Safar e Ishq Novel by Mahi – Episode 3

0
سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 3

–**–**–

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے صبح کو مزید خوشگوار بنا دیا تھا۔۔پرندوں کے چہچہانے کی آواز بھی کہیں فضا میں شامل تھی جو اس وقت کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی
یوں ہی صبح کی ایک دیوانی لان میں ٹہل رہی تھی اور پھولوں کو چھو رہی تھی اور خوش ہو رہی تھی
“بیٹا اندر آ جاؤ بیمار ہو جاؤ گی”وہ ابھی پھولوں کو چھو رہی تھی جب پیچھے سے آواز آیی
“آنی یار آپ کو پتا ہے نا مجھے یہ وقت کتنا پسند ہے”اس نے اپنے باہیں پھیلائے گھوم کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“بیٹا جانتی ہوں لیکن بیمار پڑ جاؤ گی اور یونی کا بھی ٹائم ہونے والا ہے شاباش اندر آؤ”انھوں نے شفقت سے کہا
“آنی پلز تھوڑی دیر اور”اس نے جیسے التجا کی
“ٹھیک ہے میں بھی پھر یہیں بیٹھ جاتی ہوں جب تم تھک جاؤ تو مل کر اندر چلیں گے”انھوں نے جیسے فیصلہ سنایا
“کیا یار آپ ہمیشہ مجھے ایسے ہی بلیک میل کرتی ہیں”اس نے روتی شکل بنا کر کہا
“تو تم مان لیا کرو نا بات میں نہیں کروں گی”انھوں نے مسکراتے ہوۓ کہا اور اندر کی جانب بڑھ گئیں جبکہ ناسور اسے بھی پیچھے جانا پڑا
“جاؤ شاباش چینگ کرو میں ناشتہ بناتی ہوں”انھوں نے مسکراتے ہوۓ کہا اور کچن کی جانب بڑھ گئیں وہ بھی اپنے روم میں چلی گئی
تیار ہو کر وہ نیچے آئی تو ناشتہ تیار تھا جلدی جلدی ناشتہ کیا آنی سے ملا اور باہر کی جانب بڑھ گئی جہاں وین اس کا ویٹ کر رہی تھی
یونی کا آخری سیمسٹر چل رہا تھا اور پیپرس نزدیک تھے سب اسی کی تیاریوں میں مگن تھے۔۔۔طور بہت کم گو تھی یہی وجہ تھی کے اس کی کسی سے بھی دوستی نہیں ہوئی تھی اور وہ خود بھی سب سے دور ہی رہتی تھی بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔۔۔
لیکچرز اٹینڈ کر کے اب وہ فارغ کیفے میں بیٹھی تھی ٹائم کافی ہو چکا تھا لیکن وین کا کوئی پتا نہیں تھا گھر پر آنی اکیلی تھیں اسے ان کی فکر بھی ستانے لگی وہ باہر نکل گئی اور پیدل ہی چلنے لگی موسم کافی خوشگوار تھا وہ ابھی راستے میں ہی تھی کے اسے لگا کے کوئی اس کی پیروی کر رہا ہے اس کے چلنے میں تیزی آئی لیکن بےسود ایک گاڑی اس کے سامنے آ کر رکی اس میں دو لڑکے بیٹھے تھے نہ چاہتے ہوۓ بھی اسے رکنا پڑا
گاڑی میں سے ایک لڑکا باہر نکلا شکل سے ہی بدمعاش ٹائپ لگتا تھا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا طور نے ناگواری سے اس کی جانب دیکھا طور اس وقت سر پر حجاب کیۓ لمبی سی کالی چادر سے ڈھکی ہوئی تھی
اس شخص نے اس کی کلائی تھامنی چاہی طور فورا سے پیچھے ہوئی گاڑی میں بیٹھا وہ شخص سب کچھ دیکھ رہا تھا نا جانے کس احساس کے تحت باہر نکلا اور اپنے ساتھی کو کچھ کہا پہلے لڑکے کی نسبت دوسرے لڑکے کے چہرے پر سنجیدگی تھی جبکہ پہلے والا لڑکا فورا آ کر گاڑی میں بیٹھ گیا طور نے ناگواری سے دوسرے لڑکے کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملیں طور آگے کی جانب بڑھ گئی لیکن وہ لڑکا ابھی بھی اسی کی راہ تکتا رہا ہوش کی دنیا میں واپس تب آیا جب پہلے لڑکے نے ہارن بجایا وہ غصے سے گاڑی کی جانب بڑھا
“یہ کیا بتمیزی تھی”وہ تقریبا غصے سے ڈھارا
“کیا ہوا ریلیکس برو”
“کیا مطلب ریلیکس تم نے کہا تھا کے تم اس کو جانتے ہو لیکن اس کی ناگواری سے واضح ہو رہا تھا کے وہ تم کو جانتی تک نہیں ہے”اس نے غصے سے کہا
“یار تو باہر سے آیا ہے لگتا تو نہیں ہے ابھی بھی وہی پرانی سوچ ہے تیری تو اب تک نہیں بدلا”اس نے ہنستے ہوۓ کہا جبکہ آہل کا دل کر رہا تھا ابھی اور اسی وقت اس کے دانت نکال دے (آہل نے اپنا بچپن باہر گزارا تھا پھر اپنے پیرنٹس کے ساتھ پاکستان شفٹ ہو گیا تھا لیکن وہ اپنی حدود سے واقف تھا اور اس نے کبھی بھی اس دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کی تھی اس کے فاتھر بہت بڑے بزنس مین تھے ابھی آہل کا کالج کمپلیٹ ہوا تھا جب اس کے والدین کار حادثے میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے تب سے اس کے چہرے پر سنجیدگی ہی رہتی اور اس نے چھوٹی عمر میں ہی سارا بزنس سمبھالا ہوا تھا)
“تو باہر جانے کا یہ مطلب تو نہیں کے انسان اپنے عقائد و قوانین ہی بھول جائے”آہل نے تلخیہ لہجے میں کہا
“اچھا برو سوری!چل اب عالیہ ویٹ کر رہی ہو گی”اس نے کمینگی سے کہا جبکہ آہل افسوس سے اس کی جانب دیکھتا رہا آہل کی کچھ عرصہ پہلے ہی افان سے دوستی ہوئی تھی آہل لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا جبکہ وہ بلکل مختلف تھا
آہل نے ایک کلب کے باہر گاڑی روکی
“جاؤ”
“یارا تم نہیں آؤ گے اندر”افان نے سوال کیا
“تم جانتے ہو اس سب کو میں بلکل بھی پسند نہیں کرتا”
“ہاں یار جانتا ہوں تو بس ایک بار چل تو سہی بہت مزہ آیے گا”افان نے زور دیا
“سمجھ نہیں آتی ایک بار تمہیں”اب کی بار آہل دھاڑا
“اوکے برو جا رہا ہوں ٹیک کیئر”افان یہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکل گیا جبکہ آہل نے گاڑی آگے دوڑا لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طور گھر آئی اس کی حالت بہت غیر ہو رہی تھی
“کیا ہوا بیٹا ٹھیک تو ہو کیوں پسینے آ رہے ہیں تمہے”آنی نے پریشانی سے سوال کیا
“ن۔۔نہیں کچھ نہیں دراصل پیدل آئی ہوں تو اسی لئے”اس نے فورا بات بدلی
“بیٹا پکی بات ہے”آنی کو جیسے تسلی نہیں ہو رہی تھی
“جی میری پیاری سی آنی پکی بات ہے”اس نے اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوۓ ان کے گلے لگتے ہوۓ کہا
“چلو بیٹا آپ فریش ہو آؤ میں کھانا لگاتی ہوں”
“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے سر میں درد ہے تو میں آرام کروں گی”وہ انکی گود میں سر رکھے لیٹ گئی آنی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں
“کیسا گزرا دن”
“ہمم اچھا تھا”اس نے مختصر سے جواب دیا وہ آج ہونے والی روادار آنی کو بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
“چلو بیٹا تم تھوڑی دیر سو جاؤ میں ذرا کام کر لوں”وہ اسے پیار کرتی باہر چلی گئیں جبکہ طور سوچ میں پڑ گئی
کیسے وہ لڑکا آیا تھا اور اس کی کلائی تھامنی چاہی تھی لیکن پھر دوسرے لڑکے کا آنا سب کچھ اس کے دماغ میں گردش کر رہا تھا اسے ان دونوں لڑکوں سے وحشت ہو رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ اس کا قتل کر دے انہی سوچوں میں وہ جانے کب نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہیلو کہاں ہو تم آہل”افان نے اسے فون کرتے ساتھ ھی سوال کیا
“کیوں”
یارا آج تو پلز مجھے یونی سے پک کر لے گا”
“خیریت تو ہے”
“ہاں یار وہ میں بعد میں بتاؤں گا پلز تو مجھے پک کر سکتا ہے”
“اوکے میں آ جاؤں گا”
“تھینک یو”افان نے کہتے ساتھ ہی فون کٹ کر دیا کل والا واقعہ اسے ابھی تک یاد تھا مگر دوست تھا تو جانا پڑنا تھا اس نے اپنا فون اور گاڑی کی کیز اٹھائیں اور باہر کی جانب بڑھ گیا
کچھ ہی دیر میں وہ یونی کے باہر تھا کیوں کے چھٹی کا ٹائم ہو چکا تھا
“میں باہر کھڑا ہوں تم آیے نہیں ابھی تک”آہل نے فون اٹھتے ساتھ ہی کہنا شرو کر دیا
“یار تھوڑا سا کام ہے وہ بس کر لوں آدھا گھنٹا لگے گا تو ایسا کر اندر آ جا”
“میں کیسے اندر آ جاؤں”
“ظاہری بات ہے ٹانگوں سے ہی چل کر آؤ گے”افان نے کہا اور فون کاٹ دیا آہل کو ناچار اندر جانا پڑا کیوں کے اس کا واپس جانے کا کوئی موڈ نہیں تھا
ابھی وہ اندر انٹر ہوا تھا کے ایک اور ہی دنیا آباد تھی ہر طرف گہما گہمی تھی جگہ جگہ لڑکے اور لڑکیاں ٹولیوں کی صورت میں کھڑے باتوں میں مگن تھے
بلیک شرٹ اور پینٹ پر سن گلاسس لگایے چہرے پر وہی سنجیدگی لئے وہ قیامت ڈھا رہا تھا اور بہت سی لڑکیوں کی نظر کا مرکز بنا ہوا تھا وہ آگے بڑھا اپنے اوپر نظریں وہ باخوبی محسوس کر سکتا تھا بغیر کسی کی طرف توجہ دیۓ وہاں موجود گراؤنڈ میں جا کر بیٹھ گیا اور افان کا انتظار کرنے لگا ابھی وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جب اس کی نظر اسی لڑکی پر پڑی وہ آج بھی سر پر حجاب کیۓ اپنے گرد کالی لمبی چادر لپیٹے ہوۓ تھی چہرے پر معصومیت واضح تھی اپنے اردگرد سے بےخبر نظریں جھکائے آگے بڑھ رہی تھی
وہ چند پل یوں ہی اسے دیکھتا رہا جانے کیوں وہ اسے سب سے الگ لگی تھی باقی لڑکیوں کی طرح کسی بھی آسائش سے پاک،چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی جو اسے سب سے منفرد بناتی تھی وہ خاموشی سے بغیر کسی کی طرف دیکھے گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ گئی اور وین کا انتظار کرنے لگی ابھی وین کے آنے میں ٹائم تھا اس نے اپنے بیگ سے ایک کتاب نکالی اور اس میں محو ہو گئی یہ جانے بغیر کہ سامنے بیٹھا شخص اس کی ہر چیز پر نظر رکھے ہوۓ ہے وہ کتاب پرھنے میں اس قدر محو تھی کے اسے پتا ہی نہ چلا کے کب وہ شخص آیا اور اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو چہرے پر ناگواری چھا گئی
“ہیلو میں نے دیکھا کے آپ ہیں تو سوچا کے سلام ہی کر لوں”اگر کوئی اور اس شخص کو دیکھتا تو یقین ہی نہ کر پاتا کے یہ وہی آہل ہے۔۔لڑکیوں سے دور بھاگنے والا آج خود ایک لڑکی کو مخاطب کر رہا تھا
“کر لیا سلام اب آپ جا سکتے ہیں”طور نے چہرے پر سخت تاثرات لئے ہوۓ کہا
“دراصل مجھے اس دن کے لئے سوری کہنا تھا”یہ کیا کسی کے سامنے نہ جھکنے والا آج کسی اور کی غلطی پر اپنے آپ کو جھکا گیا
“ہاہ!سوری بہت سے آپ جیسے لوگ دیکھے ہیں پہلے غلطی کرتے ہیں اور پھر معافی مانگنے آ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کے ان کی ایک غلطی سے ایک لڑکی کی پوری زندگی برباد ہو سکتی ہے”طور کے لہجے میں سختی برقرار تھی
کسی کی ایک نہ سننے والا آج خاموشی سے یہ سب سن گیا تھا۔۔طور اٹھی اپنی بک بیگ میں ڈالی اور سائیڈ سے ہو کر گزرنے لگی کے آہل نے بےاختیار اس کی کلائی تھام لی طور بے اختیار پلٹی اور ایک تھپڑ اس کے منہ پر ماری آہل پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا وہاں موجود لڑکے اور لڑکیاں اب ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے
“شرم نہیں آتی آپ کو یوں کسی کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ پہلے معافی مانگتے ہیں اور پھر وہی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں۔۔ آپ جیسے مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنے ملک اور معاشرے کو بدنام کرتے ہیں یوں کسی کا بھی بیچ راستے میں ہاتھ تھام لینا کہاں کی شرافت ہے یوں کرنے سے دوسروں کی نظروں میں تو آپ ہیرو بنے ہو گے لیکن میری نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔کوئی بھی نہیں۔۔تم گھٹیا ہو یہ تو مجھے اسی دن پتا چل گیا تھا لیکن آج مجھے یقین بھی ہو گیا ہے”اب کی بار طور کا لہجہ اونچا ہوا تھا سختی ہنوز برقرار تھی وہ کچھ کہے بنا آگے کو بڑھ گئی اور باہر نکل گئی جہاں وین کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی
سٹوڈنٹس کا بھیڑ دیکھ کر افان اس جانب آیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا آہل اس وقت غصے سے لال ہو رہا تھا وہ بھی طور کے پیچھے باہر نکلا افان بھی اس کے پیچھے بھاگا
“تم خود کو سمجھتی کیا ہو ہاں یوں سب کے سامنے مجھے بے عزت کیا اور میں چپ رہوں گا خاموش تماشائی بنے سب کچھ دیکھتا اور برداشت کرتا رہوں گا۔۔نہیں۔۔یہ تمہاری بھول ہے میں اپنی بےعزتی کا حساب ضرور لوں گا یہ بات یاد رکھنا”زور سے اس کی کلائی تھامے آنکھوں میں غصہ لئے دھاڑتے ہوۓ کہا ضبط اس قدر مضبوط تھی کے طور کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے ایک جھٹکے سے آہل نے اس کی کلائی چھوڑی اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا
طور اب واقعی ڈر گئی تھی اس میں جانے کہاں سے ہمّت آ گئی تھی اس نے اپنے ڈیفنس کے لئے وہ شدید قدم اٹھایا تھا لیکن اسے نہیں معلوم تھا کے اس کی ایک حرکت اس کے ساتھ کیا کیا کچھ کر سکتی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طور گھر پوھنچی اس کی حالت آگے ہی بہت خراب تھی لیکن اسے دھجکا تب لگا جب گھر پر آنی موجود نہیں تھیں اس نے ہر جگہ دیکھا مگر وہ کہیں بھی نہیں نظر آئیں وہ پریشانی سے ساتھ والے گھر کی جانب بڑھی اور جو ان نے کہا وہ سن کر ہی اسے لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو اس نے رکشا کروایا اور فورا ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: