Safar e Ishq Novel by Mahi – Episode 1

0
سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 1

–**–**–

رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھلی۔۔سر درد سے پھٹ رہا تھا یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے سر پر کسی نے ہتھوڑے مارے ہوں اس نے بیٹھنے کی کوشش کی مگر ہمّت نہیں ہو رہی تھی دھیمے دھیمے وہ اٹھی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کے آخر ہوا کیا ہے اس کے ساتھ اس کی ہنستی کھیلتی زندگی میں یوں اچانک ایک طوفان کا آ جانا کسی دھجکے سے کم تر نہیں تھا جو سب کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا اس نے کبھی گماں بھی نہیں کیا تھا مگر قسمت کا کیا پتا کہاں سے کہاں لے جاتی ہے انسان کو۔۔اس نے اپنا سر گھٹنوں پر ٹکا لیا
زور دار آواز سے دروازہ کھلا اور اسی طرح بند بھی ہو گیا
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی شخص جس کی وجہ سے سب کچھ ہوا تھا آنکھوں میں تیش لئے اس کے سامنے کھڑا تھا
اس نے آگے بڑھ کر زور سے اس کا جبڑا پکڑ لیا پکڑنے میں اس قدر شدت تھی کے آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکل گئے
“اٹھو فورا”اس نے ناسمجھی سے اس ظالم کی جانب دیکھا
“سنائی نہیں دیتا تمہیں بہری ہو کیا”اب کی بار چلایا گیا
وہ فورا سے کھڑی ہو گئی گرفت ابھی بھی مضبوط تھی اب وہ بلکل اس کے مقابل کھڑی تھی
“م۔۔مجھے د۔۔درد ہ۔۔ہو رہا ہے”الفاظ ٹوٹے ہوۓ ادا ہوۓ
“ہا درد۔۔۔بی بی ابھی سے ہی تمہارا یہ حال ہے تو آگے کیا ہو گا”طنزیہ کہا گیا اور ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑا
“نکل جاؤ کمرے سے باہر” بغیر اس کی طرف دیکھے کہا گیا
“ل۔۔لیکن م۔۔میں کہاں جاؤں ب۔۔باہر ب۔۔بہت اندھیرا ہے”ضبط کی انتہا تھی آنکھیں نم تھیں لیکن اس ظالم کو اس معصوم سی گڑیا سی لڑکی پر بلکل ترس نہ آیا
“آئ ڈونٹ کیئر!جہاں مرضی جاؤ لیکن مجھے تمہاری شکل مت نظر آیے”بے رخی سے کہا گیا
“یہی سب کرنا تھا تو نکاح کیوں کیا،کیوں میری ہنستی کھیلتی خوش باش زندگی کو جہنم بنا ڈالا اگر اسی آگ میں ہی میں نے جھلسنا تھا تو ایسے ہی جان لے لیتے”
“نہ لڑکی نہ ایسے کیسے میں تمہیں مرنے دے سکتا ویسے تم اس قدر بزدل ہو گی مجھے اندازہ نہیں تھا ابھی سے ہی موت کی گزارش کر رہی ہو جب کہ ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں ہے میں نے،ابھی تو یہ شروعات ہے تمہیں تو ساری زندگی یہ سب برداشت کرنا ہے”طنزیہ مسکراہٹ اور تلخ لہجے میں کہا گیا
“آخر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں میرا قصور کیا ہے جس کی مجھے سزا دے رہے ہیں”
“ویسے تو میرے تم پر بہت حساب بنتے ہیں مگر میں صرف اس قدر اذیت دینا چاہتا ہوں کے تم اپنی موت کی بھیک مانگو لیکن یقین مانو تب بھی تمہیں نہیں بخشوں گا”غصے سے اس کی کلائی تھامتے ہوۓ کہا گیا ہاتھ میں پہنی کانچ کی چوڑیاں اپنے نشانات چھوڑ گئیں جبکہ سامنے کھڑے وجود نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا لیکن اس کے خون بہنے سے اسے رتی برابر بھی فرق نہ پڑا اس نے اسے پکڑا اور تقریبا گھسیٹنے کے سے انداز میں اسے کمرے سے باہر نکالا اور دروازہ بند کر لیا۔۔۔پورے گھر میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اندھیرے سے آگے ہی اس کی جان نکلتی تھی وہیں دروازے کے باہر اپنا ڈوپٹہ زور سے تھامے سر گھٹنوں پر ٹکا کر بیٹھ گئی اور آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی اسی دوران جانے کب وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی مگر وہ ایک دم حیران ہوئی ہوتی بھی کیوں نہ وہ زمین پر ہونے کی بجاے بیڈ پر تھی
“میں تو باہر تھی اندر کیسے آیی”آگے کی سوچ ہی اس کی دھڑکن بڑھانے لگی
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کے باتھروم کا دروازہ کھلا اور وہی شخص باہر آیا وہ فورا سیدھی ہو کر بیٹھی یوں تو سامنے کھڑا شخص بال برش کر رہا تھا لیکن توجہ بیڈ پر بیٹھی نفوس پر تھی اس کا یوں فورا اٹھ کر بیٹھ جانا سامنے کھڑے شخص سے چھپا نہیں رہا تھا
وہ بیڈ پر نظریں جھکائے بیٹھی تھی اور اپنے ہاتھوں کو مڑوڑ رہی تھی
وہ شخص اس کے قریب آیا اس کے کلون کی خوشبو ہر سو پھیل چکی تھی بےدردی سے اسے تھاما اور کھڑا کیا
“زیادہ خوشفہمی پالنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی تم کمرے میں تمہے جگہ دی ہے تو یہ مطلب نہیں کے دل میں بھی جگہ بنا لو گی اور یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو
‘آہل تیمور خان’ کسی کا نہیں ہو سکتا کسی کا بھی نہیں”غصے سے دھاڑتے چہرے کو مضبوطی سے پکڑ کر کہا گیا آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گال میں جذب ہوا اس نے ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑا اور باہر کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ پیچھے کھڑی اپنی قسمت پر روتی رہی
وہ شخص بظاہر تو بہت حسین تھا کوئی بھی اس کی خوبصورتی کا اسیر ہو سکتا تھا لمبا قد،چھوڑا جسم،ہلکے بھورے بال جو کے پیشانی پر بکھرے ہوتے تھے،ہلکی بھوری آنکھیں،گوری رنگت،چہرے پر بیئرڈ اور ہر وقت چھائی سنجیدگی اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بناتی تھی لیکن اس قدر پتھر دل اور سفاک ہو سکتا تھا یہ صرف وہی جانتی تھی لیکن اس کے پاس یہی واحد سہارہ تھا تو سب کچھ برداشت کرنا اب اس کی مجبوری بن چکا تھا
کچھ دیر یونہی کھڑا رہنے کے بعد وہ فریش ہونے چلی گئی باہر آئ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا معائنہ کرنے لگی
لمبے سلکی بال،گوری رنگت،چہرے پر معصومیت،ہلکی بھوری آنکھیں،ان پر لمبی گھنی پلکیں ان کو مزید پرکشش بناتی تھیں۔۔خوبصورت تو وہ بھی بہت تھی بلکل اپنے نام “طور” کی طرح مگر خوبصورتی سے کیا ہوتا ہے اصل بات تو قسمت کی ہوتی ہے۔۔گہرا سانس لے کر وہ بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی اس کی نظر اپنی کلائیوں پر پڑی جو کے زخمی تھی اس نے افسوس سے ان کی جانب دیکھا گوری کلائیوں پر زخم کے نشان واضح تھے۔۔رات سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا تو بھوک کا احساس بھی ستانے لگا وہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی اندھیرے میں وہ گھر کو نہیں دیکھ پائی تھی تو اب کافی حیرانگی سے گھر کا معائنہ کرنے لگی یہ گھر 2 کمروں پر مشتمل تھا ایک کمرہ اوپر جبکہ ایک نیچے کی جانب تھا۔۔سیڑھیاں لاؤنج سے اوپر کی جانب جاتی تھیں لاؤنج کافی بڑا تھا اس میں موجود فرنیچر سے ہی اعلٰی ذوق اور نفاست کا معلوم ہوتا تھا ہر جگہ کو بہت خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا لاؤنج سے باہر نکل کر گیراج تھا اور ساتھ کافی بڑا لان تھا پھول اور پودے اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے پورا گھر ہی بہت خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا وہ پورا گھر دیکھ کر کچن میں چلی گئی کچن بھی بہت خوبصورت تھا اندر ہی ڈائینگ ٹیبل پڑا ہوا تھا وہ اس وقت گھر میں اکیلی موجود تھی بھوک کا احساس مزید بڑھ رہا تھا اس نے کیبنٹس کھولیں اور اشیا کنگھالنے لگی مگر بے سود۔۔
بلاخر اس نے فریج کھولی لیکن خالی فریج اسے منہ چڑھا رہی تھی تھک ہار کر وہ واپس کمرے میں چلی گئی اور اس شخص کو کوسنے لگی
وہ ابھی اسے ہی کوس رہی تھی کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہی شخص کمرے میں داخل ہوا اس کے ہاتھ میں چند شاپنگ بیگز تھے اس نے وہ بیڈ پر پھینکے
“ان میں کپڑے ہیں تمھارے لئے چینج کر لو اور نیچے آ کر کھانا نکالو”اس نے حکمیہ انداز میں کہا اور باہر چلا گیا طور کی نظر اپنے کپڑوں پر پڑی وہ ابھی تک نکاح والے لباس میں ہی موجود تھی
وہ بھی اٹھی اور فورا کپڑے تبدیل کیۓ اور نیچے آ گئی
آہل لاؤنج میں بیٹھا صوفے سے سر ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا وہ خاموشی سے کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔ٹیبل پر شوپر پڑے تھے اس نے وہ اٹھایے اور کھانا نکالنے لگی۔۔کھانا نکالنے کے بعد وہ باہر کی جانب بڑھ گئی
“کھانا لگ گیا ہے”نظریں جھکائے ہاتھوں کو مڑوڑ کر کہا گیا جبکہ بات کرتے وقت ہونٹ لرز رہے تھے
آہل نے آنکھیں کھولیں اور اس کی جانب دیکھا وہ اسی کے لایے ہوۓ لباس میں موجود تھی
“اچھا”وہ یہ کہہ کر اٹھا اور کچن کی جانب بڑھ گیا وہ بھی اس کے پیچھے لپکی
کھانا خاموشی سے کھایا گیا
“سب کچھ سمیٹ کر کمرے میں کوفی لے آؤ”وہ حکم دیتا بغیر اس کی بات سنے اوپر کمرے کی جانب بڑھ گیا
طور نے برتن سمیٹے اور اوپر کی جانب بڑھ گئی۔۔کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے آہل کنگ سائز بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا
طور دروازہ کے پاس کی کھڑی تھی اور الفاظ جمع کرنے لگی کے کیسے مخاطب کرے
“کیا ہوا کچھ کہنا ہے”وہ جب سے یہاں آئ تھی پہلی بار آہل نے اسے نرم لہجے میں مخاطب کیا تھا
“وہ”ابھی اس نے یہی کہا تھا کے وہ اس کے مقابل کھڑا ہو گیا طور اس کی اس حرکت پر کانپ اٹھی
“کیا وہ”آہل قریب ہوا آج وہ طور کو حیران کرنے پر تلا تھا
“کوفی کا سامان نہیں ہے”اس نے دھیمے لہجے میں نظریں جھکائے کہا
اس نے بے اختیار اسے اپنے قریب کیا اور پیشانی پر محبت کی مہر سبت کی کو باہر چلا گیا لیکن اپنے پیچھے کھڑی شخصیت کو اس عمل پر حیران چھوڑ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: