Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 7

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – قسط نمبر 7

–**–**–

عیسٰی خان صبح سے ہی نوالعین کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا اسے یہ ڈر بھی تھا کے اگر نور اُس سے ملنے نہ آئی تو وہ کیا کرے گا اُس پیشی والے دن نور کا اتنا بدلہ ہوا لہجہ پریشان کر گیا تھا پہلے بھی نور عیسٰی کی بات آسانی سے نہیں مانتی تھی مگر جب سے عیسٰی کی کمزوری اُس کے ہاتھ لگی تھی وہ تب سے تو کچھ زیادہ ہی عیسٰی کو آنکھیں دیکھانے لگی تھی۔ عیسٰی کا دل کر رہا تھا وہ سب وعدے توڑ کر یہاں سے بھاگ جائے اتنے دن ہو گئے تھے نور کا دیدار کیئے ہوئے۔۔ وہ بار بار ہاتھ کی مُٹھی بناتے ہوئے دیوار پے مار رہا تھا۔۔۔ کے آخر اسکا انتظار ختم ہو جا تا ہے ۔ نور دو پولیس سپاہیوں کے ساتھ نظر آجاتی ہے وہ تیزی سے جیل کی سلاخوں کو پکڑ لیتا ہے جیسے اُن کو توڑ دے گا۔ ایک سپاہی تالا کھولتا ہے اور نور کو جیل کے اندر جانے کا اشارہ کرتا نور کو جیل میں جانا عجیب لگتا ہے عیسٰی خان غصے میں بولتا ہے:
پلیز نور اب آ جاو انرر ورنہ میں اپنے سارے وعدے بھول کر باہر آجاو گا سمجھی!
نور آہستہ سے چلتی ہوئی انر آجاتی ہے۔ عیسٰی خان وہاں پے موجود پولیس سپاہی کو دوبارہ تالا لگانے کا حکم دیتا ! سپاہی تالا لگا کر تھوڑے فاصلے پر کھڑا ہو جاتا ہے!
عیسٰی خان خاموشی سے نور کے قریب آکر اسے دیکھنے لگتا ہے جو ابھی بھی بڑی سی چادر میں اپنا چہرہ چُھپا کر کھڑی ہوتی ہے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد عیسٰی خان ایک لمبی سانس لے کر نورالعین کے چہرے سے چادر ہٹاتا ہے اور فرصت سے نورالعین کو دیکھنے لگتا ہے۔۔۔۔ نورالعین اُس کی نظروں سے گھبرا کر عیسٰی سے بولتی ہے۔:
بہت تیز ہو تم عیسٰی خان ہمیشہ سودا ہی کرتے ہو کبھی مفت میں کسی کو کچھ مت دینا!
عیسٰی خان مسکراتے ہوئے کہتا ہے: نہیں میری جان مفت میں کوئی کام نہیں کرتا اور تیز میں نہیں تم ہو اپنے وعدے سے مت مُکرو نور ورنہ میں بھی مُکر جاوں گا ۔۔ تمہیں کہا تھا کے جب میں تمہیں بلاوں تمہیں مجھ سے ملنے آنا ہو گا مگر میرے جیل میں آتے ہی تم شیر ہو گئی ہو واہ!
نورالعین: تم بہت نبھہا رہے ہو اپنے وعدے وہاں تمہارا باپ تمہیں یہاں سے نکالنے کے منصوبے بنا رہا ہے!
عیسٰی خان : کرنے دو اُنہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں تم بس میری بات کا اعتبار کرو اور اپنی بات پے بھی قائم رہو تم جانتی ہو کے تمیں دیکھنا میری کمزوری جب ہی تم اسطرح تڑپا رہی ہو مجھے!
یہ بول کرعیسٰی خان نور کی چادر تھوڑی اور نیچے کرتا ہے اور اُسکے تِلوں کو دیکھنے لگتا ہے اور کہتا ہے: اِن کا خیال رکھتی ہونا تم!
یہ بولتے ہوئے عیسٰی نور کی گردن پے جُکھنے لگتا ہے کے نور ایک دم پیچھے ہو جاتی ہے اور غصے میں بولتی ہے: تھوڑا لحاظ کرو یہ تمہارا بیڈ روم نہیں ہے سامنے سپاہی کھڑا ہوا ہے!
عیسٰی خان نور کا بازو پکڑ کر اُسے قریب کرتا ہے اور اُسکے ہونٹوں پے ہاتھ رکھ کر اُسکی گردن پے اپنے لب رکھ دیتا ہے نور تو سانس لینا ہی بھول جاتی ہے عیسٰی جب تھوڑی دیر اسی طرح جُھکا رہتا ہے تو نور ہوش میں آکر عیسٰی خان سے بولتی ہے!
عیسٰی پلیز چھوڑو مجھے کوئی دیکھ لے گا بس کرو !
عیسٰی خان جو خاموشی سے نور کی خشبو اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے سر اُٹھا کر نور کو دیکھتا ہے جو لال چہرہ لیئے رو دینے کو تھی عیسٰی خان مسکرا کر نور سے تھوڑا دور ہوتا ہے اور وہ ہاتھ جو نور کے ہونٹوں پے رکھا ہوتا ہے اسے ہٹاتے ہوئے اپنی انگلیاں اسکے ہوںٹ پر پھیرتے کہتا ہے: مجھے تڑپانے کی سزا ہے یہ نور اگر آندہ تم میرے بولانے پے نہ آئی تو تم سمجھ تو رہی ہو۔۔۔۔
یہ بول کر عیسٰی اپنا ہاتھ نور کے ہونٹوں سے ہٹا لیتا ہے اور مسکرا بہت آہستہ سے بولتا ہے: خیر ان ہونٹوں کا بھی وقت آئے گا!
نور گہرا سانس لے کر دوانت پیستے ہوئے بولتی ہے: اگر آپ کی ملاقات ہو گئی ہو تو میں جاوں!
عیسٰی خان: دل تو کر رہا ہے تمہیں یہنی رکھ لوں ہائے مگر مجبور ہوں۔۔ مجھ سے وعدہ کرو نور تم آئندہ اسطرح نہیں کرو گی میں پاگل ہو جاوں گا تمہیں دیکھے بغیر ۔۔۔ وعدہ کرو مجھ سے نور؟
عیسٰی خان نور کے آگے اپنا ہاتھ کرتا ہے جسے دیکھتے ہوئے نور اُسے تھامتے ہوئے کہتی ہے:
ٹھیک ہے مگر میری بھی بات ماننی ہو گی تمہیں جتنی جلدی ہو سکے یہ کیس ختم کرو اور اپنی سزا پوری کرو مجھ سے اسطرح یہاں کے چکر نیہں لگائے جاتے!
عیسٰی خان نور کے تھامے ہوئے ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیرنے لگتا ہے اور کہتا ہے: کتنا سکون ہے تمہارے لمس میں !
جیسے اس نے نورچکی بات سنی ہی نہ ہو! نور فوراً اپنے ہاتھ کھینچ کر پیچھے ہو جاتی ہے ۔۔ عیسٰی خان گہرا سانس لے کر سپاہی کو آواز دیتا ہے ۔ سپاہی جیدے ہی لوک کھولتا ہے نورالعین اپنا چہرا ڈاھنپتی ہوئی وہاں سے چلی جاتی ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر وہ دونوں آمنے سامنے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں عیسٰی خان وعدے کے مطابق سب جرم قبول کر لیتا ہے عیسٰی خان کا وکیل بھی کچھ کر نہیں پاتا ۔داور خان بھی اپنے بیٹے کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں۔۔۔ جج روتی ہوئی نورالعین سے پوچھتےہیں:
مس نورالعین ان تمام ثبوطوں کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کے آپ کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے اس لیئے سزا دینے کا بھی اختیار میں آپکو دیتا ہوں اگر آپ چاہیں تو سامنے کھڑے اپنے مجرم کو معاف بھی کر سکتی ہیں اس لیئے کے مجھے لگتا ہے وہ واقعی شرمندہ ہے مگر آپ چاہیں تو سخت سزا بھی سنا سکتی ہیں its all up to you؟
عیسٰی خان امید سے نورالعین کو دیکھتا ہے اُسے یقین ہوتا ہے کے نورالعین اُسے معاف کر دے گی آخر محبت اتنی مہربانی تو کرے گی۔ ۔ نور بھی عیسٰی خان کی طرف دیکھ کر سوچنے لگتی ہے کے وہ کیا سزا دے ایک طرف اُسکا دل کہتا ہے عیسٰی واقعی شرمندا ہے اُسے ایک موقع دینا چاہیئے دوسری طرف اسکے زہن میں وفا اور عادل کے مُردہ وجود سامنے آجاتے ہیں۔۔۔۔۔ کمرہِ عدالت میں ایک خاموشی چھا جاتی ہے داور خان ہارون اور گل جہاں سب ایک امید کے ساتھ نور کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔۔۔۔!
عیسٰی خان امید سے نورالعین کو دیکھتا ہے اُسے یقین ہوتا ہے کے نورالعین اُسے معاف کر دے گی آخر محبت اتنی مہربانی تو کرے گی۔ ۔ نور بھی عیسٰی خان کی طرف دیکھ کر سوچنے لگتی ہے کے وہ کیا سزا دے ایک طرف اُسکا دل کہتا ہے عیسٰی واقعی شرمندا ہے اُسے ایک موقع دینا چاہیئے دوسری طرف اسکے زہن میں وفا اور عادل کے مُردہ وجود سامنے آجاتے ہیں۔۔۔۔۔ کمرہِ عدالت میں ایک خاموشی چھا جاتی ہے داور خان ہارون اور گل جہاں سب ایک امید کے ساتھ نور کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔۔۔۔!
نورالعین ایک فیصلہ کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولتی ہے: جج صاحب میں چاہتی ہوں کے عیسٰی خان کو سرِ عام پھانسی دی جائے کے پورا ملک دیکھے محبت کرنے والے جب غیرت کے نام پے مارے جاتے ہیں تو اُن کے قاتل کا کیا انجام ہوتا ہے !
یہ سن کرعیسٰی خان ہلکا سا لڑکھڑا جاتا ہے مگر فوراً ہی خود کو سمبھال کر مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
کوئی بھی اس سزا کی امید نہیں کر رہا ہوتا شاید جج صاحب کو بھی یہ امید نہیں ہوتی اس لیئے وہ دوبارہ نورالعین سے پوچھتے ہیں نور دوبارہ بھی یہ ہی بولتی ہے۔۔ جج اپنے قلم سے بیس دن بعد کی تاریخ ڈال۔کر اپنا قلم توڑ دیتے ہیں۔۔۔۔
جج صاحب کے جاتے ہی داور خان ، گل جہاں اور ہارون خان عیسٰی خان کے پاس آجاتے ہیں جب کے نورالعین ونہی کھڑی رہ جاتی ہے۔۔ داور خان عیسٰی خان کو بولتے ہیں: عیسٰی یہ سزا غلط ہے میں سپریم کورٹ میں اپیل کروں گا!
عیسٰی خان: نہیں بابا بلکل ٹھیک ہے جو بھی ہوا ہے میں جانتا ہوں آپ لوگ پریشان ہیں مگر یقین کریں میں مطمئن ہوں۔۔۔
گل جہاں رونے لگتی ہیں جبکے نورالعین خاموشی سے وہاں سے جانے لگتی ہے کے عیسٰی خان اُسے پکارتا ہے: نور پلیز روک جاو!
نور روک تو جاتی ہے مگر قدم آگے نہیں بڑھاتی عیسٰی خان خود ہی چلتا ہوا اُس کے پاس آتا ہے اور اُس کی چادر چہرے سے ہٹا کر بولتا ہے: نور سزا تو تم نے اچھی سنائی ہے میں اِسے دل سے قبول کرتا ہوں مگر جب تک میں زندہ ہوں تب تک پلیز مجھ سے ملنے آتی رہنا ۔۔ بس یہ ہی سوچ کر آجانا مرنے والے کی آخری خواہیش ہے!
نورالعین جواب میں کچھ نہیں کہتی عیسٰی خان غور سے نور کو دیکھتے ہوئے کہتا ہے: کیا بات ہے نور اتنی خاموش کیوں ہوتمہیں تو خوش ہونا چاہیئے ناجو تم چاہتی ہو وہی ہوا ہے پھر تم اُداس کیوں لگ رہی ہو مجھے!
نورالعین بہت مشکل سے بولتی ہے: میں اُداس نہیں ہوں بہت مطمیئن ہوں مگر میں تمہاری طرح نہیں ہوں کے کسی کی موت کی خبر سن کر خوشی مناوں !
عیسٰی خان : ہممم ٹھیک بول رہی ہونور میں واقعی بہت ظالم بن گیا تھا میں نے اُن کو مارتے ہوئے زرا رحم نہیں کھایا بلکے اُن کو مارنے کے بعد ایک دفع بھی افسوس نہیں کیا تھا بلکل صیح کیا نور میں اسی قابل ہوں!
نور ایک بار عیسٰی کو دیکھتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین کی فیملی بھی نور کے ساتھ اُسی گھر میں رہنے لگتے ہیں نور کے والد اب کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں اور سب ہی نور کے فیصلے سے خوش ہوتے ہیں ۔ مگر نور بےچین ہوتی ہے ۔ ہارون بہت بار عیسٰی کا پیغام لے کر آتا ہے مگر نور عیسٰی سے ملنے بھی نہیں جاتی شاید اُسے ڈر ہوتا ہے کے کہیں وہ کمزور نہ پڑ جائے اور اپنے فیصلے پے پچھتانے لگے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسٰی خان کو ایک بہت ہی تنگ جیل میں ڈال دیا جاتا جہاں چلنے کی بھی جگہ نیہں ہوتی وہ سارا دن خاموشی سے اپنی سوچوں میں گزار دیتا ہے ۔ باقائدگی سے نماز ادا کرتا ہے اسے بس تھوڑی دیر کے لیئے باہر نکالا جاتا باقی وہ سارا دن جیل میں پڑا رہتا ہے تین چار دنوں میں ہی اُس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے وہ کئی دن سے بیمار ہو۔ ۔ ہارون اور داور خان روزانہ ہی اس سے ملنے آتے ہیں اسے بہت سمجھاتے ہیں کے اپیل کرنے دے مگر وہ نہیں مانتا۔ ۔ وہ ہر روز ہارون خان کو کہتا کے وہ نور سے ملنا چاہتا ہے مگر نور نہیں آتی وہ روز اسی امید سے اٹھتا ہے کے آج نور آجائے گی مگر وہ نہیں آتی اسی طرح دن گزرنے لگتے ہیں عیسیٰ خان کا زیادہ وقت نماز اور دعا مانگنے میں گزرتا ہے۔۔۔ عیسٰی خان نور کے لیئے خط لکھتا اور ہارون کے ہاتھ بجھوا دیتا ہے وہ لکھتا ہے:
امید ہے نور تم بلکل ٹھیک ہو گی میں بھی ٹھیک ہوں اور بہت انجوائے کر رہا ہوں میں بہت شکر گزار ہوں تمہارا یہاں آکر مجھے اندارہ ہوا ہے کے اصل میں انسان کی کیا حقیقت ہے ہم کتنے نادان ہوتے ہیں جب تھوڑی سی طاقت ہمارے ہاتھ میں آتی ہے تو ہم خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں مگر ہم بھول جاتے ہیں کے جس نے یہ طاقت دی ہے وہ کتنا طاقت ور ہو گا کیسی عجیب بات ہے نور جب ہم خدا بن کر دوسروں کو سزا دیتے ہیں تو ظالم بن جاتے ہیں مگر جب اوپر والا ہمیں سزا دیتا ہے تو وہ منصف کہلاتا ہے واقع سزا اور جزا صرف رب کے ہاتھ میں ہے۔ میں سمجھتا تھا میرے پاس طاقت ہے اس لیئے میں سب کچھ کر سکتا ہوں مگر نہیں میں تو بہت کمزور تھا نادان ۔۔! آج اس کے آگے جھک کر احساس ہو رہا کے اصل طاقت تو اس کے سامنے جھک جانے سے ملتی ایمان کی طاقت ۔۔! شاید یہ سب اسی طرح لکھا تھا میرے رب نے !
تم سے ایک التجا ہے ایک بار میرے مرنے سے پہلے مجھ سے ملنے آجانا نور میں تڑپ رہا ہوں تمہیں دیکھنے کے لیئے یہ سمجھ کر آجانا کے میری آخری خواہیش ہے پوری کر دینا میں شدت سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔
صرف تمہارا عیسٰی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور عیسٰی کا خط پڑھ کر بہت روتی ہے وہ بہت بار خط پڑھتی ہے یہاں تک کے اسے وہ خط زبانی یاد ہو جاتا ہے ۔ نور خود کو مضبوط کرتے ہوئے عیسٰی سے ملنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ عیسٰی سے ملنے سے پہلے وہ نماز ادا کرتی ہے اور اللہ سے بہت لمبی دعا منگتی ہے کے وہ کمزور نا پڑے اور اپنے فیصلے پے ڈٹی رہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین کو ایک صاف ستھرے روم میں بٹھا دیا جاتا ہے تھوڑی ہی دیر میں وہاں عیسٰی بھی آجاتا ہے اور نور کے سامنے بیٹھ جاتا آج نور نے پہلے سے ہی اپنی چادر کو چہرے سے ہٹا لیا ہوتا ہے۔ عیسٰی خان خاموشی سے نور کو دیکھنے لگتا ہے تھوڑی دیر بعد نور بھی سر اٹھا کر عیسٰی کو دیکھتی ہے وہ حیران ہو جاتی ہے کیونکہ یہ تو وہ عیسٰی ہوتا ہی نہیں بڑی ہوئی شیوو، لال آنکھیں وہ پہلے سے کمزور لگتا ہے نور کو۔ عیسٰی خان نور کو حیران دیکھ کر مسکرا دیتا ہے اور کہتا ہے:
کیا ہوا اچھا نہیں لگ رہا؟ مجھے معلوم ہے میری شکل عجیب سی ہو گئی ہے مگر تمہیں تو خیر پہلے بھی میری شکل پسند نہیں تھی۔۔۔ تم کیسی ہو نور ؟
نور سے کچھ بولا ہی نہیں جاتا اسے لگتا ہے وہ بولے گی تو رونے لگے گی۔ عیسٰی تھوڑی دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتا ہے جب وہ نہیں بولتی تو وہ خود ہی دوبارہ بولنے لگتا ہے: چلو ٹھیک ہے تم آج خاموش رہو آج صرف میں بولتا ہوں تم میری قبر پر آکر بولنا آج میری سنو۔۔۔ نور میں روز خواب میں تمہیں دیکھتا ہوں ہم دونوں ایک ساتھ ہیں میرا دل کرتا ہے میں سوتا ہی رہوں تاکے تمہیں دیکھ سکوں میں جانتا ہوں تم مجھ سے ملنا نہیں چاہتی مگر میں بھی کیا کروں میرا دل میرے بس میں ہی نہیں ہے کیا بنایا ہے رب نے انسان کو ایک دل بھی اپنے بس میں نہیں رکھا اور ہم نادان انسان پوری دنیا کو اپنے بس میں کرنا چاہتے ہیں۔۔ مجھے نہیں معلوم میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں شاید لفظوں میں بتا ہی نہیں سکتا مگر میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کے تمہیں مجھ سے محبت نا ہو میرے مرنے کے بعد کیونکہ میں جان گیا ہوں کے محبت ہو جائے اور محبوب پاس نا ہو تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ویسے وفا اور عدیل محبت کے معاملے میں خوش نصیب نکلے ہیں دونوں ابھی بھی ایک ساتھ ہیں!
عیسٰی تھوڑی دیر کے لیئے خاموش ہوتا ہے نور اب بھی کچھ نہیں بولتی عیسٰی خاموشی سے نور کو دیکھنے لگتا ہے ۔۔ نور بھی سر اٹھا کر عیسٰی کو دیکھتی ہے اور بہت مشکل سے بس اتنا بولتی ہے:
میں اب جاوں عیسٰی خان؟
عیسٰی خان : کیا میں تمہیں تھوڑی دیر اور نہیں دیکھ سکتا؟
نورالعین ہاں میں سر ہلا دیتی ہے ۔۔۔۔۔

 

Read More:  Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 9

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: