Aiman Raza Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Urdu Novels

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza – Episode 3

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza
Written by Peerzada M Mohin

راہ مجازی سے عشقِ حقیقی تک از ایمن رضا – قسط نمبر 3

–**–**–

اس واقعے کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا اور کریسٹینا کیفے میں بیٹھی ایشمل کا سر کھانے میں موجود تھی۔۔۔۔۔
میری جان ایشمل میری بات کو سمجھو یہ اتنا آسان نہیں تم نے اس لڑکے کو تھپڑ مارا ہے وہ بھی بھرے مجمے میں کون برداشت کرتا ہے آئندہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گی وعدہ کرو مجھ سے۔۔۔۔۔
کریسٹنا نے اسے ہوش کے ناخن دیے۔۔۔جو اسکی باتوں پر کان نا دھر رہی تھی۔۔۔کیوں کیوں نا کہوں اسے کچھ اگر آئندہ اسنے ایسے کچھ کیا تو اس دفعہ تو تھپڑ مارا تھا اگلی دفعہ سرِ بازار جوتے سے خدمت کروں گی۔۔۔۔
کریسٹینا نے اپنا ماتھا پیٹا ۔۔۔۔
ایشمل تمہیں زرا احساس ہے وہ کتنا خطرناک بندہ ہے لوگوں سے معلوم ہوا ہے جیل سے بھی ہو کے آیا ہے اگر کل کلاں کو اسنے تمہیں کچھ کر دیا یا تمہاری بہن کو تو پھر تم کیا کرو گی ایک ہی تو بہن ہے تمہاری۔۔۔۔۔
اسکی بات دو منٹ کو ایشمل کو بھی ہولا گئی ۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی سیال خان اپنے گینگ کے ساتھ اسے اپنی طرف اتا نظر ایا۔۔۔۔
کریسٹینا نے اسکی آنکھوں کا مرکز دیکھا تو خوف سے کھڑی ہو گئی جبکہ ایشمل سیال کی آنکھوں میں گھورتی بیٹھی رہی۔۔۔
سیال خان کو اسکا یہ انداز بھایا تھا وہ ایک کرسی گھسیٹ کے اسکے سامنے بیٹھا جبکہ اسکے دوست کھڑے رہے۔۔۔۔
میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
اسنے بولنے کے لیے خود کو بڑی مشکل سے تیار کیا۔۔۔۔
وہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ I I am s s sorry…
اسکے بےربط الفاظوں نے جہاں اسکے دوستوں کے چودہ طبک روشن کیے وہیں ایشمل اور کریسٹینا اسے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگیں۔۔۔۔یہی حال انکے ارد گرد سٹوڈنٹس کا بھی تھا۔۔۔
اسنے ان سب کو یوں سٹل بیٹھا دیکھا تو ایشمل کے آگے چٹکی بجائی جس سے وہ ہوش میں آئی۔۔۔۔
کیا کہا تم نے؟؟؟ایشمل نے حیرت پر قابو پاتے کہا۔۔۔
یار سوری نا غلطی ہو گئی مجھ سے احساس ہو گیا ہے مجھے۔۔۔۔اسنے خفت زدہ چہرے سے سر کھجاتے کہا تو اس کے دوست غش کہا کر گرنے والے ہو گئے۔۔۔
او تیری یار یہ سورج کہاں سے نکلا آج ۔۔۔۔بشیر احتشام کے کان میں پھسپھسایا۔۔۔
اور میں تمہاری بات پر یقین کیونکر کروں کیا پتا تم صرف اوپر اوپر سے ہی معافی مانگ رہے ہو اندر سے مجھ سے بدلہ لینے کا ارادہ رکھتے ہو۔۔۔۔
ایشمل نے ایک آئیبرو اچکاتے کہا۔۔۔۔
سیال دل ہی دل میں اسکی زہانت کا قائل ہوا۔۔یہ لڑکی آسانی سے پٹنے والی نہیں تھی۔
تم ایک بار آزما کر تو دیکھو دوستی میں مجھ سے کھرا کسی کو نہیں پاؤ گی اسنے ایشمل کے آگے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے کہا۔۔۔
اسنے چہرے پر جہاں بھر کی معصومیت سجاتے کہا۔۔۔۔۔
ایشمل اسکا چہرہ دیکھ کے رہ گئی۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے میں نے تمہیں معاف کیا لیکن میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی یہ کہتے ہوئے وہ اٹھی اور کریسٹینا کو چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
سیال خان اپنا غصہ ضبط کر کے رہ گیا یہ لڑکی اسے تگنی کا ناچ نچانے والی تھی یہ وہ جان گیا تھا۔۔۔۔
مگر اسنے بھی ارادہ کر لیا تھا اور ویسے بھی جو ارادہ وہ کر لیتا اس سے پیچھے ہٹنا تو اسنے بھی کبھی نہیں سیکھا تھا افٹر آل وہ سیال خانزادہ تھا۔ضد تو اسکے خون میں شامل تھی۔۔۔
اس سے پہلے کے ایشمل جاتی وہ راہ میں حائل ہوا۔۔۔۔
تو کیا میں دوستی پکی سمجھوں اسنے آنکھیں پٹپٹاتے کہا۔۔۔۔
ایشمل نے اسکے ایسا کرنے پر ایک بیٹ مس کی ایک سحر تھا اسکی اوشن بلیو آئیز میں۔۔۔
ایشمل نے سر جھٹکا اور آگے بڑھی ۔۔۔
سیال خانزادہ اپنی کامیابی کے پہلے قدم پر مسکرایا۔۔۔۔
اب تو جہاں ایشمل جاتی وہیں سیال خانزادہ بھی پایا جاتا اسنے ایشمل کو زچ کر کے رکھ دیا تھا اب تو وہ لوگ یونی کی نظروں میں بھی آنے لگے تھے۔
آخر کار ایشمل نے اسکی دوستی قبول کر ہی لی تھی کیونکہ اب وہ کوئی ڈرامہ نہیں چاہتی تھی ویسے بھی سیال نے ایشمل پر اچھے انسان ہونے کا بھرم حاصل کر ہی لیا تھا۔۔۔
اب آگے کا لاحِ عمل سوچ کر سیال کی آنکھوں میں شیطانیت بھری چمک ابھری۔۔۔
*****************
رونی نے رامین کو اپنی محبت کے جال میں پھانس ہی لیا تھا۔آج بھی وہ اسکے لیے گفٹ لایا تھا۔۔۔
یہ کیا ہے رامین نے پوچھا ۔۔۔۔
یہ میری بیوٹیفل سی سویٹ ہارٹ کے لیے گفٹ ہے جلدی سے لھولو اور بتاؤ کیسا لگا۔۔
اسکے اتنے پیار پر رامین بہت خوش ہوئی ۔۔۔
اسنے جلدی سے تحفہ لیا اور کھولا تو چمچماتا ہوا iphone 12 دیکھ کر اسے کچھ لمحے یقین نا آیا۔۔۔
کیسا لگا رونی نے اسکے چہرے پر چمک دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ لیے پوچھا۔۔۔۔
رونی یہ یہ تو بہت مہنگا ہے میں نہیں لے سکتی یہ۔۔۔
رامین نے اتنا مہنگا تحفہ لینا مناسب نا سمجھا۔۔۔۔۔
یار اس طرح کر کے تم میری محبت کو تکلیف پہنچا رہی ہو یہ میں نے کتنی خوشی سے لیا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔
رونی نے مصنوعی خفگی سے کہا تو رامین کو مانتے ہی بنی۔۔۔
رامین iphone کا نیا ماڈل پاکر بہت خوش تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ عارضی خوشی اسکی دائمی خوشی کو چھین لے گی۔۔۔۔
****************
یار ایسے تو نہیں کرو نا دری میں اکیلے گھر کیسے آؤں گی ۔۔۔ایشمل نے فون پر جھنجلاتے ہوئے دراب کو کہا جو اسے فون پر اپنی بایک خراب ہونے کے بارے میں بتا رہا تھا جسکی وجہ سے ایشمل سخت جھنجلاہٹ کا شکار تھی۔
کوئی اور بھی تھا جسنے اسکی باتیں سنی تھیں اور اسے موقع مل چکا تھا۔
اسے اکیلے جانا سخت زہر لگتا تھا اور آج تو سٹرایک بھی تھی کوئی ٹیکسی بھی مشکل سے ہی ملتی وہ یونی سے تھوڑا ہی آگے گئی تھی سبھی رستے سنسان پڑے تھے۔۔۔
دل ہی دل میں اسنے شدت سے ٹیکسی کے آنے کی دعا کی۔۔۔
او چھمک چھلو کہاں چلی۔۔۔۔
اپنے قریب سے آتی آواز پر وہ ڈر کر اچھلی۔۔۔
پیچھے دیکھا تو ایک نہیں بلکہ چار چار اوباش غنڈوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔۔
اسکی جان ہوا ہونے لگی یہاں تو کوئی تھا بھی نہیں جس سے وہ مدد مانگتی۔۔
ڈر کے مارے اسکی آنکھوں میں آنسو آ چکے تھے۔۔۔ارے روتی کیوں ہو باربی ڈال زرا نزدیک تو آؤ۔۔
ان میں سے ایک لڑکے نے خباست سے کہا جبکہ باقی سب بھی اسے ہوس بھری نظروں سے ہنستے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی ان میں سے ایک نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے سنسان گوشے میں گھسیٹنے لگا۔۔۔
نہیں نہیں خدا کے لیے چھوڑو مجھے رحم کرو مجھ پر۔۔۔ایشمل کو لگا آج اسکی جان نکل جائے گی ۔۔۔
اسنے شدت سے اللّٰہ کو یاد کیا ۔۔۔۔
اس لڑکے نے جیسے ہی اسکا دپٹہ کھینچا ۔۔۔۔۔ایشمل نے آنکھیں میچ کر شدت سے اپنے مرنے کی دعا کی۔۔۔
آآآآآہہہہ ۔۔۔۔
ایک کراہ کی آواز پر اسنے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تو آگے کا منظر بدل چکا تھا۔۔۔
تم حیرت سے فقت اسکی منہ سے یہی نکلا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: