Safar e Ishq Novel by Mahi – Episode 6

0
سفرِ عشق از ماہی – قسط نمبر 6

–**–**–

میں ویٹ کر رہا ہوں آ جاؤ” آہل یہ کہہ کر بغیر اس پر نظر ڈالے نیچے کی جانب بڑھ گیا طور نے سینڈلز پہنے اور کمرے سے باہر نکل گئی آہل گاڑی سے ٹیک لگایے کھڑا فون پر کسی سے بات کر رہا تھا اس کی نظر اچانک سامنے ‘اس’پر پڑی تو مانو پلٹنا بھول گئ طور کالے اور لال رنگ کا سوٹ پہنے ساتھ میں اسی کا ہمرنگ حجاب ہلکا ہلکا میک اپ کیۓ بہت حسین لگ رہی تھی کالے رنگ کے حجاب میں اس کا چہرہ مزید خوبصورت لگ رہا تھا
آہل نے بھی بلیک تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا وہ بھی قیامت ڈھا رہا تھا
“چلیں”طور نے اسے کہا جو کے اپنے ہی خیالوں میں گم تھا
“ہ۔۔ہاں”آہل گڑبڑایا طور نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں کھڑا تھا
“بیٹھیں گے تب ہی جائیں گے نا”
“ہاں تم بیٹھو”
“آپ دروازے کے آگے کھڑے ہیں میں بھلا کیسے بیٹھ سکتی ہوں”
آہل حیران اور شرمندہ ہوا بھلا اسے کیا ہو گیا تھا وہ پیچھے ہوا اور دروازہ کھول کر طور کو بیٹھنے کا کہا طور بیٹھی وہ ابھی بھی اس کو سمجھنے سے قاصر تھی
کبھی وہ اس کا بہت خیال رکھتا اور کبھی اس طرح بےخبر ہو جاتا جیسے جانتا ہی نہ ہو اور کبھی اس قدر ظالم۔۔اففف۔۔۔آہل بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی سارا راستہ خاموشی سے کٹا
اس شخص کے کتنے روپ ہیں
ایک وہ جانے ایک رب جانے😜
از خود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آ چکا تھا باہر گاڑیوں کی قطار سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کافی لوگ ہوں
آہل نے دروازہ کھولا اور باہر نکلا پھر گھوم کر دوسری طرف آیا اور طور کی جانب کا دروازہ کھولا طور شاک تھی “یا اللہ‎ کیا ہے یہ بندہ”وہ بس سوچ کر رہ گئی
طور باہر نکلی مگر جانے کیسے اس کا پاؤں پھسل گیا اس سے پہلے وہ گرتی آہل نے اسے تھام لیا
“جب تک میں تمھارے ساتھ ہوں کوئی بھی چیز تمہے نقصان نہیں پوھنچا سکتی”اس قدر محبت تھی آہل کے لہجے میں طور کی بیٹ مس ہوئی وہ فورا سمبھلی
“تھینک یو”یہ کہہ کر وہ آگے کی جانب بڑھ گئی کیوں کے اسے اپنا وہاں کھڑا رہنا دشوار لگ رہا تھا آہل اس کی کیفیت جان چکا تھا مسکرایا اور اس کے پیچھے چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“برو کتنی دیر کر دی آنے میں”افان نے خفگی سے کہا لیکن ٹھٹکا تب جب آہل کے پیچھے اندر آنے والی شخصیت کو دیکھا
“یہ یہ تو وہی”
“ہاں یہ میری بیوی ہے”آہل نے اس کی بات کاٹی
“واٹ۔۔۔۔۔تمہاری بیوی”افان کو جیسے دھجکا لگا طور بھی اسے دیکھ چکی تھی اس کے چہرے پر ناگواری واضح تھی
“میں نے کوئی شوشہ تو نہیں چھوڑا جو تم اتنا حیران ہو رہے ہو” آہل نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا
“نو آئی مین بیوی۔۔اتنی جلدی شادی بھی کر لی اور بتایا تک نہیں”
“ہمم بس حالات ہی کچھ ایسے تھے”آہل نے جواب دیا طور کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طور اپنی ہی سوچوں میں مگن آہل کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ٹرانس سے تب باہر نکلی جب سامنے ایک لڑکی کو بیٹھا دیکھا
“ہائے !نیمس عالیہ!”اس نے مسکراتے ہوۓ کہا
“طور”اس نے مسکراتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا
“نائیس ٹو میٹ یو طور”اس نے مسکراتے ہوۓ کہا
“تھینک یو”طور بھی مسکرائی
“میں افان کی فرنڈ ہوں ھم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور جلد ہی شادی ہونے والی ہے ہماری”عالیہ نے مسکراتے ہوۓ کہا وہ بہت باتونی لگ رہی تھی “سوری لیکن آپ کو میں نے پہلی بار دیکھا ہے”
“جی میں آہل کی وائف ہوں”اس نے دھیمے لہجے میں کہا
“واٹ۔۔۔آہل کی وائف۔۔۔اوہ مائے گوڈ!! آہل نے شادی بھی کرلی اور بتایا تک نہیں کس قدر میسنہ ہے”اس نے حیرانگی سے کہا اس کے لہجے اور حیرانگی سے لگ رہا تھا جیسے وہ آہل کو جانتی ہے طور اسی کی جانب متوجہ تھی طور کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اس نے وضاحت دی
“ایکچولی میں دو تین بار ہی ملی ہوں آہل سے ہی از آ نائیس گائے اور ہینڈسم بھی بہت ہے”اس نے ہنستے ہوۓ کہا
طور بس مسکرا کر رہ گئی وہ باتیں کر رہی تھیں یا یہ کہا جا سکتا ہے کے عالیہ بولنے اور طور سننے میں مگن تھیں جب آہل اور افان وہاں آیے
“یار آہل تم نے شادی بھی کر لی اور بتایا تک نہیں ڈیٹس نوٹ فیئر!”عالیہ نے گلا کیا
“ہاہا بس کیا بتاؤں”اس نے طور کو ایک ہاتھ سے اپنے قریب کرتے ہوۓ کہا طور آگے ہی اس کا رویہ سمجھنے سے قاصر تھی مگر یہ حرکت دیکھ کر کانپ اٹھی
“اوہ ہووو! لگتا ہے معملا زیادہ خراب ہے”افان نے شرارت سے کہا
جبکہ طور کا چہرہ شرم سے لال ہو چکا تھا
سب کا قہقہ فضا میں گونجا
“ہمم چلو اب میں چلتا ہوں کافی ٹائم ہو چکا ہے”آہل نے کہا افان اسے چھوڑنے گیٹ تک گیا طور اس سے کچھ فاصلے پر چل رہی تھی
“شکر ہے تم نے اسے آئی مین انھے معاف کر دیا”
“کیا مطلب”
“مطلب وہ سب جو یونی میں ہوا تھا”افان نے وضاحت دی
آہل خاموش رہا اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا طور بھی اس کے پیچھے بڑھ گئی
“بھابھی ایئ ایم سوری اس حرکت کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں”افان سچ میں شرمندہ لگ رہا تھا
“اٹس اوکے”طور نے مختصر سا جواب دیا
“تھینک یو سو مچ”افان مسکرایا طور بھی مسکرا دی اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی آہل نے اس کے بیٹھتے ساتھ ہی گاڑی آگے بڑھا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: