Mahi Shah Urdu Novels

Safar e Ishq Novel by Mahi – Episode 2

Safar e Ishq Novel by Mahi
Written by Peerzada M Mohin

سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 2

سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 2

–**–**–

آہل گھر کی تمام ضروریات کا سامان ڈرائیور سے کہہ کر منگوا لیا تھا جبکہ وہ ابھی تک گھر نہیں آیا تھا طور کوفی بنا کر کمرے کی جانب بڑھ گئی کمرے میں موجود ٹیبل پر کوفی رکھی اور بیڈ پر بیٹھ گئی اور کچھ لمحے پہلے والا واقعہ یاد کرنے لگی اس نے بےاختیار اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا جیسے اب بھی اس کے ہونٹ اپنی پیشانی پر محسوس کر رہی ہو وہ اپنے ہی خیالوں میں بیٹھی تھی اسے معلوم ہی نہ ہوا کے کب آہل آیا اور اس کے سامنے کھڑا تھا وہ اس کی یہ حرکت دیکھ چکا تھا اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس کر کے اس نے نظریں اٹھائیں تو وہ ظالم سامنے کھڑا تھا وہ فورا کھڑی ہوئی
“آپ۔۔آپ کب آیے”اس نے جھجھکتے ہوۓ سوال کیا
“جب تم سوچوں میں گم تھی”طنز کیا گیا طور ایک دم شرمندہ ہوئی وہ وہاں سے گزرنے لگی تھی جب اس نے اس کی کلائی تھام لی وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی اس سے پہلے کے وہ اس کے چوڑے سینے سے ٹکراتی فورا سنبھلی
“کوئی غلط بات سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے جو کچھ بھی ہوا وہ سب بس ایک مجبوری تھا سمجھی تم”گرفت مضبوط ہوئی طور نے آنکھیں میچ لیں اس کی ایک سسکی نکلی آہل نے اسے دیکھا اور پھر اس کی کلائی کو جہاں پر چوڑیاں ٹوٹنے کے نشانات تھے اس نے فورن اس کی کلائی چھوڑی اور ڈریسنگ کی طرف بڑھا کچھ ہی سیکنڈز میں وہ باہر آیا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا طور ابھی بھی ویسے ہی وہاں کھڑی تھی آہل نے اسے شانوں سے تھاما اور بیڈ پر بیٹھایا اور خود پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا آرام سے اس کی کلائی تھامی اور اوئنٹمنٹ لگانے لگا یہ سب اس نے بہت نرمی سے کیا تھا جیسے کوئی نازک چیز ہو طور اس دھوپ چھاؤں سے شخص کو دیکھ رہی تھی “پہلے خود ہی زخم دیتا ہے اور پھر خود ہی ان کی مرہم کرتا”طور نے سوچا
آہل اس کی نظریں اپنے اوپر محسوس کر سکتا تھا تمام کروائی کے بعد وہ خاموشی سے اٹھا ہاتھ دھوئے کوفی کا مگ تھاما اور کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ طور اسی جگہ کو تکتی رہی جہاں پر وہ چند پل پہلے بیٹھا ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ہونے کو تھی۔۔آہل اب تک گھر نہیں آیا تھا طور کچن میں کام کر رہی تھی کہ اچانک لائٹ بند ہو گئی ہر سو اندھیرا چھا گیا اس کا سانس ایک دم جیسے پھولنے لگا وہ وہیں خاموشی سے زمین پر بیٹھ گئی اور آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی۔۔ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کے دروازہ کھلا اور قدموں کی آواز آنے لگی طور نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنے ڈوپٹے کو زور سے تھام لیا اور سر گھٹنوں پر ٹکا لیا اس کے پڑھنے میں مزید شدت آیی تھی اس کے پڑھنے کا شغل ابھی جاری تھا کے آہل کچن میں داخل ہوا اس نے ٹارچ اون کی ہوئی تھی اس کی نظر اچانک ایک کونے پر بیٹھی طور پر پڑی اس کو اس کی یہ حالت دیکھ کر بہت ہنسی آئ وہ بلکل ایک چھوٹے بچے کی طرح ڈری سہمی بیٹھی تھی وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھا اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ہی تھا کے طور کی چیخ پورے کچن میں گونجی
“اف اللہ‎ میں ہوں کیوں پاگلوں کی طرح چلا رہی ہو”آہل نے اپنے کان بند کرتے ہوۓ کہا طور نے اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے اسی ظالم کو کھڑا پایا
“ایک تو اتنی لیٹ آتے ہیں اوپر سے اچھے بھلے انسان کی جان نکال دیتے ہیں اوپر سے اندھیرا اگر مجھے کچھ ہو جاتا یہ میں مر مرا جاتی”اس سے آگے وہ کچھ بولتی آہل نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی
“میرے سوا کسی کو بھی حق نہیں کے وہ تمہے کوئی نقصان پوھنچائے تو پھر یہ اندھیرا کیا چیز ہے اور لگتا ہے تمھیں مرنے کا بہت ہی شوق مگر افسوس یہ میں ہونے نہیں دوں گا”آہل نے اس کی بات کاٹی اور تلخی سے کہا
“اففف اس قدر نفرت تھی لہجے میں”طور کی آنکھیں نم ہوئیں اس نے اس کے لبوں سے انگلی ہٹائی اور باہر کی جانب بڑھ گیا طور وہیں ساکت کھڑی رہی
آہل نے باہر جا کر دیکھا یو۔پی۔ایس بند ہو گیا تھا اس نے اون کیا اور واپس اندر کی جانب بڑھ گیا طور ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی آہل نے ایک نظر اسے دیکھا اور اوپر چلا گیا طور واپس اپنے حواس میں آئی اور برتن لگانے لگی تھوڑی دیر بعد آہل بھی رف سے حلیے میں کچن میں داخل ہوا اور کھانا کھانے بیٹھ گیا آج کافی عرصے بعد آہل نے اچھے سے گھر کا کھانا کھایا تھا ویسے بوا ہوتی تھیں وہ بناتی تھیں لیکن ان کے ہاتھ میں بھی اتنا ذائقہ نہ تھا۔۔آہل نے دل میں ہی اس کے کھانے کی تعریف کی کھانا کھانے کے بعد طور برتن سمیٹنے لگی جبکہ آہل وہیں کرسی پر بیٹھا رہا طور کو حوصلہ ملا کے وہ ساتھ ہے ورنہ ڈر کی وجہ سے اس سے کام نہیں ہو پانا تھا اس نے جلدی جلدی سب کچھ سمیٹا آہل اس کی ہر حرکت نوٹ کر رہا تھا لیکن ظاہری طور پر انجان بنا بیٹھا تھا وہ جانتا تھا کے طور کو اکیلے میں ڈر لگتا ہے تو کسی احساس کے تحت وہ وہیں بیٹھا رہا وہ خود نہیں جانتا تھا کے وہ کیوں اس کا خیال کر رہا ہے۔۔۔
“کام ہو گیا ہے”وہ اپنی ہی سوچوں میں بیٹھا تھا کے طور کی آواز آئی
وہ خاموشی سے اٹھا اور کمرے کی جانب بڑھ گیا طور بھی اس کے پیچھے ہو لی۔۔
“میں صبح سے بوا کو بلا لوں گا”آہل نے کہا طور خاموش رہی
“وہ آ کر سب کام کر جایا کریں گی اور جب تک میں نہیں آؤں گا وہ تمھارے ساتھ ہی رہیں گی”اس نے وضاحت دی
“جی اچھا”طور بس یہی کہہ پائی
“میں اب تھکا ہوا ہوں اور سونے لگا ہوں تم بھی سو جاؤ کیوں کے اگر میں سو گیا تو پھر نہیں اٹھنے والا اور میں بلکل برداشت نہیں کروں گا کے کوئی میری نیند خراب کرے”اس کا اشارہ کس جانب تھا طور باخوبی سمجھ گئی تھی اس لئے بغیر وقت ضائع کیئے فورا بستر پر لیٹ گئی اور آنکھیں موند لیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی کمرے میں کوئی بھی موجود نہیں تھا اس کی نظر گھڑی پر پڑی جو صبح کے 10 بجا رہی تھی مطلب آہل آفس جا چکا تھا اس نے بے اختیار اپنا سر تھاما
“اوہو اتنی دیر ہو گئی”وہ فورا اٹھی اور فریش ہونے چل دی
کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی بال بندھے اور نیچے کی جانب چل دی
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کے دروازے پر گھنٹی بجی پہلے تو وہ سوچ میں پڑ گئی کے اس وقت کون آ سکتا ہے لیکن کچھ یاد آنے پڑ دروازے کی جانب بڑھی دروازہ کھولا تو سامنے ایک خاتون کھڑی تھیں
“جی آپ کون”
“بیٹا آہل نے بلایا تھا میں اس کی بوا ہوں”انھوں نے شفقت سے کہا
طور سائیڈ پر ہوئی اور انھیں اندر آنے کا راستہ دیا
“بیٹا آپ نے ناشتہ کر لیا ہے”انھوں نے سوال کیا
“نہیں اصل میں آج دیر سے اٹھی تھی تو بس”
“چلو آپ بتا دو کے کیا لو گی میں بنا دیتی ہوں”انھوں نے شفقت سے کہا طور کی آنکھوں میں نمی آئی مگر اس نے فورا چھپا لی طور بھی ان کے پیچھے کچن میں چلی گئی اور کرسی پر بیٹھ گئی بوا ساتھ ساتھ طور کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی اور باتیں بھی کر رہی تھیں اور طور بس ان کے سوالات کے جواب دے رہی تھی
“بیٹا آپ کے ماما بابا کہاں ہوتے ہیں”انھوں نے سوال کیا
“میں جب چھوٹی تھی تب ان کی ڈیتھ ہو گئی تھی”اس نے آہستگی سے جواب دیا
“بیٹا مجھے معاف کر دو مجھے نہیں معلوم تھا”انھوں نے فورا معافی مانگی
“نہیں نہیں کوئی بات نہیں”طور بمشکل مسکرائی
“بیٹا آپ شادی سے پہلے کیا کرتی تھی”انھوں نے موضوع بدلا
“پڑھتی تھی”مختصر سا جواب آیا
“تو یوں اچانک شادی”
بس یہی سوال تھا جس سے وہ دور بھاگتی تھی
“میں زرا باہر دیکھ لوں”وہ یہ کہہ کر باہر نکل گئی۔۔یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی زندگی بدلی تھی۔۔۔مگر کیا حقیقت تھی اس سے صرف وہ ہی واقف تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: