Rooh Ka Rishta Novel by Bilal Malik – Episode 3

0
روح کا رشتہ از بلاول ملک – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ ناشتہ کرکے جونہی ممی کے کمرے ميں انٹر ہونے لگا حورين اور بينا بھابھی کہيں جانے کو تيار نظر آئيں۔ “خيريت صبح صبح کہاں کی تياری ہے۔
حورين کے خوبصورت گرين شال ميں لپٹے چہرے کو فوکس کرتے ہو‌ۓ پوچھا اور اس نے نظريں ملانے سے گريز کيا کيونکہ کل سے حديد کی آنکھوں کی چمک اسکو الجھن ميں مبتلا کر رہی تھی۔
“ديور جی ہماری تو اب دوپہر چل رہی ہے۔ بس ذرا لبرٹی تک جارہے ہيں۔”
بينا بھابھی نے تفصيل بتائ۔ “ميں لے چلوں
“”ايک منٹ۔۔۔۔ايک منٹ یہ تم ہی ہو نہ جسے بازار جانا دنيا کا سب سے بورنگ کام لگتا تھا” حديد نے خجل ہو کر مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کی۔
“آپ کا کيا بھروسہ ميری بيوی کو گما ديں۔
وہ بھی حديد تھا کہاں قابو ميں آتا۔
“ايسا جورو کا غلام نہ کبھی ديکھا نہ سنا۔ اب تو اور دير سے اسکو لے کر آؤں گی”
بھابھی نے حورين کے ساتھ قدم باہر کی طرف بڑھاتے اور بھی شرارتی لہجے ميں کہا
“ميں آپ کے پيچھے آجاؤںگا”
کل سے اب تک جتنا خود کو جھٹلا رہا تھا اتنا ہی دل اس چہرے سے ہٹنے کا انکاری تھا۔ اور وہ یہ نہيں جانتا تھا کہ کچھ دير بعد اسکو واقعی اسکو انکے پيچھے جانا پڑ جا ۓ گا
——————————-
‎ “ہيلو”
حديد نے جيسے ہی فون اٹينڈ کيا تو فريد بھائ کی گھبرائ ہوئ آواز آئ
“بينا اور حورين گھر آگئ ہيں؟؟”
انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا۔حديد کو کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا۔
“نہيں تو کيوں خيريت۔”
“نہيں خيريت نہيں ہے۔ لبرٹی کی ايک بلڈنگ ميں بم بلاسٹ ہوا ہے۔ ميں دونوں کو کال کر رہا ہوں وہ اٹينڈ نہيں کر رہيں۔ تم انہيں ٹريس کرو پليز”
“اوکے”
حديد اب ان کو کيا بتاتا کہ ان ميں اتنے اچھے تعلقات نہيں تھے کے وہ نمبر ايکسچینج کرتے۔ اس نے ممی سے حورين کا نمبر ليا ليکن بزی ٹون جاتی رہی۔ پھر بھابھی کو ليکن ندارد۔ اسے لگا زميں اس کے پاؤں کے نيچے سے سرکتی جا رہی ہے۔
“ممی ميں نکلتا ہوں آپ دعا کيجئے گا”
حديد روتی ہوئ سائرہ بيگم کو کہتا ہوا مارکيٹ کی طرف نکلا۔ ساتھ ساتھ دونوں کو کال کرتا جا رہا تھا۔
“اے اللہ مجھے معاف کر ديں۔ ميں نے آپ کے بناۓ گۓ رشتے کو سواليہ نشان بنا ديا۔ ايک بے قصور کو صرف اپنی بے مقصد سوچ کی خاطر سزا دی۔ ہم کيا اور ہماری اوقات کيا۔ مجھے ايک چانس دےديں سب ٹھيک کرنے کا ميں اس سے ہزار بار معافی مانگ لوں گا۔ گو می ون لاسٹ چانس”
بے بسی کی انتہاہ تھی اسکے لئے۔ کار اڑاتا ہوا وہ وہاں پہنچا۔جيسے ہی اس نے بينا بھابھی کے نمبر پہ کال پھر سے ملائ تو اٹھا لی گئ۔ “کہاں ہيں آپ لوگ”
“ميں۔۔۔ميں يہاں ميٹرو کے سامنے ليکن حد۔۔حديد حورين پتہ نہيں کہاں ہے۔”
بھابھی کی آواز سن کے وہ جو ريليکس ہوا تھا انکی بات سن کے لگا جسم ميں سے روح نکل گئ ہو۔
“ميں آ رہا ہوں”
بدقت وہ بولا۔
بھابھی کے پاس پہنچا
“آپ دونوں تھيں کہاں”
“ہم اسی پلازہ ميں تھے جب يہ سب ہوا۔ وہيں گھبراہٹ ميں ہاتھ چھوٹ گيا۔
” بھابھی نے روتے ہوۓ بتا کر حديد کی پريشانی ميں اضافہ کيا”
اوکے آپ يہ چابی لے جا کر گاڑی ميں بيٹھيں ميں چيک کرتا ہوں”
انکو چابی پکڑا کر وہ اسی بلڈنگ کی جانب بڑھا۔ قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔ وہاں ہر جانب پوليس نے گھيرا ڈالا ہوا تھا۔ وہ اندر جانے لگا تو ايک اہلکار نے روکا۔ اس نے ساتھ ہی اپنا سيکرٹ سروسز والا کارڈ دکھايا تو اس نے راستہ دے ديا۔ ساتھ ساتھ وہ حورين کو کال ملا رہا تھا۔ چوتھی مرتبہ ميں فون اٹھا ليا گيا۔
“ہيلو”
حورين کی نحيف سی آواز سن کے اسے لگا اندر تک سکون اتر گيا ہے۔
“کہاں ہو حور۔ ميں حديد آپکو اسی بلڈنگ ميں ڈھونڈ رہا ہوں۔”
“حد۔۔۔حديد۔۔م۔۔ميں شايد تھرڈ فل۔۔لور پہ۔” اور ساتھ ہی خاموشی چھا گئ۔حديد پريشانی سے بھاگتے ہوۓ اسی فلور پہ پہنچا” اے اللہ بس ايک چانس۔ مجھے کسی طرح اسکے پاس پہنچا ديں”
ابھی وہ پريشانی سے ادھر ادھر ديکھ رہا تھا کہ ايک پلر کے پاس حورين آخرکار نظر آگئ۔ وہ بيہوش تھی۔ايک ہاتھ ميں موبائل تھا۔ حديد نے اسے جلدی سے اپنی قيمتی متاع کی طرح بازؤں ميں اٹھايا اور نيچے کی طرف بھاگا۔
—————————
“پليز ڈاکٹر کليرلی بتا ديں کے حور کے بچنے کے چانسز کتنے ہيں”
حديد نے دل کڑا کرکے ڈاکٹر سے پوچھا۔ سارا گھر ہاسپٹل آگيا تھا۔ ہر کوئ دعا کر رہا تھا۔ “ديکھو ينگ مين۔ بلڈنگ اور نروس بريک ڈاون کی وجہ سے ميں صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ نيکسٹ سکس آورز آر ويری امپورٹنٹ۔ آپ دعا کريں کے اسی ميں اسے ہوش آجاۓ۔ ادر وائز ير بيٹر نو۔” ڈاکٹر کی آخری بات پہ حديد نے ہونٹ بھينچ کر چہرہ نيچے کر کے اپنے آنسؤوں کو بمشکل باہر آنے سے روکا۔
اور پھر سب کی دعاؤں سے اللہ نے اسکو ايک نئ زندگی دے دی۔ سب اس سے ملنے گۓ سواۓ حديد کے۔
“اب آپکو روبرو ملوں گااپنی سب غلطيوں کی معافی مانگ کر۔”
——————————
ايک ہفتہ ہاسپٹل رہ کر جب حورين گھر آئ تو سائرہ بيگم نے اسکو اپنے کمرے ميں ٹھرا ليا۔ کيونکہ کمزوری کی وجہ سے وہ ابھی سيڑھياں نہيں چل سکتی تھی۔ اور يہ دن حديد پر نہايت کڑے گزر رہے تھے ۔ آخر ايک دن وہ ممی سے بات کرنےانکے پيچھے کچن ميں جا پہنچا۔ “اب کيا ساری زندگی اپنی بہو کو اپنے رکھيں گی يا مجھے واپس بھی کريں گی۔”
“دل تو نہيں کر رہا اسے تمہارے حوالے کرنے کا” ممی نے اسکی جھنجھلاہٹ کا مزہ ليا۔”تو پھر آپ ايسے کريں ميرے روم ميں شفٹ ہو جائيں۔ اور ميں نيچے آجاتا ہوں۔ کيونکہ آپکے تو کوئ ارادے نہيں لگ رہے نہ اپنے مياں کے پاس جانے کے نہ ميری بيوی کو اسکے مياں کے پاس آنے دينے کے۔”
نہايت جل کر انکو مشورہ ديا گيا۔
“ہا ہا ہا اتنے اتاولے کيوں ہو رہے ہو۔ وہ مسلسل حديد کی حالت کا مزہ لے رہی تھيں۔”
آپ ظالم سماج نہ بنيں۔ جب اسکی جانب متوجہ نہيں تھا تب آپ نے ميرے دن رات کان کھاۓ ہوۓ تھے۔ اب جب اسکی جانب آنا چاہتا ہوں تو آپ نے ہمارا پردہ کروا ديا ہے ۔
” “اچھا بابا بھيج دوں گی آج” اسکی بے تابيوں پہ ہنستے ہو ۓ انہوں نے حورين کو بھيجنے کا وعدہ کيا۔
———————————————–
۔‎ ‎ “اچھی بھلی ميں ممی کے پاس تھی۔ پتہ نہيں کيا سوجھی انہيں اس کمرے ميں جانے کا حکم دے ديا جہاں کا مالک مجھے برداشت کرنے کو تيار نہيں۔ اس قدر گھورتا ہے۔ جيسے ميں نے کچھ چرا ليا ہو اسکا” حورين بڑبڑاتے ہوۓ سيڑھياں چڑھ کے حديد کے روم ميں داخل ہوئ۔ اندر آتے ہی نظر بالکونی ميں کھڑے حديد پر پڑھی۔ اسکی پشت دروازے کی جانب تھی۔ کھٹکے کی آواز پہ پيچھے مڑ کر ديکھا۔ حورين کو آتے ديکھ کر آنکھوں ميں محبت کا جہاں بسا‎ۓ آہستہ آہستہ چلتے اسکی جانب بڑھا جو صوفے پر سر جھکاۓ بيٹھی تھی۔
“طبيعت کيسی ہے”
محبتوں سے بھرے لہجے ميں سوال ہوا۔
“جی ٹھيک”
حورين نے جھکے سر کے ساتھ جواب ديا۔
“کيا ہم کچھ بات کر سکتے ہيں” حديد نے اجازت لی۔
“جی”
پھر مختصر جواب۔ حديد بيڈ کے کنارے ٹک گيا۔
“کيا ہم سب کچھ بھلا کر ايک نئ ميريڈ لائف سٹارٹ کر سکتے ہيں”
“جی”
حديد کی غير متوقع بات نے حورين کے حواس سلب کر دئے۔
“کيا کوئ مجبوری يا ترس”
حورين اسکے سابقہ رويے کی وجہ سے بس يہی سوچ سکی۔ “ميں چاہتا ہوں کے ہم پچھلی باتيں بھلا کر اس رشتے کو ويسے ہی گزاريں جيسے اسکا حق ہے۔”
حديد کی مسکراہٹ نے جلتی پر تيل کا کام کيا۔ ”
کيوں اب مجھ ميں کون سے سرخاب کے پر لگ گۓ ہيں۔”
اس نے غصے سے حديد کو گھورا۔
“مجھے نہيں پتہ کب کيسے ہاں مگر اس رشتے نے اپنا آپ منوا ليا ہے۔”
“واہ سيريسلی داد دينی پڑے گی آپکو۔ ايک نيا اور گھٹيا کھيل کھيلنا چاہتے ہيں آپ۔ محبت کے جال ميں پھنسا کر مزيد تماشا بنانا چاہتے ہيں مجھے۔ شايد آپکو اپنے الفاظ بھول گۓ ہوں مگر مجھے اچھی طرح ياد ہے آپ نے ہی کہا تھا نا کہ جس رشتے کی کوئ اہميت نہيں اس سے جڑے شخص کی بھی کوئ اہميت نہيں۔ پھر اب يہ سب کيوں۔”
وہ تو جيسے غصے سے پھٹ پڑی۔
“ميں اپنے سب الفاظ کا مداوا کروں گا۔” حديد نے اسکی کالی بھنور سی آنکھوں کو اپنی گرے گرين آنکھوں ميں جکڑا۔
“کس کس بات کا مداوا کريں گے۔ مجھے اس کمرے ميں آنا ہی نہيں چاہيے تھا۔ کتنے آرام سے آپ نے کہ ديا سب بھول جاؤ۔ميں وہ تضحيک کبھی نہيں بھول سکتی۔ آپ کے لئے آسان ہے بھولنا کيونکہ آپ نے نفرت نہيں سہی مگر ميں۔۔۔”
اس سے آگے اس سے بولا نہ گيا نجانے کياکيا ياد کرکے اس کے بے اختيار آنسو نکل پڑے۔ مگر وہ اس شخص کے سامنے رونا نہيں چاہتی تھی۔ فورا دروازے کی طرف بڑھی کے بائيں ہاتھ کی کلائ حديد کے ہاتھ ميں آ گئ۔ حيرت کے مارے مڑی۔
“آئ ايم سوری فار ايوری تھنگ۔ سوئيٹ ہارٹ”
حديد کی بات پر حيرت کی جگہ اشتعال نے لے لی۔ اور حورين کا داياں ہاتھ حديد کے گال پہ گھوم گيا۔ وہ تو اس شيرنی کے تيور ديکھ کر ششدر رہ گيا۔”
ہاؤ ڈير يو ٹو ٹچ می۔ ميں وہی ہوں جس نے آپ کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔ آئندہ يہ جرات مت کيجئے گا۔ ميں ابھی اتنی کمزور نہيں ہوئ۔ کہ جب جس کا دل چاہے مجھے روند دے۔”
حديد کو وارن کرتی وہ کمرے سے باہر نکل گئ۔
“کيا واقعی کچھ دن پہلے اسکو نروس بريک ڈاؤن ہوا تھا”
حورين نے اسکے چودہ طبق روشن کر دئيے تھے۔ پھر بھی اس نے ہار نہ ماننے کا مصمم ارادہ کيا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: