Rooh Ka Rishta Novel by Bilal Malik – Episode 4

0
روح کا رشتہ از بلاول ملک – قسط نمبر 4

–**–**–

اگلے دن صبح جب حورين کی آنکھ کھلی تو اردگرد کے ماحول سے مانوس ہونے ميں اسے کچھ وقت لگا ۔ حيران ہوتے اپنے چکراتے سر کو تھام کر بيڈ پر اٹھ کر بيٹھی۔ پھر يکدم ياد آيا کہ رات کو حديد پہ اپنا غصہ نکال کر وہ ساتھ والے کمرے ميں آ کرروتے روتے سو گئ تھی۔
اپنا بھاری ھوتا سر پکڑے کتنی دير وہ بے حس و حرکت وہيں بيٹھی رہی۔ رات کے تمام مناظر کسی فلم کی طرح دماغ کی سکرين پر چل رہے تھے۔ رات ميں جو بہادری دکھا آئ تھی اب خوفزدہ تھی کہ کہيں جزبات ميں حديد کوئ بڑا قدم نہ اٹھا لے۔آخر ايک لڑکی کا تھپڑ کوئ مرد کہاں برداشت کرتا ہے چاہے وہ مرد اسکا شوہر ہی کيوں نہ ہو ۔ جو بھی تھا مگر حورين کی نيت اس رشتے کو ختم کرنے کی نہيں تھی۔
خود کو سنبھالتے وہ فريش ہونے کے لئيے اٹھی۔”ممی اسطرح تو مت کريں۔ آپکو پتہ تو ہے ميرے کام کا نيچر ہی ايسی ہے۔ کسی وقت بھی کال آجاتی ہے۔ اب تو آپکو اس سب کی عادت ہو جانی چاہيے ليکن آپ ہر مرتبہ پہلے دن کی طرح ريکٹ کرتی ہيں۔” اس نے ابھی کچن کی جانب قدم بڑھاۓ ہی تھے کہ حديد کی آواز آئ۔
خود ميں ھمت پيدا کرتی آگے بڑھی۔ آخر کبھی تو اسکا سامنا کرنا تھا۔ “اسلام عليکم” حديد اور ممی ايک ساتھ اسکی جانب متوجہ ہوۓ۔ “اب کيا کہوں تمہيں پتہ نہيں تم نے يہ پروفيشن کيوں جوائن کيا۔” اسکے سلام کا جواب دے کر سائرہ بيگم پھر سے حديد سے مخاطب ہوئيں “آپکو تو فخر ہونا چاہئيے۔” حديد نے محبت سے انہيں ساتھ لگاتے ہوۓ نظروں کے فوکس ميں اس بے مہر کو رکھا۔
جو ٹيبل کے گرد رکھی چئير پے بيٹھے جوس پينے ميں ايسے مگن تھی جيسے اسکے اردگرد کوئ نہ ہو۔ حديد حسرت سے اسکو ديکھتا رہا جو اسکا سکون غارت کئيے کتنی پرسکون تھی۔
اسی لمحے حورين نے نظريں اٹھائيں۔ حديد نے جيسے ہی اسکو اپنی طرف ديکھتے پايا تو شرارت سے ہنستے ہوۓ بائيں آنکھ دبائ۔ جوس پيتی حورين کو اچھو لگ گيا۔
“ارے کيا ہوا بيٹا۔” ممی پريشانی سے اسکی جانب آئيں۔ اور جس کی وجہ سے حورين کی يہ حالت ہوئ تھی وہ مسکراہٹ دباتا کچن سے باہر چلا گيا۔
————————-
شام کا وقت تھا حورين مزے سےکمرے ميں بيٹھی ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی۔ کل رات سے پھر وہ حديد کے کمرے ميں نہيں گئ تھی۔ ويسے بھی حديد واپس اپنی ڈيوٹی پر وزيرستان جا رہا تھا۔ حورين نہيں چاہتی تھی کہ اس سے سامنا ہو مگر وہ يہ نہيں جانتی تھی کہ ہر خواہش پوری نہيں ہوتی۔
دروازے پر دستک ہوئ۔”يس کم ان” حورين کی اجازت پاتے ہی جو شخص اندر آيا، حورين اس سے اس وقت روبرو ہونے کو تيار نہيں تھی۔”سوچا جانے سے پہلے آپکو ايک نظر ديکھ لوں۔ پھر پتہ نہيں کب مل پائيں۔ مليں بھی يا نہيں۔” حديد نے اپنی مسکراتی نظروں سے حورين کے گرد سحر باندھا۔ اور اس مسکراہٹ سے اسکے چہرے پر پڑنے والے ڈمپل نے حورين کی نظروں کو جکڑ ليا۔
“ميں شايد اچھے سے آپکو سوری نہيں کہہ پايا۔ کيونکہ ميں جانتا ہوں کہ جو کچھ ميں نے کيا اسکے لئيے يہ لفظ بہت چھوٹا ہے۔ سو ميں اپنے عمل سے سب صحيح کرنا چاہتاتھا۔۔۔ليکن نہ وقت نے موقع ديا نہ آپ نے” اس کی نرم گرم نظروں نے حورين کو سر جھکانے پر مجبور کر ديا۔
“ليکن ميں مايوس نہيں ہوں۔ جب اللہ نے ميرے لئيے آپکو نئ زندگی دی ہے۔ تو وہ ميرے لئيے آپکے دل کو بھی نرم کرے گا۔ آئ کيں ويٹ ٹل مائ لاسٹ بريتھ۔” حورين خاموش رہی۔ جيسے ہی وہ خدا حافظ کہہ کر مڑا حورين نے آواز لگائ۔
“سنيں”وہ حيرت سے مڑا پھر شرارتی لہجے ميں بولا”مجھے روکنے لگی ہيں کيا” حورين اسکی شرارت سمجھتے لب بھينچ گئ۔ “ہا ہا!! آئ نو ابھی ميرے ايسے نصيب کہاں پليز آپ کہئيے” حديد نے سرد آہ بھر کے کہا۔”آپ۔۔۔۔آپ دوسری شادی کر ليں بس مجھے چھوڑيے گا مت مگر اب اس سب کے بعد ميرا دل آپکی جانب آنے پر آمادہ نہيں۔” حورين نے ادھر ادھر ديکھتے کانپتے لہجے ميں کہا۔
حديد پہلے تو اسکی بات سن کر دمبخود ہوا۔ پھر مسکراتے ہوۓ نفی ميں سر ہلانے لگا۔ آہستگی سے چلتا ہوا اس سے دو قدم کے فاصلے پر رکا۔ سينے پر ہاتھ باندھے کنفيوز کر دينے والی نظروں سے اسکو ديکھا جو ادھر ادھر ديکھنے ميں محو تھی۔ “آر يو سيرس۔ آپکو پتہ ہے دوسری شادی کرنے کی کنڈيشنز کيا ہيں۔۔۔ اس ميں بيلنس کا حکم ہے۔ اور آپکے لئيے تو ميں اپنا آپ فراموش کر چکا ہوں۔ دوسری کے حقوق کہاں سے پورے کروں گا۔ اور ويسے بھی کيا آپ اتنی آسانی سے مجھے کسی کے سپرد کر ديں گی؟” اسکی نگاہوں ميں جھانکتے حديد نے سوال کرکے حورين کو حيران کيا۔
“حور۔۔۔جتنی دنيا ميں ديکھ چکا ہوں۔ اسکی بدولت اب تو لوگوں کی آنکھوں کے ذريعے انکا اندر تک پڑھ ليتا ہوں۔ سو اتنا تو جان گيا ہوں کہ آپ مجھ سے نفرت نہيں کرتيں” اپنی مدہم مسکراہٹ سے حورين کے دل کا راز جانتے حديد نے اس کا سکون برباد کيا۔ “اسی لئيے اميد ہے کہ آپ ميری طرف ضرور لوٹ کر آئيں گی۔ ميں انتظار کروں گا۔” يہ کہتے ساتھ ہی حديد کمرے سے نکلتا چلا گيا۔
——————————
اسکے جاتے ہی حورين نے دوبارہ سے اس کے کمرے ميں قبضہ کيا۔ اگلے دن صبح ميں ہی شايان ايک بوکے ہاتھ ميں ليئے اسکے کمرے ميں آيا۔”چاچی يہ آپ کے لئيے کوئ دے کر گيا ہے۔ حوريں نے حيرت سے ديکھا تو انگلش ميں کچھ اشعار لکھے ديکھے۔
Hey stranger or may I call you my own
I know I don’t know you, but there’s somewhere I’ve seen you before
Whatever your name is, whatever you do
There’s nothing between us I’m willing to loose
Just call me if ever our paths may collide
I want you to call me under these darkened sky’s
Whoever you love, whoever you kiss
The wandering between us I’m willing to miss
Now I’m drifting out over deep oceans
And the tide won’t take me back in
And these desperate nights I’ll call you again and again
There’s comfort, comfort in things we believe
Other than danger, wanting the things I can’t see
Wherever you live now, wherever you walk
There’s distance between us I’m willing to cross
Now I’m drifting out over deep oceans
And the tide won’t take me back in
And these desperate nights I’ll call you again and again
Now I’m drifting out over deep oceans
And the tide won’t take me back in
And these desperate nights I’ll call you again and again
Hey stranger or may I call you my own
I know I don’t know you, but there’s somewhere I’ve seen you before.
يہ الفاط اسکے فيورٹ سانگ
Between us
کے تھے۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ کبھی يہ الفاظ اسکی زندگی کے حالات سے اتنی مطابقت رکھتے ہوں گے۔ ابھی وہ انہی سوچوں ميں گم تھی کے واٹس اپ پے ميسج کی ٹون آئ۔جيسے ہی اس نے فون چيک کيا تو کسی انجانے نمبر سے وائس ميسج آيا ہوا تھا۔ اس نے جيسے ہی پلے کيا تو حديد کی گمبھير آواز کمرے ميں گونجی۔
“صبح بخير سوئيٹ ہارٹ!۔ اميد ہے آپکو ميرے دئيے ہوۓ پھول مل گيۓ ہوں گے۔ جب سے آيا ہوں دل ہی نہيں لگ رہا اپنی شيرنی بہت ياد آرہی ہے”
حديد کے لہجے کی سرارتی مسکراہٹ اسکو اس ميسج مين بھی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ جس نے اسکے گال دہکا دئيے تھے۔
“کل سے اب تک اپنی حالت پہ ہنسی آرہی ہے کہ عشق بھی ہوا تو اپنی بيوی سے۔ اميد کرتا ہوں کہ ان پھولوں کو ڈسٹ بن کی نظر نہيں کريں گی۔ سوئيٹ وائفی۔ ٹيک کئير بائ
اور پھر تو يہ سلسلہ چل پڑا۔ روزانہ صبح ايک بوکے آتا۔ اور حورين کے موبائل پر ڈھيروں ميسجز جن ميں سے ايک کا بھی جواب حورين نہ ديتی۔ آخر ايک دن تنگ آ کر اس نے ممی سے شئير کرنے کا سوچا۔
“ممی آخر ايسا کيسے ہو سکتا ہے ايکدم سے کوئ شخص آپ سے اتنی محبت کرنے لگ جاۓ۔کل تک وہ ميری حيثيت ما ننے کو تيار نہيں تھے اور آج طوفانی محبت کے دعوے” ممی اسکی کنفيوڈ شکل ديکھ کر ہلکے سے مسکرايئں۔
“ميرے بچے نکاح کے بندھن کی ايسے ہی تو اسلام ميں اتنی اہميت نہيں نا۔دو بالکل انجان لوگ اس بندھن ميں بندھ کر اسطرح قريب ہوتے ہيں جيسے صديوں سے ايک دوسرے کو جانتے ہوں۔ ايسے ہی تواللہ نے تم دونوں کے نصيب نہيں جوڑ دئيے۔ اس نے تم دونوں کے دلوں ميں بھی محبت ڈالنی ہی تھی۔ اب جب وہ پورے دل کی آمادگی کے ساتھ تمہاری جانب بڑھ رہا ہے تو تم بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرو۔ انا کی ديوار مت کھڑی کرو۔ بيٹا يہ رشتوں کو کھوکھلا کر ديتی ہے۔ اور آخر ميں سواۓ خسارے کے کچھ ہاتھ نہيں آتا۔ اسکو اپنی جانب آنے دو۔ کھولے دل سے اسکو معاف کرکے تو ديکھو۔رشتوں ميں خاموشی ٹھيک نہيں ہوتی۔ تمھارا رشتہ تو ابھی کہننے سننے کے مراحل ميں ہے ۔ اسے خاموشی کی نظر مت کرو۔ ميں حديد کی ماں نہيں بللکہ تمہاری ماں بن کر تم سے درخواست کر رہی ہوں۔” پليز ممی آپ حکم کريں درخواست نہيں کريں۔”
حورين نے فورا انکے گود ميں رکھے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر انکا مان بڑھايا۔” بس پھر تم مجھ سے وعدہ کرو کہ آج ہی اسکی کال اٹينڈ کروگی۔ اور صحيح سے اسے ايک چانس دوگی۔” ممی جانتی تھيں کہ حديد روز اسے فون کرتا ہے مگر وہ اٹينڈ نہيں کرتی۔ حورين نے ان سے وعدہ کر ليا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: