئی بھی سزا ہو تم اپنا فیصلہ نہیں بدلو گے۔ ۔!
عیسٰی خان ہنستے ہوئے نور کا ہاتھ تھام کر بولتا ہے: نور مجھے وہ ڈئلاگ یاد آ رہا مجھ پے فٹ ہے کے ایک بار میں کوئی فیصلہ کر لوں تو اپنے باپ کی بھی نہیں سنتا۔ ۔!
نورالعین: very funny شاید تمہیں اندازہ نہیں کے تمہیں کیا سزا مل سکتی ہے!
عیسٰی خان! تمہاری قسم نور اگر پھانسی بھی ہو گئی نا مجھے تو بھی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ۔!
نورالعین : hmmm let’s see
عیسٰی خان : کیا اپنے ہاتھ کی چائے پلا دو گی؟
نورالعین: بنا کر دے دوںگی مگر پی خود لینا!
عیسٰی خان نور کی بات سن کر ہنسنے لگتا ہے اور اُسے کچن کی طرف لے آتا ہے۔ نور چائے کا سامان ڈُونڈھ کر چائے بنانے لگتی ہے جبکہ عیسٰی خان اسے دیکھنے لگتاہے اور تھوڑی دیر بعد بولتا ہے: اگر میں کہوں کے اپنے ہاتھ سے پلا دو چائے تو کیوں نہیں پلا سکتی؟
نورالعین: میں تمہیں زہر تو پلا سکتی ہوں چائے نہیں!
عیسٰی خان: تو پھر وہ ہی پلا دو یہ سب کیوں کروا رہی ہو تمہارے ہاتھ سے زہر بھی شہد لگے گا:!
نورالعین : اسی لیئے نہیں پلا رہی اپنے ہاتوں سے۔۔۔ یہ چائے پیو!
نور چائے کا کپ عیسیٰ کے ہاتھ میں دے کر خود دوبارہ باہر آکر بیٹھ جاتی ہے۔ ۔۔
عیسٰی خان بھی آہستہ آہستہ اپنی چائے ختم کرنے لگتا ہے۔۔۔
عیسٰی خان : بہت اچھی چائے بنائی ہے تم نے دل کر رہا ہے تمہارے ہاتھ چوم لوں۔ ۔۔
عیسیٰ خان نور کی طرف تھوڑا جُھک کر بڑی آس سے پوچھتا ہے:
May I kiss Your hands
نور فوراً دونوں ہاتھ پیچھے کر کے بولتی ہے:
No thanks
تم اب جیل جانے کی تیاری کرو اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کرو۔ ۔
عیسیٰ خان سیدا ہو کر بولتا ہے: آہ۔ ۔۔ کتنی ظالم ہو تم مجھ سے بھی زیادہ!
نورالعین : تم سے زیادہ نہیں ہوں تم قاتل ہو!
عیسٰی خان: اور جو تم روز مجھے قتل کرتی ہو اپنی ان نفرت بھری آنکھوں سے؟
نورالعین: یہ نفرت تم نے خود کمائی ہے۔ ۔
عیسٰی خان چائے ختم کر کے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولتا ہے: صیح کہتی تم میں ہی یہ نفرت ختم بھی کروں گا!
یہ بول کر عیسٰی خان نورالعین کو اپنے سامنے کھڑا کرتا ہے اور اس کا دوپٹہ ہلکا سا گردن سے ہٹا کر نور کے تِل چھوتے ہوئے کہتا ہے: میری اِس امانت کا خیال رکھنا نور اِن تِلوں میں میرا دل ہے !
یہ کہ کر عیسٰی خان وہاں سے چلا جاتا ہے جبکے نور اپنا ہاتھ ونہی رکھ لیتی ہے جہاں تھوڑی دیر پہلے عیسٰی خان کا ہاتھ تھا!
________________________
عیسیٰ خان نور سے ملنے کے بعد اپنی ماں سے ملنے اپنے گھر جاتا ہے۔ وفا خان کی موت کے بعد سے بہت کم ہی ملاقات ہوئی تھی عیسٰی خان کی اپنی ماں سے۔ گل جہاں بھی ابھی تک عیسٰی خان کو معاف نہیں کر پائی تھی۔ عیسٰی خان خاموشی سے گل جہاں کے روم میں آتا ہے اور اُن کے پاوں پکڑ لیتا ہے گل جہاں اپنی آنکھیں کھول کر عیسٰی کو سر جُھکائے دیکھتی ہیں تو اپنے پاوں سمیٹ کر بیٹھ جاتی ہیں اور عیسٰی خان کو دیکھنے لگتیں ہیں آج کتنے ہی دنوں بعد وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں!
عیسٰی خان اُن کا ہاتھ تھام کر کہتا ہے!
ماما میں اپنی سزا کاٹنے جا رہا ہوں اس سے پہلے میں آپ سے معافی لینے آیا ہوں کیا آپ مجھے اپنی بیٹی کا خون معاف کریں گی؟ لیکن اگر آپ کوئی سزا دینا چاہیں تو بھی میں تیار ہوں!
گل جہاں: کوئی ماں بھی اپنی اولاد کو سزا دے سکتی ہے نہیں بیٹا ماں کی محبت میں اتنا حوصلا نہیں ہوتا!
یہ بول کر گل جہاں عیسٰی کو گلے لگا کر رونے لگتیں ہیں تھوڑی دیر بعد عیسٰی خان اپنی ماں کا ماتھا چوم کر کہتا ہے: واقعی ماما ۔۔۔ ماں کی محبت کو کوئی زوال نہیں آپ میرے لیئے دعا کرئے ماما کے اللہ مجھے میری محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دے۔۔۔!
ایک بار پھر وہ اپنی ماں کو گلے لگا کر وہاں سے چلا جاتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد پولیس عیسٰی خان کا arrest warrant کے ساتھ عیسٰی خان کو گرفتار کر کے لے جاتے ہیں اور داور خان بے بسی سے اپنے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ داور خان بھی عیسٰی خان کے لیئے ایک اچھا وکیل کروا لیتے ہیں۔۔۔۔
عیسٰی خان کو ایک صاف ستھرے جیل میں رکھا جاتا ہے۔ عیسٰی خان کی گرفتاری اور اعترافِ جرم کرنے کے بعد بریکنگ نیوز ہر طرف چلنے لگتی ہر کوئی اپنے اپنے تبصرے کرنے لگتا ہے کوئی کہتا ہے یہ الیکشن جیتنے کی چال ہے اور کوئی کہتا ہے کے لڑکی کی خاطر یہ سب ہو رہا ہے۔ پارٹی کے اہم کارکونان بھی آہستہ آہستہ پارٹی چھوڑنے لگتے ہیں اِن سب سے تنگ آکر داور خان خود ہی پارٹی سے استعفٰی دے دیتے ہیں۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد ہی عدالت کی طرف سے عیسٰی خان اور نور کی پیشی کا حکم ہوتا ہے۔ ہارون خان وعدے کے مطابق نورالعین کو کمرہ عدالت میں لے آتا ہے۔ نورالعین خود کو ایک بڑی سی چادر میں چھپائے کمرہ عدالت میں داخل ہوتی ہے تو عیسٰی خان اُسے دیکھ کر کھڑا ہو جاتا ہے عیسٰی خان کے دنوں ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوتی ہے یہ دیکھ کر نور کو عجیب سی خوشی ہوتی ہے!
تھوڑی ہی دیر میں کمرہ عدالت میں کاروائی شروع ہو جاتی ہے۔ عیسٰی خان اور نورالعین آمنے سامنے کٹھہرے میں کھڑے ہوتے ہیں عیسٰی خان کی نظریں نورالعین پے ہوتی ہیں نور نے اپنا چہرہ چادر سے ڈھکہ ہوتا ہے۔ نورالعین کا وکیل بڑے پروفیشنل طریقے سے سوال جواب کرنے لگتا ہے اور نور قرآن پر حلف اُٹھاتے ہوئے تفصیل سے جواب دیتی ہے!
جج صاحب عیسٰی خان نے میرے بھائی اور میری دوست جو کے میری بھابھی بھی تھی اور اس شخص کی سگی بہن بھی۔ ۔۔ اُن دونوں کو میرے سامنے بےدردی سے مار دیا صرف اس لیئے کے کے اُنہوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ ۔۔ اور نہ صرف یہ بلکہ مجھے زبردستی اغوا کیا اور میرا ریپ بھی کیا!
نور جیسے ہی اپنے لیئے ریپ کا لفظ استعمال کرتی ہے تو عیسٰی خان تڑپ کے سر اُٹھاتا ہے اور نور کی بات کاٹتے ہوئے بولتا ہے: نہیں نور پلیز ریپ تو مت کہو میں تمہارے بارے میں یہ نہیں سن سکتا!
نورالعین: مسٹر عیسٰی آپکی اطلاع کے لیئے عرض ہے کے نکاح کیئے بنا کسی کے ساتھ زبردستی کرنا ریپ ہی کہلا تا ہے!
عیسٰی خان یہ سن کر قرب سے اپنی آنکھین بند کر لیتا ہے۔ اب وکیل عیسٰی خان سے سوال کرنے لگتا ہے ۔جواب میں عیسٰی خان بہت مختصر جواب دیتا ہے: جو کچھ بھی نور نے کہا ہے وہ سب سچ ہے اور میں اس جرم کے بدلے کسی بھی سزا کے لیئے تیار ہوں!
عیسٰی خان کا یہ جواب سن کر سب حیران ہو جاتے ہیں جب کے داور خان اپنی سیٹ سے اُٹھ کر بولتے ہیں: جج صاحب یہ اِس وقت اپنے ہوش میں نہیں ہیں پلیز میں گزاریش کرتا ہوں ہمیں موقع دیا جائے اپنی حق میں بولنے کا!
جج صاحب: آپ نے جو کہنا ہے یہاں آکر بولیں۔ داور خان عیسٰی خان کی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں: میری بیٹی کو زبردستی لے کر گیا تھا اس کا بھائی اور جب ہمیں معلوم ہوا تو ہمارے پاس ایک ہی راستہ تھا اِس لیئے ہم نے اِس لڑکی کو اُٹھوا لیا تا کے اِس کا بھائی میری بیٹی کو لے آئے واپس مگر جب وہ واپس آیا تو اُس نے میرے بیٹے پے حملہ کرنے کی کوشیش کی اسی لیئے مجبوراً عیسٰی نے گولی چلائی اور وہ دونوں مارے گئے جبکے یہ لڑکی اپنی راضا مندی سے عیسٰی کے ساتھ رہی ہے میرا بیٹا کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا!
یہ سن کر نورالعین حیران ہو جاتی ہے جب کے عیسٰی خان تڑپ کر اُٹھتا ہے اور غصے سے بولتا ہے: یہ جھوٹ بول رہے ہیں اِن کی بات میں کوئی سچائی نہیں ہے جج صاحب۔ ۔
داور خان: جج صاحب میرا بیٹا اس وقت ڈپریشن کا شکار ہے اسے نہیں معلوم کے کیا کہنا ہے آپ خود سوچیں کوئی انسان اپنے لیئے کچھ بھی ماننے کو تیار ہے صرف اس لڑکی کے کہنے پر۔۔۔
اس سے پہلے کے عیسٰی خان پھر سے کچھ بولتا جج صاحب سب کو خاموش ہونے کا بولتے ہوئے کہتے ہیں: میں آپ لوگوں کو ایک اور موقع دیتا ہوں۔ کورٹ ڈسمس!
یہ بول کر جج صاحب کمرہ عدالت سے چلے جاتے ہیں جب کے عیسٰی خان داور خان کے پاس آکر غصے میں بولتا ہے: بابا میں نے آپ کو کہا تھا میرے اس معاملے سے دور رہیں آپ نے یہ سب جھوٹ کیوں کہا؟
داور خان : تم نے کہا تھا نورالعین اور اس کی فیملی سے دور رہوں دیکھو میں نے اُنہیں کچھ نہیں کہا مگر جو میں کر سکتا ہوں مجھے کرنے دو !
عیسٰی خان: ہنہ آپکو کیا لگتا ہے آپ کے اس جھوٹ پے یہ عدالت یقین کر لے گی نہیں بابا میں ایسا نہیں ہونے دونگا!
داور خان یہ سن کر غصے میں وہاں سے چلے جاتے ہیں جبکے نورالعین جو کافی دیر سے اُن دونوں کی باتیں سن رہی ہوتی ہے عیسٰی خان کے پاس آکر بولتی ہے:
یہ سب کیا ہے عیسٰی خان کیا تم مجھے پاگل بنا رہے ہو ۔۔۔ تم نے اپنے لیئے وکیل بھی کروا لیا آخر کیا سازیش کر رہے ہو؟
عیسٰی خان: نور ایسا کچھ نہیں ہے مجھے نہیں معلوم تھا کے بابا یہ سب بولیں گے!
نور نفرت سے عیسٰی کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگتی ہے کے عیسٰی خان اُسے پُکارتا ہے:
نور پلیز! ایسے مت جاو مجھے اپنا چہرہ تو دکھا دو کتنے دن سے تمہیں نہیں دیکھا!
نورالعین: اب اُسی دن تم مجھے دیکھ سکو گے جب تمہیں سزا ہوگی جب تک کے لیئے خدا حافظ!
یہ بول کر نور وہاں سے چلی جاتی ہے جبکے عیسٰی خان بے بسی سے اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے!۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی پیشی تین دن بعد رکھی جاتی ہے ہارون خان عیسٰی خان سے ملنے آتا ہے اور کہتا ہے:
یار نورالعین نے پیغام بجھوایا ہے تیرے لئے۔ ۔ وہ اپنی فیملی سے ملنا چاہتی ہے اب بول کیا کروں؟
عیسٰی خان: اُسے کہنا کے مجھ سے ملنے آ جائے مجھ سے آکر خود پوچھے پھر اجازت دوں گا میں اُسے!
ہارون خان: میں سمجھ گیا کچھ لو کچھ دو والا حساب۔ ۔۔ چل ٹھیک ہے میں اُسے لے آوں گا تُو اپنا خیال رکھنا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون خان جب نورالعین کو عیسٰی خان کی خواہیش کا بتاتا ہے تو نور دل ہی دل میں بہت گالیاں دیتی ہے مگر وہ جانتی ہے کے اگر اُسے اپنی فیملی سے ملنا ہے تو اُسے عیسٰی خان کی بات ماننی پڑے گی یہ ہی سوچ کر نورالعین عیسٰی سے ملنے کے لیئے راضی ہو جاتی ہے!

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: