Rooh Ka Rishta Novel by Bilal Malik – Episode 2

0
روح کا رشتہ از بلاول ملک – قسط نمبر 2

–**–**–

حورين بيٹا کيا حديد رات ميں گھر آيا تھا۔” سائرہ بيگم نے چاۓ بناتی حورين سے پوچھا۔ “جی ممی ليٹ نائٹ آۓ تھے” حورين رخ موڑے چاۓ نکالتے ہوۓ بولی۔ “شکر!کوئ بات ہوئ” انہوں نے رازداری اور بڑے اشتياق سے حورين سے پوچھا۔”ممی آ پ ‎ تو ايسے پوچھ رہی ہيں جيسے ميں ان کی محبوب بيوی ہوں اور آتے ہی وہ مجھے پھولوں کے ہار پہنائيں گے، بس ہاتھ پکڑ کر کمرے سے نکالنے کی کسر باقی رہ گئ تھی۔
حورين نے ان کے خوشی سے تمتماتے چہرے پر دکھ کے ساۓ لہراتے ديکھے۔ انہوں نے خود کو سنبھالتے اس کے کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھا۔ “ميری جان تم بس حوصلہ نہ ہارنا ميں ہوں نہ تمہارے ساتھ۔”انہوں نے پيار سے اس کے چہرے پر پڑنے والی لٹوں کو پيچھے کرتے ہوۓ کہا۔ “ايک آپ ہی تو ہيں ممی جن کی وجہ سے ميں يہاں ہوں۔”
حورين نے پيار سے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ تسلی بخش مسکراہٹ دی۔ “واؤ! واٹ آ رومينٹک سين۔” حديد نے کچن ميں داخل ‎ ہوتے ہوۓ شرارت سے ماں کو ديکھتے ہوۓ کہا۔ “بدتميز ايسے کہتے ہيں۔” سائرہ بيگم نے آگے اسکے شانے پہ چپت لگائ۔”اس نے بہت محبت سے انہيں بازؤؤں کے حصار ميں ليا۔ حورين تب تک کچن چھوڑ کے جا چکی تھی۔ “کيسی ہيں ميری جان جہاں” حديد نے محبت سے ان کے ماتھے پہ بوسا ديا۔ “بالکل ٹھيک اور ميرا بيٹا” انہوں نے نہايت محبت سے اس کو ديکھا۔” بالکل فٹ اب جلدی سے کچھ کھانے کو ديں بہت بھوک لگ رہی ہے۔” اپنی بيوی سے کہو وہی نکال کر دے۔
سائرہ بيگم کو اصل موضوغ کی طرف آنے کا موقع ملا۔”پليز ممی نو اريليونٹ ڈسکشن، ميں آل ريڈی بہت تھکا ہوا ہوں۔ کچھ دنوں کی چھٹی ريليکس کرنے کے لئے لے کر آيا ہوں۔آپکا بہو نامہ سننے کے لئے نہيں۔”حديد نے برا سا منہ بناتے ہوۓ کہا”حديد کيوں ‎ ماں کو اس عمر ميں ذليل کروانے پر تلے ہو ۓ ہو۔ يقين کرو بہت اچھی بچی ہے۔ تم ايک مرتبہ اس کی جانب توجہ کرکے تو ديکھو۔”انہوں نے حديد کا ناشتہ بناتے ہوۓ اسے قائل کرنےکی کوشش کی۔ “ممی کيا آپ چاہتی ہيں کہ ميں چھٹياں کينسل کروا کر واپس چلا جاؤں۔ يہ سب ميں نے آپکو کرنے کو نہيں کہا تھا۔ اب ناشتا ملے گا يا بھوکا چلا جاؤں، اور ويسے بھی آپکی بہو کو ہر چيز تو مل رہی ہے يہاں، ايون يور ايکسٹر يم سپورٹ، واٹ ايلس شی وانٹ۔” حديد کے غصے کو ديکھتے انہوں نے اسے سمجھانے کا ارادہ بدل کر فیالوقت کے لئے خاموشی اختيارکی “
—————————
سائرہ بيگم اوررياض صاحب کے تين بيٹے اور ايک بيٹی تھی۔ سب شادی شدہ تھے۔ بڑا بيٹا فريد اور اسکی بيوی آسيہ کے دو بچے شايان اور رومان تھے۔ دوسرے نمبر پہ طلحہ اور اسکی بيوی بينا کے بھی دو بچے ايک بيٹافوزان اور بيٹی ايشال تھے۔ بيٹی رافعہ اور اس کا شوہر دانيال آسٹريليا ميں تھے اور ان کا ايک ہی بيٹا ابوبکر تھا۔ اور حديد سب سے چھوٹا تھا۔
دو گھر ايک جيسے ساتھ ساتھ بنا کر بھيچ کی ديوار گرا دی تھی ۔ سا‏ئرہ بيگم کے پورشن ميں نيچے وہ اور حديد کے ڈيڈی تھے اور اوپر کا پورشن اب حديد اور حورين کے زير استعمال تھا۔ جبکہ دوسرے گھر ميں نيچے کا بورشن فريد کی فيملی کے پاس، اور اوپر کا پورشن طلحہ کی فيملی کے پاس تھا۔
———————————-
کچن سے باہر آ کر صوفے پر بيٹھتے ہوۓ حورين کو رات ہونے والی تلخی پوری شدت سے ياد آئ۔ يکدم اس کو خيال آيا کہ اگر جو حديد نے اپنی تمام تر نا پسنديدگی کا مظاہرہ سے کے کر ديا اور ذرا سی بھی بھنک اس کے ماں باپ تک پہنچ گئ تو کيا ہو گا۔ کيو نکہ حديد کی ممی نے گھر کے کسی فرد کو ان دونوں کے درميان ہونے والی سرد جنگ کی ہوا تک نہيں لگنے دی تھی۔
ابھی وہ يہی سوچ رہی تھی کے کيسے حديد کو اپنی بے رخی کنٹرول کرنے کا کہے کہ بينا بھابھی لاؤنج ميں آئيں۔ “اور بھئ سياں جی آگۓ ہيں” انہوں نے شرارت سے کہا۔ حورين بس مسکرا کر رہ گئ۔ ايکدم سے اسے کچھ خيال آيا۔ جلدی سے ايک پيپر پے کچھ لکھا۔ پھر شايان کو پاس بلايا۔ ” کچن ميں حديد چاچو ہيں جاؤ ان کو دے کر آؤ، پھر ميں آپکو چاکليٹ دوں گی” شايان کچن کی طرف بھاگا۔”چاچو يہ لے ليں۔” “يہ کيا ہے” “چاچی نے ديا ھے”
حديد نے حيران ہوتے ہوۓ پکڑا جس پر لکھا تھا ” مجھے ممی نے بتايا تھا کہ انہوں نے اپنے بيٹوں کو ہميشہ عورت کی عزت کرنا سکھايا ہے۔ باقی سب کو ديکھ کہ تو اس بات پر يقين آتا ہے مگر آپکے بارے ميں کچھ کہا نہيں جاسکتا۔ ہمارے درميان جو بھی ايشوز ہيں۔ اميد کرتی ہوں کہ سب کے درميان آپ اپنی تربيت کو سواليہ نشان نہيں بننے ديں گے۔
حديد نے وہ پيپر تہہ کرکے پاکٹ ميں ڈالا اور کچھ سوچتے ہو ۓ گھونٹ گھونٹ چاۓ اندر اتارنے لگا۔
————————————-
ناشتہ ختم کرتے ہی حديد اپنے جگری يار حسن سے ملنے چلا گيا۔ “اور سنا حالات ويسے ہی ہيں يا کچھ ترقی ہوئ” حسن چونکہ حديد کی شادی نہ کرنے والی سوچ سے واقف تھااور اس بات سے بھی واقف تھا کہ حديدنے حورين کو قبول نہيں کيا سو اس کو چھيڑتے ہوۓ پوچھا۔ حديد نے رات والی تلخی من و عن سنائ۔ حسن کچھ حيرت اور افسوس سے اسے ديکھنے لگا۔ “خبيث انسان تجھے شرم نہيں آئ، وہ تيرے نام پر اس گھر ميں موجود ہيں۔ اور تو۔۔۔۔ مجھے تجھ سے اتنی سيلفشنيس کی اميد نہيں تھی۔
“تم بھی اسکی وکالت شروع کر دو۔ ميری سمجھ سے باہر ہے کہ سب مجھے سمجھاتے ہيں۔ آخر ميری کوئ بات کيوں نہيں سمجھتا۔مجھے کسی ايسے رشتے کی ضرورت ہی نہيں۔” حديد نے جھنجھلاتے ہوۓ کہا۔”حديد! يار اللہ نے اس دنيا ميں کچھ بھی بے مقصد نہيں بنايا، چاہے وہ رشتے ہی کيوں نہ ہوں۔ اور پھر ہہاں تک حکم ہے کہ جيسے ہی لڑکا یا لڑکی بالغ ہوں تو انکی شادی کر دو۔ تو قدرت اور نصيب کو غلط کہ رہا ہے۔” “بکواس نہ کر نعوذوباللہ ميں نے ايسا نہيں کہا۔” حديد نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی۔”تو تو يہ مان کيوں نہيں ليتا کہ وہ لڑکی تيرے نصيب ميں ہی تھی۔
“جب ميرا دل اسکی جانب کھچ ہی نہيں رہا تو ميں کيا کروں۔” حديد نے اپنی طرف سے دليل دی۔ “يار تجھے اسکے ساتھ ابھی کتنا ٹائم ہوا ہے۔ مشکل سے چوبيس گھنٹے، کيا اتنا وقت کسی کی زندگی کا فيصلہ کرنے کے لئے بہت ہے ؟ تھوڑا سا ٹائم دے اس رشتے کو۔ ويسے سچ بتا تجھے بھابھی کيسی لگيں۔
وہ جو سنجيدگی سے اسکی بات سن رہا تھا۔ اسکے آخری سوال پہ حورين کا سراپا نظروں کے سامنے آيا۔ شرارت سے حسن کو ديکھا اور بولا “ويمپائر”
“بکواس نہ کر، سيدھی طرح بتا۔” حسن نے بمشکل اس کی بات پر اپنا قہقہہ روکا۔”
ايکسکيوزمی، ہو آر يو۔
ويسے بھی ممی کہتی ہيں کے مياں بيوی ايک دوسرے کا لباس ہوتے ہيں۔ سو اپنی بيوی کی خوبصورتی ميں آپ سے کيوں ڈسکس کروں۔” “اسی فٹے منہ سے جس سے تو بھابھی کی برائياں کر رہا ہے”
حسن نے اسے شرمندہ کرنا چاہا
اب بکواس کرتا جاۓ گا يا کچھ بکے گا بھی” حسن نے زچ ہوتے ہوۓ پوچھا۔
“يار ہے تو توپ چيز۔ مگر ميں پھر بھی فی الحال اپنے دل کو اسکی جانب آمادہ نہيں کر پا رہا۔”
“جانی مجھے يقين ہے کہ جب اللہ نے تم دونوں کے نصيب ملاۓ ہيں تو وہ دل بھی ملاۓ گا۔ جلد بازی ميں کوئ غلط فيصلہ مت کرنا”
حديد اسکی بات پر خاموش ہی رہا۔
————————-
يہ اگلے دن کی بات تھی۔ رات ميں حديد بيڈپر بيٹھا اپنے ليپ ٹاپ پہ کچھ کام کرنے لگا کہ اس پہ پاس ورڈ لگا ديکھ کر اسکا دماغ کھول گيا۔ غصے سے سامنے، پيچ کلر کے لينن کے سوٹ ميں بيٹھی حورين کو ديکھا۔
جو کانوں ميں ہينڈ فری لگاۓ موبائل پر گانے سننے ميں مگن تھی۔ ساتھ ہی کسی ڈائجسٹ کا مطالعہ جاری تھا۔ حديد غصے ميں کھولتا اسکے سر پہ جا پہنچا۔حورين نے جيسے ہی محسوس کيا تو بے اختيار سر اٹھايا۔ حيرت سے حديد کی غصيلی شکل ديکھی۔ بے اختيار ہينڈ فری اتاری۔
شعلہ بار نگاہوں سے اسے ديکھتے ہو ۓ حديد نے پوچھا ‎ “ميرے ليپ ٹاپ پہ آپ نے پاس ورڈ کيوں لگايا ہے”
آپ نے مجھ سے کچھ کہا” معصوميت کے تمام ريکارڈ توڑتے ہوۓ حورين بولی ۔
“نہيں۔ ديواروں سے” حديد نے دانت پيستے ہوۓ کہا
“چچ-چچ۔۔۔ابھی کے ابھی ڈاکٹر کے پاس جائيں يہ تو بہت خطرناک علامت ہے۔”حورين نے تاسف سے کہتے ہوۓ واپس ہينڈ فری لگاناچاہی کہ حديد نے اسکے ہاتھ سے کھينچی اور بيڈ پہ پھينکی
حورين کا صدمے سے منہ کھلا رہ گيا۔ “ہاؤ ڈير يو” وہ غصے سے کہتی اسکے مقابل کھڑی ہوئ۔
“يس، ہاؤ ڈير يو ٹو ٹچ مائ ليپ ٹاپ۔ اور يہ ہينڈ فری وہاں پھينکنے کا مقصد يہ باور کروانا ہے کہ نيکسٹ ٹائم اگر آپ نے ميری کسی چيز کو ہاتھ لگايا تو يہی حشر ہوگا۔ کيپ اٹ ان يور مائنڈ۔ اب جلدی سے پاس ورڈ بتائيں”
حديد نے اسے وارن کيا۔ مگر وہ بھی حورين تھی اتنی آسانی سے کيسے پيچھے ہٹتی۔
“پاس ورڈ تو آپکو تب ہی ملے گا جب آپ وہ ہينڈ فری اٹھا کر مجھے ديں گے۔ نہيں تو ميں بھی ديکھتی ہوں کے آپ کيا کر سکتے ہيں
حورين نے سينے پر ہاتھ باندھتے ہوۓ اسے چيلنج کيا۔حديد نے لب بھينچ کہ اسکے انداز ديکھے۔ مسکراہٹ ہونٹوں ميں دبا کر مڑا۔حورين نے اپنی بہادری پہ خود کو غائبانہ تھپکی دی۔جيسے ہی حورين نے ہينڈ فری لينے کے لئے ہاتھ بڑھايا تو کلائ حديد کے فولادی ہاتھ ميں آگئ۔
جس کو اس نے موڑ کر اس کی پشت پر لگا دی اور اسکے چہرے کے پاس ہو کر بولا”نہايت چيپ طريقہ ڈھونڈا ہے آپ نے ميری توجہ حاصل کرنے کا۔
“کياکيا۔۔۔۔۔۔ چيپ ہوں گے آپ بلکہ چيپسٹر۔۔ھمم چيپو کہيں کے۔۔۔آآ۔۔چھوڑيں ميرا ہاتھ۔ بتاتی ہوں پاس ورڈ” وہ درد سے چلائ۔”آئندہ چيلنج نہيں کرنا” حديد نے اسے چھوڑتے ہوۓ کہا۔”ھمم دہشتگرد” حورين تيزی سے پاس ورڈ پيپر پر لکھتے ہوۓ بڑبڑائ
ابھی وہ حورين سے مغز ماری کرکے فارغ ہوا تھا کہ حسن کی موبائل پہ کال آ گئ۔
“آ گيا مسٹر وکيل”جب سے حسن نے حورين کی وکالت شروع کی تھی تب سے حديد نے اس کا نام مسٹر وکيل رکھ ديا تھا۔
“فرمائيں” “نہ سلام نے دعا شادی کرکے تو تيرا دماغ ساتويں آسمان پہ چلا گيا ہے۔”
“ويسے سوری يار کہيں رات کے اس وقت ميں نے تجھے ڈسٹرب تو نہيں کر ديا۔”حسن نے اسے شرم دلاتے بعد ميں شرارت سے چھيڑا۔ “جی ہاں بہت زيادہ ڈسٹرب کيا ہے۔” حديد نے غصے سے اسے جواب ديا۔ اور چلتا ہوا کمرے کے آگے بنی بالکونی ميں جا کھڑا ہوا۔”اوۓ ہوۓ لگتا ہے بھابھی سے سيٹنگ ہو گئ ہے، کيا بہت بزی تھا۔”
حسن شرارت کرنے سے باز نہيں آيا۔”ہاں جی بڑی زبردست سيٹنگ ہو گئ ہے۔ لوگوں کو دن ميں تارے نظر آتے ہيں اور مجھے رات ميں سورج نظر آگيا ہے۔” حديد نے جلے دل سے کہا۔ “ہا ہا ہا۔۔۔۔ کيا تو اتنا ہی جولی شادی سے پہلے تھا يا بھابھی کے زير اثر رہنے کی وجہ سے ہوگيا ہے۔” نہيں جانی! جولی تو ميں پہلے تھا اب تو دہشت گرد بن گيا ہوں۔” مسکراتے ہوۓ اسے حورين کا ديا ہوا لقب ياد آيا۔ “يہ بھابھی نے کہا تجھے” حسن نے اسکا تمسخر اڑايا۔”جس نے بھی کہا تو اب تو فون بند کر” اور ساتھ ہی حديد نے لائن کاٹ دی
———————————-
حديد نے سائرہ بيگم کی گود ميں سر رکھتے ہوۓ تھکے ہو ۓ لیہجے ميں کہا ‎ “ممی چاۓ پلوا ديں پليز”
“صبح سے تم تھے کہاں” انہوں نے حورين کو آواز دے کر چاۓ لانے کا کہا۔ساتھ ساتھ اس کے بالوں ميں ہاتھ پھير رہيں تھيں۔
“بس حسن کا کچھ کام تھا اسی ميں دير ہوگئ۔” اس نے انکے ہاتھوں کی نرمی محسوس کرتے ہوۓ کہا۔ “وليمے کے لئے تو تمہارے مزاج نہيں مل رہے سو آج حورين کے پيرينٹس نے ہميں ڈنر پے انوائٹ کيا ہے۔” حديد نے برا سا منہ بنايا۔”چلو اب کيا ميرا جانا ضروری ہے وہاں” حديد نے اکتاہٹ سے کہا
“حديد بہت بری بات ہے۔ بيٹا خود احساس کرو۔ وہ لڑکی صبح سے شام ہمارے ساتھ خوش اخلاقی سے رہتی ہے۔ ہماری خدمت کرتی ہے۔ تمہارا دل ڈرا نہيں کانپتا يہ سوچ کر کے کہ قيامت کے دن کيا کہوگے کہ جس رشتے کو اللہ اور رسول کے نام پہ قائم کيا اس کے ساتھ يہ سب کيا۔”انہوں نے تاسف سے کہا۔ “ميں نے نہيں آپ لوگوں نے زبروستی اس کو ميرے ساتھ باندھا ہے۔ زندگی عزاب ہوگئ ہے ميری۔” غصے سے وہ انکی گود سے اٹھتے ہوۓ بولا۔ تيزی سے جانے لگا اتنے ميں حورين اندر داخل ‎ہوئی چائے کے کپ کے ساتھ۔حديد کے آخری جملے اسکے کانوں ميں پڑے تھے۔ کہيں اندر بہت شديد درد اٹھا تھا۔
دونوں کا تصادم ہونے والا تھا کہ حورين نے بريک لگايا اسی چکر ميں چاۓ کا کپ اس کے ہاتھ سے گر گيا۔ کچھ چاۓ کے چھينٹے حديد کے اوپر گرے اور کچھ حورين کے ہاتھ پر۔
“واٹ دا ہيل۔ آر يو بلائنڈ” حديد نے اپنی ساری کھولن حورين پر نکالی۔ وہ جو پہلے ہی مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ اس نے سر اٹھايا آنسو بھری کالی بھنور سی آنکھوں نے حديد کو ديکھا۔
“سوری” حورين فقط اتنا ہی کہہ پائ اور واپس مڑ گئ۔ “حديد لگتا ہے ميری تربيت ميں واقعی کوئ کمی رہ گئ جو آج تم ايک لڑکی کی عزت کرنے سے قاصر ہو۔” ممی متاسف لہجے ميں کہتيں حورين کے پيچھے لپکيں۔ اور حديد وہ تو جيسے اب وہاں سے ہلنے سے قاصر تھا۔ اس نے اب تک حورين کا غصہ، جھنجھلاہٹ، بيزاری ہر روپ ديکھا تھا، مگر آنسو۔۔۔اسکے آنسو نہيں ديکھے تھے۔ اور شايد يہی ايک روپ حديد کی ہستی کو ہلا کر رکھ گيا۔ وہ خود کو اسکی کالی بھنور آنسوؤں سے بھری آنکھوں ميں ڈوبنے سے بچا نہ پايا۔ اسے لگا اب وہ ان لمحوں کےسحر سے کبھی نکل نہيں سکے گا۔
——————————-
“حديد ريڈی ہو بيٹا” سائرہ بيگم نے لاؤنج ميں داخل ہوتے پوچھا۔ جو سياہ شلوار قميض ميں ملبوس نہايت وجيہ لگ رہا تھا۔
شام سے اب تک اپنے دل سے جنگ لڑ رہا تھا۔ جو حورين کو اعلی مسند پے بٹھانے کے لئے حديد کے سب عذر جھٹلانے پہ تلا تھا۔ اسی کيفيت ميں پوچھ بيٹھا۔ “آپکی بہو تيار نہيں ہوئ” ممی نے خوشگوار حيرت سے اسکو ديکھا جس نے پہلی دفعہ حورين کے بارے ميں آرام سے بات کی تھی۔ “کيوں کيا وہ کمرے ميں تيار نہيں ہو رہی تھی۔”نہيں ميں تو۔۔۔”
“چليں ممی” ابھی الفاظ حديد کے منہ ميں تھے کے حورين بليک اور گرے کام والے کرتے اور پاجامے ميں روشنياں بکھرتی لاؤنج ميں آئ بعير حديد پر توجہ دئے ممی کے ساتھ پورٹيکو کی طرف بڑھی۔ “اوہو بليک بيوٹيز” انکے باہر آتے ہی بينا بھابھی شرارت سے بوليں۔
“آپ کيوں جيلس ہورہی ہيں۔”
حديد نے خوشگوار لہجے ميں جوابی کاروائ کی۔ حورين تو حديد کے اپنے ذکر پے اتنے خوشکوار لہجے کو سن کر دنگ رہ گئ۔
“بھائ ہم کيوں جيلس ہوں گے بلکہ ميں تو انتظار ميں ہوں کہ کب تمہارے چياؤں پياؤں آکر مجھے تائ کہيں گے، ميں بڑا بڑا فيل کرنا چاہتی ہوں۔”
حورين کا دل کيا انکے منہ پر ٹيپ لگا دے۔ حديد نے مسکراتے ہوۓ اسے اپنی ہيزل گرين آئز کے فوکس ميں رکھا۔
“آپکو اتنا شوق ہے تو ميں آج سے آپکو بھابھی کی جگہ تائ کہنا شروع کر ديتا ہوں۔”
حديد کی بات پہ سب نے مشترکہ قہقہہ لگايا۔ “چليں بھئ دير ہو رہی ہے”
فريد بھائ نے سب کو وقت کا احساس دلايا۔ حورين نے زبردستی ممی کو اپنی گاڑی ميں بيٹھا کر حديد نے بيک ويو مرر پيچھے بيٹھی حورين پر سيٹ کيا۔
“ہاں تو مسٹر آفيسر۔ لوگ صحيح کہتے ہيں کے آنسو عورت کا سب سے بڑا ہتھيار ہوتے ہيں۔ آج آپ بھی ان سے گھائل ہو ہی گۓ۔”
حديد نے بے بسی سے کار چلاتے حورين کی بھنور آنکھوں کو ديکھا۔ اپنی سوچوں سے چھٹکارا پانے کے ليے جيسے ہی اسٹيريو آن کيا اسے لگا
Jonathan Clay
اسی کے جزبات کی ترجمانی کر رہا ہے
I’m falling in,
I’m falling down.
I wanna begin
But I don’t know how
To let you know,
How I’m feeling.
I’m high on hope.
I’m reeling.
And I won’t let you go,
Now you know,
I’ve been crazy for you all this time.
I’ve kept it close
Always hoping
With a heart on fire,
A heart on fire.
انہيں سوچوں ميں حورين کے پيرينٹس کا گھر آگيا۔ حورين کے ماما بابا اور ايک بھائ وليد اور بہن شزا نے انکا استقبال کيا۔
چا ۓ کا دور چلا تو حورين بنانے چل پڑی
جيسے ہی حديد کو دينے کے لئے آگے بڑھی تو وہ شرارتی لہجے ميں آہستہ سے بولا۔
“پھر کپ توڑنے کا ارادہ تو نہيں۔”
حورين تو حيرت کا مجسمہ بن گئ حديد کاايسا لہجہ سن کر۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: