Aiman Raza Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Urdu Novels

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza – Last Episode 9

Rah E Mujazi Se Ishq E Haqiqi Tak Novel by Aiman Raza
Written by Peerzada M Mohin

راہ مجازی سے عشقِ حقیقی تک از ایمن رضا – آخری قسط نمبر 9

–**–**–

سیال کے پلٹنے پر اسکی آنکھوں میں اجنبیت دیکھ اشمل کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔
سیال۔۔۔اسکے منہ سے سرسراتے ہوئے اسکا نام نکلا۔۔۔
دوسری طرف سیال کی آنکھوں میں تم کون ہو میں تمہیں جانتا ہوں والا تاثر تھا۔۔۔۔
سیال نے ایک آئیبرو اچکائی جیسے بلانے کی وجہ پوچھ رہا ہو ساتھ اس لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کھینچا جبکہ نظریں ہنوز اشمل پر تھیں۔۔۔۔
اشمل کی نظروں نے سیال کے ہاتھ کی حرکت سے لے کر اس لڑکی کا ساتھ لگانے تک غور سے دیکھا۔۔۔۔
اسے لگا جیسے سارے الفاظ کہیں کھو گئے ہوں مگر اسے بولنا تھا ۔
سیال تم یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔یہ لڑکی تمہارے اتنے قریب کیا کر رہی ہے اسنے ایک ایک لفظ چباتے کہا۔۔۔۔
تب سیال کے چہرے پر مخصوص چمک ابھری۔۔۔
یہ میری گرلفرنڈ ہے اسنے پیار سے اپنی باہوں میں گھری ٹینا کو دیکھتے کہا ۔۔۔تمہیں تو پتا ہے نا میری پسند کتنی جلدی بدلتی ہے۔۔۔۔
اسنے اشمل کو آنکھ مارتے کہا۔۔۔۔
اشمل کو اسکی بات سن کر دھچکا لگا تھا۔۔۔
سیال تو پھر تم نے میرے ساتھ وہ سب کیوں کیا اسنے سرخ آنکھوں میں آنسو لیے پوچھا۔۔۔
اسکی آنکھیں دیکھ کر سیال کا دل تھما تھا۔۔۔
مگر پھر چہرے پر ازلی مسکراہٹ لیے کہا۔۔۔
وہ وہ تو بس ایک بدلہ تھا۔۔۔۔
“بدلہ”اشمل کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا۔۔۔
ہاں بدلہ یاد ہے کبھی اسی طرح سب کے سامنے میرے منہ پر طمانچہ مارا تھا۔۔۔اسنے اپنے گال پر ہاتھ پھیرتے اسکے ارد گرد گھومتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اشمل کو ایک دم گھٹن ہونے لگی۔۔۔اسے لگا اسکا دل درد سے پھٹ جائے گا۔۔۔۔
تو کیا وہ سب۔۔۔۔دکھ کے باعث اسکے منہ سے بس یہی نکلا۔۔۔۔۔
ہاں وہ سب دکھاوا تھا تمہیں اپنی محبت کے جال میں پھنسانےکا۔۔۔تاکہ تم یہ جو شرافت کا چولا پہنے گھوم رہی ہو تمہیں سب کے سامنے بےبقاب کرنے کے لیے یہ سب کھیل کھیلا میں نے۔۔۔۔
اشمل کے ذہن میں بس مولانی کی باتیں گونج رہی تھیں ۔۔نامحرم سے محبت حرام ہے۔یہ رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں دیتی۔۔۔
آج اسکو ان سب باتوں پر یقین ہو گیا تھا۔۔۔
وہ آخر کس کس بات پر روتی اپنی ناکام محبت پر،محبت کے دھوکے پر یا اپنے محبوب کی بےوفائی پر ۔۔۔۔اسے لگا جیسے چاروں اطراف میں کھڑے لوگ اسے حقارت و مزاح کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔۔۔اسنے ایک کرب بھری نظر اپنے محبوب پر ڈالی جسنے اسے رسوا کرنے میں کوئی کسر نا چھوڑی تھی۔۔۔۔
اسکی کلاسفیلو بھاگ کر دراب کو بلانے پہنچی۔۔۔ساری بات سن کر دراب کے سر پر ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے اسے پتا تھا اشمل یہ سب برداشت نہیں کر پائے گی وہ اشمل کے پاس بھاگا۔۔۔۔
دوسری طرف اشمل کے بائیں بازو سے لے کر دل تک درد کی ایک شدید لہر اٹھی اور وہ گھٹنوں کے بل نیچے گری اسکا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا جبکہ ہونٹ نیلے پڑتے جا رہے تھے۔۔۔۔
سیال اسکی حالت دیکھ حیران کھڑا تھا۔۔۔۔۔
تبھی دراب بھیڑ کو چیرتا ہوا آگے بھڑا اور اشمل کو گرا دیکھ اسکی جانب لپکا ۔۔۔۔
اشمل اشمل چندہ اٹھو۔۔۔۔اسنے اسکا منہ تھپتھپاتے کہا اسکا ٹھنڈا یخ وجود دراب کی جان نکال رہا تھا۔اسکی حالت دیکھ اسے لمحہ لگا تھا سمجھنے میں کہ اسے کیا ہوا ہے۔۔۔دراب کا دماغ گھوم گیا وہ طیش میں اٹھا اور سیال پر مکے برسانے لگا جبکہ سیال کا منہ لہولہان ہو گیا۔۔۔۔
سیال نے ایک دم اسے پیچھے دھکا دیا۔۔۔۔
پاگل ہو گیا ہے کیا۔۔۔
ہاں ہو گیا ہوں پاگل تو تو آستین میں چھپا ایک سانپ نکلا ۔تو نے اس لڑکی کا یہ حال کیا جو تجھے دل دینے کی غلطی کر بیٹھی تھی۔اب خوشی منا کیونکہ اب کوئی تجھ جیسے شخص سے سچا پیار نہیں کرے گا۔۔۔
کیا بکواس کر رہا ہے کیا ہوا ہے اشمل کو وہ اشمل کو پکڑنے کے لیے بڑھا جب دراب نے دھکا دیتے اسے پیچھے پھینکا۔۔۔۔
ہارٹ اٹیک ہوا ہے اسے کمزور دل کی مالک تھی وہ ڈاکٹر نے اسے کسی بھی قسم کا سٹریس دینے سے منع کیا تھا اور تو نے ۔۔۔۔اب خبردار جو اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اسے۔۔۔
سیال صدمے سے نیچے گرا یہ کیا ہو گیا تھا اس سے اسنے کیا چاہا تھا اور کیا ہوا گیا تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں کے سامنے دراب اسکی اشمل کو لے جانے لگا۔جب وہ ہوش میں آتے ہوئے اسکے پیچھے لپکا ۔۔۔اشمل اشمل میری جان ایک دفعہ آنکھیں کھولو میں تم سے معافی مانگ لوں گا۔۔۔۔
دراب کے ساتھ چلتے وہ اشمل کے بےہوش وجود سے فریادیں کرتا کوئی دیوانہ لگ رہا تھا۔۔۔ساری یونی کے لیے یہ ناقابل یقین منظر تھا کچھ کی آنکھوں میں اسکے لیے رحم تھا تو کچھ کی آنکھوں میں نفرت جبکہ دراب اسکی کسی بی بات پر کان دھرے بغیر اسے گاڑی میں ڈالے ہاسپٹل لے گیا۔۔۔جبکہ سیال نے اپنی بائیک بھی اسی جانب موڑ دی۔۔۔۔
**************
اشملل کے گھر پر یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی تھی شاہدہ بیگم تو بار بار بےہوش ہو رہی تھیں جبکہ نورالعین اور رامین خود غم سے نڈھال ہوتی بمشکل انہیں سمبھال رہی تھیں۔انکے گھر کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
دوسری طرف جب یہ خبر ملانی تک پہنچی تو وہ بھی اشمل کے لیے نکل پڑی تھی دل الگ رو رہا تھا۔۔۔۔۔
اور سیال اسے پاشا نے کسی کو ٹھکانے لگانے بھیج دیا تھا جو وہ بادل نخواستہ ہی مانا تھا اور اب اپنا غصہ اور غم لوگوں کا مار کر نکال رہا تھا۔۔۔۔۔۔
*********
ڈاکٹرز نے صاف جواب دے دیا تھا کہ اگر کو اشمل کو ہوش آ بھی گیا تو اسکے پاس آج شام تک کا ہی وقت ہے۔سارے گھر والے غم سے نڈھال تھے سبکی آنکھیں اشک بار تھیں۔۔۔۔
جبھی ایک نرس نے انہیں اشمل کے ہوش میں آنے کی خبر سنائی۔۔۔
سب اسکو ملنے کے کیے لپکے۔۔۔
اشمل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی تو اپنے سب پیاروں کو پاس پایا۔۔۔انکو دکھی دیکھ کر اشمل کو اپنے اوپر بوجھ بڑھتا محسوس ہوا ۔
امی اسنے دھیرے سے پکارا تو وہ اسے نزدیک آ گئی اور اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا ۔۔۔۔
جی میری بچی میں صدقے۔۔۔۔میں اپکی بری بیٹی ہوں نا اسنے بہتی آنکھوں سے دریافت کیا۔۔۔میں نے اپکو رسوا کر دیا اپنی نام کی محبت کی خاطر اپکو بہت دکھ دیا۔۔۔۔
اسنے اٹک اٹک کر کہا۔۔۔۔
تو سب اسکے حال پر رو دیے۔۔۔
نا میری بچی اسی میں اللّٰہ کی مصلحت تھی۔۔۔
اسنے دراب کی طرف دیکھا۔۔۔
میری ایک خواہش پوری کرو گے۔۔۔۔
بولو چندہ دراب نے فوراً دریافت کیا۔۔۔
میں چاہتی ہوں اپ نورالعین سے ابھی میرے سامنے نکاح کر لیں تاکہ میں جانے سے پہلے کوئی خوشی دیکھ لوں۔۔۔۔
ایسے نا کہو چندا۔۔۔
بولیں کریں گے نا۔۔۔
اسنے اسکی آنکھوں میں امید دیکھتے اسے منع کرنا مناسب نا سمجھا۔۔۔اور اناً فاناً نورالعین اور دراب کا نکاح ہاسپٹل میں اشمل کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔۔۔نکاح کے بعد نورالعین جب اسکے گلے لگی تو وہ خوب روئی۔اسنے جاتے جاتے اپنی دوست کا مستقبل سوار دیا تھا۔۔۔اسنے رامین کو بھی پیار کیا اور امی کا خیال رکھنے کا وعدہ لیا۔۔۔۔
اسنے سب کی طرف دیکھا جو بہتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔اسکے دل میں مولانی سے ملنے کی بھی شدید خواہش تھی جو یہاں پہنچنے والی تھی۔اسنے دراب کی طرف دیکھا۔۔۔
میری آخری خواہش ہے میں سیال سے ملنا ہے پلیز مجھے لے چلو۔۔۔کوئی بھی راضی نہیں تھا مگر پھر بھی اسکی آخری خواہش کا احترام کرتے دراب نے سیال کا پتا لگوایا جو ہاسپٹل کے قریبی پارک میں ہی تھا۔اشمل اسے ملنے پر بضد تھی۔تبھی دراب اور نورالعین اسے سہارا دیتے ہوئے قریبی پارک لے گئے باقی سب بھی پیچھے ہی تھے۔
انکے نیچے پارک میں پہنچنے تک بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔
اشمل دور سے سیال کو پہچان گئی تھی۔وہ دھیرےدھیرے اسکی طرف بڑھ رہے تھے۔سیال نے کسی احساس کے تحت چہرہ اٹھایا تو اشمل کو دراب اور نورالعین کے ساتھ اپنے قریب اتا پایا۔۔۔۔
وہ فوراًکھڑا ہوا اور دو چار قدموں کا فاصلہ سمیٹتا اس تک پہنچا۔۔۔۔
اشمل میری جان تم یہاں کیا کر رہی ہو۔کیا تمہیں نہیں پتا اسے اس وقت آرام کی شدید ضرورت ہے ۔۔۔اسنے پہلے پیار سے اشمل کو کہا اور پھر دراب کو سرد آواز میں کہا۔۔۔۔
میں تمہیں آخری دفعہ دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اشمل کی کمزور آواز پر سیال نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
ہاں وقت کم ہے میرے پاس بس ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں تم سے میرے پیار میں کہاں کمی رہ گئی تھی جو تم نے مجھے سب کے سامنے رسوا کیا ۔۔۔۔
اشمل نے اسکی حیرت بھانپتے کہا اور سوال کیا۔۔۔
سیال کی آنکھیں غم کی شدت سے سرخ پڑ گئیں تھیں۔۔۔۔اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔جیسے وہ یہ سب کرنے پر مجبور ہو۔۔۔
میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میرا یقین کرو وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔دراب نے اسے خونخار نظروں سے گھورا جو اپنی غلطی تسلیم نہیں کر رہا تھا۔۔
غلطی تمہاری نہیں غلطی میری ہے مولانی مجھے منع کرتی رہی اور میں نہیں رکی۔میں نے تم سے پیار نہیں کیا اسنے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے سیل کی آنکھوں میں دیکھتے کہا سیال کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے گا۔۔۔۔
میں نے تمسے پیار نہیں بلکہ عشق کیا تبھی تو تمہارے سامنے کھڑی ہوں مگر میں یہ بھول گئی کہ عشق تو مجھے اللّٰہ کی زات سے کرنا چاہئے تھا جیسے مولانی کرتی ہے میں نے اسکو چھوڑ اسکے بندے سے دل لگایا تو سزا تو ملنی ہی تھی مجھے۔۔۔۔۔
ٹانگوں نے بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تو اشمل لڑکھڑا کر نیچے گری سیال نے فٹافٹ اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔۔۔۔
اشمل کا سانس اکھڑ رہا تھا اسکا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔۔
میری ایک آخری خواہش پوری کرو گے۔۔۔۔اسنے اٹکتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایسا مت کہو ابھی ہمیں ساتھ جینا ہے۔۔۔۔
پلیز میرے پاس وقت کم ہے بولو کرو گے۔۔۔
سیال نے نا چاہتے ہوئے بھی سر ہلایا اسکے آنسو اشمل کے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔۔
جیسے تم نے اپنی محبت کو بیچ راہ میں رسوا کیا اگر ایسا موقع دوبارہ آئے اور کسی لڑکی کی عزت داغ دار ہو رہی ہو تو خدا کے لیے اسکے سر پر اپنی چادر ڈال دینا اسے اپنی ہم نوائی میں لے لینا تب سمجھنا میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔۔
اس سے بولا نہیں جا رہا تھا پھر بھی وہ جی توڑ کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
کتنا حسین لمحہ ہے نا من پسند محبوب کی آغوش میں جان دینا۔۔۔۔۔۔اشمل نے آخری دفعہ اسکا صدقہ لیا جیسے وہ اکثر دونوں ہاتھوں سے پیار سے اسکی بالائیں لیتی تھی ایسا کرتے ہی اسکے ہاتھ بےجان ہوتے گرے اور آخری ہچکی لیتے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔۔۔۔سیال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر چوما۔۔ایک بار نہیں بار بار
بارش زور سے برسنا شروع ہو چکی تھی جیسے وہ بھی انکے غم میں شریک ہو۔
اشمل اشمل اٹھو تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں کرتا رہوں گا مگر پلیز اٹھو آنکھیں کھولو۔۔۔
اگر تم کہو گی تو میں اپنے آپ کو خود سزا دوں گا مگر ایک بار واپس آ جاؤ ۔یار نہیں رہ سکتا نہ میں تمہارے بغیر میں ہر برا کام چھوڑ دوں گا مگر تم ایک بار اپنی آنکھیں کھولو اور اپنے سیال کو اپنے ہونے کا یقین دلاؤ وعدہ کرتا ہوں کبھی برے کام کو دیکھوں گا بھی نہیں۔۔۔۔
وہ کڑیل جوان اپنی محبت کے جانے پر چیخ چیخ کر رو رہا تھا باقی سب بھی اسے دیکھ کے زوروں سے رو دیئے شاہدہ بیگم تو بے ہوش ہو چکی تھیں۔ سیال کو آج پتہ لگا تھا کہ محبت کے چلے جانے کا دکھ کیا ہوتا ہے اس نے اپنی انا جیتنے کیلئے اپنی محبت ہار دی تھی اور اب اس کے پاس پچھتاوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
**************
بہت آئی گئیں یادیں مگر اس بار تمہیں آنا۔ تم آؤ گے مجھے ملنے خبر یہ بھی تمہی لانا۔۔۔
**************
سیال خانزادہ ولد راحیل خانزادہ کیا آپ کو مہرماہ بنتِ رحمت خانزادہ سے بعوض ۵لاکھ حق مہر یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔جی ہاں قبول ہے۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

**************
کون ہے یہ لڑکی جس سے سیال کا نکاح ہوا۔۔۔؟ باقی کہانی سیزن ٹو میں شروع ہوگی۔ اگر اس ناول کو پیار ملا تو میں سیزن ٹو لکھنے کے بارے میں سوچوں گی۔تب تک کے لئے اللّٰہ حافظ

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: