Mahi Shah Urdu Novels

Safar e Ishq Novel by Mahi – Episode 5

Safar e Ishq Novel by Mahi
Written by Peerzada M Mohin

سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 5

سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 5

–**–**–

وہ لان میں اپنی ہی سوچوں میں ٹہل رہی تھی جب بوا نے اسے آواز دی
“بیٹا آ جائیں کھانا کھا لیں”انھوں نے محبت سے کہا
وہ ان کے پیچھے ہولی اور خاموشی سے کھانا کھانے لگی
“بیٹا اگر کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کر دینا”
“نہیں نہیں بوا آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں”اس نے فورا انھیں ٹوکا”بھلا ماؤں کی بات بھی بچوں کو بری لگتی ہے اور ماں باپ بچوں سے معافی نہیں مانگتے”اس نے مسکراتے ہوۓ کہا بوا بھی مسکرا دیں اور اسے اس کی خوشیوں کی دعائیں دینے لگیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کافی لیٹ آہل گھر آیا تھا طور نے اس کا انتظار کیا لیکن جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی وہ کمرے میں داخل ہوا سامنے طور بیڈ پر سو رہی تھی اس کو غصہ آنے لگا اس نے زور سے کمرے کا دروازہ بند کیا لیکن طور ٹس سے مس نہ ہوئی وہ گہری نیند میں تھی آہل ٹائی کی نوب کھول کر اپنی شرٹس کے اوپر کے 2 بٹنز کھولے اور ریلیکس سے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا اور سگریٹ پھونکنے لگا لیکن طور بلکل بھی نہیں ہلی اب آہل کی ہمّت جواب دے رہی تھی وہ غصے سے اٹھا اور زور سے اسے جھنجھوڑ ڈالا طور فورا سے اٹھ بیٹھی
“ک۔۔کیا ہوا”اس نے گھبراتے ہوۓ کہا
“میرا چین برباد ہوا”آہل بڑبڑایا طور نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا
“آپ آ گئے کھ۔۔کھانا لاؤں”
“نہیں”
“کوفی لاؤں”
“نہیں”
“تو پھر آپ نے اٹھایا کیوں ہے مجھے” اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا
“مجھے سونا ہے”
“تو آپ سو جائیں میں نے آپ کو کون سا منا کیا ہے”
“میں نے یہاں بیڈ پر سونا ہے”
“افففففف پورا بیڈ خالی پڑا ہے تو آپ سو جائیں” طور جھنجھلائی
“میں اکیلا سوؤں گا”
“تو میں کہا سوؤں”
“وہ سامنے صوفہ پڑا ہے نا اس پر سو”
“دیکھیں مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے یہاں پر میں سکوں سے سو جاؤں گی” یہ کہہ کر طور واپس لیٹنے ہی والی تھی کے آہل نے اسے زور سے پکڑا
“میرا دماغ مت کھاؤ اور جو کہا ہے وہ کرو ورنہ تم جانتی ہو مجھے میں کیا کیا کر سکتا ہوں”آہل نے اس کے قریب ہو کر کہا سگریٹ کی سمیل اس کے پاس سے آ رہی تھی طور فورا اٹھی اپنا تکیہ اور چادر اٹھائی اور صوفے کی جانب بڑھ گئی آہل بھی فریش ہونے چلا گیا باہر آیا تو طور صوفے پر ہی سو رہی تھی اس نے ایک نظر طور پر ڈالی اور خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر کے وقت طور کی آنکھ کھلی وہ اٹھی وضو باندھا اور نماز پرھنے لگی نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھایے اس کی نظر سامنے لیٹے اس ظالم پر پڑی
“یا اللہ‎ تو نے انہے میرے نصیب میں تو لکھ دیا جس قدر یہ باہر سے خوبصورت ہیں اسی طرح انھیں اندر سے بھی خوبصورت بنا دیں اللہ‎ تو تو رحیم ہے کچھ بھی کر سکتا ہے میرے اللہ‎ میری اس دعا کو بھی قبول فرما”یہ کہہ کر اس نے منہ اور ہاتھ پھیرا اور باہر لان میں چلی گئی اسے ایسا لگ رہا تھا کے آج کافی عرصے بعد وہ کھلی فضا میں آئ ہے وہ واک کرنے لگ گئی یہ وقت تو ہمیشہ سے ہی اسے بہت پسند تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہل کی آنکھ کھلی اس کی نظر سامنے صوفے پر پڑی وہ خالی تھا وہ ایک دم اٹھ بیٹھا ادھر ادھر دیکھا وہ اسے کہیں بھی نظر نہیں آئی واشروم دیکھا تو وہ بھی خالی تھا اب کی بار اسے سچ میں پریشانی نے آ گھیرا تھا وہ باہر کی جانب بڑھا کچن لاؤنج کہیں پر بھی وہ نہیں تھی وہ باہر لان کی جانب بڑھا تو وہ اسے سامنے ٹہلتے ہوۓ نظر آئی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو” آہل نے سوال کیا طور نے اس کی جانب دیکھا وہ بغیر جوتے کے تھا
“واک کر رہی تھی آپ کو کچھ چاہیۓ تھا”
“نہیں اندر چلو بیمار ہونے کا ارادہ ہے کیا اتنی ٹھنڈ ہے اوپر سے کوئی شال بھی نہیں لے رکھی”
طور نے بےیقینی سے اس کی جانب دیکھا رات کو تو اسے بلکل خیال نہ آیا تھا کے وہ سو رہی ہے
“جی میں آتی ہوں آپ چلیں”
“میرے ساتھ چلو ابھی اندر”آہل نے حکم چلایا
طور کو ناچار اس کے پیچھے اندر جانا پڑا نہیں تو اس کا ابھی ایک گھنٹہ اور واک کرنے کا ارادہ تھا
“ناشتہ بناؤں آپ کا”
“ہاں پلز میں فریش ہو آؤں”
“جی”وہ یہ کہہ اس کے پاس سے گزرنے لگی جب آہل نے اس کی کلائی تھامی
“سنو”
“جی” دونوں کی آنکھیں ملیں آہل نے فورا آنکھیں پھیر لیں
“کچھ نہیں”وہ یہ کہہ کر اوپر چلا گیا جبکہ طور کچن کی جانب بڑھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتہ تیار تھا آہل بھی تیار ہو کر نیچے آ گیا وہ آفس جانے کے لئے فل ریڈی تھا
“سنو شام کو تیار رہنا کہیں جانا ہے”
“کہاں”طور نے سوال کیا آہل نے اس کی جانب دیکھا
“آئ۔۔آئ ایم سوری”طور نے فورا معذرت کی بھلا آہل کہاں کسی کو جواب دیتا تھا
“فرنڈ کے ہاں انوائٹڈ ہیں” آہل نے جواب دیا طور کو حیرانگی تو ہوئی مگر اس نے ظاہر نہیں کی
“جی ٹھیک ہے”
“ہمم”آہل باہر کی جانب بڑھ گیا طور بھی اس کے پیچھے چل دی
“کیا ہوا کچھ کہنا ہے” آہل کو اس کا اپنے پیچھے آنا عجیب لگا
“نہیں تو”
“تو پھر پیچھے کیوں آ رہی ہو”
“و۔۔وہ آنی کہتی تھیں کے اچھی بیویاں اپنے شوہر کو باہر تک چھوڑ کر آتی ہیں آپ مجھے ڈانٹتے ہیں تو کیا ہوا میں ہوں تو آپ کی بیوی ہی نا”طور نے معصومیت سے کہا آہل کو اس پر انتہا کا پیار آیا وہ ہلکا سا مسکرایا تو مطلب پتھر دل پگھلنا شروع ہو چکا تھا طور بھی مسکرا دی آہل گاڑی میں بیٹھا اور جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا طور وہی کھڑی اس کی راہ تکتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: