Rooh Ka Rishta Novel by Bilal Malik – Last Episode 5

0
روح کا رشتہ از بلاول ملک – آخری قسط نمبر 5

–**–**–

رات ميں مخصوص وقت پر حديد کی کال آنے لگ گئ۔ وہ جانتا تھا کہ وہ نہيں اٹھاۓ گی پھر بھی مستقل مزاجی سے روز کرتا تھا۔ممی سے کئيے گئے وعدہ کی وجہ سے آج اس نے چوتھی بيل پر دھڑکتے دل کے ساتھ کال اٹينڈ کر لی۔
“اسلام عليکم” کپکپاتے لبوں سے بمشکل اس نے سلام کيا۔ دوسری جانب کتنے ہی لمحےحديد کو اپنے کانوں پر يقين نہ آياکہ کيا واقعی اس نے حورين کی آواز سن لی ہے۔
“ازديٹ رئيلی يو”
بے يقينی سے حديد نے حورين سے تصديق چاہی
“يس اٹس می حورين يور سو کالڈوائف”
جانے کيسے اسکے منہ سے يہ تلخ الفاظ نکلے تھے حالانکہ اس نے سوچا ہوا تھا کہ تحمل سے بات کرےگی۔ليکن حديد کی جذبوں سے بھر پور آواز سن کر اسے اپنی نا قدری شدت سے ياد آئ”
“ہا ہا ہا ایسے ہی تو ميں آپکو شيرنی نہيں کہتا۔ چھکے چھڑا ديتی ہيں آپ اور اوپر سے ميموری غضب کی ہے۔”
حديد نے اسے سو کالڈ وائف کہنے پر چوٹ کی۔”
آپ نے کيا يہی سب بتانا تھا”
حورين کو اسکی خوش مزاجی ايک آنکھ نہيں بھائ۔
“نہيں يہ پوچھنا تھا کہ کيا ايک اور تھپڑ کھانے آپ کے روبرو آسکتا ہوں۔”
جذبات سے بھر پور گھمبير لہجے نے حورين کے دل کی دنيا درہم برہم کردی۔
“اس تھپڑ کے لئيے ميں کبھی آپکو سوری نہيں کہوں گی۔ سو اسکو ياددلا کر آپ جو مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہيں وہ ناکام ہوگئ۔”
حورين نے اپنا لہجہ سخت اور مضبوط کرکے کپکپاہٹ چھپانے کی کوشش کی۔
“کون کافر آپکو شرمندہ کرنا چاہتا ہے۔ ميں تو صرف يہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر ہاتھ پکڑنے سے بڑھ کر کوئ جسارت کی تو کيا آپکا ري ايکشن اس سے بھی بڑھ کر خطرناک ہوگا۔” حديد کی سرگوشی نما آواز نے حورين کے چھکے چھڑاۓ۔
“آپ مجھ سے اتنی چيپ باتيں مت کريں”
حورين نے اسے ٹوکتے ہوۓ کہا
“تو پھر کس سے کروں ہنی۔ اصولا تو يہ باتيں بيوی سے ہی کرنی جائز ہيں۔ مگر آپ ہاتھ ہی نہيں آ رہيں۔کيا ساری زندگی ايسے ہی گزرے گی اتنی ہی دوری پے۔”
“ميں نے تو آپکو کہا تھا کہ دوسری شادی کر ليں۔ مجھ سے توقع مت رکھيں۔”
حورين کی بات پر دوسری جانب خاموشی چھا گئ۔
“اور اگر ميں آپکی آفر ريجيکٹ کر دوں۔ کيا ايک بھی موقع روبرو پھر سے معذرت کا نہيں مل سکتا۔آئ بيٹ کے اگر مجھے ميرے طريقے سے موقع ديں تو ميں آپکو منا لوں گا۔”
اسکے لہجے ميں چھپی بات کا مفہوم سمجھتے حورين کے دل کی دھڑکن تيز ہوئ۔
“حورين جب وہ ايکسيڈنٹ ہوا تھا تو مجھے يوں محسوس ہوا تھا کہ جيسے ميں نے آپکو کھو ديا ہے۔ميری تو قسمت اچھی تھی کہ اللہ نے آپکو مجھے لوٹا ديا۔اورمجھے موقع ملا اس رشتے کی سچائ جانی۔کيا آپ بھی کسی ايسے ہی ايکسيڈنٹ کی منتظر ہيں۔اور اگر
آپکی قسمت ميرے جتنی اچھی نہ ہوئ تو
“”اللہ نہ کرے”
حديد کی بات کا مفہوم سمجھتے وہ بے اختيار دل تھام گئ۔
“سريسلی لو اٹ!اسکا مطلب ہے ميری محبت نے ہلکی ہلکی دستک دی ہے۔ ادروائز ميں تو آمين سننے کا منتظر تھا۔”
حديد نے اسکی بے رخی پر چوٹ کی۔
“اتنی بھی سنگدل نہيں ہوں۔”
حورين نے ناراضگی سے کہا۔”اسکا مطلب ہے اگر کل کی فلائٹ پکڑ کر آپکے پاس آجاؤں تو آپ مجھے معزرت کرنے کا اور ان سب لمحوں کی روداد سنانے کا موقع ديں گی جب جب آپ مجھے اچھی لگيں اتنی کہ آپ سے محبت ہوگئ۔” حديد کی باتوں نے اسکی پيشانی عرق آلود کردی۔”ممی نے آج بہت سمجھايا سو ميں نے سوچا آپکو ايک موقع دينا چاہيۓ۔
آپ آ جائيں۔” حديد کی مزيد کنفيوز کرنے والی باتوں سے بچنے کے لئيے وہ جلدی سے بولی۔
“ممی کا منہ تو ميں آتے ہی چوموں گا۔ اور جن لبوں نے مجھے اجازت دی ہے انکے ساتھ کيا کرنا چاہئيے۔”
حديد کی بات کی گہرائ تک پہنچتے ہی حورين نے “چيپو” کہہ کر کال بند کر دی۔ تھوڑی ہی دير بعد حورين کوواٹس ايپ پہ حديد کا وائس ميسج ملا۔
“مجھے اميد ہے کہ ميرے جذبے کل اپنا آپ منوا ليں گے۔ آج رات تو نيند آنی مشکل ہے۔ اب اپنی ساری نينديں آپکے قرب ميں پوری کرنے کی خوایش ہے”
حورين نے اپنا چہرہ شرم سے سرخ ہوتا محسوس کيا۔ حديد کوغصے والا اموجی سينڈ کيا۔ساتھ ہی حديد نے سمائلی اور کس والا اموجی سينڈ کيا۔ اور اگلا ميسج پڑھ کر حورين اپنے آنسو روک نہيں پائ۔
“پليز ريپليس دا ورڈز مائ سو کالڈ وائف ود دا ورڈو مائ سوئيٹ وائفی” حورين کتنی دير اس ميسج سے نظريں نہيں ہٹا سکی۔
“آج جس طرح آپکی ہر بات پہ دھڑکتے ہوۓ ميرے دل نے مجھ سے بے وفائ کی ہے تو مجھے يقين آگيا ہے کہ يہ دل آپکی ہر بات پر ايمان لے آيا ہے۔ اور اس نے آپکی معزرت بھی قبول کر لی ہے۔ تو پھر يہ نام نہاد انا کس بات کی-” حورين نےآنسو کئيے۔ اور حديد سے کل ہونے والی ملاقات کا سوچتے۔ آنکھيں بند کرکے ليٹ گئ۔
————————–
رات ميں ہی وہ حسن کو اپنی آمد کے بارے ميں بتا چکا تھا۔ مگر گھر ميں کسی کو نہيں بتايا تھا سبکو وہ سرپرائز دينا چاہتا تھا۔ مگر يہ نہيں جانتا تھا کہ وہاں پہنچ کر سرپرائزڈ رہ جاۓ گا۔بيگ ہاتھ ميں ل‏ئيے وہ شام سات بجے جب داخل ہوا تو سناٹے نے اسکا استقبال کيا۔ حيران ہوتا جيسے ہی وہ ممی کے روم ميں داخل ہوا تو سب کو وہاں ديکھ کر مطمئن ہوا۔ اندر داخل ہوتے اسنے سلام کيا۔ مگر اسکی سرپرائزڈ آمد پر بھی ہميشہ والا جوش و خروش مفقود تھا۔ نہ وہ دشمن جان نظر آرہی تھی۔
“کيا بات ہے آپ لوگ اتنے سيريس بلکہ پريشان لگ رہے ہيں۔”
حديد کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
“وہ اصل ميں۔۔تم بيٹھ جاؤ پہلے پليز۔”
فريد بھائ جو اسکے پاس ہی کھڑے تھے کچھ کہتے رکے پھر اسے بيڈ پہ ممی کے برابر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
“ہوا کيا ہے؟”
بيٹھتے ہوۓ وہ فقط اتنا ہی کہ سکا۔ پريشانی بڑھتی ہی جارہی۔
“ايکچولی دوپہر ميں حورين کو ڈرائيور مارکيٹ لے کر گيا تھا۔ مگر وہاں کسی نے اسکو کڈنيپ کر ليا۔”
فريد بھائ کی بات سن کر وہ سناٹوں ميں چلا گيا۔
“ممی”
اس نے بے يقين نظروں سے ممی کو پھر باری باری سب کو ديکھا جيسے کوئ تو اس بات کے غلط ہونے کی تصدق کرے مگر سب نے نظريں چرائيں۔
“يہ سب دوپہر کو ہوا اور آپ مجھے اب بتا رہے ہيں۔ مر گيا تھا کيا ميں جو ايک کال نہيں کر سکتے تھے۔”
وہ کھڑے ہوتے فريد بھائ کے ساتھ الجھ پڑا۔
“تمہيں بہت ٹريس کيا ليکن شايد تمہاری سائيڈ پر سگنلز کا پرابلم تھا۔ کڈنيپرکی کالز آئ ہيں اور ہر مرتبہ وہ صرف تم سے ملنے کی ڈيمانڈ کر رہا ہے۔ کہتا ہے تم اس سے ملو گے تو وہ حورين کو چھوڑے گا۔کيا تم آج کل کوئ خطرناک کيس ڈيل کر رہے ہو”
فريد بھائ نے تفصيل بتاتے ہوۓ پريشانی سے استفسار کيا۔ اسے ياد آيا کہ صبح سے اسکے ايريا کی موبائل سروس بند تھی اور کيس تو بہت سارے تھے جن پر وہ کام کر رہا تھا۔
ابھی وہ يہ سوچ ہی رہا تھا کہ کڈنيپر کی کال آگئ۔ حديد نے لپک کر فون اٹھايا۔ ساتھ ہی نمبر چيک کيا جو کسی پی سی او کا تھا۔
“ہيلو” “اوہ۔۔۔۔کچے دھاگے سے کھچے سرکار آہی گۓ۔ واہ”
جو کوئ تھا حديد نے پہلی مرتبہ اسکی آواز سنی تھی۔
“تم ہو کون اور اس سب بکواس کا مقصد۔” حديد غصے سے پھنکارا۔
“دھيرج ميری جان۔۔۔ملو گے تو سب بتائيں گے۔۔۔ليکن ياد رکھناکوئ ہوشياری کی تو اب تک تو تيری بيوی کی جان محفوظ ہے۔ اسکے بعد کی ذمہ داری ہم پہ نہيں
“”شٹ اپ يو باسٹرڈ۔۔اگر ميری بيوی کو ذرا سی بھی خراش آئ تو ميں تمہاری نسليں ختم کر دوں گا۔ تم چاہتے کيا ہو”
حديد غصے سے چلا اٹھا۔”ہاہاہا! يہ کمبخت محبت ہے ہی ايسی۔۔۔بس ايک ملاقات ميری جان بڑے چرچے سنے ہيں تمھارے سوچا آج تمہيں بلا کر ديکھيں کے کتنے پانی ميں ہو۔خير 8بج کر 30 منٹ پرآجاؤں وہيں بتائيں گے تم سے کيا خدمت چاہيے۔۔۔اور اگر ليٹ ہوۓ تو آگے کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔”
مطلوبہ جگہ بتا کر کڈنيپر نے فورا فون بند کيا۔
“اسی لئيے ميں کہتی تھی يہ پروفيشن مت جوائن کرو”
حديد نے چونکہ مائيک آن کيا ہوا تھا سو سب نے ايک ايک لفظ سن ليا تھا۔ممی حديد پہ غصہ نکال کہ سر پکڑ کر بيٹھ گئيں۔ حديد نے گن لوڈ کی اور نکلنے کے ليئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کيونکہ کڈنيپر کی بتائ گئ جگہ کوئ فارم ہاؤس تھا جو شہر سے دور تھا اور جاتے ٹائم بھی لگ سکتا تھا اور حديد کوئ رسک نہيں لينا چاہتا تھا۔
“بيٹا تحمل سے رہنا”
ممی اسے سمجھاتے ہوۓ بوليں۔ جسکی ہستی زلزلوں کی زد ميں تھی۔ گاڑی اڑاتا وہ مطلوبہ جگہ پہنچا۔فارم ہاؤس کی جس سمت حديد کو آنے کا کہا گيا تھا وہاں بہت مدھم روشنی تھی۔ حديد جيسے ہی آگے بڑھا تو ايک جانب اسے ايک مرد اور عورت ٹيبل کے گرد بيٹھے نظر آۓ۔ مگر روشنی کم ہونے کی وجہ سے انکے ساۓ نظر آرہے تھے۔ جيسے ہی آدمی نے حديد کو آتے ديکھا وہ اپنی جگہ چھوڑ کر حديد کی جانب بڑھا۔ عورت نے بھی اسکی پيروی کی۔ انکو اپنی جانب بڑھتے ديکھ کر حديد نے جينز کی پاکٹ ميں موجود پسٹل پر گرفت مضبوط کی۔
“مان گۓ بھئ جناب تو عشق ميں گوڈے گوڈے ڈوبے ہيں۔ مرد کی آواز پہچان کر حديد کے منہ سے حيرت کے باعث بس اتنا نکلا
“حسن”
حسن نے موبائل پر کسی کو لائٹس آن کرنے کا کہا۔
جيسے ہی لائٹس آن ہوئيں۔ حورين اور حسن کا چہرہ نظر آيا۔ حديد تو ہکا بکا تھا۔
“مان گۓ نا بيٹا۔۔۔کيسے ہلا کر رکھ ديا ہے تجھے
‎ حسن مسکراتے ہو ۓ اسکی طرف بڑھا جو ابھی تک حيرت کی تصوير بنا تھا۔ جيسے ہی اسکے حواس نے کام کيا تو غصے سے قريب آتے حسن کو پنچ مارنے کی کوشش کی۔ وہ اگر متوجہ نہ ہوتا تو حديد کا پنچ اسکا چہرہ سجا ديتا۔حسن بچکر سيدھا ہوا اور اسکے ساتھ لپٹ گيا مزيد کسی کاروائ سے بچنے کے لئيے۔
“آئم رئيلی سوری يار! مگر جتنا تو نے بھابھی کو تنگ کيا ہے۔ ميں نے سوچا وہ تو بدلہ ليں گی تو ميں ہی تھوڑا تيرا دماغ سيدھا کر دوں۔”
حسن نےمسکراتے ہوۓ بتايا۔ اور حديد اسکی ڈھٹائ پر اور طيش ميں آگيا۔
چھوڑ مجھے بتاتا ہوں ميں تجھے ابھی۔” حديد حسن کی گرفت سے اپنا آپ چھوڑانے کی کوشش کرتا بولا۔
“پہلے وعدہ کر تو بھابھی کے سامنے ميری درگت نہيں بناۓ گا”
“اتنا خوف تھا تو يہ گھٹيا حرکت کيوں کی، اور وہ ميرے گھر والے اور ايک يہ گھر والی سب تيرے ساتھ شامل ہو گۓ۔ غصے سے حورين کوگھورا جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی۔
“ديکھ يار سب ميرا پلين تھا۔
جب تو نے آنے کا بتايا تب ميں نے يہ چھوٹی سی شرارت سوچی۔ اور فون پر آواز بنا کر بولا تھا تاکہ تو پہچان نہ سکے۔ کنجوس انسان تجھے ايک کينڈل لائٹ ڈنر کا سر پرائز ديا ہے۔”
حسن نے اسے چھوڑتے اس ٹيبل کی طرف اشارہ کيا جہاں کچھ دير پہلے وہ دونوں تھے۔
“يہ چھوٹی شرارت ہے۔ تجھے ميری کچھ دير پہلے کی کنڈيشن کا اندازہ نہيں۔ دو مرتبہ ايکسيڈنٹ ہوتے بچا ہے۔
” حديد اب تک غصے ميں تھا۔
“اچھا يار سوری ناؤ انجوا ۓ يور ڈنر۔ اب جلد ہی وليمے کا کھانا بھی کھلا ‎ دے۔” حسن اب وہاں سے نکلنے کے ليۓ پر تول رہا تھا۔
“آئم سو ہيپی فار بوتھ آف يو۔ اور بھابھی کو کچھ مت کہنا وہ بڑی مشکل سے اس سب کے لئيے تيار ہوئيں تھيں۔
” حديد سے گلے ملتے حسن نے سرگوشی کی۔
“”تھيکس بڈی”
حديد نے اسکے سرپرائز ڈنر پہ شکريہ کيا۔ حسن کسی کو فون پر انکے لئيے ڈنر سرو کرنے کا کہتا چلا گيا۔ حديد چلتا ہوا اس دشمن جاں کی طرف آيا۔ جو وائيٹ اور ريڈ کنٹراسٹ کے نيٹ کے سوٹ ميں روشنياں بکھرا رہی تھی۔ حديد نے بے اختيار ہاتھ بڑھا کر اسکو ساتھ لگا کر خود ميں بھينچ ليا۔ حورين ششدر رہ گئ۔
“تھينکس گاڈ يہ صرف ايک مزاق تھا” حديد نے اسکے ہونے کا يقين کرکے اسے خود سے الگ کرتے کہا۔ پھر اسکا ہاتھ تھامے ٹيبل کی جانب بڑھا جہاں ڈنر سرو ہو چکا تھا۔کھانا کھانے کے دوران بھی حديد کی نظريں اسکے چہرے پر تھيں۔
“اب اگر آپ نے مجھے ديکھنا بند نہ کيا تو ميں ٹيبل کے نيـچے چلی جاؤں گی۔”
حديد اسکی گھبراہٹ سے محظوظ ہوا۔
“ميں ابھی تک بے يقين ہوں کہ آپ ميرے سامنے ہيں۔ خواب سا لگ رہا ہے۔”
حديد کی بات سن کر حورين شرارت سے مسکرائ اور اسکے ٹيبل پر رکھے ہاتھ ميں فارک چبھويا۔حديد نے ہاتھ کھينچتے غصے اور حيرت سے ديکھا۔
“سوری”
حورين شرارت سے مزيد مسکرائ۔
“گھر چل کر بتاؤں گا آپکو”
حديد نے مصنوعی غصے سے کہا۔
گھر آۓ تو سب اپنے اپنے پورشنز ميں جا چکے تھے۔ حديد انکی کلاس صبح لينے کا سوچ کر حورين کے ساتھ اپنے روم ميں آيا۔ جيسے ہی اس نے ڈريسنگ روم کی جانب قدم بڑھاۓ۔ حديد نے اسے بازو سے تھام کر روکا
۔”کيا ميں اتنی دور سے ايک کينڈل لائٹ ڈنر کے لئيے آيا تھا۔ ميں نئ زندگی شروع کرنے سے پہلے چاہتا ہوں کہ ہم ہر بات کلئير کرکے دل صاف کرکے ايک دوسرے کی جانب بڑھيں۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: