Safar e Ishq Novel by Mahi – Episode 4

0
سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 4

–**–**–

وہ اس وقت ہسپتال میں موجود تھی اسے پتا چلا تھا کے آنی کو بہت سیور ہارٹ اٹیک ہوا تھا اسی لئے انھیں فورا ہسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا تھا
وہ کھڑی ڈاکٹر کا انتظار کر رہی تھی کے ڈاکٹر تھیٹر سے باہر نکلے
“آپ پیشنٹ کے ساتھ ہیں”ان نے پروفیشنل انداز میں پوچھا
“جی”طور نے بمشکل جواب دیا
“سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن ہم انھیں نہیں بچا پایے اٹیک بہت سیور تھا بچانا بہت مشکل تھا”وہ الفاظ ادا کر رہے تھے اور طور کو لگ رہا تھا کے وہ بھی ختم ہو جائے گی وہ کس طرح وہاں کھڑی تھی یہ صرف اسے ہی معلوم تھا ڈاکٹر تو کہہ کر چلا گیا لیکن طور وہیں زمین پر ڈھے سی گئی ایک ہی تو اپنا تھا اس کا اس دنیا میں وہ بھی اسے آج اس بھری عارضی دنیا میں اکیلا چھوڑ گیا تھا اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے آج اسے لگ رہا تھا کے اس کے جینے کا مقصد بھی ختم ہو گیا ہے
جو درد ملا،بہت گہرا ہے
مجھ سے بچھڑنے والا ہی صرف میرا اپنا تھا
از خود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں محلے کی کچھ خواتین موجود تھی طور میت کے سامنے بیٹھی بےآواز رو رہی تھی اور دیکھ رہی تھی کے یوں اچانک سب کچھ کیسے ہو گیا لیکن یہی تو زندگی ہے انسان جو کچھ سوچتا ہے وہی سب کچھ تو نہیں ہوتا نا۔۔خیر۔۔
باہر سے میت کو لے کر جانے کا شور اٹھا طور ابھی بھی بے یقینی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی جیسے یقین کر رہی ہو
“بیٹا حوصلہ کرو بچے”ایک خاتون نے اسے تسلی دیتے ہوۓ کہا مرد آیے اور میت کو اٹھا کر لے گئے طور ان خاتون کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی جبکہ وہ اسے حوصلہ دیتی رہیں روتے روتے طور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھ کھلی سردی کے موسم میں بھی اس کے چہرے پر پسینہ تھا جیسے اس نے کوئی بھیانک خواب دیکھا ہو اس نے فورا آنی کو آواز دی ادھر ادھر نظریں ڈورائیں کمرہ خالی تھا یعنی وہ خواب نہیں تھا سچ تھا اس کی جان سے عزیز آنی سچ مچ اسے اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ گئی تھیں۔۔
میرے غموں کو بانٹنے والا
ظالم دنیا سے بچانے والا
وہ ایک شخص جو کل کائنات تھا
بھری دنیا میں مجھے تنہا کر گیا
از خود۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے وقت کچھ ایسا کر
کچھ دیر تو تھم جا
مجھ ناسمجھ انسان کو
ابھی ظالم دنیا کو پہچاننا ہے
از خود
وقت بیت رہا تھا کیوں کے اسے تو بیتنا ہی تھا۔۔وقت اگر کسی کے لئے رک جائے تو وہ بھلا وقت ہی کہاں۔۔آنی کی وفات کو ایک مہینہ بیت چکا تھا طور کی زندگی جیسے بےمعنی ہو گئی تھی اس نے یونی جانا چھوڑ دیا تھا اور اپنے آپ کو ایک کمرے تک محدود کر لیا تھا راتوں کو اکثر وہ ڈر جاتی لیکن اسے بہلانے والا اس کا ڈر ختم کرنے والا کوئی بھی نہ ہوتا۔۔
آنی نے کچھ پیسے جوڑ کر رکھے ہوۓ تھے گھر کا سامان بھی ختم ہو چکا تھا اب وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے تو نہیں بیٹھ سکتی تھی مرتی کیا نہ کرتی اٹھی اپنا حجاب کیا چادر لی اور باہر کی جانب بڑھ گئی پہلے کی طرح اس کے چہرے پر بلکل رونق نہیں رہی تھی یوں معلوم ہوتا تھا کے جیسے بہار کے بعد خزاں آئی ہو۔۔اگر کوئی اسے ایسے دیکھتا تو بلکل یقین نہ کرتا کے یہ وہی طور ہے۔۔
بازار پوھنچ کر اس نے ضرورت کا سامان لیا اور گھر کی جانب بڑھ گئی وہ ابھی راستے میں ہی تھی کے اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں اس سے پہلے کے وہ کوئی کاروائی کرتی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھ کھلی اپنے آپ کو ایک انجان جگہ پر پایا وہ چونک پر فورا بیٹھی وہ ابھی اسی کشمکش میں تھی کے دروازہ کھلا اور ایک نسوانی وجود کمرے میں داخل ہوا
“میڈم جی یہ صاحب جی نے بھجوائیں ہیں کپڑے”اس نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا
“ک۔۔کیوں”اس کے الفاظ ٹوٹے تھے
“پتا نہیں جی صاحب جی نے کہا تو میں لے آئی آپ یہ پہن لیں”وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی طور سوچ میں پڑ گئی کے اب کیا ہونے والا ہے اس کا ساتھ
وہ ابھی تک ویسے ہی بیٹھی تھی کے دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا طور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں
“آپ۔۔۔آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں”اس نے سوال کیا “پلز مجھے گھر جانا ہے بہت ٹائم ہو گیا ہے”
“اب تمہے یہیں رہنا ہے خاموشی سے یہ جوڑا پہنو اور باقی چیزیں میں بھجوا دیتا ہوں”
“کیا مطلب ہے میں بھلا یہاں کیوں رہوں گی ہاں میرا اپنا گھر ہے میں وہاں جاؤں گی”
“شادی کے بعد لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہتی ہے”اس نے آرام سے جواب دیا
“ک۔۔کیا مطلب”
“مطلب یہ کے کچھ دیر بعد تمہارا نکاح ہے”
“آ۔۔آپ ایسے کیسے کر سکتے ہیں”اس نے بےیقینی سے اس کی جانب دیکھا
“میں ایسا ہی کر سکتا ہوں سمجھی تم” اس نے اس کے چہرے کو زور سے پکڑتے ہوۓ کہا دو آنسو ٹوٹ کر اس کی گال پر گرے
“اب فورا سے یہ جورا پہنو نکاح خواں آتے ہی ہوں گے”وہ حکم چلاتا باہر کی جانب بڑھ گیا
طور کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مرتی کیا نہ کرتی تیار ہوئی ہاتھوں میں بےدردی سے چوڑیاں پہنیں۔۔۔
کچھ ہی دیر میں طور کو نیچے لایا گیا لاؤنج میں نکاح خواں کے ساتھ چند گواہ موجود تھے نکاح پڑھوایا گیا طور نے جن لمحات میں بول ادا اور دستخط کیۓ یہ صرف اسے ہی معلوم تھا ایک ہی پل میں اس نے اپنی ساری زندگی اس شخص کے نام کر دی تھی جسے وہ جانتی تک نہیں تھی جانتی تھی تو صرف وہی الفاظ جو اس نے اسے کہے تھے اس کے جسم میں سنسناہٹ سی دوڑی
سب جا چکے تھے طور ابھی بھی اسی جگہ بیٹھی ہوئی تھی آہل اندر آیا ایک نظر اس پر ڈالی
طور فورا کھڑی ہو گئی آہل اس کے قریب آیا اسے بازو سے تھاما اور گھسیٹنے کے سے انداز میں اوپر کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر پھینکا طور اس سے سختی کی توقع ہی رکھتی تھی لیکن اسے نہیں معلوم تھا کے اس قدر سختی ہو گی طور کی آنکھوں میں نمی آ گئی اس قدر سختی اس کی 22 سالہ زندگی میں کسی نے نہیں کی تھی
“سب کے سامنے بےعزت کیا تھا نا تم نے مجھے،لیکن میرے پاس تو پوری زندگی ہے تمہاری زندگی برباد کرنے کے لئے چن چن کر بدلے لوں گا”آہل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ طور بستر پر ڈھے سی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: