Aiman Raza Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Urdu Novels

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza – Episode 4

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

راہ مجازی سے عشقِ حقیقی تک از ایمن رضا – قسط نمبر 4

–**–**–

اس نے کم از کم سیال خانزادہ کے یہاں ہونے کی امید نہیں کی تھی جو بری طرح ان غنڈوں کو پیٹ رہا تھا۔ایشمل نے اپنی عزت بچ جانے پر دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا اور سیال کو دیکھا جو ان چاروں پر بھاری پڑ رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہ انکی اچھی خاصی درگت بنا چکا تھا اب وہ چاروں گھٹنوں پر بیٹھے معافی طلب کر رہے تھے سیال کو رکتے نا دیکھ ایشمل نے ہی آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔۔۔۔
خانزادہ رک جاؤ پلیز انہیں جانے دو ایشمل نے انکی ابتر حالت دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
سیال اپنی پہلی فتح پر مسکرایا اور پھر چہرے پر سنجيدگی طاری کرتا ایشمل کی طرف پلٹا۔۔۔
تم کہتی ہو تو چھوڑ دیتا ہوں ورنہ انکو میں۔۔۔۔
اسنے غصے سے پھر انکی طرف بڑھنا چاہا تو ایشمل نے اسے ایسا کرنے سے روکا وہ چاروں بھی اپنی جان بچا کر بھاگے۔۔۔
تم یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو ۔۔۔اسنے مصنوعی حیرانگی سے پوچھا جبکہ وہ یونی میں ہی اسکی باتیں سن چکا تھا۔۔۔۔
وہ دری کی بایک خراب ہو گئی تو مجھے خود جانا پڑا۔۔۔
دری کون ہے اسنے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا۔۔۔
او سوری وہ میرا کزن ہے دراب میں اسے دری ہی بلاتی ہوں۔۔۔۔
جو بھی تھا سیال کو اس دری سے رقابت محسوس ہوئی تھی ۔اسے اس اندیکھے شخص کا زکر بھایا نہیں تھا۔
آؤ میں تمہیں ڈراپ کر دوں۔۔۔۔
ایشمل نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
کیونکہ اب وہ اکیلی جا کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔تبھی آرام سے اسکے ساتھ جانے پر راضی ہو گئی۔۔لیکن یہ بات تو طے تھی اب ایشمل کا دل اسکا نہیں رہا تھا بلکہ سیال خانزادہ کا ہو گیا تھا جسکا ایشمل کو بھی اندازہ نا ہوا۔۔۔
تھینکس۔۔۔
کس لیے اسنے حیرت سے پوچھا۔۔۔
میری مدد کرنے کے لیے ایشمل نے تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھتے کہا۔۔۔
نو نیڈ اف تھینکس اینی تھنگ فار یو۔۔۔۔
اسکے والہانا انداز میں کہنے پر ایشمل سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔۔اور سیال وہ تو سر شار تھا کیونکہ بازی اب اسکے ہاتھ میں آنے والی تھی۔۔
وہ غنڈے بھی سیال کے ہی بھیجے ہوئے تھے اور ویسے بھی سیال ایشمل کی نظروں میں اپنے لیے وہ مقام دیکھ چکا تھا جو اسے چاہئیے تھا اب تو بس پلین پر عمل کرنا باقی تھا۔
****************
رامین آج بہت خوش تھی کیونکہ آج رونی نے اسے اپنے گھر بلایا تھا کیونکہ وہ وہاں اسے سرپرائز دینے والا تھا اسکی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اسے پرپوز کرنے والا ہے۔وہ آج خوب دل لگا کر تیار ہوئی تھی آج اسکی بڑی بہن نے بھی یونی نہیں جانا تھا تو وہ آسانی سے رونی کے گھر جا سکتی تھی اندر سے وہ ڈر بھی رہی تھی کہ کسی کو پتا نا چل جائے۔مگر رونی نے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود کر دی تھی وہ خوشی میں یہ بھل بیٹھی تھی کوئی نہیں تو اللّٰہ تو ہے نا جو اسے دیکھ رہا ہے جس سے کچھ پوشیدہ نہیں مگر خوشی نے اسے یہ دیکھنے کہاں دیا تھا اور یہی اسکی سب سے بڑی بھول تھی۔۔۔
*****************
ایشمل رات بھر کروٹوں پر کروٹیں بدلتی رہی مگر اسے نیند نا آئی سیال کا خیال اسکے دل و دماغ سے جا ہی نہیں رہا تھا لاکھ کوششوں کو باوجود وہ اسی کو سوچی جا رہی تھی اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اسے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔۔۔وہ یک ٹک چھت کو دیکھ رہی تھی تبھی اچانک اسکا فون بجا۔۔۔
مولانی کالنگ دیکھتے ہی وہ کھل اٹھی۔۔۔
تمہیں کیسے پتا میں تمہیں یاد کر رہی ہوں ۔۔ایشمل نے چہک کر پوچھا۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔۔دوسری طرف سے سلام کیا گیا تو اسنے فوراً شرمندہ ہوتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔۔۔
آپ پھر سلام بھول گئیں دوسری طرف سے شیریں آواز میں پوچھا گیا۔۔۔
سوری یار آئندہ خیال رکھوں گی تمہیں تو پتا ہے نا جب میں ایکسایٹڈ ہوتی ہوں تو سب بھول جاتی ہوں۔۔۔
ایسی کونسی بات ہے جسکا مجھے نہیں پتا دوسری طرف سے اشتیاق سے پوچھا گیا۔۔۔
جسکے جواب میں ایشمل نے الف تا ی ساری کہانی اسکے گوش گزار کر دی۔۔۔
دوسری طرف خاموشی چھائی رہی۔۔۔
ہیلو تم سن رہی ہو مجھے۔۔۔
ایشمل نے فون کو دیکھتے ہوئے پوچھا جہاں کال جاری تھی مگر بولنے والی خاموش تھی۔۔۔
آپی مجھے نہیں لگتا یہ سب ٹھیک ہے جیسا سب اپنے بتایا اسکے بعد یہ سب۔۔۔
اس لڑکی نے کشمکش میں کہا۔۔
کیا مطلب ۔۔۔۔
آپی آپ جانتی ہیں یہ سب ٹھیک نہیں آپ یہ کس راہ پر چل نکلی ہیں۔۔۔
دوسری طرف سے اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔۔
میں جانتی ہوں تم ہمیشہ میرا بھلا سوچتی ہو مگر میں کیا کروں یار میرا دل میرا رہا ہی کہاں ہے اب تو اس دل میں بس وہ ہی وہ ہے۔۔۔۔
میری حالت سمجھ سے باہر یہ یہ دل اسی کو سامنے دیکھنا چاہتا ہے اسی کو سننا چاہتا ہے۔۔۔اور سب سے بڑھ کر وہ میری عزت کا رکھوالا ہے اور اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہوگی۔۔۔
دیکھ کے آپی ہر دکھنے والا منظر سچائی پر مبنی نہیں ہوتا کبھی ہم سراب کو بھی سچ سمجھ بیٹھتے ہیں اور جب ہمیں پتا چلتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔۔۔
آج تو اسکی بہنوں جیسی کزن کی باتیں بھی اسکے دل پر اثر نہیں کر پائیں تھیں کیونکہ وہ ایک کٹھن راہ پر چل نکلی تھی اور وہ تھی عشق کی دوسری راہ محبت کیونکہ پہلی راہ عزت تو پہلے ہی سیال اسے دے چکا تھا۔۔۔
عورت تین مردوں کو کبھی نہیں بھولتی۔اپنی پہلی محبت،اس سے سچی محبت کرنے والے کو اور سب سے بڑھ کر اسکو عزت دینے والے کو۔
اسنے اور کچھ کہے بغیر کال کاٹ دی تھی۔
اب صرف وہ تھی اور سیال کی یادیں۔۔۔۔
*******************
رامین رونی کے گھر پہنچ چکی تھی اسنے گیٹ کے پار اس عظیم عمارت کو دیکھا تو اپنے مستقبل پر سرشار ہوئی وہ اندھر بڑھنے لگی تو گیٹ پر بیٹھے چوکیدار نے اسے افسوس سے دیکھا انکی آنکھوں میں عجیب سا تاثر دیکھ کر رامین کو گھبراہٹ ہوئی کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں رونی کا کمرہ کونسا ہے اسنے ارام سے اسے راستہ سمجھا دیا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ جاتی چوکیدار بول پڑا ۔۔۔
اچھے گھر کی لگتی ہو۔پھر یہاں کیسے آنا ہوا۔۔۔
مطلب ۔۔۔اسنے تھک بگلتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔۔بہتر ہوگا کمرے میں جانے سے پہلے کچھ دیر باہر رک جانا۔۔شاید کچھ بھلا ہو جائے تمہارا اسکی بات رامین کے سر پر سے گزر گئی۔
اسکے ماتھے ر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں ۔۔۔
وہ فٹافٹ گھر میں داخل ہوئی اور اپنے مطلوبہ رستے پر چلنے لگی کچھ ہی دیر میں وہ اس کمرے کے باہر پہنچ چکی تھی۔۔۔
اسنے اپنا سانس بہال کیا اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنا چہرہ تھپتھپا کر صحیح کرنے لگی۔
اس سے پہلے کے وہ اندر داخل ہوتی اسے مردانہ قہقہوں کی آواز نے اسکا ہاتھ ہوا میں ہی معلق کر دیا۔۔۔
یار آخر تو نے پھسا ہی لیا اس رامین عرف حسینہ کو ۔۔۔ایک انجان لڑکے کے منہ سے اپنا نام سن کر اسکے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا یار یہ لڑکیاں بس پیسوں کی ہوتی ہیں پیسا پھینکو اور یہ اپکی مٹھی میں ۔۔۔۔رونی کی کراہیت آمیز بات پر اسکا ہوا میں معلق ہاتھ بےجان ہو کر نیچے گرا۔۔۔۔
آئی نہیں تیری رانی ابھی۔۔۔۔یہ کسی تیسرے لڑکے کی آواز تھی۔۔۔
آ جائے گی آ جائے گی آ کے آخر جائے گی کہاں آ کر آ خر ہماری رات ہی تو رنگین کرنی ہے رونی نے قہقہ لگاتے کہا تو سارے ہنس پڑے ۔۔۔رامین کی ٹانگیں بےجان ہونے لگیں۔۔۔
یار ہماری باری کب آئے گی۔۔۔ایک لڑکے کی خباثت بھری آواز گونجی۔۔۔
یار پہلے مجھے اوپننگ سریمنی تو کر لینے دے تجھے تو پتا ہے تیرے بھائی کو ان چھوئی کلیوں کا افتتاح کرنے میں کتنا مزا آتا ۔۔۔اس لیے پہلا راؤنڈ میرا اور پھر تم لوگوں کی باری آخر آج رات اسے جانے تھوڑی دینا ہے اتنے پیسے لگائے ہیں صود سمیت واپس بھی تو لینے ہیں۔۔۔
اسکی اتنی بےباک اور کراہیت آمیز باتوں پر رامین کو گھن محسوس ہوئی اسکا دل کیا زمین میں دفن ہو جائے۔اسے اب اس چوکیدار کی نظروں کا مفہوم سمجھ آیا تھا۔۔۔
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے باہر بھاگی یہاں اور رک کر وہ اپنی موت کو دعوت نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔۔
باہر ہی اسے بند گیٹ پر چوکیدار مل گیا۔۔۔۔
پلیز پلز دروازہ کھولیں مجھے جانا ہے رونے کے باعث اسکے منہ سے الفاظ بھی ٹھیک نہیں نکل پا رہے تھے۔
چوکیدار سمجھ گیا کہ وہ ان درندوں سے بچ چکی ہے اسنے فوراً گیٹ کھولا اور اسے جانے دیا مگر یہ کہنا نا بھولا۔۔۔۔
بیٹا آئندہ کبھی اپنے ماں باپ کو دھوکا نا دینا ورنہ یہ دنیا رول کر رکھ دے گی پیسوں کے لیے کبھی اپنی آخرت مت خراب کرنا اپنی دائمی محبت کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھو۔۔۔
اسکے الفاظوں نے رامین کو اندر تک جھنجوڑ دیا تھا۔۔۔وہ اثبات میں سر ہلا کر انکا شکریہ ادا کر کے بھاگی جہاں تک ہو سکتا تھا۔۔۔
زندگی میں آگاہی کے در ایک بار ضرور وا ہوتے ہیں اور یہ وہی آگاہی کا لمحہ تھا جسے رامین نے اپنے زہن سے باندھ لیا تھا۔۔۔۔
ابھی تو پچھتاوں کا دور شروع ہونا تھا کہ اسنے کیا کھویا تھا۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: