Aiman Raza Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Urdu Novels

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza – Episode 2

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza
Written by Peerzada M Mohin

راہ مجازی سے عشقِ حقیقی تک از ایمن رضا – قسط نمبر 2

–**–**–

کیا سوچ رہی ہو کریسٹینا ؟
ایشمل نے یونی گراؤنڈ میں اپنی بیسٹی کو اکیلا بیٹھا دیکھا تو فوراً دھپ سے اسکے پاس جا بیٹھی۔۔۔
جس پر کریسٹینا ہڑبڑا کر رہ گئی۔۔۔
یار بندہ انسانوں کی طرح آتا ہے کریسٹینا نے خفگی سے کہا۔۔۔۔
میرا سوال اب بھی وہیں کا وہیں ہے کیا سوچ رہی تھی کیا پھر کسی نے تمہیں کرسچٹن ہونے کا تانا دیا۔۔۔
کریسٹینا آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھتی رہ گئی یہی تو اسکی بہترین دوست تھی جو مزہب کے فرق کو بیچ لائے بغیر اس سے سچا پیار کرتی تھی اور اس سے بدتمیزی کرنے والے ہر بندے کو اسکی نانی یاد دلا دیتی تھی۔۔۔
ایشمل کیا کریسچٹن ہونا میرا گناہ ہے؟کیا میں نے خدا کو کہا تھا مجھے اس مزہب میں پیدا کریں؟تو پھر لوگ مجھے باتیں کیوں سناتے ہیں۔۔۔۔
اسکی ایسی باتیں سن کر ایشمل کا خون کھول اٹھا۔۔۔
نہیں میری جان ایسی کوئی بات نہیں یہ تو اج کل کے لوگوں کا خناس ہے تم کیوں انکی باتیں دل پر لیتی ہو ۔
جبکہ میں جانتی ہوں تمہاری روح کتنی پاک ہے کبھی تم نے عریاں کپڑے نہیں پہنے کبھی برے کام نہیں کیے جو اج کل کی لڑکیاں کرتی ہیں۔۔۔
تو پھر خود کو برا کیوں سمجھتی ہو آئندہ میں نے تمہیں ایسی باتیں کرتے دیکھا تو پھر دیکھنا ایشمل نے اسکو وارن کرتے کہا تو وہ مسکرا کر رہ گئی۔۔۔
تم خدا کا سب سے بہترین تحفہ ہو میرے لیے اسنے سچے دل سے کہا۔۔۔
جس پر ایشمل نے اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔۔۔
*****************
سیال شاہ آج اپنے فلیٹ پر آیا تھا جو اسکو غنڈوں کے سردار پاشا نے غنڈہ گردی کی وجہ سے الاٹ کر رکھا تھا جہاں پر وہ اپنی عیاشیاں کرتا تھا۔۔۔
اسے آئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب فلیٹ کا دروازہ ناک ہوا۔اسنے دروازہ کھولا تو سامنے ریا بےباک لباس میں کھڑی آنکھوں میں خماری لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ہیلو بیبی۔۔۔۔کیسے ہو۔۔۔
سیال نے اوپر سے نیچے تک ایک بےباک نگاہ اسکے نیم عریاں وجود پر ڈالی اور اسے تیزی سے اندر کھینچ لیا۔
"میں ٹھیک تو نہیں تھا پر اب تمہیں دیکھتے ہی ہو گیا ہوں۔"
اسنے شیطانی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
ریا خوشی خوشی اسکی باہوں میں آ سمائی اور وہ اسے لیے بیڈ پر چلا گیا جہاں وہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر سکتا۔
لائیٹ اوف کر کے وہ دونوں بےحیائی کی تمام حدیں پار کرنے لگے۔
ایسا ہی تھا وہ لڑکی سے اپنے مطلب پورے کرنے والا اور بعد میں انہیں دو کوڑی کا کر کے پھینکنے والا۔
****************
اظہر کیفے میں داخل ہوا تو ادھر ادھر نگاہ دوڑائی جب ایک جگہ اسکی نگاہ اٹکی۔آگے کا منظر اسکا خون کھولا گیا۔۔۔
جہاں رامین رونی کے ساتھ بیٹھی باتیں بھگار رہی تھی۔جو اسے ہوس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
اظہر تن فن کرتا اسکے سر پر جا پہنچا۔
رامین ۔۔۔اسکی آواز میں تپش محسوس کر کے رامین بوکھلا کر رہ گئی۔
اظہر تم۔۔۔۔
ہاں میں اسکے ساتھ کیا کر رہی ہو تم بتانا پسند کرو گی۔۔۔اسنے کڑے تیوروں سے دریافت کیا۔۔۔
اظہر رونی میرا دوست ہے تم ایسے بات نہیں کر سکتے۔۔۔
رامین نے غصے سے کہا۔
رامین ۔۔۔اسنے غصے سے کہا جبکہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کیفے سے باہر لے جانے لگا۔۔۔
رونی خون آشام نظروں سے گھور کر رہ گیا جو اسکا شکار چھین کر لے گیا تھا۔
ہاہر لاتے ہی اظہر نے اسے جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔۔
اظہر یہ کیا بدتمیزی ہے تم مجھ سے ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔۔۔۔
رامین کے لہجے میں بغاوت تھی۔
رامین جب ہر کسی کو پتا ہے اسکی شہرت اچھی نہیں تو پھر تم کیوں اسکے پاس گئی۔۔۔
کیونکہ اسکے پاس سٹیٹس ہے پیسہ ہے ۔۔۔۔
رامین کی بات پر وہ شاکڈ رہ گیا ۔۔۔
رامین مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔
اظہر نے افسوس سے کہا۔۔۔
میری آرمی ٹریننگ بس کمپلیٹ ہونے والی ہے پھر میری جاب کنفرم ہو جائے گی تم صبر تو کرو۔اتنا یقین رکھو مجھ پر کے تمہیں اپنی محنت کا کھلاؤں گا۔۔۔۔
محنت محنت محنت مائے فٹ ۔۔۔کتنا کما لو گے پانچ سال بھی لگے تو بھی رونی جتنا سٹیٹس اس جتنے پیسے نہیں کما پاؤ گے۔
آئی ایم فیڈ اپ ود دس۔۔۔۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں کیا میری محبت تمہارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔
اسنے دکھی لہجے میں کہا اسکی آنکوں میں شکست صاف نظر آ رہی تھی۔
محبت سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا باتیں کرنا اسان ہے عمل کرنا مشکل میں رونی کے ساتھ بہت خوش ہوں آئندہ پلیز میرے قریب بھی مت آنا۔۔۔۔
اسنے نخوت سے کہا۔۔۔۔
جبکہ اظہر اسکا لہجہ دیکھ کر رہ گیا کتنی سفاکیت سے وہ اسے پرایا کر گئی تھی اور اسکی محبت کو دو کوڑی کا کر کہ رکھ دیا تھا۔۔۔۔
جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہی وہ اچھا لڑکا نہیں مگر ابھی تمہاری آنکھوں پر دولت کی پٹی بندھی ہے جلد ہی یہ اتر جائے گی تب تم پچھتاؤ گی اور تب میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا ۔۔۔۔
اسنے زخمی لہجے میں کہا تو رامین کے دل کو کچھ ہوا آخر اسنے بھی تو پیار کیا تھا اس سے چار سال کا ساتھ تھا انکا یہ تو رونی بیچ میں آ گیا اور وہ اسکے سٹیٹس سے مرعوب ہو گئی ورنہ اظہر اسکے لیے بہترین ہمسفر تھا۔۔۔۔
اظہر نے ایک آخری بار اسے اپنی نظروں میں بسایا اور چلا گیا کبھی نا واپس آنے کے لیے۔۔۔
رامین خالی نظروں سے اس راستے کو دیکھنے لگی جہاں سے وہ گیا تھا۔
*****************
وہ چاروں اوباش دوست یونی کے گراؤنڈ میں بیٹھے اپنے پسندیدہ مشغلے مطلب لڑکیوں پر کمنٹ پاس کر رہے تھے جب سیال خان کی نظر یونی کے اندر داخل ہوتی ایشمل خان پر پڑی۔۔۔
خوبصورت کندھے تک آتے بھورے بال ،ستم ڈھاتے سبز نین کٹورے اور اوپر قیامت جیسے شگرفی لب اسکی ہستی پل میں سیال خانزادہ کے ہواس معطل کر گئی تھی۔
اور سینے پر سلیقے سے پھیلایا دپٹہ جو اسے سب سے منفرد بناتا تھا سیال خان کی نظروں میں۔۔۔۔
وہ اسکا ایک ہی نظر میں جائزہ لیتے اٹھا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اسکے قریب سے گزرتی وہ ایک ہی جست میں اسکے اگے ایا۔۔۔
اسکی شکل دیکھتے ہی ایشمل کے منہ پر بارہ بج گئے۔۔۔
لو ہو گیا دن کا ستیاناس ایشمل یہ کس کی منحوس شکل دیکھ لی۔۔
اسکی بڑبڑاہٹ سیال نے سن لی تھی جس پر وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
یہ لڑکی خود کو سمجھتی کیا تھی۔۔۔
وہ اسکی دوسری سائڈ سے گزرنے لگی تو وہ بیچ میں حائل ہوا۔
مسئلہ کیا ہے تمہیں ۔۔۔اسنے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔۔۔
معافی ۔۔۔یک لفظی جواب نے اسے الجھن میں ڈال دیا۔۔۔۔
لڑکی جو کل تم نے مجھ سے زبان درازی کی اسکی معافی مانگو میرے سے وہ بھی ابھی۔۔۔
اسکے حکمیہ لہجے پر ایشمل کی رنگت غصے سے سرخ پڑنے لگی۔۔۔
معافی مانگتی ہے میری جوتی ہو کیا تم ایک غنڈے جسے نا پہنے کا ڈھنگ ہے نا بات کرنے کا طریقہ۔۔۔۔
ایشمل کے تحقیر آمیز لہجے پر اسکی رنگیں تن گئیں ۔۔۔کہاں سنی تھی اسنے کسی کی اتنی بکواس یہ لڑکی اسکے سر پر چڑھتی جا رہی تھی۔
ایشمل نے اور اسکے منہ لگنا بہتر نا سمجھا ویسے بھی لوگوں کا مجمہ لگنا شروع ہو چکا تھا وہ پلٹی اس سے پہلے کہ وہ چلتی اسکی گردن کو جھٹکا لگا ۔
اسنے پلٹ کر دیکھا تو سیال شاہ نے اسکی کندھوں پر ڈالی گئی چادر کے پلؤو پر پاؤں رکھا ہوا تھا جسکے باعث اسکی گردن کو جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
اور اب وہ تمسخر اڑاتی نظروں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
اپنی چادر یوں اسکے پاؤں کے نیچے دیکھ ایشمل کا خون کھول اٹھا۔۔۔۔یک دم اسے زلت کا احساس ہوا۔۔۔اسنے آؤ دیکھا نا تاؤ ایک کرارا تھپڑ سیال شاہ کے منہ پر جھڑ دیا ۔۔۔۔
ارد گرد کھڑے سبھی لوگوں کے منہ کھل گئے کئی لڑکیوں کا ہاتھ منہ پر گیا۔۔۔۔
کریسٹینا کو جب خبر ہوئی تو وہ دوڑی چلی آئی اور آگے کے منظر نے اسے ڈرا دیا تھا وہ اگے بڑھ کر ایشمل کو کھینچ کر لے جانے لگی۔۔۔
کسی بھی لڑکی کی عزت پر پاؤں رکھنے سے پہلے یہ تھپڑ یاد کر لینا تاکہ آئندہ ایسی حرکت کرنے کی جرات نا ہو وہ اور لڑکیاں ہوں گی جو چپ چاپ تمہارے اگے دب جاتی ہوں گی۔۔۔
مگر میں اسنے اپنے سینے پر دستک دیتے ہوئے کہا۔۔۔
ایشمل خانزادی ہوں اپنی عزت کی حفاظت کرنا مجھے اچھی طرح آتا ہے اگر آئندہ آس پاس بھی بھٹکے تو منہ توڑ دوں گی اسنے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔۔
جبکہ سیال خان کو تو ابھی تک یہی یقین نہیں آیا تھا کہ ایک چھوٹی سے لڑکی اسکی عزت کو بھرے مجمے میں دو کوڑی کا کر گئی ہے۔۔۔
ہوش میں آتے ہی وہ اسکے پیچھے جانے کو لپکا مگر اسکے دوستوں نے اسے جھپٹ لیا۔۔۔
خانزادے یہ صحیح وقت نہیں۔۔۔بشیر نے اسے حوصلہ دیا وہ الگ بات تھی کہ وہ کسی کے قابو نہیں آ رہا تھا۔۔۔
میں اسے نہیں چھوڑوں گا اسکی سزا اسے مل کر رہے گی بھرے مجمے میں مجھے بےعزت کیا نا تو دیکھنا اسکی عزت کیسے دو کوڑی کی کرتا۔۔۔۔اسنے پراسرار لہجے میں کہا۔۔۔
کیا کرنے والا ہے تو۔۔۔۔یہ ویسی لڑکی نہیں ہے۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تبھی تو اسے ایسی جگہ مات دوں گا جہاں اسنے سوچا بھی نا ہو گا۔۔۔۔
اب ہو گا کھیل شروع۔۔۔
تیار ہو جاؤ ایشمل خان منہ کے بل گرنے کے لیے۔۔۔اسنے سرد مسکراہٹ لیے کہا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: