Rooh Ka Rishta Novel by Bilal Malik – Episode 1

0
روح کا رشتہ از بلاول ملک – قسط نمبر 1

–**–**–

رات آہستہ آہستہ ڈھل رہي تھی۔ اب کے دور میں چونکہ گھونگھٹ کا رواج نہین لہزا حورین بھی اس تکلف سے آزاد تھی۔ وہ شرم و حیا جو کچھ دیر پہلے ایک دلہن ہونے کی وجہ سے تھی اب وہ مفقود تھی اور اسکی جگہ پریشانی بڑھنے لگ گئ تھی۔
“یا! اللہ، آخر اور کتنی دیر ایسے بيٹھنا پڑھے گا”۔ ابھی وہ پوری طرح سوچ بھی نہ پائ تھی کہ دھڑام سے دروازہ کھول کر کوئ بڑی عجلت مین داخل ہوا۔ اس کے پیچھے حورين کی ساس بھی داخل ہوئيں۔
“حديد!ميری بات تو سنو بيٹا” وہ پريشان صورت لے کر حديدسے مخاطب تھیں جو اس بيڈ روم کے ساتھ ملحق ايک روم ميں جا چکا تھا جو يقيناڈريسنگ روم تھا۔
“سوری ماں! ليکن ميں مزيد يہ ڈرامہ پلے نہيں کر سکتا” حديد ڈريسنگ روم سے باہر آتے ماں سے مخاطب ہوا۔ کچھ دير پہلے والی شيروانی کی جگہ اب جینز، ٹی شرٹ اور جيکٹ پہنے ہوۓ تھا۔ ایک ہاتھ میں بیگ تھا اور دوسرے ميں جوگرز۔ بیڈ کے باءيں جانب پڑے صوفے پر بيٹھ کرجلدی جلدی جوگرز پہننے لگا۔
“بیٹا! دیکھو تحمل سے میری بات سنو، بس دو دن اور ٹھر جاؤ پھر بے شک چلے جانا ميں کچھ نہیں کہوں گی”۔ سائرہ بیگم جو کہ حدید کی ماں اور حورين کی ساس تھيں التجائہ لہجے ميں حديد سے کہنے لگيں
ماں فار گارڈ سيک جتنا تماشا آپ لوگوں نے کرنا تھا کر ليا، ناؤ اٹس اوور۔” حديد نے غصے سے ہاتھ اٹھا کر ماں کو کچھ اور کہنے سے روک ديا۔
حورين اس سارے قصے ميں خاموش تماشائ تھی۔ وہ تو اس شاک سے باہر نہيں نکل پا رہی تھی کہ اس کی زندگی کا آغاز کس انداز سے ہو رہا ہے
ابھی تک حديد اور سائرہ بیگم حورين کی جانب متوجہ نہيں ہوۓ تھے۔ “حديد ميں کل لوگوں کو کيا جواب دوں گی۔” سائرہ بیگم نے بے چارگی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ ممی آپ کو يہ پہلے سوچنا چاہيے تھا۔ ميں مزيد آپکی کسی بليک ميلنگ کا حصہ نہيں بن سکتا۔” بات ختم کرکے ماں کا ماتھا چوما اور ايک نگاہ بھی حورين کے سجے سنورے روپ پہ ڈالے بنا جيسے آيا ويسے ہی کمرے سے باہر نکل گيا۔
سائرہ بیگم نے حديد کے نکلنے کے بعد صدمے سے نکلتے ہوۓ ايک نظر حورين کے شاکڈ چہرے پر ڈالی۔ تو بے اختيار اس کے پاس آئيں۔ مگر کشمکش ميں تھيں کہ کيسے اس کو حديد کے اس ناروا سلوک کے بارے ميں بتا‏‏‏ئيں۔ان کے پاس بيٹھتے ہی حورين کو جيسے ہوش آيا۔اور وہ صدمے سے بس اتنا ہی بول پائ۔
“آنٹی يہ يہ۔۔۔۔۔ سب کيا ہے” حورين کے پوچھتے ہی سائرہ بیگم نظريں چراتے اور قدرے ہچکچاہٹ سے بولي “بيٹا تم پريشان نہ ہو۔۔۔۔ايسا کرو کہ چينج کرکے سو جاؤ۔
ان کا يہ انداز حورين کو بھڑکانے کے لۓ کافی تھا۔”ميں۔۔۔ ميں سو جاؤں۔۔۔۔۔۔ميرا شوہر مجھے تسليم کرنے سے انکاری ہے۔ جس کو ميرے وجود کی پرواہ نہ ہوئ۔۔۔مجھے نہيں پتہ يہ سب کيا ہو رہا ہے۔۔۔ميں يہاں کيوں ہو۔اور آپ مجھے سونے کا کہ رہی ہيں۔
انتہائ بے ربط جملے اس کے لبوں سے ادا ہو ۓ اورآنکھوں سے آنسو۔
اس کو ابھی تک يقين نہيں آ رہا تھا کہ يہ کيا اور کيوں ہو رہا ہے اس کے ساتھ۔ يکدم چٹانوں کی سی سختی اس کے چہرے پہ در آئ۔بے دردی سے اس نے اپنے آنسو صاف کئے۔”آنٹی مجھے سچ سچ بتا ديں۔ اس سب کے بعد اب کسی شک کی گنجائش نہيں کہ يہ شادی حديد کی مرضی کے بغير ہوئ ہے۔ سو اب آپ پليز مجھ سے کچھ مت چھپا‏ئيں۔جتنی ميری زندگی برباد ہونی تھی ہو گئ۔ وہ کس ميں انوالو ہيں اور اگر ہيں تو يہ شادی کيوں کروائ آپ نے۔ ميرا اور ميرے پيرينٹس کا کيا قصور تھا۔ ميری زندگی کيوں برباد کی۔ کچھ مت چھپائيں پليز۔۔۔
وہ ان کا ہاتھ تھامے بے اختيار پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ “نہيں نہيں بيٹا!حديد کسی ميں انوالو نہيں ہے۔ايسا کچھ۔۔۔” سائرہ بیگم نے اس کی بات کی ترديد کرتے ہو ۓ کہا ‎
۔”پليز آنٹی!اب بھی۔۔اب بھی آپ مجھ سے چھپا رہی ہيں۔ ايک بے قصور کی زندگی برباد کر کے آپ اپنے بيٹے کا پردہ رکھ رہی ہيں۔” حورين نے بے اختيار ان کی بات کاٹ کرغصے اور رنجيدگی سے کہا
“بيٹا!ميں جانتی ہوں تم کس کيفيت سے گزر رہی ہو۔مگر ميرا يقين کرو وہ بات نہيں ہے جو تم سوچ رہی ہو۔ اوکے! اگر تم ميرا ساتھ دينے کا وعدہ کرو تو ميں سب تمہيں ابھی اور اسی وقت بتا دوں گی مگرپھر تمہيں ميری مدد کرنا ہو گی
سائرہ بیگم نے فيصلہ کن اندازميں کہا۔ “آنٹی! يہ تو اس وجہ پے منحصر ہے- مگر مجھے بہت دکھ ہے کہ آپ نے کسی کی بيٹی اپنے بيٹے کے لئے برباد کر دی۔” حورين ابھی بھی بے يقين تھی کہ حديد کی اس حرکت کے پيچھے کسی لڑکی کا معاملہ نہيں ہے۔
بيٹا مجھے يقين ہے کہ وجہ سننے کے بعد تم اس بات کو اتنا بڑا نہيں
سمجھو گی جتنا اپنی غلط فہمی کی بنا پر سمجھ رہی ہو۔” سائرہ بیگم نے ہلکا سا مسکراتے ہو ۓ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا
– ‎” ۔ “آپ پليز مجھے بتائيں
————————
صبح اٹھ کر اپنے سر کو دباتے ہوۓ حورين نے دل ميں مصمم ارادہ کيا کہ اس کو اپنے اور حديد کے رشتے کو ايک چانس دينا ہے۔ اور پھر آخر ايک لڑکی کی زندگی ميں سمجھوتے کے علاوہ ہوتا بھی کيا ہے۔ مگر اس نے يہ بھی سوچا کہ خود کو گرانا بھی نہيں کہ اپنی نظروں ميں پھر اٹھ نہ سکے۔ ايسے با وقار طريقے سے اس کو اپنی طرف لانا ہے کہ شرمندگی کا زيادہ مارجن اس کے حصے ميں آ ۓ۔
ابھی يہ سوچ ہی رہی تھی کہ دروازے پر ناک ہوا۔ “يس کم ان۔”سائرہ بیگم مسکراتے چہرے کے ساتھ کمرے ميں داخل ہو‏ئيں۔ اسلام عليکم” ان کو ديکھتے ساتھ ہی حورين مسکراتے چہرے کے ساتھ ان کی جانب بڑھی۔انہوں نے اسے ساتھ لگا کر ڈھيروں دعا‏ئيں ديں۔ “اب ميری بيٹی ٹھيک ہے نا” انہوں نے تشويش سے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں ميں تھاما۔ “جی ميں بالکل ٹھيک ہوں” اس نے مسکراتے ہوۓ انہيں تسلی دی۔ “شکر ہے ميں رات بھر بہت پريشان رہی۔” انہوں نے تفکر سے کہا۔ “آنٹی آپ فکر نہ کريں ہم جلد ہی اس کا حل نکاليں گے” “بيٹا ميں کيسے تمہارا شکريہ ادا کروں۔تم نے ميرا مان رکھ ليا۔” “پليز آپ آ‏ئندہ کوئ شکرۓ والی بات نہيں کريں گی۔” حورين نے ان کو اس تکليف سے نکالنا چاہا جو حديد نے دی تھی۔ “تم آج سے مجھے ممی کہ سکتی ہو۔ اور اب جلدی سے نيچے آجاؤ سب ناشتے پر تمھارا انتظار کر رہے ہيں۔”
“جی ممی
————————-
ناشتے کے فورابعد حورين کے پيرينٹس ملنے آگۓ۔”بيٹا مجھے تو جب سے حديد کے جانے کا پتہ چلا ميں تو پريشان ہو گئ تھی۔” حورين کی والدہ نے تشويش سے کہا”ارے نہيں ماما پريشانی کی کوئ بات نہيں، آپکو تو پتہ ہے ان کی جاب ہی ايسی ہے، بس صبح کال آگئ کے ضروری آپريشن ہے، سو صبح ہی نکلنا پڑھا۔”حورين نے ان کی تسلی کروائ۔ سائرہ بیگم نے تشکر بھری نظروں سے اسے ديکھا جس نے خوبصورتی سے ان کا پردہ رکھ کر مزيد سوالوں سے ان کو بچا ليا تھا۔
“ہاں بيٹا! فوجی ہوں يا کمانڈوز ان کو ہر وقت الرٹ رہنا پڑتا ہے۔کوئ بات نہيں اب تو عادت ڈالنی ہو گی تمہيں، اللہ حديد کو اس کے مقصد ميں کامياب کرے۔ وليمہ تو ہوتا ہی رہے گا، کيوں بھاي صاحب۔” حورين کے پاپا اياز صاحب نے حورين کو سمجھاتے آخر ميں حديد کے والد رياض صاحب سے تا‏ئيد چاہی۔ “بالکل جناب” رياض صاحب نے ان کی ہاں ميں ہاں ملائ۔
—————————-
رات کا پجھلا پہر شروع ہو چکا تھا۔ حديد کو اميد تھی کے سب سو چکے ہوں گے۔ مين گيٹ چوکيدار نے کھول ديا۔ مين ڈور کی چابی اس کے پاس ہمہ وقت ہوتی تھی۔ سيڑھياں چڑھ کے وہ اوپر آيا اور جيسے ہی اپنے کمرے کے دروازے کا ناب گھمايا تو اسے لاکڈ ديکھ کر وہ حيران ہوا۔ پچھلے کچھ دن اس نے اتنی ذہنی اور جسمانی مشقت کی تھی کہ وہ يہ فراموش کر چکا تھا کہ اس کی شادی ہوئ تھی۔ وہ حيران ہوتا نيچے گيا لاؤنج ميں سب کمروں کی چابيوں کا گچھا موجود ہوتا تھا۔ مطلوبہ چابی نکالی، جيسے ہی اندر آيا تونيلگوں بلب کی روشنی ميں کسی کو اپنے بيڈ پر سوتے پايا۔ حيران ہوتا آگے بڑھا اور حورين پر نظر پڑھتے ہی اپنی زبردستی کی شادی ياد آئ۔
حديد کے خوبصورت نقوش تن گۓ۔”اوہ يہ ڈھيٹ يہيں موجود ہے۔” غصے سے اس نے اپنا بيگ اتنے زور سے زمين پر پٹخا کے درودديوار ہل کر رہ گۓ۔ جورين تو پھر بہت کمزور اعصاب کی مالک تھی۔
حورين ہڑبڑا کو نيند سے اٹھی۔ جوں ہی سامنے نظر گئ تو حديد کو سامنے ديکھ کر اڑے ہوۓ حواس کچھ بحال ہو ۓ ‎ يکدم دوپٹے کا خیال آيا۔ سرعت سے سرہانے پڑا دوپٹہ اٹھايا۔ حديد اس تمام صورتحال سے لاتعلق صوفے پر بيٹھا جوگرز اتارنے ميں ايسے محو تھا جيسے اس کے علاوہ کمرے ميں کوئ نہ ہو۔ “کمرے ميں داخل ہونے کے کچھ آواب ہوتے ہيں۔ خاص طور پر رات کے اس وقت جب لوگ سو رہے ہوں۔ ليکن افسوس اتنے اعلی عہدے پر فا‏ئز ہونے کے باوجود لگتا ہے مينرز آپکو چھو کر بھی نہيں گزرے۔”
حورين نے نيند سے اتنی بری طرح اٹھا ۓ جانے کی کھولن حديد پر لفظوں کی بوچھاڑ کی صورت نکالی۔ يہ ان کی پہلی ‎ باضابطہ ملاقات اور بات چيت تھی۔ حديد نے کچھ حيرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سميت اس کے مغرور چہرے پر نگاہ ڈالی- بلاشبہ حورين کی خوبصورتی کو اس نے دل ميں سراہا- خوبصورت کالی بھنور سی گہری آنکھيں، کھڑی ناک، گندمی شفاف رنگت، بھرے بھرے ہونٹ اور لمبے گھنے کمر کو چھوتے بال جن کو ل‏ئيرزميں کٹوايا گيا تھا اس کو نہايت پر کشش بناتے تھے۔ مگر اس کے سخت الفاظ بری طرح اس کی ہستی کو ہلا گۓ تھے لہزا اس نے دو حرف اس کی خوبصورتی پر بھيجے اور پھنکارا “گھر ميرا، کمرا ميرا ميری مرضی ميں يہاں توپ چلا کر آؤں يا خاموشی سے آپ ہوتی کون ہيں مجھے مينرز کا طعنہ دينے واليں۔”حورين نے ايک استہزائيہ نظر حديد کے خوبصورت مگر کسی قد غصيلے چہرے پر ڈالی
چھے فٹ دو انچ ہا‏ئيٹ، ورزشی جسم، گھنے بال فوجی ہ‏ئير کٹ، جو ماتھے پہ بکھرے ہوۓ تھے۔ ہيزل گرين آنکھيں جو مقابل کو چاروں شانے چت کر ديں۔ کھڑی ناک بھينچے ہونٹ اور دائيں گال پر پڑھنے والا ڈمپل اس کی خوبصورتی ميں چار چاند لگا رہے تھے۔ غصے سے اس کی جانب گھور رہا تھا۔ ” ويسے تو سنا ہے کہ سيکرٹ سروسز والوں کا آئ کيو غضب کا ہوتا ہے، مگر آپکو ديکھ کر نہ صرف افسوس بلکہ حيرت ہے کہ انہوں نے آپکو رکھ کيسے ليا۔ جس کو يہ ياد نہيں کے ميں يہاں کيوں اور کس حيثيت سے ہوں۔ ” حورين نے اسے طيش دلانے والی مسکراہٹ سميت طنزيہ نگاہوں سے ديکھا۔
جو ابھی تک اسی کے بيڈ پر براجمان بيک سے ٹيک لگاۓ اور اس کے بلينکٹ ميں مزے سے پھسکڑا مارے بيٹھی اس کو چيلنجنگ نگاہوں سے ديکھ رہی تھی۔ “جس رشتے کی ميرے نزديک کوئ حيثيت نہيں اس سے جڑے شخص کی بھی کوئ اہميت نہيں۔ مائنڈ اٹ مائ سو کالڈ وائف۔”طنزيہ مسکراہٹ سميت وہ حورين پر اس کی حيثيت واضح کر گيا تھا۔ ” سو جب اس رشتے کی کوئ حيثيت نہيں تو آپکا بھی ميرے روم ميں کوئ کام نہيں۔ اپنا ٹھکانہ آپ خود ڈھونڈيں۔ ميں فريش ہونے جا رہا ہوں واپس آؤں تو آپ مجھے يہاں نظر نہ آئيں۔ ادروائز نتيجے کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی۔” اپنا بيگ اور جوگرز اٹھاتے وہ حورين کو وارن کرتا ڈريسنگ روم ميں غائب ہو گيا۔
اب اس کے آنے سے پہلے حورين کو کوئ حل نکالنا تھا۔ بے اختيار ممی کی وہ باتيں ياد آئيں جو انہوں نے حديد کے حوالے سے شا دی کی پہلی رات بتائيں تھيں۔ “بيٹا حديد کسی لڑکی ميں انوالو نہيں ہے۔ اگر ايسا ہوتا تو ميں خوشی خوشی اسکی پسند کو اپنی بہو بناتی۔ ان فيکٹ وہ سيکرٹ سروسز کے ساتھ جنون کی حد تک اٹيچڈ ہے۔ اس کا ماننا یہ ہے کہ اس کی لائف اتنی پرفيکٹ ہے کہ جس ميں بيوی اور اس سے محبت کی کوئ گنجائش نہيں۔ وہ اس رشتے کی حقيقت کو ماننے سے انکاری ہے۔ہمارا کيا ہے آج ہيں تو کل نہيں۔ مگر ايک ماں ہونے کے ناطے ميں اس کو يہ بے وقوفی نہيں کرنے دے سکتی تھی۔ ابھی تو ہم ہيں تو اسے پرواہ نہيں مگر جب ہم نہيں رہيں گے تو بہن بھائ کب تک اس کے ساتھ جڑے رہ پائيں گے۔ بس اسی لئے ميں نے زبردستی يہ قدم اٹھايا۔ مگر مجھے پورا يقين ہے۔ جس اللہ نے تم دونوں کے نصيب ملاۓ ہيں وہ جلد ہی حديد کا دل تمھاری جانب موڑے گا۔ بس تم ميرا اتنا ساتھ دو کے کچھ ٹائم صبر سے اس کو برداشت کرنا۔ ميں پوری طرح اس کی برين واشنگ کروں گی، بس کچھ دير کی بات ہے۔ ايک ماں کی التجا سمجھ لو
سب باتيں دہراتے اس نے خود کو تسلی دی۔ “کوئ بات نہيں حورين کبھی نہ کبھی يہ بندہ تمہاری حيثيت مانے گا۔ بس کمزور نہيں پڑنا۔ ورنہ ان سب کو کيسے فيس کرو گی خاص طور سے اپنے پيرينٹس کو جنہيں اپنی خوشگوار زندگی کی تسلی دی ہے۔ بی بريو۔ مسٹر ايجينٹ حديد گيٹ ريڈی فار آ نيو ميشن۔” خود کو تسلی ديتے جلدی سے بيڈ سے اٹھی۔ الماری سے سنگل بيڈ بلينکٹ نکالا اور ابھی صوفے پر ليٹ کر کمبل ميں گم ہونے ہی والی تھی کہ حديد ڈريسنگ روم سے باہر آيا۔ اس کو کمرے ميں موجود ريکھ کر تيوری چڑھ گئ۔
“شکل سے تو کچھ سينس ايبل لگتی ہيں مگر حرکتيں بتاتی ہيں کے کافی ڈھيٹ قسم کی بندی ہيں آپ، جن پر ميری باتوں کا کوئ اثر نہيں ہوا۔” بيڈ پر دراز ہوتے ہوۓ بڑی گہری طنزيہ نظروں سے حديد نے اسے ديکھا۔ حورين نے اگر حديد کی ممی سے ان کا ساتھ دينے کا وعدہ نہ کيا ہوتا تو ابھی سب چھوڑ چھاڑ نکل جاتی۔ “جی بالکل آخر اتنے دنوں سے اس کمرے ميں ہوں، يہاں رہنے والی شخصيت کا کچھ تو اثر ہونا تھا۔ باقی رہ گئ ميری حيثيت اور اس کمرے ميں رہنے اور نہ رہنے کی بات تو اس کا جواب آپ ممی سے لی جئيے گا۔ ميرا جواب شايد تسلی بخش نہ ہو، گڈ نائيٹ” حديد کے دماغ کو مزيد بھڑکاتے ہوۓ حورين نے مزے سے کروٹ دوسری جانب لی اور کمبل سر تک اوڑھ ليا۔
‎ اسٹوپڈ ديکھ لو ں گا تمہيں” دانت پيستے ہوۓ حديد نے اس کی پشت کو گھورا اور سونے کی کوشش کی۔ جو شايد اتنی تھکاوٹ کے باوجود مشکل لگ رہا تھا اور وجہ وہ وجود تھا جس نے حديد کو اپنی حيثيت کا بتا کر اس کا دماغ ٹھکانے لگا ديا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: