Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Last Episode 8

0

قاتل محبت کا انجام از ماریہ اعوان – آخری قسط نمبر 8

–**–**–

نور جیسے ہی اپنے کمرے میں پہنچتی ہے تو اتنی دیر سے روکے ہوئے آنسو باہر آجاتے وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگتی ہے عیسٰی خان کے لبوں کا احساس ابھی بھی اسے محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔ ۔۔بہت دیر رو لینے کے بعد وہ وضو کر کے نفل ادا کرنے لگتی ہے ۔ دعا مانگنے کے بعد وہ لیٹ جاتی ہے تھوڑی ہی دیر میں اسے نیند آجاتی ہے ۔۔۔ وہ دیکھتی ہے کے وفا اور عادل ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں مسکرا رہے ہیں جبکے عیسٰی خان روتا ہوا ان کے قدموں میں بیٹھا ہے وفا عیسٰی کو اپنے قدموں سے اٹھاتی ہے اور نور کے پاس لے آتی ہے اور مسکرا کر بولتی ہے: نور میرے بھائی کو اتنی بڑی سزا مت دو تم بھی محبت سے مقابلا کرنے لگ گئی ہو اپنا لو محبت کو نصیحت حاصل کرو عیسٰی خان سے ورنہ تم بھی اس کی طرح بے بس ہو جاو گی ۔۔۔۔!
ایک دم نور کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ گہرے گہرے سانس لینے لگتی ہے اسے لگتا ہے جیسے وفا خان ابھی بھی اس کے سامنے کھڑی ہے وہ زور سے آنکھیں بندکر کے دوبارہ کھولتی ہے تو وہاں کوئی نہیں ہوتا۔ ۔۔ نور سوچنے لگتی ہے کے وفا نے اپنے بھائی کو معاف کر دیا مگر میں کیسے معاف کروں اس شخص کو جس نے میرا بھائی میری خوشیاں یہاں تک کے میری زندگی ہی مجھ سے چھین لی۔ ۔۔ نہیں وفا میں معاف نہیں کر سکتی میرے پاس تمہارے جیسا ظرف نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھانسی میں صرف دو دن رہ جاتے ہیں داور خان اپنی انا اور عزت کو مارتے ہوئے گل جہاں کے ساتھ نورالعین سے ملنے آتے ہیں داور خان نور کے آگے ہاتھ جوڑ کر بیٹھتے ہوئے بولتے ہیں: یہ ہاتھ کبھی کسی کے آگے نہیں جوڑے میں نے! میں ہمیشہ جوڑے ہوئے ہاتھوں کو دیکھتا تھا مگر آج احساس ہو رہا ہے کے یہ کام کتنا مشکل ہے آج میں نے اپنے رب کے آگے بھی ہاتھ جوڑے وہاں سے جواب آیا کے پہلے تم سے معافی مانگنی ہوگی۔۔۔ بیٹا عیسٰی نہیں رہا تو ہم بھی ختم ہو جائیں گے میں گزرا وقت واپس نہیں لا سکتا مگر تم کہو تو عیسٰی کی جگہ مجھے پھانسی دے دو اُسے ایسا میں نے بنایا تھا وہ تو معصوم سا بچہ تھا !
داور خان رونے لگتے ہیں گل جہاں بھی نور کے پاس آتی ییں اور بولتی ہیں: میں اپنی بیٹی کو کھو چکی ہوں اب مجھ میں اتنی طاقت نہیں کے اپنے بیٹے کو مرتا ہوا دیکھوں میں ایک ماں ہونے کے ناطے تم سے بھیک مانگتی ہوں ! یہ بول کر گل جہاں نور کے پاوں پکڑنے لگتی ہیں کے نور روتے ہوئے ان کے گلے لگ جاتی ہے۔ نور کی ماں بھی اٹھ کر ان کے پاس آتی ہیں اور نور کو کہتی ہیں۔ ۔۔ میں نے اپنے بیٹے کا خون ایک ماں کے لیئے معاف کیا نور اب فیصلہ تم پے چھوڑتی ہوں اپنے بھائی کا خون معاف کرنا چاہو تو ابھی وقت ہے!
ںور یہ سن کر کھڑی ہوتی ہے اور اپنی ماں کے گلے لگ کر رونے لگتی ہے اور کہتی ہے: ماں سے زیادہ کون اپنی اولاد سے محبت کر سکتا ہے جب آپ نے اپنا ظرف اتنا بڑا کر لیا تو میں بھی آپ ہی کی بیٹی ہوں۔اور ویسے بھی جن کے قتل کا بدلہ میں لے رہی ہوں وہ لوگ بھی اسے معاف کر چکے ہیں!
یہ بول کر نور داور خان کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے: کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے اگر میں یہ فیصلا واپس لینا چاہوں !
داور خان خوشی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے نور کے سر پے ہاتھ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں : ہاں بیٹا میں ہائی کورٹ میں اپیل کرتا ہوں فوراً بس تمہیں وہاں آکر اپنا بیان دینا ہوگا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیسٰی خان آنکھیں بند کیئے دعا مانگنے میں مصروف ہوتا ہے کے داور خان اسے خوشی سے پکارتے ہیں: عیسٰی میرے بچے تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے آج تمہیں ہائی کورٹ جانا ہے نور نے اپنا فیصلا واپس لے لیا ہے میری جان!
عیسٰی خان دعا ختم کر کے داور خان کا چہرہ سلاخوں کے پیچے سے دیکھتا ہےاور کہتا ہے: بابا آپ نے کوئی زبردستی کی ہے ان لوگوں کے ساتھ مجھے سچ بتائیں۔ ۔!
داور خان : نہیں عیسٰی خان مجھے معلوم ہو گیا ہے کے جو طاقت محبت میں ہے وہ زبردستی میں نہیں میں نے ماں نے اس سے معافی مانگی اس کے پاوں پڑے اور اس نے معاف کر دیا !
عیسٰی خان: ایسا کیسے ہو سکتا ہے بابا میں بھی تو پاوں پڑا تھا اس کے مجھے تو معاف نہیں کیا اس وقت!
داور خان : اب یقین کر لو یار آج عدالت میں ملنا اور پوچھ لینا اس سے مگر اب کوئی گڑبڑ مت کرنا اب نور نے اپنی مکمل رضامندی کے ساتھ تمہیں معاف کیا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر سے وہی ماحول ہوتا ہے سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوتے ہیں جبکے نور اور عیسٰی ایک دوسرے کے سامنے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔ جج صاحب اپنی روب دار آواز میں نور سے پوچھتے ہیں: کیا آپکو اپنا فیصلا بدلنے کے لیئے کسی نے مجبور کیا ہے ؟
نورالعین : نہیں میں اپنے پورے دل سے انہیں معاف کرتی ہوں !
جج صاحب : کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے دو دن پہلے آپ کو یہ معاف کر دینے کا نیک خیال کیسے آیا!؟
نورالعین : میں جن کے قتل کی سزا اسے دے رہی تھی جب ان لوگوں نے ہی اسے معاف کر دیا ہے تو میں کس بات کی سزا دوں!
جج صاحب : کیا مطلب اس بات کا آپ کو کیسے پتا کے انہوں نے معاف کر دیا ہے؟
ںورالعین : میرے خواب میں آئے تھے وہ دونوں بہت خوش تھے انہوں نے ہی کہا کے معاف کر دو پھر میرے پاس کوئی اپشن نہیں بچا میری ماں نے بھی معاف کر دیا اس لیئے میں بھی معاف کرتی ہوں وہ سب کچھ جو اس نے ہمارے ساتھ کیا۔ خدا بھی اسے معاف کرے۔ !
جج صاحب : خدا کا ظرف بہت ہے اس نے آپ کے معاف کرتے ہی اسے معاف کر دیا ہوگا! جب سب معافی تلافی ہو ہی گئی ہے تو فیصلا بھی سنا دیتے ہیں۔ ۔
عیسٰی خان جو اتنی دیر سے سب باتیں سن رہا ہوتا ہے وہ ایک دم بولتا ہے : ایک منٹ جج صاحب میں پہلے نور سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں آپکی اجازت ہو تو!
جج صاحب: جی ہاں پوچھیں!
عیسٰی خان: نور مجھے صرف معافی نہیں تمہارا ساتھ بھی چاہیئے بولو کیا تم مجھے قبول کرو گی؟
نورالعین: تمہارے لیئے کیا یہ کافی نہیں کے میں نے اپنی نفرت ختم کر کے تمہیں معاف کر دیا ہے ۔۔۔
عیسٰی خان : نہیں نور اگر تم یہ زندگی اپنے ساتھ کے بغیر مجھے زنگی بخش رہی ہو تو مجھے پھانسی ہی قبول ہے!
نورالعین جج صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہے: جج صاحب آپ فیصلا سنائیں ان کی اس بات کا جواب یہاں سے جانے کے بعد دونگی!
جج : ہممم مدعی کے معاف کر دینے کے بعد عدالت حکم دیتی ہے کے عیسٰی خان کو باعزت بری رہا کر دیا جائے!
سب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو کر خوشی کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور عیسٰی خان کی ہتھکڑی کھول دی جا تی ہے۔۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن بعد عیسٰی خان کو آخر کار نورالعین اکیلے میں مل جاتی ہے۔ عیسٰی خان بہت خاموشی سے نور کے کمرے میں جاتا ہےوہ اس وقت سو رہی ہوتی ہے پہلے تو عیسٰی اس کے پاس بیٹھ کر اسے جی بھر کے دیکھتا ہے پھر بہت آرام سے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے چہرے پے رکھتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے تھوڑی دیر بعد وہ کچھ سوچ کر آنکھیں کھولتا ہے اور مسکراتا ہوا نور کی گردن سے بال ہٹاتا ہے اور اسکے تِلوں کو چھونے لگتا ہے ۔ نور کو جیسے ہی احساس ہوتا ہے کے اس کے پاس کوئی ہے تو وہ فوراً آنکھیں کھول دیتی ہے عیسٰی خان کو اپنے اتنے پاس دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ جاتی ہے اور دور ہو کر اپنا دوپٹہ خود پے پھیلا کے لے لیتی ہے ۔۔۔۔ عیسٰی خان خاموشی سےنور کو دیکھتا رہتا ہے نور اسکے اسطرح دیکھنے سے تنگ آکر بولتی ہے: کیا مسئلہ ہے میرے روم میں کیوں آئے ہو؟
عیسٰی خان مسکراتے ہوئے کہتا ہے: ویسے یہ کمرہ ہی نہیں یہ گھر بھی میرا ہے مگر مجھے ان سب سے کوئی غرض نہیں میں یہ چاہتا ہوں کے آپ میری ہو جائیں ؟
نورالعین : میں نے تمہیں معاف کر دیا یہ ہی احسان مانو اب اگر دوبارہ سے بدماشی کی تو میں اپنا فیصلہ بدل لوں گی اور جج کو کہوں گی کے اسے پھانسی ہی دے دیں!
عیسٰی خان زور سے ہنستے ہوئے کہتا ہے: یہ عدالت آپ کے ابو جی کی نہیں ہے جب دل کیا فیصلہ بدل دیا اور جہاں تک بدماشی کی بات ہے وہ تو اب تم کرنے لگی ہو وہ بھی بلا وجہ۔۔۔ جب بندہ بدماش تھا تب تو پھر بھی مان جاتی تھی اب جب سے شریف ہوا ہوں میڈم آپ کچھ زیادہ ہی نخرے دکھانے لگ گئی ہیں!
نور مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہتی ہے: ہاں تو اتنے عرصے میں نے تمہارے ساتھ رہ کر بدماشی ہی سیکھی ہے!
عیسٰی خان تیزی سے نور کے پاس آکر اس کے دونوں بازوں پکڑ کر ایک جٹھکے سے اپنی قریب کرتا ہے کہتا ہے: بس میری جان بہت سن لی تمہاری سیدی طرح بتاو کب لاوں بارات ورنہ میں ایسے ہی پاس آگیا تو کہو گی ریپ کیا ہے !
نورالعین غصے سے اپنے ہاتھ چھڑواتی ہے اور عیسٰی خان کو خود سے دور کرتی ہوئی بولتی ہے: تم نہیں بدلو گے ٹھیک ہے میری ایک شرط ہے!
عیسٰی خان اپنی آنکھوں کو تھوڑا چھوٹا کر کے بولتا ہے: اووو تو اب آپ شرطیں رکھیں گی بہت خوب ۔ خیر تم کہو تو تمہارے قدموں میں اہنا سر رکھ دوں!
نورالعین: جی نہیں یہ فضول کا سر مجھے نہیں چاہیئے مجھ سے وعدہ کرو خان ولا میں ہم دونوں رہیں گے اور شراب خانے کی جگہ درس گاہ بناو گے وفا اور عدیل کے نام سے۔۔۔اور ہم دونوں روز اُن دونوں کی قبر پر دیا جلائیں گے!
عیسٰی خان نور کے پاس آتا ہے اور ہاتھ آگے کرتا ہوئے بولتا ہے: تم نا بھی کہتی تو میں نے یہ سب کرنا مگر اچھا ہے ہم لوگ مل کر کریں گے۔۔۔ ارے اب ہاتھ تو تھام لو وعدہ نہیں لینا؟
نورالعین ایک ادا سے بولتی ہے : نہیں مجھے تمہاری زبان پے ہی یقین ہے
عیسٰی خان نور کو پکڑ کے اپنے قریب کرتے ہوئے کہتا ہے: اُففف اس ادا پے تو ہم مر ہی نا جائیں۔۔
نورالعین شرماتے ہوئے خود کو عیسی خان سے چھوڑوانے کی کوشیش کرتی ہے جب وہ نہیں چھوڑتا تو بے بس ہو کر کہتی ہے: پلیز عیسٰی خان چھوڑو اب یہ سب شادی کے بعد بہت مزے کر لیئے تم نے!
عیسٰی خان مسکراتے ہوئے نور کو آرام سے چھوڑتا ہوا بولتا ہے: مزے نظر آ رہے ہیں اور جو اتنا تڑپایا ہے مجھے وہ سب نہیں یاد۔۔۔ بس آج ہی ہمارا نکاح ہو گا تیار رہنا!
نورالعین گھبرا کر بولتی ہے: کیا ہو گیا آج کیوں صبر کرو اتنی جلدی کیسے ہو سکتا ہے سب!۔
عیسٰی خان: سب ہو جائے گا میری جان یہ مجھ پے چھوڑ دو کیوںکہ اب مجھسے اور صبر نہیں ہوتا۔۔۔۔ so be ready my love
نور کی بات سنے بغیر ہی جلدی سے باہر چلا جاتا ہے۔ ۔۔!
_______،_،_______________________
عیسٰی خان واقعی اتنے کم وقت میں سب تیاری کر لیتا ہے نور کی سب چیزیں اپنی پسند کی لیتا ہے۔۔ نور اس کے دیئے ہوئے لباس میں خود کو آئینے میں دیکھتی ہے تو دیکھتی رہ جاتی ہے خوبصورت تو وہ تھی مگر عیسٰی خان کی محبت کا عکس آج اس کے چہرے پے بھی نظر آ رہا تھا وہ اپنے آپ میں ہی گم ہوتی ہے کے عیسٰی خان خاموشی سے اس کے پیچے کھڑا ہو جاتا ہے جب کافی دیر تک نور کو عیسی کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا تو وہ خود اسے کندھوں سے تھام کر اپنی طرف کرتا ہے نور عیسٰی کو سامنے دیکھ کر بے اختیار ہی اس کے سینے میں چھپ جاتی ہے عیسٰی خان بھی اسے زور سے اپنے گلے لگا لیتا ہے نور کو یہ سب خواب لگتا ہے جیسے اسے ہوش آتا ہے تو فوراً عیسٰی سے دور ہو جاتی ہے عیسٰی اس کی اس حرکت پرمسکرا کر بولتا ہے: خود ہی پاس آتی ہو اور خود ہی دور کر دیتی ہو آخر یہ ماجرہ کیا ہے؟
نورالعین : نہیں وہ میں سمجھی شاید آپ نہیں ہیں !
عیسٰی اس کے بہت پاس آکر حیران ہوتے ہوئے پوچھتا ہے: ہہہہییییں۔ ۔۔۔۔ تو پھر تم کیا سمجھی کے اس وقت کون ہو گا؟
نورالعین : ارے نہیں میرا وہ مطلب نہیں میں سمجھی کے میں خواب دیکھ رہی ہوں!
عیسی خان زور دے ہنستے ہوئے نور اپنی بانہوں میں لیتا ہوا بیڈ پر لاتا ہے اور اس کے تِلوں کو ہاتھ لگاتا ہوا بولتا ہے: یہ حقیقت ہے میری جان اب مجھے اجازت دو کے میں تمہیں بتا سکوں کے تم کتنی پیاری لگ رہی ہو۔ ۔
یہ بول کر عیسٰی خان نور پے جھکنے لگتا ہے کے نور اسے روکتے ہوئے کہتی ہے: روکو عیسٰی پہلے ہم مل کر نماز ادا کرتےہیں اللہ سے اپنے سب گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور ایک اچھی اور صاف زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ ۔
عیسٰی خان گہرا سانس لے کر نور سے دور ہوتا ہے اور کہتا ہے: چلو پھر آو مل کر پڑھتے ہیں۔ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان ولا میں سب موجود ہوتےنورالعین کی فیملی عیسٰی کے ماں باپ اور ہارون خان۔سب ایک ساتھ ناشتا کر رہے ہوتے ہیں عیسٰی خان کی نظریں نور کا ہی طواف کر رہی ہوتی ہیں ۔ جب سب ناشتا کر لیتے ہیں تو عیسی خان سب کو مخاطب کر کے کہتا ہے آج وفا اور عادل کے لیئے میں نے قرآن خانی کا سوچا ہے آج شام کو انشئااللہ ! سب یہ سن کر دکھ سے مسکرا دیتے ہیں۔ ہارون خان ایک گہرا سانس لے کر عیسی سے بولتا ہے : میرے خیال سے ہمیں ان کی قبر پر دعا پڑھنے کے لیئے جانا چاہیئے۔! عیسی خان : ٹھیک بول رہے ہو کیوں نور چلیں ؟
وہ سب مل کر خان ولا کے پیچھلی طرف جاتے ہیں جہاں دو قبریں خاموش ہوتی ہیں!
سب دعا مانگتے ہیں ہارون خان کی دعا سب سے لمبی ہوتی ہے ۔ نور قبر کے پاس بیٹھ کر رونے لگتی ہے ۔ عیسی خان ہارون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہتاہے: تُو نے بہت ساتھ دیا ہے میرا میں تیرا یہ احسان کبھی نہیں اتار سکتا آخر تو نے ہی مجھے احساس دلایا تھا کے مجھے محبت ہے!
ہارون خان دکھی لہجے میں بولتا ہے: ہاں میں نے دیکھ لیا تھا تیری آنکھوں میں اس لیئے میں نے تیرا ساتھ دیا!
عیسی خان ہسنتے ہوئے ہارون سے بولتا ہے: ویسے تجھے بڑی پہچان ہے محبت کی!
ہارون خان: ہاں یار کیوں کے ہم بھی ایک ناکام عاشق ہیں!
عیسی خان حیران ہوتے ہوئے پوچھتا ہے: اوئے کون ہے وہ اور ناکام کیوں تو نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟
ہارون خان عیسی خان کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹاتے ہوئے بولتا ہے: وہ ہی جس کو تو نے قتل کر دیا تھا!
یہ بول کر ہارون خان چلا جاتا ہے اور عیسی خان حیران رہ جاتاہے۔ اور دور کھڑی محبت مسکرا دیتی ہے!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: