Rishtay Pyar Kay by Fairy Malik – Episode 2

0

رشتے پیار کے از فیری ملک قسط نمبر 2

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺎﻣﺎﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺣﺎﻓﻆ ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺯﺭﮎ ﮔﺎﮌﯼ ڈﺭﺍﺋﯿﻮ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺉ ﻧﮯ ﻣﺎﮬﻢ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻣﺎﻝ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﺟﮕﮧ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯﺗﮭﮯ,ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﮍﮐﻮﮞﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺳﺐ
ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ڈﻧﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ڈﻧﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﻮﻭﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﯾﮧ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺁﺩﮬﯽﺭﺍﺕ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﺊ ,ﺧﻮﺏ ﺗﮭﮑﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺯﻭﺉ ﻧﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎﺉ ﺗﮭﺊ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺯﺭﮎ ﭼﺎﺋﮯ
ﮐﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﺭﺳﯿﺎ ﮬﮯ,ﭼﺎﺋﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺯﻭﺉ ﺗﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺊ ﻣﮕﺮ ﺯﺭﮎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎﺉ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ…………………
,ﺩﻥﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﮯ ﺍﮌ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺯﺭﮎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻨﭩﺮﯼ ﭨﯿﺴﭧ
ﺩﮮ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻓﺎﺭﻍ ﺗﮭﺎ ﻣﺎﮬﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺜﻢ ﮐﺎ ﺭﺯﻟﭧ ﺁﮔﯿﺎﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﺂﺱ ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﻤﺒﺮ ﻟﮯ ﮐﮯ ,ﺍﺏ ﻣﻌﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺳﯿﺎ ﮐﺊ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﺯﻭﺉ
ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ڈﺭﺉ ﮬﻮﺉ تھی,ﻤﻌﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺉ ﮐﺎ ﺭﺯﻟﭧ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮬﯽ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻌﯿﺰ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﻤﺒﺮ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﻭﺉ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻓﺮﺳﭧ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯽ
ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﻨﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ, ﻭﻗﺖ ﺁﻓﺲ ﺳﮯﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮬﮯ ﺗﮭﮯ
ﺟﺒﮑﮧ ﺯﮬﺮﺍ ﺑﯿﮕﻢ ﺗﻮ ﺷﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﻓﻞ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﯿﺌﮟ ﺯﺭﮎ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﮧ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺑﻼ
ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﮧ ﭘﺎﺭﮦ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ.ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ , ﺧﻮﺏ ﺭﻭﻧﻖ ﺗﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ,ﺑﭽﮧ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺯﻭﺉ ﺳﮯ ﭨﺮﯾﭧ ﮐﺎﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ,ﺗﻮ ﺯﺍﺭﻭﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺯﻭﺉ ﮐﮯ ﺭﺯﻟﭧ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﺭﯾﻨﺞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮬﯿﮟ
ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮬﻮﮔﺌﮯ.. ………………..
,ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮬﻮﺉ ﺯﮬﺮﺍءﺑﯿﮕﻢ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﻭﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﺗﻮ ﺁﺗﮯ ﺳﻮﮔﺌﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﺭﮎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺉ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺭﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﯿﻮﺍﻟﮯ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﭘﻼﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮬﮯ, ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻟﯿﭧ ﺳﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺳﻠﯿﮯ ﺻﺒﺢ ﻟﯿﭧ ﺟﺎﮔﮯ, ﺁﻧﯿﻮﺍﻟﮯ ﻭﯾﮏ ﺍﯾﻨڈ ﺯﻭﺉ ﮐﯽ
ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﺑﮭﺎﮒ ﺩﻭﮌ ﻧﮯ ﺯﮬﺮﺍ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﻭﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ,ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺗﮭﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺁﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﭼﮑﮯﺗﮭﮯﻣﮧ ﭘﺎﺭﮦ ﮐﯽ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ
, ﺗﮭﯽ,,ﺯﻭﺉ ﻧﮯ ﻭﺍﺋﭧ ﺑﺎﺭﺑﯽ ﻓﺮﺍﮎ ﭘﮩﻨﯽ ﮬﻮﺉ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ
ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮔﮍﯾﺎ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮓ ﺭﮬﺊ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﻣﺒﮩﻮﺕ ﮬﻮﺟﺎﺗﺎﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﮯ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺧﺘﻢ ﮬﻮﺉ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮧ ﭘﺎﺭﮦ ﮐﯽ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺮ ﺗﻮﻝ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ
ﺯﮬﺮﺍء ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺭﮐﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺯﮬﺮﺍء ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮬﻮﮔﺊ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﺍﭨﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮑﺎ ﺑﯽ ﭘﯽ ﮬﺎﺉ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ڈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﻨﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﮧ ﺗﮭﮑﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺮﯾﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﯽ ﭘﯽ ﺷﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﻨﺪ ﮬﻮﮔﮯ ﺗﮭﮯﺯﺍﺭﻭﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺯﮬﺮﺍء ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯿﺴﮯﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﻮﺟﺎﺗﯿﮟ ﮬﯿﮟ
ﺷﺎﯾﺪ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﮭﮑﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ , ﯾﺎ ﮐﻮﺉ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﺗﮭﯽ ﻓﻠﺤﺎﻝ
ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻻﻋﻠﻢ ﺗﮭﮯ ,ڈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ
ﻟﮕﺎﯾﺎﺗﮭﺎ ﺯﮬﺮﺍ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﺏ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮ ﺭﮬﯽ
ﺗﮭﯿﮟ,ﺯﺍﺭﻭﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﮐﻤﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﮒ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺻﺒﺢ
ﮬﻮﮔﺊ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺯﮬﺮﺍء ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ
ﮐﺎ ﻭﯾﭧ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﮧ ﭘﺎﺭﮦ ﺑﯿﮕﻢ
ﺑﮭﯽ ﺁﮔﺊ ﺗﮭﯿﮟ ,ﺍﻧﮑﻮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﺍ ﮐﮯ ﻣﮧ ﭘﺎﺭﮦ
ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﮑﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺌﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻃﺒﻌﯿﺖ
ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﺎﻝ ﻣﭩﻮﻝ
ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻣﮧ ﭘﺎﺭﮦ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ
ﮬﯽ ﻟﯿﺎ ﻭﮦ ﺯﺭﮎ ﮐﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﯿﮟ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﺳﮯ
ﭘﮍﮬﺎﺉ ﮐﻤﭙﻠﯿﭧ ﮐﺮﺋﮯ ,ﺍﺳﻨﮯ ﺍﭘﻼﺉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﮬﯽ ﺯﮬﺮﺍء ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺎﺋﻨڈ
ﺑﻨﺎﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺯﮬﺮﺍء
ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﺎء ﺭﮨﻨﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ
ﺗﮭﺎ,ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮑﺎ ﺭﯾﮑﺸﻦ ﻋﺠﯿﺐ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮬﻮ
ﮔﺌﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﺭﯾﮑﺸﻦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ
۞۞۞۞۞
زرک پریشان ھوگیا تھا وہ کچھ سوچ کر اٹھا اور زوئ کے کمرے کا دروازہ بجایا….
یس کی آواز پر دروازہ دھکیل کر اندر داخل ھوا تو زوئ کچھ لکھ رھی تھی زرک کو دیکھ کر اسنے پیپر اور پیج ایک طرف رکھ دیا اور اسکی طرف متوجہ ھوئ زرک کے ماتھے پر شکنوں کا بکھرا جال بتا رھا تھا کہ وہ پریشان ھے زرک کیا ھوا ھے?
زوئ نے پوچھا
زوئ میں ماما کی وجہ سے پریشان ھوں زرک بات تو پریشانی کی ھے مجھے خود سمجھ نہیں آرھی کہ ماما کو کیا ھوا ھے آخر کیا ٹینشن تھی کہ وہ بیمار ھی پڑ گئیں…
زوئ کے سوالیہ لہجے پر زرک سمجھ گیا کہ زوئ بے خبر ھے اسنے سوچا کہ زوئ کو بتا کہ ماما کو سمجھانے میں مدد لی جاسکتی ھے وہ بولا تو اسکا لہجہ التجائیہ تھا
زوئ میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری آسٹریلیا سے حاصل کرنا چاھتا ھوں می نےپاپا سے بات کی تھی انکو کوئ اعتراض نھیں ھے
مینے سوچا اپلائ سے پہلے ماما سے بات کر لوں تاکہ میرے جانے تک ان کا مائنڈ سیٹ ھو جائے وہ میرے بتانے پر تو کچھ نہیں بولیں لیکن ان کی بیماری سے پتہ لگتا ھے کہ وہ اچھی خاصی ٹینشن لے گیئں ھیں,
میں اس لیے ھی تمہارے پاس آیا تھا کہ مجھے تمہاری ہیلپ چاھیے ماما کو منانے میں ,تم میری ہیلپ کروگی نہ زوئ اس نے بات مکمل کر کے بہن کو دیکھا جو اب تک بلکل خاموش بیٹھئ
ھوئ تھی زوئ کی آنکھیں پانی سے بھری ھوئ تھیں زوئ اسنے جیسے ھی اسکے گھٹنے پر ھاتھ رکھا اسنے منہ زرک کا ھاتھ جھٹک کر منہ دوسری طرف کرلیا اور کچھ نہ بولی یہ ان دونوں بہن بھائ کا کسی سے اظہار ناراضگی تھا
اے زوئ تم رو رھی ھو ?
زرک بولا تو اسکے لہجے میں فکر تھی زوئ کچھ نہ بولی
وہ اٹھ کر زوئ کے منہ کے رخ والی سائڈ جا بیٹھا اور ہولے سےتین انگلیوں سے زوئ کا چہرا اوپر اٹھایا ارے پگلی!
تم تو واقعی رو رہی ھو پلیز میری بات سمجھو زوئ ! میرا وہاں سے ڈاکٹر بننا بہت فائدہ مند ھوگا میں کسی اچھی جگہ جاب کرکے اپنے اور تمہارے سب خواب پورے کرنا چاھتا ھوں میں اپنا ھاسپٹل بنانا چاھتا ھوں زوئ جہاں غریبوں کو مفت دوا ملے ,,,,,,,, یہ ماما اور بابا کا دیکھا ھوا خواب تھا
زوئ جو انھوں نے ھمارے مستقبل کے لیے قربان کر دیا , بابا کتنئ محنت کر رھے مگر ھماری مہنگی پڑھائ انکے خواب کی راہ میں روکاوٹ ھے ,پلیز زوئ
try to understand princess
زرک کا یہ کہنا قیامت تھا
زوئ تو ھچکیوں سے رونے لگ گئ زرک نے آگے بڑھ کر اسکو کندھے کے ساتھ لگا لیا
وہ زار وقطار رو رھی تھی اور بول رھی تھی زرک ہم تمھارے بغیر نہیں رہ سکتے مجھے بابا ماما کو تمہاری ضرورت ھے ھمارے سب خواب تم پر قربان زرک تم ھماری آنکھوں کے سامنے ھو یہ ھمارے لیے بہت ھے…
Please don’t go zarak please don’t go , we are nothing without you zarak, we don’t live
زرک جانتا تھا کہ جب زوئ کو لفظ نہیں مل رھے ھوتے اپنی بات سمجھانے کے لیے تو وہ یوں ھی انگلش میں بولنے لگ جاتی ھے
زرک اسکو چپ کروانے کی کوشش میں تھا وہ اسکو سمجھانا چاھتا تھا مگر وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھی آخر کار ہمیشہ کی طرح وہ جیت گئ تھی
وہ زرک کی گڑیا تھی وہ کبھی بھی اسکی آنکھ میں نمی برداشت نہیں کر سکتا تھا زوئ کے آنسووں نے وہ کام کردیا تھا جو زھراء بیگم کی بیماری بھی نہ کر سکی تھی زرک نے اپنا فیصلہ بدل لیا تھا
مگر اس وعدے کے ساتھ کے وہ اسپیشلائزیشن کے لیے باھر جائے گا
اور تب زوئ اسکا ساتھ دےگی ماما کو منانے میں زوئ اسکے فیصلے پر خوش ھوگئ…
اسپیشلائزیشن میں ابھی بہت ٹائم تھا زرک نے اسکے آنسو صاف کیے اور اسکو فریش ھو کر ماما کے پاس جانے کا کہا
اور خود اپنے کمرے میں چلا گیا
اس کو تھوڑا کام تھا پھر رات کے کھانے کے بعد اسکا ارادہ ماماپاپا اور زوئ کے ساتھ گپ شپ کا تھا…
وہ کمرے میں پہنچ کر اپنے کام میں لگ گیا فری ھوا تو چئیر پر بیٹھ کر ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں اور ماما کی خاموشی تھوڑی دیر پہلے زوئ کا رویہ سب اسکو پھر سے یاد آگئے
اس کو خوشی ھوئ کہ اسکی فیملی اس پر جان چھڑکتی ھے زوئ کی ناراضگی میں بھی پیار تھا وہ یوں ھی ناراض ھو جاتی تھی اپنی بات منوانے کے لیے
وہ ھمیشہ روٹھ جاتی اور زرک کی جان پر بن آتی تھی ,,,اور پھر ہزار منتوں ترلوں اور کوششوں کے بعد وہ راضی ھوتی تھی جس میں زرک کی آدھی پاکٹ منی بھی خرچ ھو جاتئ تھی
مگر اسکو پروا نہیں تھی مگر زرک تو زوئ سے کبھی ناراض نہ ھوا تھا,
ایک بار زوئ کے اس سوال پر کے وہ زوئ سے ناراض کیوں نہیں ھوتا کیونکہ وہ بھی بھائ کے ترلے منتیں کر کے منانا چاھتی تھی تو زرک نے اسکو کہا تھا کہ وہ جب روٹھے گا تو کبھی پھر زوئ سے راضی نہیں ھوگا نہ ھی بولے گا ,,,,,,,,اس بات پر زوئ اس سے بہت لڑی تھی
زرک ایسا ھی تھا رشتوں کے معاملے میں پوزیسو اور کیئرنگ تھا اسکے لیے اسکی فیملی سب تھی اور ماں باپ کی عزت خدمت تو ھر کوئ کرتا ھے ھر ایک کو پتا کہ دین میں ماں باپ کے لیے کیا حکم ھے مگر وہ جانتا تھا کہ بہنوں کے بھی بھائیوں پر بہت حقوق ھوتے ھیں
,اس مامعلے میں وہ نبی پاک S.A.W کے پیارے نواسوں کی زندگی سے سبق لیتا تھا کہ وہ اپنی بہن حضرت زینب R.A سے کتا پیار کرتے تھے اور ھر معاملے میں ان سے رائے لینا فرض سمجھتے تھےوہ بھی ان ہی کا پیروکار تھا تو وہ کیسے اپنی بہن کی بات کا پاس نہ رکھتا.
۞۞۞۞۞
زھراء بیگم زرک کے فیصلے پر خوش تھیں ,زرک کا میڈیکل میں ایڈمیشن ھوگیا اسنے کالج جانا سٹارٹ کردیا تھا زوئ کا بھی تھرڈ ایئر سٹارٹ ھوگیا تھا زرک آجکل ہیوی بائیک پر کالج جاتا تھا کیونکہ اسکے اور زوئ کی ٹائمنگ میں فرق تھا تو زوئ کو اسکے پاپاکو لینا پڑتا تھا ,زوئ ویسے تو خود بھی ڈرائیو کر سکتئ تھی لیکن زرک اسکو گاڑی نہیں چلانے دیتا تھا کیونکہ وہ بہت کمزور اعصاب کی مالک تھی وہ ڈرتا تھا کہ زوئ سےکوئ ایسی غلطی نہ ھوجائے کہ انکو پچھتانا پڑئے,لیکن اسکو نہیں پتا تھا کہ پچھتاوا انکی قسمت میں لکھا ھے,دن گزر رھے تھے فرسٹ ٹرم ایگزام سر پر تھے اور زرک پڑھائ میں بری طرح پھنسا ھوا تھا اکثر اپنے فیلوز کے گھر کمبائن سٹڈئ کرتا تھا ایک ایسے ھی دن زوئ نے اسکو کال کی اسکو بازار جانا تھا اپنی اسائنمنٹ کے سلسلے میں اسکو چیزیں خریدنی تھیں , مگر زرک نے اسکو بتایا کہ وہ مصروف ھے جب فری ھوگا تو اسکو لے جائے گا ایسا پہلے کبھی نہیں ھوا تھا کہ زرک نےاسکو انکار کیا ھو پاپا بھی آج ہاسپٹل کے سلسلے میں آوٹ سٹیشن تھے اسنے اکیلے جانے کا سوچا ماما سو رھی تھیں اسنے ملازمہ کو بتایا اور اسکے روکنے کے باوجود گاڑی لیکر چلی گئ ,گاڑی میں میوزک لگا کر اسنے گاڑی سٹارٹ کی اور سٹارٹ میں آرام سے چلاتی رھی پھر ایکدم تیز کر لی تیز میوزک اور سپیڈ سے چلتی گاڑی اسے مزہ آنے لگا تھا زرک ویسے ھی مجھے گاڑی نہیں چلانے دیتا حالانکہ میں اچھی خاصی ڈرائور ھوں اسنے سوچا زرک کا خیال آتے ھی اسکو یاد آگیا کہ زرک سے تو وہ خفا ھوچکی ھے اسنے سوچ لیا تھا کہ اب اس سے بات نہیں کرنی یہی سوچ رھی تھی کہ اسکا سیل فون بجا ,ساتھ کی سیٹ پر پڑے فون کو جیسے ھی اسنے اٹھایا my hero کے الفاظ چمک رھے تھے زرک کی کال تھی وہ زرک کو ھیرو کہتی تھی اسلیے اسکا نام بھی فون میں مائ ھیرو کے نام سے سیو کر رکھا تھا , وہ جانتی تھی زرک کو اسکی ناراضگی کی فکر تھی اسلیے کال کر رھا تھا مگر اسنے زرک کو تنگ کرنے کے لیے کال کاٹ دی سامنے روڈ صاف تھی اسلیے دوبارہ کال آنے پر اسنے جیسے ھی کال کاٹنے کے لیے سیل اٹھایا پتا نہیں کتنے ھی ھارن بجے تھے سامنے سے آنیوالی گاڑی دیکھ کر وہ اپنے حواسوں میں نہ رھی تھی ,اسنے گاڑی کو کوئ حرکت نہ دی اور سامنے اور دائیں جانب سے آنیوالی گاڑیاں اسکو ہٹ کرتی چلی گییں زوسیا کی چیخیں دور تک سنائ دئ تھیں , سیل ابھی بھی بج رھا تھا, وہ کال پک کرنا چاھتی تھی مگر اس میں ہمت نہیں تھی سیل سیٹ سے نیچے جاگرا تھا اسکے سر میں سے ٹیسیں اٹھ رھی تھیں ونڈ اسکرین ٹوٹ کر اسکے سر اور چہرے پر لگے تھے خون کا فوارہ تھا جو اسکے سر نکلا تھا ,اسکی دونوں ٹانگیں بھی پھنسی ھوئ تھیں اسلیے وہ حرکت نہیں کر پارھی تھی اسکی بازو بھی درد کی شدت کے سبب ہلنے سے انکاری تھیں فون متواتر بج رھا تھا مگر اسکے بس میں کچھ نہیں تھا زرک کو اب پریشانی ھوگئ کہ وہ اسکا فون نہ اٹینڈ کر رھی تھی نہ ھی مصروف حالانکہ وہ جب بھی کسی بات پر ضد میں آتی تو فون مصروف کر دیتی تھی , اسنے گھر پر کال کی ماما کے فون اٹھانے پر اسنے زوئ سے بات کرانے کو کہا ماما کے بلانے پر زوئ تو نہ آئ مگر ملازمہ نے انکو بتایا کہ زوئ بی بی تو گاڑی لے کے بازار گئیں ھیں زھراء بیگم کے ساتھ ساتھ فون پر موجود زرک بھی پریشان ھوگیا ,زرک نے زھراء بیگم کو کچھ نہ بتایا سیل فون بند ھوگیا تھا زوئ نے دل میں اپنے رب کو پکارا اسکی ھمت جواب دے رھی تھی باھر لوگوں کا ھجوم تھا طرح طرح کی آوازیں تھیں وہ اسکی گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش میں تھے سیل دوبارہ بجا اسنے پوری قوت صرف کی جھکتے جھکتے وہ سیل کے قریب ہاتھ لے گئ مگر اسکی انگلیاں تھوڑی دور تھیں وہ کال اٹینڈ کرنا چاھتی تھی اسوقت اسکی شدید خواہش زرک کی آواز سننا تھا قدرت کو اس پر رحم آگیا تھا اور آخر اسکی انگلی لگی اور کال پک ھوگئ اسنے پوری شدت سے پکارا زررررررک !پلیز آجاو اسکا یہ کہنا زرک کو تڑپا گیا وہ جانتا تھا کہ وہ کسی مشکل میں ھے کیونکہ وہ جب بے بس محسوس کرتی تب ھی بھائ کو ایسے بلاتی تھی , اسنے پکارا زوئ تم کہاں ھو کیا ھوا ھے زوئ کی ھمت ختم ھو رھی تھی اسنے تکلیف کی شدت کے باوجود پوری قوت سے بولا ا ر ر ر د و ب ا ز ا ر کے پپاس لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر اسکی زبان سے ادا ھوئے تھے اسکی آنکھیں بند ھو رھی تھیں وہ زرک کے آنے تک ھوش میں رھنا چاھتی تھی مگر وہ کوشش کے باوجود دنیا و مافیہا سے بے خبر ھو چکی تھی
۞۞۞۞
زرک بائک اڑاتے ھوئے پہنچاتھا ساراراستہ اسکا فون بجتا رھا مگر اسنے کال پک نہ کی وہ دیکھے بنا بھی جانتا تھا کہ اسکی ماما کی کال ھوگئ کیونکہ زھراء بیگم کی کال اسنے بناء انہیں کچھ بتائے کاٹ دی تھی اور وہ جانتا تھا کہ وہ پریشان ھونگی پریشان تو وہ بھی تھا لیکن فلحال وہ انکو کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ ایک تو انکی طبعیت بگڑنے کا خطرہ دوسرا اسکو خود ابھی تک علم نہیں تھا اصل صورتحال کا وہ دل ہی دل میں بہن کے ٹھیک ھونے کی دعا مانگ رھا تھا
مگر وہاں پہنچا تو اسکو معلوم ھوا کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں تھا لوگ ھی لوگ تھے وہ ہجوم کو چیرتاآگے بڑھا لوگ گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رھے تھے اسنے 2 جھٹکے دیے تو دروازہ کھل گیا مگر زوئ کو دیکھ کر اسکے پاوں کے نیچے سے زمیں نکل گئ وہ بری طرح زخمی تھی اسنے بہن کو دونوں بازوں پر اٹھایا اس سے پہلے کہ وہ کوئ گاڑی روکتا ایمولینس آگئ جسکو ہجوم میں سے ہی کسی نے کال کی تھی, ایمبولینس میں زوئ کو لٹا کر وہ خود بھی بیٹھ گیا اور اسنے سب سے پہلے خالو کو کال کی تھی کیونکہ انکے پاپا شہر سے باھر تھے , انکو زوئ کے بارے میں بتایا اور پھر معیز کو کال کرکے خالہ اور ماما کے ساتھ ہاسپٹل پہنچنے کو کہا تھا ہاسپٹل قریب تھا اسلیے وہ لوگ جلد پہنچ گئے ڈاکٹرز نے فوری خون مانگا تھا کیونکہ خون بہت بہہ چکا تھا اور جان کو خطرہ تھا زوئ اور زرک کا بلڈ گروپ سیم تھا اسنے خون دینے کا فیصلہ کیا خون دے کر باھر آیا تو ماما خالہ اور معیز ,ماھم, میثم سب پہنچ چکے تھے,سب پریشان تھے ماما تو اسکو دیکھتے ھی اسکے گلے لگ گیئں
زرک ! یہ سب کیا ھو گیا یہ کیا ھوگیا میں کیا جواب دونگی تمہارے پاپا کو میں انکی گڑیا کا خیال نہیں رکھ سکی میں کیسے انکو فیس کرونگی 😢
یہ کہتے ھی ماما بہیوش ھوگیئں معیز دوڑ کر ڈاکٹر کو بلا لایا ڈاکٹر انکو ھوش میں لایا تو وہ دوبارہ رونے لگ گئیں انکا بی پی بہت لو ھوگیا تھا انکو ڈرپ لگا دی گئ ساتھ ھی نیند کا انجیکشن بھی زرک نے ڈاکٹر سے کہ کے لگوا دیا تاکہ وہ پرسکون ھوجائیں وہ نہیں چاھتا تھا کہ زوئ کے ساتھ ساتھ ماما بھی بیمارھوجائیں, انکو نیند میں جاتا دیکھ کر وہ باھر آیا تو سسکیوں کی آواز نے اسکو رخ موڑنے پر مجبور کر دیا وہاں میثم کھڑا آنسو بہا رھا تھا وہ زوئ کا بہت لاڈلہ تھا زرک نے اسکو ساتھ لگایا تو اسکی سسکیاں بلند ھوگیئں زرک بھائ زوئ آپی😭 زرک نے اسکو تسلی دی آنسو صاف کیے اور اسکو لے کر دوسری طرف آیا جہآں خالہ اور ماھم
بیٹھی تھیں ماھم کی رو رو کر آنکھیں سوجی ھوئ تھیں وہ سورہ یاسین پڑرھی تھی خالہ کی طرف دیکھا وہ تسبیح کر رھی تھیں ساتھ ھی انکی آنکھوں سے بے آواز آنسو بہہ رھے تھے اسنے انکو بھی چپ کروانے کی کوشش کی
خالہ پلیز دعا کریں اسوقت اسکو دعا کی ضرورت ھے رونے سے کچھ حاصل نہیں انشاء اللہ وہ ٹھیک ھوجائے گی,
اسکے کہنے پر خالہ نے آنسو تو صاف کرلیے لیکن پریشانی انکے چہرے سے عیاں تھی , پھر ایک دم خیال آنے پر بولیں زرک !تم نے بھائ صاحب کو کال کر کے بتایا اور زرک کے نفی میں سر ہلانے پر انہوں نے زرک کو کچھ کہنا چاھا تو وہ بولا
خالہ پاپا رات کو 8 بجے تک آجایئں گے اسوقت 06.36 بج رھے تھے مہ پارہ بیگم بھی خاموش ھوگئیں کیونکہ انکے آنے میں کم ٹائم تھا ,ائرپورٹ سے انکو معیز نے لینے جانا تھا اس سے پہلے کے وہ خالہ سے معیز کا پوچھتا
معیز سامنے سے آتا دکھائ دیا.

Read More:  Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 1

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: