Roshan Khayal Novel By Riaz Aqib Kohlar

0
روشن خیال از ریاض عاقب کوہلر (مکمل ناول )

-**–**–

”دیکھو بیٹے !….تمھارے بڑے بھائی نے حفصہ کے ساتھ شادی کر کے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے ۔تمھیں بھی حفصہ کی چھوٹی بہن صفیہ کو قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونا چاہیے ۔وہ بہت پیاری بچی ہے ۔حفظ بھی کر رہی ہے اور ان شاءاللہ اپنی بڑی بہن کی طرح ہی سلجھی ہوئی ،سلیقہ شعار ،نماز روزے اور پردے کی پابند ثابت ہو گی ۔ایسی بیوی تو مرد کے لیے اللہ پاک کا عظٰم تحفہ ہوتی ہے ۔“
”نہیں ابو!“اس نے باپ کی نصیحت کے جواب میں نفی میں سر ہلایا۔”میں نے رخشی سے شادی کرنی ہے ۔کیونکہ صفیہ کی طرح پرانے خیالات کی مالک کم پڑھی لکھی کبھی بھی میری پسند نہیں رہی ۔ایسی جاہلو ںکو تو اونچے طبقے میں اٹھنے بیٹھنے کی بھی تمیز نہیں ہوتی ۔میری بیوی تو میرے شانہ بہ شانہ چلنے والی ہو گی ۔یوں بھی آج کل پردے وردے کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔کسی مخلوط محفل میں جب ایسی بی حجّن جائے گی جو ساری زندگی برقعے میں ملبوس رہی ہو تو یقینا اپنے شوہر کے لیے جگ ہنسائی کا باعث ہی بنے گی ۔یا پھر حفصہ بھابی کی طرف ایسے محفلوں سے کوسوں دور بھاگے گی ۔“
”مگر بیٹے !….مردوں کی محافل میں عورتوںکا کیا کا م؟“اس کے باپ نے نرم لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔”اور یہ تمھیں کس نے کہا ہے کہ شانہ ہ شانہ چلنے کا مطلب کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہوتا ہے ۔عورت اور مرد دو علاحدہ اصناف ہیں ۔مرد کاکام گھر سے باہر کاروبار کو سنبھالنا ہوتا ہے جبکہ عورت کی ذمہ داری گھر کا اندرونی نظام بہ حسن خوبی چلانا ہوتا ہے ۔ دیکھتے نہیں تمھارے بھائی کی ازدواجی زندگی کس خوب صورتی سے چل رہی ہے ۔حفصہ بیٹی صرف اس کی فرماں بردار نہیں بلکہ ساس سسر کی خدمت میں بھی پیش پیش رہتی ہے ۔“
اس نے بد تمیزی سے کہا۔”تو یوں کہیں نا ابو !….آپ کو بہو نہیں اپنی خدمت کے لیے خادمہ چاہیے ۔“
اس کے والد نے دکھی ہو کر کہا ۔”بیٹیاں والدین کی خدمت کر کے نوکرانیاں نہیں بن جاتیں ۔بہو بھی ساس سسر کے لیے بیٹی کی طرح ہوتی ہے ۔اور میں نے صفیہ سے شادی کا مشورہ اپنی خدمت کرانے کے لیے نہیں بلکہ تمھاری بہتری کے لیے دیا ہے ۔“
وہ خود سری سے بولا۔”اپنا اچھا بھلا میں خوب جانتا ہوں ابو !….میں جانتا ہوں کہ کس طرح لڑکی مجھے خوشیوں سے ہم کنار کر سکتی ہے اور کس قسم کی لڑکی میرے لیے وبال جان بن سکتی ہے ۔یاد ہے پچھلے ہفتے چچا کامران کے بیٹے کی شادی میں حفصة بھابی نے شرکت نہیں کی تھی اور دوستوں کے استفسار پر مجھے خواہ مخواہ جھوٹ بولنا پڑ گیا تھا کہ بھابی کی طبیعت ناساز تھی اس لیے شادی کی محفل میں شرکت نہ کر سکی ۔اگر میں حقیقت بتا دیتا تو آپ دیکھتے ہمارے پیچھے کیسے ڈرامے بنتے۔اور یقینا صفیہ بھی اپنی باجی کی طرح ہی ہو گی ۔ایسی لڑکیوں میں مردوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔جبکہ میں چاہتا ہوں کہ میری ہر قدم پر میرے ساتھ چلے ،میرے دوستوکے ساتھ ملے جلے ۔میرے ساتھ ہر قسم کی محفلوں میں جائے ،یہاں تک کہ نوکری کر کے معاشی لحاظ سے میرا ہاتھ بٹائے ۔یہ نہیں کہ ہر وقت بچوں اور گھر داری میں کھوئی رہے ۔یہ کام تو چار پانچ ہزار لے کر ایک آیا بھی اچھے طریقے سے سرانجام دے سکتی ہے ۔“
”ہونہہ!….“کر کے اس کے باپ عبداللہ نے گہرا سانس لیا اور صوفے سے اٹھتا ہوا بولا۔”زندگی تم نے گزارنا ہے بیٹا !….میرا کام تھا اچھی بات کی تلقین کرنا ،اب ماننا نہ ماننا تمھاری اپنی مرضی پر منحصر ہے ۔بس دعا یہی ہے کہ تمھارا انتخاب ،تمھاری توقعات پر پورا اترے۔“
جواباََ وہ آمین بھی نہیں کہہ سکا تھا ۔والد کے جاتے ہی اس نے آنکھیں بند کر کے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی ۔
”رخشی !“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔”نام ہی کتنا سریلا اور دلکش ہے ۔کتنی اچھی لگے گی ہماری جوڑی۔اور صفیہ نام ہی باوا آدم کے زمانے والا ہے ۔خود جانے کیسی ہو گی ۔ عورت اور گھر داری ہونہہ!….عورت نہ ہوئی بچے پیدا کرنے کی مشین ہو گئی ۔میری توبہ ابو ناراج ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ۔ان کی ناراضی کے خوف سے میں اپنی زندگی تو جہنم نہیں بنا سکتا ۔“
اس کی آنکھوں میں رخشندہ کا خوب صورت سراپا لہرانے لگا ۔وہ اس کی کلاس فیلو تھی ۔ علمی مباحث میں حصہ لینے والی ،ایک اچھی مقررہ ۔یونیورسٹی سپورٹس کی ایک سر گرم رکن ۔خوش شکل ،خوش لباس،خوش گفتار ۔گفتگو کرتی تو مخاطب کو لاجواب کر دیتی ۔دلائل اس کے ہونٹوں سے یوں نکلتے جیسے دھاگا ٹوٹنے پر موتی کے بعد دوسرا موتی گرتا ہے ۔ماسٹر کرنے کے بعد اس نے تو فوراََ نوکری کر لی تھی ،رخشی نے البتہ تھوڑا عرصہ آرام کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
کچھ دیر رخشی کی سوچوں میں کھوئے رہنے کے بعد ایک بھرپور انگڑائی لیتے ہوئے اس نے آنکھیں کھولیں اور میز پر رکھی کار کی چابی اٹھا کر کھڑا ہو گیا ۔اس کا ارادہ رخشی سے مل کر اسے والد سے ہونے والی گفتگو کے بارے بتانے کا تھا ۔
٭٭٭
اور پھر ایک سال کے اندر اند ر رخشی اس کی زندگی میں بہار کی خوش گوار ہوا کاجھونکا بن کر داخل ہو گئی ۔وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھ رہا تھا ۔شادی ہال میں اس کے دوستوں نے اس کی بیوی کی شان میں جو تعریفی جملے بولے انھیں سن کر اس کا سینہ فخر سے چوڑااور سیروں خون بڑھ گیا تھا ۔اسے اپنے بڑے بھائی مظہر پر ترس آنے لگا جس کی دنیا فقط اپنی بیوی اور بیٹے پر مشتمل تھی ۔تفریح کے نام پر وہ غریب کبھی کبھا ر ہی ہی اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ گھر سے باہر نکلتاوہ بھی اس طرح کہ حفصہ بی بی برقعے میں چھپی ملبوس زمانہ قدیم کی عورت کا نمونہ نظر آ رہی ہوتی ۔مخلوط محافل میں تو حصہ لینا اس کی بھابی کے نزدیک گناہ تھا ۔
ہنی مون کے لیے انھوں باہمی مشورے سے مری جانا پسند کیا تھا ۔رخشندہ نے بھی چونکہ نوکری کر لی تھی اور اسے کمپنی سے دو ہفتوں کی چھٹی ملی تھی اس لیے وہ باہر ملک جانے کا پروگرام نہیں بنا سکے تھے ۔
مری سے واپسی کے اگلے دن رخشندہ نے نوکری پر جانا شروع کر دیا تھا ۔اس کی ابھی تک چند دن چھٹی بقایا تھی اس لیے وہ گھر پر ہی آرام کرنے لگا ۔
دوپہر کے قریب اسے بری طرح رخشندہ کی یاد آئی اور کار لے کر وہ اس کے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا ۔اس کا ارادہ رخشندہ کو ساتھ لے کر کسی اچھے سے ہوٹل میں جا کر دوپہر کا کھانا کھانے کا تھا ۔
”رخشندہ بی بی تو چیئر مین صاحب کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے گئی ہوئی ہیں ۔“ اس کے استفسار پر دفتر کے چپڑاسی نے مودّبانہ لہجے میں جواب دیا۔
”کہاں ؟“اس نے کوفت زدہ لہجے میں پوچھا ۔
”سامنے والے ہوٹل میں ۔“اس نے کمپنی کی عمارت کے مخالف سمت میں بنے ہوئے جدید طرز کے خوب صورت ہوٹل کی طرف اشارہ کیا ۔
اظہر سر ہلاتے ہوئے وہاں سے نکل آیا اس کا رخ اس ہوٹل کی طرف تھا ۔
ہوٹل کے ہال میں داخل ہوتے ہی اسے رخشندہ اسے ادھیڑ عمر کے خو ش شکل مرد کے سامنے بیٹھی چاے پیتی نظر آئی ۔وہ دونوں خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔اور ان کی میز کی طرف بڑھ گیا ۔
”آﺅ اظہر!….ان سے ملو یہ ہیں میرے باس چودھری تکریم فاروقی صاحب۔“ اسے دیکھتے ہی رخشندہ خوش دلی سے تعارف کرانے لگی ۔”اور فاروقی صاحب !….یہ ہیں میرے شوہر نامدار اظہر اقبال صاحب !“
”آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔“تکریم فاروقی اس سے مصافحہ کرتے ہوئے رسمی لہجے میں بولا۔”بیٹھیں ۔“
وہ رخشندہ کے ساتھ پڑی نشست پر بیٹھ گیا ۔
”ہم نے تو کھانا کھا لیا ہے ۔آپ کیا لینا پسند کریں گے ؟“اس کے بیٹھتے ہی تکریم فاروقی نے خوش دلی سے پوچھا ۔
”نہیں شکریہ ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔یہ سن کر کہ رخشندہ کھانا کھا چکی تھی اس کی بھوک ہی مر گئی تھی ۔
”اچھا رخشی !….میں چلوں گا ۔“تکریم فاروقی چاے کی پیالی ختم کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔
”چلیں سر !….میں بھی چلتی ہوں ۔“رخشندہ اس کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی تھی ۔ ”ٹھیک ہے اظہر !….آپ چھٹی منائیں ،ہم نے کچھ ضروری کام نبٹانے ہیں ۔“یہ کہہ کر وہ فاروقی کے ساتھ چل دی ۔جبکہ اظہر وہیں بیٹھا اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا ۔
٭٭٭
”ددّا ….ددّا ….اووو….آ….“وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھا اخبار بینی میں مصروف تھا کہ اس کا ایک سالہ بھتیجا اس کی پتلون سے پکڑ کر اسے اپنی جانب متوجہ کرنے لگا ۔وہ چونکہ زیادہ تر دادا کے ساتھ کھیلتا تھا اس لیے اس کی زبان پر ددا کا لفظ چڑھا ہوا تھا ۔
”کیا بات ہے بھئی !“وہ اخبار لپیٹتا ہوا اس کو مخاطب ہوا ۔
”ددّا ….ددّا ….“وہ اسی لے میں شروع رہا ۔
”ادھر تمھارا دادا نہیں ہے جناب !“
”دے ….دے ۔“وہ اس سے اخبار چھیننے کی کوشش کر نے لگا ۔
”یہ لو یا ر!“اظہر نے اخبار اس کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑا ئی ۔
اخبار پکڑ کر وہ ڈرائینگ روم کے قالین پر بیٹھ گیا اور اخبار کو یون کھول کر دیکھنے لگا جیسے مطالعہ کر رہا ہو۔اس کی من موہنی صورت اور پھر اتنی پیاری حرکات دیکھ کر اظہر کو بے ساختہ اس پر پیار آ گیا ۔وہ صوفے سے اتر کر اس کے ساتھ ہی قالین پر بیٹھ کر کھیلنے لگا ۔وہ جلد ہی اس سے مانوس ہو گیا ۔ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اظہر اپنے بھتیجے کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ورنہ اس سے پہلے تو اس نے کبھی نظر بھر کر بھی بھتیجے کو نہیں دیکھا تھا ۔اور پھر رات کو وہ رخشندہ سے اسی بات کا ذکر کر رہا تھا ۔
”رخشی !….منیب کو دیکھا ہے کتناپیارا بچہ ہے ۔“
”بچے ہوتے ہی پیارے ہیں ۔“رخشندہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔
”آج میں کافی دیر تک موبی کے ساتھ کھیلتا رہا ہوں ۔میرا دل کرتا ہے ہمار ا بھی ایسا پیارا سا بیٹا ہو اور ہم بھی دفتر سے واپسی پر اس کے ساتھ کھیلیں ۔“اس نے دبے لہجے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا ۔
”شٹ آپ یار !….کن فضولیات میں پڑ گئے ہو ۔میں اتنی جلدی ماں بننے کے حق میں نہیں ہوں ۔بچہ میری سارے فگرز خراب کر دے گا ۔اور میں اتنا جلد بوڑھی نہیں ہونا چاہتی ۔ اور پھر میری جاب کا بھی تو مسئلہ ہے میں کوئی گھریلو خاتون تو ہوں نہیں ۔آئے روزپارٹیوں میں جانا ہوتا ہے ۔تم چاہتے ہو میں حفصہ کی طرح گھر میں قید پڑی رہوں ۔“
”مگر رخشی !….شادی کا مقصد بھی تو اپنی نسل کو آگے بڑھانا ہوتا ہے اور ……..“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔”ابھی تو عمر پڑی ہے اظہر !….بچے بھی ہو ں جائیں گے اور تم کھیل بھی لینا ۔لیکن فی الحال نہیں ۔ابھی میں اپنے پاﺅں میں زنجیر نہیں ڈالنا چاہتی ۔جوانی کے یہ دن زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ بچے سنبھالنے کے لیے ۔تمھاری بھابی تو بے وقوف عورت ہے ۔اس غریب نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے سوائے اپنے شوہر اور ساس سسر کے ۔“یہ کہہ کر وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی ۔جلد ہی اس کی بھاری کی سانسوں کی آواز اظہر کو سنائی دینے لگی ۔لیکن اسے کافی دیر تک نیند نہیں آسکی تھی ۔
صبح بھی جب وہ الارم بجنے کے ساتھ اٹھا تو رخشی ابھی تک سو رہی تھی ۔بستر سے اٹھ کر وہ غسل خانے میں گھس گیا ۔رخشی کا دفتر چونکہ ان کے گھر کے قریب ہی تھا اس لیے وہ تھوڑا لیٹ اٹھتی تھی ۔اس وقت تک اظہر ملازمہ کے ہاتھ سے ناشتا کر کے دفتر جا چکا ہوتاتھا۔
غسل خانے سے نکل کر وہ ڈائینگ ٹیبل پر آ بیٹھا ۔
”ماسی!….ناشتا لے آﺅ۔“ اس نے ملازمہ کو آواز دی۔
اسی وقت اس نے باورچی خانے سے اپنی بھابی کو نکلتے دیکھا ۔سلیقے سے دوپٹا اوڑھے وہ ٹرے میں ناشتے کے لوازمات سجائے اپنی خوا ب گاہ کی طرف جا رہی تھی ۔
”یہ بھی بس ہر وقت اپنے خاوند کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے ۔“اس نے طنزیہ انداز میں سوچا ۔اسی وقت ملازمہ نے اس کے سامنے ناشتا چن دیا اور وہ سر جھٹک کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
٭٭٭
”کتنا پیارا موسم ہے ۔“وہ آسمان پر اکٹھے ہوتے بادلوں کو دیکھ کر رومانوی لہجے میں بولا ۔”میرا خیال ہے آﺅٹنگ کے لیے چلتے ہیں ۔“
”نہیں جی !….سنگھار میز کے سامنے سے اٹھ کر وہ بیڈ کے قریب پہنچی اور بیڈ پر پڑا مفلر نما دوپٹا گلے سے لپیٹنے لگی ۔
”کیوں ….؟“اظہر کا موڈ خراب ہونے لگا تھا ۔وہ تو ایسے موسم کا دیوانہ تھا ۔اور ایسے موسم میں جب رخشندہ ساتھ ہو تو پھر تو کیا کہنے ۔
”یہ ساری تیاری میں نے پارٹی میں جانے کے لیے کی ہے ۔“
”کون سی پارٹی ؟“اظہر نے اس کے خوب صورت سراپے پر نظریں دوڑائیں ۔
”تکریم فاروقی صاحب نے اپنے ورکرز کے لیے کھانے کا اہتمام کیا ہے ۔“
”چھوڑو کھانے کو ،ہم دونوں کسی اچھے سے ہوٹل میں رات کا کھانا کھائیں گے اور پھر لمبی ڈرائیو پر جائیں گے ۔“
”نہیں جی !….آپ جائیں لمبی ڈرائیو پر میں تو اپنے باس کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں مول سکتی ۔“
”میں بھی تو تمھارا خاوند ہوں ؟“اس کے لہجے میںہلکی سی تلخی در آئی تھی ۔
”میرا خیال ہے آپ روایتی شوہر بننے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اس اس بارے ہم نے شادی سے پہلے ہی اچھی طرح طے کر لیا تھا کہ ایک دوسرے کی ترجیحات میں دخیل نہیں ہوں گے ۔اور بیوی ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کی غلام بن گئی ہوں ۔آپ آﺅٹنگ کے لیے اپنے دفتر کی کسی ساتھی کو سا تھ لے جائیں اگر میں اعتراض کروں تب آپ کا کچھ کہنا بنتا ہے ۔“
”میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔جو آپ سمجھ رہی ہیں ۔“اس نے فوراََ ندامت کا اظہار کیا ۔ ”میں تو بس یہ چاہ رہا تھا کہ اتنے اچھے موسم کو ایک بور سے پارٹی کے لیے نظر انداز کر دینا کہاں کی عقل مندی ۔ہم لمبی ڈرائیو پر جاتے ایک دوسرے کو اپنا حال دل سناتے اور……..“
”اور یہ کہ آپ آرام فرمائیں میں چلی ۔“رخشی نے قطع کلامی کرتے ہوئے اس کی جانب شوخ مسکراہٹ اچھالی اور کندھے سے پرس لٹکا کر ہاتھ ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
اس کے جانے کے بعد وہ کافی دیر بستر پر لیٹا رخشی کے رویے پر غور کرتا رہا ۔ اسے آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگا کہ اسے بیوی کے نام پر بس شب بسری کا ساتھی ملا تھا ۔ورنہ تو اس کا بناﺅ سنگھار ،خوب صورت لباس پہننا ،سجنا سنورنا سب کچھ مخلوط محفلوں میں شامل ہونے کے لیے ہوتا تھا ۔وہ کافی دیر انھی تلخ خیالات میں کھویا رہا ۔
آخر منفی سوچوں سے تنگ آ کر وہ بیڈروم سے باہر نکل آیا ۔ڈرائینگ روم میں اس کا بھتیجا موبی اپنے دادا کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔انھیں نظر انداز کرتا ہوا وہ باہر صحن میں نکل آیا ۔ہلکی ہلکی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی جس میں کوئی کوئی پانی کی بوند بھی شامل تھی ۔موبی کی ”ددا…. دے ،ددا ….دے ….“اسے دور تک سنائی دیتی رہی۔ وہ سڑک پر نکل آیا اور پیدل ہی ایک جانب روانہ ہو گیا ۔وہ فرلانگ بھر ہی گھر سے دور آیا ہوگا کہ اس کے بھائی مظہر کی کار زن سے اس کے قریب سے گزر گئی ۔اگلی نشست پر اسے کالے برقعے میں ملبوس جسم نظر آیا جو لازماََ اس کی بھابی کا تھا ۔ اس کے اندر عجیب سی تلخی گھل گئی تھی ۔وہ واپس گھر کی جانب مڑ گیا ۔اپنی خواب گاہ میں داخل ہوتے ہی وہ لباس تبدیل کرنے کا تکلف کیے بغیر بستر میں گھس گیا ۔اور پھر الٹے سیدھے خیالات کو سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی جو رخشی کی آمد پر کھلی تھی ۔وہ جدید تراش کے لباس میں مکمل بھیگی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔
’بہت تیز بارش ہے ۔“ اس کی جانب دیکھتے ہوئے وہ ہولے سے کپکپائی ۔
اس نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”مگر تم تو گاڑی میں تھیں ؟“
”صحیح کہا ۔“رخشی معصومیت سے بولی ۔”لیکن آپ میرے باس کو نہیں جانتے ۔فاروقی صاحب میں کسی بچے کی روح حلول کیے ہوئے ہے ۔پارٹی ختم ہوتے ہی مجھے کہنے لگے چلو بارش میں چہل قدمی کرتے ہیں ۔خود بھی بھیگ گئے اور میرا بھی یہ حال کر دیا ۔“
اپنے اندر اٹھنے والے غصے کی لہر کو اس نے بڑی مشکل سے دبایا تھا ۔نامعلوم اتنا غصہ اسے کیوں آ رہا تھا ۔اپنے تاثرات رخشی سے چھپانے کے لیے وہ لباس تبدیل کرنے کے بہانے الماری کی طرف بڑھ گیا ۔
سلپنگ سوٹ پہننے تک وہ اپنے غصے پر قابو پا چکا تھا ۔بیڈ پر لیٹتے ہوئے وہ اسے مخاطب ہوا ۔
”میں کھانا نہیں کھا سکا ہوں ،اپنے ہاتھوں کی بنی چاے ہی پلوا دو ۔“
”بہت تھک گئی ہوں جان !“وہ اس کے ساتھ ہی بستر پرڈھیر ہوتے ہوئے لاڈ سے بولی ۔”امی جان یا بھای کو کہہ دیں نا وہ بنا دیں گی ۔“
اظہر نے خون کے گھونٹ بھرتے ہوئے کروٹ بدل لی ۔
”آپ تو خفا ہو گئے ۔“اس کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے وہ صفائی دینے لگی ۔ ”یقین کرو اظہر !….میں بہت تھک چکی ہوں ۔آدھا گھنٹا تو فاروقی صاحب مجھے بارش میں گھماتے رہے اور اس پہلے بھی مجھے بیٹھنے کا کوئی خاص موقع نہیں ملا کہ اس کی بیوی تو ہے نہیں پارٹی کا سارا انتظام بھی مجھے سنبھالنا پڑ گیا تھا۔“
اس بار بھی اس نے رخشی کی بات کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی تھی ۔اس نے بھی مزید صفائی دیے بغیر لائیٹ بجھا کر آنکھیں بند کر لیں ۔اس سے بے نیاز کہ اپنے اور خاوند کے درمیان پیدا شدہ خلیج کو اس نے کتنا وسیع کر لیا تھا ۔
٭٭٭
”کالے سوٹ کے ساتھ میچنگ کرتی ٹائی نہیں مل رہی ۔“وہ رخشی کو نیند سے جگا کر مستفسر ہوا ۔
وہ خفگی سے بولی ۔”تو مجھے کیا معلوم تم نے ٹائی کہاں رکھی ہے ۔میں نے کبھی اپنی چیزوں کے متعلق تم سے پوچھا ہے ۔خواہ مخواہ نیند خراب کر دی ۔“یہ کہہ کر اس نے دوبارہ سونے کے لیے آنکھیں بند کرلیں ۔
اور وہ غصے میں کھولتا بغیر ٹائی باندھے ہی دفتر کی طرف روانہ ہو گیا ۔اگلے دو دن رخشی سے اس کی گفتگو ہوں ہاں تک ہی محدود رہی ۔اس بات کو رخشندہ نے بھی محسوس کر لیا تھا مگر وہ اس بات کو اہمیت دینے پر تیار نہیں تھی ۔تیسرے دن انھیں اپنے کلاس فیلو ذیشان کی سالگرہ کا دعوت نامہ ملا چونکہ وہ دونوں مدعو تھے اس لیے وہ ایک مرتبہ پھر بیوی سے بات چیت کرنے پر مجبور ہو گیا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کی آپس کی خفگی کو دوسرے جان لیں اور بات کا بتنگڑ بن جائے ۔
وہ جونھی ذیشان کی کوٹھی میں داخل ہوئے وہ لپک کر ان کی طرف بڑھا۔
”آئیں جی آئیں ۔وہ کیا کہتے ہیں ،وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے۔“اس نے رخشی کو دیکھتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا ۔
جواباََ رخشی کا مترنم قہقہہ اس کی حوصلہ افزائی کے لیے گونجا ۔اور اس نے اپنا ہاتھ مصافحے کے لیے ذیشان کی طرف بڑھا دیا ۔
وہ رخشی کا مصافحے کے لیے بڑھایا ہوا ہاتھ پیار سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا ۔”رخشی !….خدا کی قسم اظہر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے ۔“
دوستوں کے منہ سے بیوی کی تعریف سننے کا خواہاں اظہر ،اس وقت کوئی خوشی محسوس نہیں کر سکا تھا ۔جبکہ رخشی کی مسکراہٹ ہر کسی کو ترغیب دینے والی تھی ۔وہ مردوں کے منہ سے اپنی تعریف سننے کی عادی تھی اور اس کو اپنا حق سمجھتی تھی ۔
ذیشان کو مل کر وہ آگے بڑھے ۔انھیں دوستوں نے گھیر لیا تھا ۔
اکمل نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔”ہائے رخشی !….آج تو قیامت ڈھا رہی ہو ، لگتا ہی نہیں کہ تم شادی شدہ ہو ۔“
”ہاں شادی کو تو بہت عرصہ ہو گیا ہے نا ۔“جبران نے منہ بنایا ۔”چند ماہ ہی تو بہ مشکل گزرے ہوں گے ۔“
عادل نے لقمہ دیا ۔”نہیں یا ر!….پھر بھی تازگی تو دیکھو محترما کے چہرے کی ۔شادی کا کچھ اثر تو نظر آنا چاہیے تھا ۔“
”اظہر بھائی !….آپ کا کیا خیال ہے ؟“فاران نے اس کی پیٹھ پر ہلکے سے تھپڑ مارا۔
مگروہ کوئی جواب نہیں دے سکا تھا ۔نہ جانے کیوںاسے رخشی کے ساتھ گپیں کرنے والے سارے کے سارے بہت برے لگ رہے تھے ۔اور ان سب سے زیادہ غصہ اسے رخشی پر آ رہا تھا ۔چند منٹ مزید وہ بکواس سننے کے بعد اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہونے لگا تھا ۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہاں سے بھاگ جائے ۔آخر اس سے زیادہ دیر برداشت نہ ہو سکا اور اس نے رخشی کو ایک طرف لے جا کر کہا ۔
”میرے سر میں درد ہے ،ہلکا سا ٹمپریچر بھی محسوس ہو رہا ہے ۔چلو گھر چلتے ہیں ۔“
”عجیب بات کر رہے ہو ۔“وہ بگڑ گئی تھی ۔”پارٹی چھوڑ کر چلی جاﺅں ۔تمام دوست کیا کہیں گے ۔میرا نہیں تو کچھ اپنی عزت ہی کا خیال کرو لو۔ایسا کرو تم کار لے جاﺅ میں کسی سے لفٹ لے کر آ جاﺅں گی ۔“
”غصے کی تیز لہر اس کے اندر اٹھی اور وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے نکل آیا ۔اس نے ذیشان سے بھی اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔تیز رفتار ڈرائیو کرتے ہوئے وہ گھر پہنچا ۔کار گیراج میں کھڑی کر کے وہ اپنی خواب گا ہ میں گھس گیا ۔اس کے دماغ میں اپنے باپ سے ہونے والی گفتگو گونج رہی تھی ۔وہ اسے آخری دم تک یہی کہتا رہا تھا کہ رخشی اس کے لیے اچھی بیوی ثابت نہیں ہو سکتی ۔اب اسے نہ رخشی کے پیسے کمانے سے کوئی غرض تھی اور نہ اس کے حسن سے کوئی مطلب ۔حسن بھی وہ جو صرف غیر مردوں کو دکھانے کے لیے تھا۔اب اسے ایک محبت کرنے والی اور خیال رکھنے والی بیوی کی ضرورت تھی ۔کوئی ایسی جس کا سجنا سنورنا صرف اس کے لیے ہو ،جسے پتا ہو کہ اس کے شوہر کا سامان کہاں پڑا ہے ،جو صبح اٹھ کر شوہر کے سامنے ناشتا رکھ سکے ،جو اسے بچے کا تحفہ دے سکے اور وہ ایسی ہو جیسے ….جیسے ….حفصہ بھابی ۔
”یقینا میں نے صفیہ کو ٹھکرا کر غلطی کی ہے ۔“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔
اسی وقت دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر اس کا والد اندر داخل ہوا ۔
”آئیں ابو جی !….“والد کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے بیٹا !….تم شاید کسی پارٹی میں گئے تھے ۔اتنی جلدی کیسے واپس آگئے ،اور بہو رانی کہاں ہے ؟“عبداللہ نے ایک ہی سانس میں کئی سوا ل کر ڈالے تھے ۔
”میر ے سر میں درد تھا ابوجان !….اس لیے چلا آیا ،رخشندہ ابھی تک وہیں ہے ۔“
”وہ تمھارے ساتھ واپس کیوں نہیں آئی ؟“
”ابھی تک پارٹی شروع تھی اور یہ مناسب نہیں تھا ۔“
”بری بات بیٹا !….چند دن پہلے بھی وہ اکیلی کسی پارٹی میں گئی تھی اور رات گئے لوٹی جبکہ تم کمرے میں بند رہے ۔اس رات تم نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا ۔“
اس مرتبہ وہ باپ کی بات کا جواب نہ دے سکا تھا ۔اسے خاموش پا کر عبداللہ نے اپنی بات جاری رکھی ۔”بیٹا !….ایک بات یاد رکھنا ،اگر بیوی کو اتنی آزادی دو گے تو وہ کبھی تمھاری وفادار نہیں رہے گی ۔میں تو اس کی نوکری کے حق میں بھی نہیں تھا اور تمھارے ساتھ مخلوط محافل میں شرکت کرنے کے بھی خلاف ۔تم نے تو اسے بالکل ہی بے مہار چھوڑ دیا ہے ۔بیٹے نبی پاک ﷺ کی ایک حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ
” دیوث جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ اس کی خوشبو کروڑوں میلوں کے فاصلے سے آتی ہے ۔“عرض کیا گیا دیوث کون ؟….تو فرمایا، دیوث وہ شخص ہے جو اپنے گھر کی عورتوں یعنی بیوی ،بیٹی ،،بہن وغیرہ کے بارے کوئی پروا نہ کرے کہ وہ کس سے مل رہی ہیں اور کون ان کے پاس آجارہا ہے ۔تو بیٹے تم بالکل اپنی بیوی کو اپنے شانہ بہ شانہ چلاﺅ مگر اتنا آزاد نہ ہوجاﺅ کہ شریعت تو کجا ہماری تہذیب و ثقافت کا بھی جنازہ نکل جائے ۔تمھاری بیوی کا تعلق تمھارے دوستوں کی بیویوں سے ہونا چاہیے نہ کہ تمھارے دوستوں سے ۔اور یہ میں تمھیں آخری بار سمجھانے آیا ہوں ۔اگر اس کے بعد بھی تم بہ ضد ہو کہ بہو کا ٹھیک کر رہی ہے تو بیٹے !….میری جائیداد میں اپنا حصہ لے کر تم ہنسی خوشی علاحدہ ہو سکتے ہو ۔مجھے اپنے گھر میں ایسا ماحول بالکل گوارا نہیں ۔باقی وہ اپنے ساس سسر کی بالکل خدمت نہ کرے ہمیں اس کی خدمت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ہمارے لیے ہماری بیٹی حفصہ کافی ہے ۔“
”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ابوجان !….رخشی سے شادی کرنا میری بہت بڑی غلطی تھی ۔اور میں اس غلطی کو سدھارنے کی کوشش کروں گا ۔اس عورت نے میرا سکون بھی برباد کر دیا ہے ۔“اس نے والد کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی ۔ پہلی بار اس پر والد کی باتوں کی حقیقت آشکارا ہوئی تھی ۔
اسے نادم دیکھ کر عبداللہ نرم لہجے میں بولا۔”اب بھی کچھ نہیں بگڑا بیٹے ۔اسے آرام سے سمجھانے کی کوشش کرو ۔ہو سکتا ہے وہ راہ راست پر آ جائے اور پیار سے سمجھانا سختی کرنا بعض اوقات بات کو بگاڑ دیتا ہے ۔“
اس نے مرتبہ اس نے فرماں برداری سے سر ہلادیا تھا ۔
”ٹھیک ہے بیٹا !….آرام کرو میں ذرا نماز پڑھ لوں ۔“یہ کہہ کر اس کا والد تو کمرے سے نکل گیا مگر اسے پریشانی میں مبتلا کر گیا ۔وہ کوئی ایسی تدبیر سوچنا چاہ رہا تھا جس سے رخشی کچھ بدل جاتی ۔وہ جانے کتنی دیر اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا ۔اچانک موبائل فون کی بجنے والی گھنٹی نے اسے چونکا دیا تھا ۔گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر رات کے بارہ بجتے نظر آئے ۔اس کے دوست اکمل کی کال آ رہی تھی ۔
”جی اکمل !….“اس نے موبائل فون کان سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔
”بھابی گھر پہنچ گئی ہے یار !“اس کے لہجے میں شامل شرارت اظہر سے چھپی نہیں رہ سکی تھی ۔
اس کے شرارتی لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”نہیں ….کیا پارٹی ختم ہو گئی ہے ؟“
”پارٹی تو ساڑھے دس بجے ہی ختم ہو گئی تھی ۔بھابی کو میں نے لفٹ کی آفر کی تھی مگر اس نے ذیشان کے ساتھ جانا پسند کیا ۔اور اب تک تو انھیں پہنچ جانا چاہیے تھا ۔بہ ہرحال کال کر کے پتا کرلو کہیں ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو ؟“اکمل نے لفظ حادثے پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا ۔
”میں پتا کر لیتا ہوں ۔“آہستہ سے کہتے ہوئے اس نے کال منقطع کی اور رخشی کا موبائل فون نمبر ملانے لگا ۔تیسری چوتھی گھنٹی پر اس نے کال اٹینڈ کی ۔اور اظہر کے کانوں میں اس کی مترنم ۔”ہیلو ۔“گونجی ۔اس کے ساتھ ہی اسے ہلکی ہلکی موسیقی کا شور بھی سنائی دینے لگا تھا ۔
”کہاں ہو تم ؟“بڑی کوشش سے اس نے اپنے لہجے کو نرم رکھا تھا ۔
”میں اور ذیشان لانگ ڈرائیو پر نکلے ہوئے ہیں بس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتی ہوں ۔“
”یہ کون سا وقت ہے لانگ ڈرائیوکا ؟“اس مرتبہ بھی اس نے اپنے اندرونی ابال پر قابو پا لیا تھا ۔
وہ شوخی سے بولی ۔”یہ بات اپنے دوست کو بتاﺅ نا ،پتا نہیں کون کون سی باتیں اسے آج یاد آ رہی ہیں ۔“
”جلدی گھر آﺅ ۔“اس مرتبہ وہ اپنے غصے کو نہیں دبا سکا تھا ۔کال منقطع کرتے ہوئے اس نے موبائل فون تپائی پر پھینکا ،جو تپائی کے بجائے نیچے قالین پر جا گرا تھا۔مگر اس نے موبائل فون اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”الو کی پٹھی !….“اس نے با آواز بلند کہا۔تھوڑٰ دیر پہلے اسے آرام اور پیار سے سمجھانے والے سارے خیالات بھک سے اڑ گئے تھے ۔اس سے بیٹھا نہ گیا ۔وہ بے قراری سے ٹہلنے لگا ۔
جلدی کی تاکید کے باوجود رخشی ڈیڑھ بجے کے قریب بیڈ روم میں داخل ہوئی ۔اپنا پرس بیڈ پر پھینک کر وہ اس کے ساتھ ہی ڈھیر ہو گئی ۔
”ہائے جان !….بہت تھک گئی ہوں ۔“اس نے گہر ا سانس لیتے ہوئے کہا ۔
”میرا خیال ہے ،میں نے کہا تھا جلدی گھر پہنچو ۔“اس کے سامنے کھڑ ہو کر وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
”میں آ تو رہی تھی ،مگر وہ ذیشان ہے نا ….“
”ذیشان ،تمھارا شوہر ہے یا بھائی ۔کیا رشتا اس سے ۔“وہ غضب ناک ہوتا ہوا دھاڑا۔
”کلاس فیلو ہے میرا ،اور یہ تم کس لہجے میں بات کر رہے ہو ؟“وہ اس کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہوئے بولی ۔مگر یہ کھڑا ہونا اسے مہنگا پڑاتھا ۔اظہر کا ہاتھ پوری قوت سے گھوما اور چٹاخ کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا ۔وہ تیورا کر چارپائی پر جا گری تھی ۔
وہ چیخا۔”لڑکی کا شوہر ،باپ اور بھائی کے علاوہ فقط یار کا رشتا ہوتا ہے جو کنجریوں کے ہوتے ہیں ،سمجھیں ۔“
”تت….تم وحشی ،جنگلی ،گنوار !….میں تمھارے ساتھ ایک منٹ نہیں گزار سکتی مجھے ابھی طلاق چاہیے ،اسی وقت ۔“
وہ باآواز بلند بولا۔”تو میں کون سا تم جیسی رنڈی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ۔“ اسی وقت اس کا باپ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔مگر اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کی بات جاری رہی ۔”میں تمھیں طلاق دیتا ہوں ،میں ….“مگر اس سے پہلے وہ کچھ آگے کہہ پاتا اس کے والد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔الفاظ اس کے منہ میں گھٹ کر رہ گئے تھے ۔
”کیا کر رہے ہو بے وقوف !….بس ایک دفعہ طلاق دینا کافی ہوتا ہے ۔“
”طلاق کا لفظ سن کر رخشی بالکل سن ہو گئی تھی ۔
”چلو میرے ساتھ ۔“اس کا والد اسے خوا ب گاہ سے باہر کھینچ کر لے گیا ۔اسی وقت اظہر کی ماں خواب گاہ میں داخل ہوکر رخشی کی طرف بڑھ گئی ۔
رخشی جس نے شادی کے بعد کبھی اپنی ساس سے سیدھے منہ بات نہیں کی اسے دیکھتے ہی اس کے ساتھ لپٹ کر رو دی ۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا میری بچی !“وہ اسے تھپکتے ہوئے بولی ۔”صرف ایک طلاق ہوئی ہے ۔اس کے بعد رجوع کی گنجائش موجود ہے ۔غمگین نہ ہو ۔“
”میں نے اس کے نہیں رہنا ،بالکل بھی نہیں رہنا ۔“وہ ہچکیاں لیتے ہوئے سسکنے لگی ۔
”اچھا وہ بعد کا مسئلہ ہے ۔“زتون بیگم نے تپائی پر پڑے شیشے کے جگ سے گلاس بھر کر اس کی طرف بڑھایا۔”لو پانی پیو۔“
رخشی گلاس پکڑ کر ۔چھوٹے چھوٹے گھونٹ لینے لگی ۔زتون بیگم نے تسلیاں دلاسے دیتے ہوئے اس کا موڈ نارمل کر دیا تھا ۔
”اچھا بات کیا ہوئی تھی جو اظہر اتنا غصے میں آ گیا تھا ۔“
”بس یونھی خواہ مخواہ ماں جی !“وہ رقت آمیز لہجے میں بولی ۔
”نہیں آخر کوئی بات تو ہوئی ہو گی ۔“زتون اسے کریدنے پر تلی تھی ۔
ساس کا اصرار دیکھتے ہوئے رخشی نے دے لفظوں میں اسے ساری بات بتا دی ۔
”تو یہ تمھارے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ؟….جوان لڑکی غیر مرد کے ساتھ رات کے بارہ ایک بجے سڑکوں پر گھوم رہی ہے ۔پگلی اس طرح تو صرف مادر پدر آزاد مغربی معاشرے میں ہوتا ہے ۔تم تو ایک مسلم لڑکی ہو اور مسلمان معاشرے میں مرد و عورت کا آزادنہ میل جول شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہے نہ معاشرے کی نظر میں ۔“
”مگر امی !….آج کل تو اس کا رواج ہے اور عورت کی آزادی کے لیے بیسیوں آزادی نسواں کی تحریکیں سر گرم عمل ہیں ۔“
”بیٹی !….اسلامی معاشرے میں اس کا کوئی رواج نہیں ہے ،یہ صرف مغرب کی اندھا دھند تقلید کرنے والے نام نہاد روشن خیالوں کا وتیرہ ہے ۔مرد کی عیار اور ہوس ناک طبیعت عورت کی ذمہ داری قبول کیے بغیر اس سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہے ۔وہ اپنی قانونی بیوی کی معاشی کفالت کو بوجھ تصور کرتا ہے اور اس مسئلے کا جو عیارانہ حل نکالا ہے اس کا خوب صورت اور دل لبھا دینے والا نام ”تحریک آزادی نسواں “ رکھ دیا ۔یہ تاریک ذہنوں والے روشن خیال عورت کو کھلونے سے زیادہ حیثیت دینے پر آمادہ نہیں ۔ذرا غور کرو کہ بھائی ،باپ اور خاوند کو کھانا پیش کرنے والی عورت ان کی نظر میں قیدو ذلت کی زندگی گزار رہی ہے ،گھر داری کے کام کرنا خواری ہے اور وہی عورت اجنبی مردوں کے لیے کھانا بنائے ،ان کے کمروں کی صفائی کرے ، ان کے سامنے جی حضوری کرے ،ہوٹلوں اور جہازوں میں ان کی میزبانی کرے ،دکانوں پر کھڑے ہو کر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے ،دفاتر میں اپنے افسران کی نازبرداری کرے تو یہ آزادی اور اعزاز کی بات ہے ۔ان بناسپتی روشن خیالوں کی ترجیح بس عور ت کو عارضی لذت کے لیے استعمال کر نا ہے ۔وہی عورت جو دوسرے کی بیوی ،بہن یا بیٹی کی شکل میں ان کے سامنے آتی ہے تو بڑھ چڑھ کر اس کے حسن کے جھوٹے سچے قصیدے پڑھیں گے لیکن جب انھیں کہا جائے کہ ہمیشہ کے لیے اس عورت کو اپنا لوتو انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے ۔جو عورت اتنے سہل انداز میں میسر ہو اس کے لیے شادی کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ۔میں تمھیں شرطیہ کہتی ہوں کہ اگر اپنی چاہت کے تمام دعویداروں کے پاس جا کر انھیں بتاﺅ کہ تمھیں طلاق ہو گئی ہے تو ان میں سے کوئی سورما ایسا نہیں ہوگا جو ہمیشہ کے لیے تمھارا ہاتھ تھامنے کے لیے تیار ہو جائے ۔ورنہ عام حالات میں یقینایہ جھوٹے عاشق تمھاری تعریفیں کر کر نہیں تھکتے ہوں گے ۔“ایک لمحے کے لیے رک کر اس نے گہرا سانس لیا اور پھر اس کی بات جاری رہی ….
”بیٹی !….یار رکھو اس دنیا میں ہونے والے سارے جھگڑوں اور فساد کے پسِ پشت تمھیں زر، زمین اور زن کا ہاتھ ہی دکھائی دے گا ۔ان میں اول الذکر دونوں چیزوں میں انسان ساجھے داری قبول کر لیتا ہے مگر عورت کے لیے مرد کبھی بھی شراکت پر اضی نہیں ہوتا ۔“
وہ گلوگیر لہجے میں بولی ۔”پر میں نے کب اس کی محبت میں کسی کو شریک کیا ہے ۔قسم لے لو جو میرے دل میں اس سے ذرا سی بھی بے وفائی کا خیال کبھی آیا ہو ۔“
”ایسا تو تم سوچ رہی ہو نا ؟….کبھی اپنے شوہر سے بھی اس بارے پوچھا ہے ۔“
رخشی نے نفی میں سر ہلادیا ۔
”بہ ہرحال جو کچھ بھی ہوا یہ اچھا نہیں ہوا ۔اس میں زیادہ قصور تمھارا ہے ۔مرد اور عورت شادی کے بندھن میں بندھ کر دو جسم ایک جان بن جاتے ہیں ۔ان کے دکھ ان کی خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں ۔ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام کرناجانبین کے لیے لازم ہوتا ہے ۔اگر غیر جانب داری سے سوچو تو تمھیں احساس ہو کہ تکلیف میں مبتلا شوہر کو گھر جانے کا مشورہ دے کر خود پارٹی کے ہلے گلے میں مشغول ہوجانا کتنی بڑی خود غرضی ہے ۔اور پھر اسی پر بس نہیں رات گئے تک غیر مرد کے ساتھ مٹر گشت ہو رہی ہے ۔کیااس کی خواہش کا پورا کرنا تمھارے شوہر کی تمنا سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا ۔اور میں یقین سے کہتی ہوں کہ آج جو کچھ ہوا اس کا محرک آج کا واقعہ نہیں ہے ۔اس کے پسِ پردہ اور بھی کئی وجوہات ہوں گی کیوں کہ ازدواجی زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتیں مل کر ایک بڑے حادثے کو جنم دیتی ہیں ۔“
”مجھے تو یاد نہیں کہ پہلے کبھی ایسا ہوا ہو ؟“گویا بہ ظاہر اس نے اپنی موجودہ غلطی تسلیم کر لی تھی ۔
”میں ساس ہو ں تمھاری اور اکٹھے ایک گھرکے اندر رہتے ہوئے کیا مجھے تمھارے معمولات معلوم نہیں ہوں گے ۔ایمان داری سے بتاﺅ کبھی شوہر کے لیے ناشتا یا کھانا تیار کیا ہے ، کبھی اس کے لیے سجی سنوری ہو ؟….اب یہ نہ کہنے لگا جانا کہ تم روزانہ ہی بناﺅ سنگھار کرتی ہو ، تمھارا وہ سجنا سنورنا اپنے مرد کے لیے نہیںبلکہ غیر مردوں کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے ،کسی محفل میں جانے کے لیے ،دفتر جانے کے لیے وغیرہ وغیرہ ۔جبکہ شوہر کے لیے سنورنے کا مطلب ہے تمھارا بناﺅ سنگھار صرف وہی دیکھے اور جب شوہر کے دیکھنے کی باری آتی ہے اس وقت تم جیسی لڑکی سلپنگ سوٹ پہن چکی ہوتی ہے ۔گویا شوہر کے لیے تمھاری سجاوٹ سلپنگ سوٹ تک محدود ہے ۔یاد رکھنا بیٹی !….شادی کا مطلب صرف جسمانی تعلقات قائم کرنا نہیں ہوتا ۔یہ تو بہت پاکیزہ رشتا ہے ۔اس کی تو بنیاد بھی ایک دوسرے کی خاطر قربانی دینا ہے ۔شوہر کاکام کما کر لانا اور بیوی کا کام اس کمائی سے بہترین طریقے سے گھر کا نظام چلانا ہوتا ہے ۔شوہر جب باہر سے تھکا ہارا گھر آتا ہے تو چاہتا ہے کہ کوئی اس کا استقبال کرنے والا ہو ،مگر یہاں تو بیوی صاحبہ خود صاحب روزگار ہیں وہ خاک شوہر کا استقبال کریں گی ۔پیسے ہی کو خوشیوں کا محور اور سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔خیر اس بات میں تمھارا شوہر بھی برابر کا خطا کار ہے ۔اور میری جان !….ٹھنڈے دماغ سے سوچو تو بات اب بھی نہیں بگڑی ۔اگر تم دونوں گاڑی کے پہیوں کی طرح اپنے اپنے دائرے میں گھومنا شروع کر دو تو شاید یہ پہاڑ سی زندگی ہنسی خوشی گزار سکو ورنہ تو چند دن بھی اتفاق سے رہنا تم دونوں کے لیے دو بھر ہو جائے گا ۔“وہ ایک لحظہ سانس لینے کو رکی اور پھر گویا ہوئی ….
”بیٹی !….یہ حسین صورت اور جوانی ہمیشہ رہنے والی نہیںہوتی ۔آج تمھیں اپنے گرد جن مردوں کا جمگھٹا نظر آ رہا ہے یہ صرف تمھاری جوانی اور خوب صورتی تک باقی رہنے والا ہے اس کے بعد یقینا تمھیں کوئی پہچاننے والا بھی نہیں ملے گا ۔ان مردوں کی مثال ان بھنوروں کی طرح ہوتی ہے جو صرف اس وقت تک پھول پر منڈلاتے ہیں جب تک کہ پھول تروتازہ ہوتا ہے ۔پھول کے مرجھاتے ہی وہ کسی دوسرے تازہ پھول کی تلاش میں سر گرداں ہو جاتے ہیں ۔ مجھے دیکھو آج اگر میں بن ٹھن کے ،میک آپ سے لدی کسی محفل میں پہنچوں تو کیا کوئی مجھے گھاس ڈالنے کے لیے تیار ہوگا ۔یقینا نہیں کوئی نہیں ہوگا ۔الٹا مجھ پر طنز و مزاح کے تیر چلائے جائیں گے ۔فقرے کسے جائیں گے کہ بوڑھی گھوڑی لال لگام اور بھی جانے کیا کیا کہا جائے ؟….تو کیا میں ہمیشہ سے ایسی ہوں ؟….نہیں بیٹی !….ایک وقت مجھ پر بھی ایسا بیتا ہے کہ میں بھی کئی دلوں کی دھڑکن اور کئی نگاہوں کا مرکز تھی ۔لیکن اس وقت میں نے حال سے عیش و نشاط کشید کرنے کے بجائے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ۔اور اظہر کے والد کے لیے اپنی ساری محبتیں ،چاہتیں اور خدمتیں وقف کر دیں ۔اور اس کا صؒہ مجھے یہ ملا کہ آج اس حالت میں بھی کوئی میرے لاڈ اٹھانے والا موجود ہے ۔میرے اس بوڑحے حسن کی تعریف کرنے والا،میرے دکھ درد پر تڑپنے والا موجود ہے ۔میں روٹھ جاﺅں تو اسے کھانا پینا اچھا نہیں لگتا ۔ناراض ہو جاﺅں تودن رات ایک کر دیتا ہے مجھے منانے میں ۔یہ کیوں ….؟اس لیے کہ میں نے اس وقت اس پر اپنی وفائیں اور چاہتیں نچھاور کی تھیں جب مجھے کئی چاہنے والے مل سکتے تھے ۔لیکن عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ تھوڑا جو ہمیشہ رہنے والا ہو اس زیادہ سے کئی گنا بہتر ہے جو لمحاتی ہو ۔تم آج بے شک شمع انجمن بنی رہو اور چراغ خانہ بننے سے اپنا دامن چھڑا لو مگر ایک وقت ایسا آئے کہ گزشتا بیتی پر تمھیں ندامت اور پچھتاوا ہو گا پر اس وقت اس کا مداوا ممکن نہیں ہوگا ۔ابھی تمھارے پاس وقت ہے ۔صبح کا بھولا اگ شام تک گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے ۔آگے بڑھ کر اپنے شوہر کو منا لو، اس کا کہا مانو ،اس کی جائزخواہش کے مطابق اپنی زندگی بسر کرو اور پھر دیکھو وہ کیسے تمھار اغلام بنتا ہے ۔اس وقت تمھیں پتا چلے گا کہ حقیقی خوشی کیا ہوتی ہے ۔بہ ہرحال باتیں بہت ہو گئیں اب تم آرام کرواور جو کچھ میں نے کہا اس پر غور کرو ۔“اس کی ساس نے کھڑے ہو کر اس کا سر سہلایااور ماتھا چومتے ہوئے بولی ۔”میری باتوں کے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا ۔اگر بھلی لگیں تو عمل کر لینا ورنہ جو جی چاہے کرنا ۔فائدہ اور نقصان تمھارا اپنا ہے ۔“
یہ کہہ کر زتون بیگم تو اس کی خواب گاہ سے نکل گئی لیکن وہ صبح تک نہ سو سکی ۔ساس کی باتیں اس کے دل کو لگی تھیں لیکن اس کے باوجود اس کا دل یہ ماننے کا تیار نہیں تھا کہ تکریم فاروقی ، ذیشان یا اکمل وغیرہ اس کے پیش قدمی کرنے اسے اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔وہ ذیشان جو ہمیشہ اظہر کی قسمت سے شاکی رہتا تھا کہ وہ بازی لے گیا ،وہ اکمل جو اس کے اشارہ ابرو کا منتظر رہتا کہ وہ کوئی حکم کرے اور وہ بجا لائے اور پھر تکریم فاروقی تو اس کے بغیر دن کا کھانا نہیں کھاتا تھا ۔وہ اس کا بندہ بے دام تھا ۔کمپنی اس کی تھی اور حکم رخشندہ کا چلتا تھا۔آخر ایک فیصلہ پر پہنچتے ہوئے وہ بستر سے اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی کہ دن چڑھ آیا تھا اور ساری رات جاگنے کے باوجود نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔
٭٭٭
”کیا کہہ رہی ہو ،تم نے اظہر سے طلاق لے لی ہے ،مگر کیوں ؟“ذیشان اس کی بات سنتے ہی حیرانی سے چیخ پڑا تھا ۔
اس نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔”کیونکہ اب میں اس کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی ۔اور پھر تمھارے دکھ کا بھی تو مداوا کرنا تھا جو تمھیں اظہر سے میرے شادی کرنے پر ہوا تھا ۔“
”رخشی !….وہ تو ایک مذاق تھا ۔فقط اظہر کو چھیڑنے کی خاطر میں اس طرح کہتا تھا ورنہ میری منگنی تو کب کی ہو چکی ہے ۔ سندس اور میں ایک دوسرے بہت پسند کرتے ہیں ۔ بلکہ اگلے ماہ ہماری شادی ہے ۔“
”کیا ….؟مگر یہ باتیں تو تم اظہر کی موجودی سے زیادہ اس کی غیر موجودی میں کرتے تھے ۔اور تمھارے آسرے پر میں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے ۔“
”میں معذرت خواہ ہوں کہ میرے رویے سے تمھیں غلط فہمی ہوئی ۔لیکن میں تمھیں اپنا نہیں سکتا ۔البتہ اگر کسی اور مدد کی ضرورت ہو تو ….“
”شکریہ ۔“اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے قطع کلامی کی ۔”گو میں کہہ سکتی ہوں کہ تم جیسے جھوٹے ،بے حیا اور بے غیرت ہوتے ہیں جو شادی شدہ عورتوں کی زندگی میں زہر گھولتے ہیں ، لیکن کہوں گی نہیں ۔کیونکہ جن کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی انھیں اس طرح غیرت دلانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔“
”رخشی !….تم تو خفا ….“
”شٹ آپ !….“کہہ کر وہ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے وہاں سے نکل آئی تھی ۔
اکمل اسے اپنے دفتر میں ملا تھا ۔اسے دیکھتے ہی وہ خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔
”زہے نصیب ….زہے نصیب ،آج چاند کدھر سے میرے دفتر میں طلوع ہو گیا ؟“
”آپ سے بہت ضروری کام تھا ۔اس لیے حاضر ہونا پڑ گیا ۔“وہ کرسی گھسیٹ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی ۔
”حکم ….حکم ۔“اس نے بے تابانہ لہجے میں پوچھا ۔
”میں نے اظہر سے طلاق لے لی ہے ۔“وہ ایک دم مقصد کی بات پر آ گئی ۔
”ہائیں ….اتنا بڑا قدم تم نے کیسے اٹھا لیا ؟“وہ حیرت سے اچھل پڑا تھا ۔
وہ ذومعنی لہجے میں بولی ۔”کسی کی آنکھوں کے چاہت بھرے پیغام پڑھ کر میں اس روکھے پھیکے شخص کے ساتھ زندگی کیسے گزار سکتی تھی ۔“
وہ روکھے پھیکے لہجے میں بولا ۔”اچھا ….جیسے تمھاری مرضی ۔اور شکر ہے تم آ گئیں ورنہ میں آج خود تمھاری طرف آ نے والا تھا ۔“
”کیوں ….؟“وہ دھڑکتے دل سے مستفسر ہوئی ۔شاید اس کی ساس کا اندازہ غلط ہونے جا رہا تھا ۔
”وہ دراصل امی جان اور میری بہنوں نے میرے لیے ایک لڑکی کا انتخا ب کیاہے اسی سے تمھیں ملانا تھا تاکہ تم کوئی بہتر مشورہ دے سکو ۔“
اور اکمل کی بات مکمل ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔ ”ویسے میرے بارے کیا خیال ہے ؟….اب تو میں اظہر کی بیوی نہیں رہی ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”کسی بات کر رہی ہو رخشی !….تم میری اچھی دوست ہو اور بس ….تمھیں میں نے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا ۔“
”اور اس سے پہلے جو بکواس کیا کرتے تھے اس کا کیا مطلب تھا ؟“
”میں نے تو تمھیں نہیں کہا کہ اظہر سے طلاق لے لو …. تم خواہ مخواہ مجھ پر بگڑ رہی ہو۔کیا کبھی ایسا کہا ہے میں نے تو بتاﺅ ۔“
”رومانوی شعر و شاعری ، وہ ذومعنی گفتگو وہ ہر ملاقات میں چھیڑ چھاڑ کرنا وہ کیا تھا ۔“ رخشندہ گویا پھٹ پڑی تھی ۔گو اسے اکمل سے کوئی لگاﺅ نہیں تھا ۔لیکن وہ اسے اتنا بے وقوف بناتا رہا تھا کہ اب اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔
”دیکھو محترما !….تم کسی ڈاکٹر سے اپنے دماغ کا علاج کراﺅ ۔تم جیسی لڑکی کو میں کیسے پسند کر سکتا ہوں جس کے درجنوں مردوں سے تعلقات ہوں ۔جو شوہر کے ہوتے ہوئے رات کو غیر مردوں کے ساتھ لانگ ڈرائیونگ پرنکلتی ہو ۔معاف کرنا بی بی اگر میں تمھارے ساتھ بے تکلف تھا تو اس کا موقع بھی مجھے خود تم ہی دیتیں تھیں ۔“
”صحیح کہا ۔بالکل صحیح کہا ۔شکریہ ۔“اس کے ابلتے ہوئے دماغ پر جیسے اوس پڑ گئی تھی ۔ وہ مزید کچھ کہے وہاں سے باہر نکل آئی ۔اپنے دو شیدائیوں کا حال دیکھ کر اسے مزید کسی چاہنے والے کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ،لیکن لگے ہاتھوں اس نے تکریم فاروقی سے ملنا بھی ضروری سمجھا جس کے اندر اس نے ہمیشہ اپنے لیے احترام اور چاہت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موج زن پایا تھا ۔گو وہ عمر میں اس سے کافی بڑا تھا مگر اعلا پرسنالٹی اور دولت نے اس کی اس کمی پر پردہ ڈالا ہوا تھا ۔اس کی کار فراٹے بھرتی ہوئی اپنے دفتر کی طرف بڑھنے لگی ۔
٭٭٭
”آج لیٹ ہو گئی ہو ۔“وہ بہ مشکل اپنے دفتر میں داخل ہوکر کرسی پر بیٹھ پائی تھی کہ تکریم فاروقی نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا ۔اس کے ساتھ ہی دفتر میں پڑے صوفہ سیٹ پھیل کر بیٹھ گیا تھا ۔یوں بھی اس کا زیادہ تر وقت اپنے دفتر سے زیادہ رخشی کے دفتر میں گزرتا تھا ۔
”بس سر !….ایک چھوٹا سا مسئلہ بن گیا تھا ۔“
”کیا ہوا ؟“اس نے بے تابی سے پوچھا ۔
”سر !….میں نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی ہے ۔اسے میری نوکری اور آپ سے ملنے پر اعتراض تھا ۔“
”اوہ نہیں ….“اس کی بات سن کر وہ تقریباََ اچھل پڑا تھا ۔
”کیوں سر !….غلط کیا ہے ؟“
”بہت غلط کیا ہے رخشی !….بہت زیادہ ۔“
”سر !….میں ایسے شخص کے ساتھ مزید گزارا نہیں کر سکتی ،میں پابندیوں کی عادی نہیں ہوں ۔مجھے تو کسی ایسے چاہنے والے کی تلاش ہےجو مجھ پر اعتبار کر سکے ،میرے ساتھ زندگی کی راہوں میں شانہ بہ شانہ چلے ۔جس کی آنکھوں میں میرے لیے فقط چاہت اور خلوص ہو ۔ بے شک وہ عمر میں مجھ سے کچھ بڑا کیوں نہ ہو ۔“آخری بات اس نے تکریم فاروقی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہی تھی ۔گویا دبے لفظوں میں اسے پرپوز کیا تھا ۔
”چلو ،اللہ پاک تمھاری تلاش کو کامیاب کرے ۔“تکریم فاروقی اس سے نظریں چراتے ہوئے بولا ۔”ویسے میرا ایک رشتا دار ہے اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی ہے دوسری شادی کا خواہش مند ہے ۔اگر تم پسند کرو تو میں تمھارے لیے اس سے بات کر سکتا ہوں ۔“
اس کی بات سنتے ہی رخشی کے سر پر گویا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔”کوئی بھی سورما تمھارا ہاتھ تھامنے کے لیے تیار نہیں ہوگا ۔“اس کے دماغ میں اپنی ساس کی آواز گونجی ۔اس کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”شکریہ مسٹر تکریم فاروقی !….یہ پیش کش اپنی کسی اور کرم فرما کے لیے محفوظ رکھیں اور میری طرف سے یہ قبول فرما لیں ۔“کرسی سے اٹھتے ہوئے اس نے ایک کاغذ اس کی جانب بڑھایا۔
”یہ کیا ہے ؟“فاروقی نے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہ میرا استعفی ہے ….اصولاََ تو مجھے یہ استعفی تمھارے منہ پر مارنا چاہیے تھا لیکن میں نہیں چاہتی کہ یہ کاغذ گندہ ہو جائے ۔“ایک ایک لفظ چباتے ہوئے اس نے فاروقی کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھا ۔”اور ہاں میں نے اپنے شوہر سے طلاق نہیں لی ۔بلکہ کسی خیر خواہ نے تمھارے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھایا اور مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ۔“یہ کہہ کر وہ اسے حیران و پریشان اپنے دفتر میں چھوڑ کر باہر نکل آئی ۔چند لمحوں بعد ہی اس کا ر فراٹے بھرتی اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھی ۔اس کے دماغ میں ہلچل مچی ہوئی تھی ۔لاعلمی اور کم فہمی میں وہ زہر ہلال کو آب حیات سمجھ کر پیتی رہی تھی ۔محبتوں کے دھوکے میں وہ نفرتوں کو ہوا دیتی رہی تھی ۔اسے پتا ہی نہیں چلا تھا کہ وہ اپنی عزت ،شر وحیا اورپاک دامنی کاکتنے سستے داموں سودا کرتی رہی ہے ۔ عورتوں کی آزاد خیالی اورغیر مردوں سے اختلاط کیوں شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے اس کا تجربہ اسے آج ہوا تھا ۔شادی کے گزرے شب و روز کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ۔شروع دنوں میں اس کی آزادی کا حامی شوہر بعد میں اس کے رویے پر کس طرح تلملاتا تھا اس کا احساس اسے ابھی ہو رہا تھا ۔وہ ان بد کرداروں کی وجہ سے اپنے شوہر کی خواہشات کی بلّی دیتی آئی تھی ۔تکریم فاروقی کی دعوت کے لیے وہ شوہر کے جذبات کو ٹھوکر مار کر گئی تھی ۔اور پھر اس کے ساتھ بارش میں گھومتے ہوئے اسے ذرا بھی تو احساس نہیں ہوا تھا کہ اس طرح تو اسے فقط اپنے شوہر کے ساتھ گھومنا چاہیے تھا ۔
اظہر نے اسے ایک طلاق دی تھی ۔اسے معلوم نہیں تھا کہ آیا وہ اس کی زوجیت میں باقی تھی یا نہیں ۔اس کی ساس کے بہ قول تو ایک طلاق کے بعد خاوند بیوی اکٹھے رہ سکتے تھے ۔لیکن شریعت سے ہٹ کر کیا اظہر اسے قبول کرنے پر راضی ہو جاتا ۔اظہر اسے پیارا تھا ۔دوسرے مردوں سے بے تکلف ہونے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اسے اظہر سے محبت نہیں تھی ۔لیکن وہ اپنی محبت کا صحیح طور پر خیال نہیں رکھ پائی تھی ۔اسے خود پر افسوس ہونے لگا ۔امید و ناامیدی کی حالت میں وہ گھر میںداخل ہوئی ۔کار گیراج میں کھڑی کر کے اس نے اپنی ساس کے کمرے کا رخ کیا ۔
”اسلام علیکم امی جان !….“تکیے سے ٹیک لگائے تسبیح کے دانے گھماتی زتون بیگم کو اس نے پر خلوص آواز میں سلام کہا ۔
”وعلیکم اسلام بیٹی !….صبح سے کہاں غائب ہو ؟“
”امی جان !….میں اپنی نوکری سے استعفی دینے گئی تھی ۔“اس کے قریب بیٹھتے ہوئے رخشی نے اس کے کندھے سے سر ٹکا دیا ۔
”ما شاءاللہ ۔“وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔”بیٹی !….بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ۔اور اب جاﺅ اپنے کمرے میں تمھارے خاوند نے کل سے کچھ نہیں کھایا ہے ۔اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاﺅ ۔اور بیٹی !….یاد رکھنا خاوند کے سامنے جھک کر ہی تم اسے اپنا غلام بنا سکتی ہو ۔“
”ماں جی !….وہ تو سخت خفا ہیں ۔“
”شوہروں کی خفگی ختم کرنا تو بیویوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے ۔یہ تو ایسا فن ہے جو قدرت نے ہر عورت کی فطرت میں ودیعت کر دیا ہے ۔تم جاﺅ ،شروع میں شاید موڈ بنانے کی کوشش کرے لیکن زیادہ دیر اپنی حالت پر قائم نہیں رہ سکے گا ۔یوں بھی تمھیں بہت چاہتا ہے ۔ اور چاہنے والے زیادہ دیر خفا نہیں رہ سکتے ۔“
”شکریہ ،بہت بہت شکریہ ماں جی !“وہ ساس کے سر کو بوسا دے کر باہر نکل آئی ۔
اپنے کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھولتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئی ۔اظہر اسے سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے چھت کی طرف تکتا نظر آیا ۔اس کے کمرے میں داخل ہونے پر اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا ۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم بھرتی ہوئی بیڈ کے قریب پہنچی اور جھجکتی ہوئی اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔اس کے بعد بھی جب اظہر کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا تو اس نے ہولے سے ہاتھ بڑھا کر اظہر کا ہاتھ تھام لیا ۔
”میں معافی چاہتی ہوں اظہر !….شرمندہ ہوں ،مجھے یوں نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ پلیز مجھے معاف کر دو ۔“
اظہر اس کے ہاتھوں سے آہستہ سے اپنا ہاتھ کھینچتا ہوا بولا ۔”کوئی بات نہیں رخشندہ ! میں بھی تمھارے ساتھ برابر کا شریک ہوں ۔بہ ہرحال جو کچھ ہوا اسے بھول جاﺅ اور شادی سے پہلے میں نے جو وعدے وعید کیے تھے اور اپنی نام نہاد روشن خیالی کے جو گھٹیا دعوے کیے تھے مجھے افسوس کہ میں ان پر پورا نہیں اتر سکا اور نہ آئندہ اپنے اندر ایسی کوئی جرّات موجود پاتا ہوں ۔ تنہائی میں غور کرنے پر مجھ پر یہ راز کھلا کہ میں کسی مرد سے تمھارا ملنا تو کجا بات چیت کرنا بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔اس کے ساتھ تمھارا نوکری کرنا بھی مجھے بالکل پسند نہیں ۔لیکن یہ سب کچھ چونکہ ہم نے پہلے سے طے کر لیا تھا اس لیے میں تمھیں ان باتوں سے منع نہیں کر سکتا ۔اور ان سب باتوں کے ساتھ تمھیں قبول کرنا اب میرے لیے ممکن نہیں ہے ۔اس لیے آخری حل یہی بچتا ہے کہ میں تمھیں باعزت بری کر دوں ۔کیوں کہ اب مجھے بچے بھی اچھے لگتے ہیں اور بچوں کی مان بھی وہی قبول ہے جو حفصہ بھابی یا امی جان کے نقش قدم پر چلنے والی ہو ۔اور یقینا تمھیں ایسی زندگی قبول نہیں ہو گی ۔“
”اگر مجھے آپ کی نئی شرائط کے ساتھ زندگی گزارنا قبول ہو تو پھر ….؟“رخشی کے لہجے میں ہلکی سی شوخی در آئی تھی ۔
”رخشندہ !….میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔“
”تو میں کب مذاق کر رہی ہوں ۔“اس کی چھاتی پر سر رکھتے ہوئے وہ چاہت بھرے لہجے میں بولی ۔”اپنی نوکری سے میں استعفی دے آئی ہوں اور اس کے بعد جیساتم کہو گے ویسا ہی کروں گی ۔“
”رخشی !….تم ….“حیرت کی شدت سے اس سے کچھ بولا نہیں گیا تھا ۔
”سچ کہہ رہی ہوں میری جان !….“وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔”مجھے علم ہی نہیں تھا کہ میں ذلت کی کن گہرائیوں میں گرتی جا رہی ہوں ۔دوغلے لوگوں کی جھوٹی تعریفوں ،مصنوعی قہقہوں اور ریاکاری سے پر لہجوں ہی کو میں حاصل زندگی سمجھ بیٹھی تھی ۔مجھے تو اپنے شوہر کے حقوق کا کچھ علم ہی نہیں تھا ۔اعلا تعلیم کے زعم اور ذہانت کے غرور میں میں اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھی تھی ۔زوجین کے باہمی تعلقات کس نوعیت کے ہونے چاہئیں اس بارے کبھی کسی نے مجھے بتایا ہی نہیں تھا ۔میں تو ان والدین کی بیٹی ہوں جو ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ساری زندگی ندی کے دو کنارے بنے رہے ۔نہ کبھی ابو جان نے امی کے معاملات میں دخل دینے کی کوشش کی اور نہ کبھی امی جان ہی کو ایسی ضرورت پیش آئی ۔میری پرورش کو بھی دونوں ایک دوسرے کی زمہ داری سمجھتے رہے ۔اور پھر شادی کے بعد آپ نے بھی تو مجھے سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش نہیں کی ۔یہ تو اللہ بھلا کرے میری ساسو ماں کا جنھوں نے کل رات میری آنکھیں کھول دیں ۔ اس لیے میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ حفصہ باجی سے امورِ خانہ داری کے متعلق سب کچھ سیکھوں گی ،آپ کی ساری ضروریات کا خود خیال رکھوں گی ۔آپ کے لیے ناﺅ سنگھار بھی کروں گی ،اب تو مجھے خود سے جدا نہیں کرو گے نا ؟“آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی تھی ۔
”سوری میری جان !….وہ اس کی گھنی زلفوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا بولا ۔”مجھے اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے ۔میں واقعی بہر بڑا بد نصیب ہوں ۔میری مثال تو چراغ تلے اندھیرے والی ہے ۔ابوجان کے سیکڑوں بار سمجھانے کے باوجود میں مصنوعی چراغوں کو دوپہر کا سورج سمجھتا رہا ۔میں جدید تہذٰب جسے غلیظ تہذیب کہنا زیادہ مناسب رہے گا کا دلدادہ تھا ۔میرے نظریات پر پہلی چوٹ تب پڑی جس دن میں نے تمھیں تکریم فاروقی کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا اور مجھے اکیلا چھوڑ کر تم غیر مرد کے ساتھ چلی گئیں ۔اور پھر اس کے بعد تمھارا ہر عمل میرے لیے سوہان روح بنتا گیا ۔خود کو روشن خیالی کے جھوٹے دلاسوں سے سمجھانے کی میں نے بڑی کوشش کی مگر کامیا ب نہ ہو سکا ۔اور پھر کئی بار میرا ارادہ ہوا کہ تمھیں آرام اور تسلی سے سمجھاﺅں لیکن شادی سے پہلے کیے گئے وعدے میرے پاﺅں کی زنجیر بن گئے ۔اور پھر میں تمھیں کھونا بھی تو نہیں چاہتا تھا ۔ اب بھی تمھیں چھوڑنے کا فیصلہ کس اذیت سے کیاتھا یہ میرا ہی دل جانتا ہے ۔پر کیا کرتا تمھیں کسی کے ساتھ دیکھ بھی تو نہیں سکتا تھا ۔سوچا گھٹ گھٹ کر مرنے سے بہتر ہے ایک بار ہی خود کشی کر لی جائے ۔“
”اب کبھی بھی اپنی علاوہ کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھنا تو کجا بات کرتے بھی نہیں دیکھو گے ۔اب میں حفصہ باجی کی طرح نقاب اوڑھوں گی ۔بس میری صور ت کو صرف میرا اظہر کی دیکھے گا اور کوئی گندی نظر اس چہرے پر نہیں پڑے گی ۔“
”یا اللہ تیر اشکر ہے ۔“وہ اس کے گرد اپنے بازوﺅں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے بولا۔
”نہیں اس طرح نہیں ۔“وہ کسمساتے ہوئے بولی ۔”ہم آج سے نئی زندگی کی شروعات کر رہے ہیں ۔اٹھو وضو کر کے اپنے رب کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کر کے دعا مانگتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں ہمیشہ سیدھی راہ چلائے ۔“
”آمین ۔“وہ خشوع و خضوع سے بولا اور دونوں غسل خانے کی طرف بڑھ گئے ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: