Safar e Ishq Novel by Mahi – Last Episode 7

0
سفرِ عشق از ماہی – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

آہل گھر پہنچ کر سیدھا اپنے روم میں چلا گیا طور نے اپنا حجاب کھولا اور کچن کی جانب بڑھ گئی اور کوفی تیار کرنے لگی کیوں کے آہل کو سونے سے پہلے کوفی پینے کی عادت تھی۔۔۔کوفی بنا کر وہ بھی روم کی جانب بڑھ گئی
دروازہ کھولا تو آہل سوفے پر لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا دائیں ہاتھ میں سگریٹ تھامے بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے سر کو مسل رہا تھا
“کوفی”طور کے کہنے پر اس نے آنکھیں کھولیں اس کی آنکھیں اس وقت لال تھیں آہل نے اس کے ہاتھ سے مگ تھام کر ٹیبل پر رکھا طور آگے بڑھنے لگی
“رکو”آہل نے غصے سے کہا وہ اس وقت کوئی اور ہی آہل لگ رہا تھا طور نے اس کی جانب دیکھا
“یہاں بیٹھو”طور کو اس کی لال انگارہ آنکھوں سے سہی معنی میں خوف محسوس ہو رہا تھا طور وہیں کھڑی رہی
“ایک بار سمجھ نہیں آتی تمہیں”آہل دھاڑا طور فورا وہاں بیٹھ گئی آہل نے اس کا ہاتھ تھاما
“اس۔۔اس ہاتھ سے تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا نا”آہل واقعی اپنے حواس میں نہیں لگ رہا تھا
“دیکھیں پلز میرا ہاتھ”طور نے گھبراتے ہوۓ کہا
“ششش خاموش بلکل خاموش”آہل نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوۓ کہا وہ اس وقت اس کے بہت نزدیک تھا
آہل نے کوفی کا مگ تھاما اس سے پہلے کے وہ کوفی اس کے ہاتھ پر ڈالتا طور نے اسے دھکا دیا اور بهاگ کر کمرے سے باہر نکل گئی آہل واپس اپنے حواس میں آیا
“اوہ مائی گاڈ! یہ میں کیا کرنے والا تھا”اس نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا غصے سے کوفی کا مگ دیوار پر دے مارا غصہ اس قدر تھا کے گھٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا ہاتھ کی مٹھی بنائی اور سامنے ٹیبل پر دے ماری ٹیبل کرچیوں کی صورت میں ادھر ادھر بکھر گیا آہل کے ہاتھ سے خون بہنے لگا وہ اس کی پرواہ کیۓ بغیر کمرے سے باہر بھاگا لیکن دیر ہو چکی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طور بهاگ کر نیچے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی اس کی سانس پھول رہی تھی اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور اسی کے ساتھ ٹیک لگا کر گھٹنوں پر سر رکھے آنسو بہانے لگی وہ آہل سے بلکل یہ امید نہیں رکھتی تھی۔۔۔
اسی طرح روتے روتے جانے کب وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری رات آہل نے سگریٹ پھونکتے ہوۓ گزاری وہ پریشانی میں سگریٹ پھونکتا تھا۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کے وہ یہ حرکت بھی کر سکتا ہے وہ ساری رات اپنے آپ کو کوستا رہا اسی طرح رات ڈھل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ گزر چکا تھا طور اس حرکت کے بعد سے آہل کے سامنے نہیں آئی تھی آہل کے جانے سے پہلے وہ ناشتہ بنا کر اندر کمرے میں چلی جاتی اور اس کے آنے سے پہلے ہی سارا کام ختم کر کے اندر چلی جاتی۔۔۔صبح آفس ٹائم آہل تیار ہو کر نیچے آیا مگر اسے طور کہیں بھی نظر نہیں آئی وہ کچن میں گیا تو سامنے ناشتہ پڑا ہوا تھا اس نے غصے سے ناشتے کو گھورا بغیر ناشتے کو ہاتھ لگایے وہ باہر چلا گیا
آفس میں وہ سارا وقت اسے ہی سوچتا رہا نہ کام میں دل لگ رہا تھا اور نہ ہی کہیں اور اس نے غصے سے کیز اٹھائیں اور باہر نکل گیا اس کا رخ اب گھر کی جانب تھا
طور بوا کو کام بتا کر باہر لان میں ٹہل رہی تھی دروازہ کھلا اور آہل کی کار گیراج میں داخل ہوئی طور حیران ہوئی یہ وقت تو آہل کے آنے کا نہیں تھا اس سے پہلے کے وہ اندر بڑھتی آہل اس تک پہنچ چکا تھا طور وہاں سے گزرنے لگی جب آہل نے اسے تھاما
“کیا مسلہ کیا ہے تمھارے ساتھ”آہل غصے سے بولا
“کیا”طور نے اس کی جانب دیکھا
“یہی جو سب تم کر رہی ہو میرے آنے سے پہلے اور جانے سے پہلے کمرے میں چلے جانا اور الگ کمرے میں بند ہو جانا کیا ہے یہ سب ہاں؟؟”آہل کی ہمّت جواب دے چکی تھی
طور نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھٹوایا
“اور یہ جو آپ بات بات پر ہاتھ تھام لیتے ہیں”یہ طور بلکل بھی وہی والی نہیں لگ رہی تھی آہل نے پھر بھی اس کا ہاتھ تھامی رکھا
“تو کیا ہوا تم میری بیوی ہو میرا حق ہے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں تمھارے ساتھ”
“ہاہ جانتی ہوں شوہر ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں”طور نے تلخیہ لہجے میں کہا اپنا ہاتھ چھتوایا اور اندر کی جانب بڑھ گئی آہل جبکہ وہیں کھڑا اس کی راہ تکتا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جو ناراض ہو
یوں لگے ساری دنیا ویران ہو💕
از خود
آج بھی آہل طور کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہیں آئی تھی
“بھلا میں کیوں اس کا انتظار کر رہا ہوں”
“شاید تمھے اس کی عادت ہو گئی ہے”
“لیکن میں تو اس سے نفرت کرتا ہوں مجھے کیوں اس کی عادت ہو گی”
“نفرت نہیں تم نے تو پہلی نظر میں ہی اسے پسند کر لیا تھا اسے اپنا مان لیا تھا”
“لیکن میں ایسا کیوں کروں گا اس نے سب کے سامنے میری بےعزتی کی میری انا کو ٹھیس پھنچائی”
“تم نے بھی تو اس سے بدلہ لے لیا اس قدر تکلیف دی اس کو”
“نہیں ابھی میرا بدلہ نہیں پورا ہوا ہے میں بھی سب کے سامنے اس سے معافی منگوانا چاہتا ہوں”
“کس بات کی معافی”
“سب کے سامنے تھپڑ مارنے کی”
“تو کیا جو تم نے کیا تھا وہ سہی تھا،ایک نامحرم ہو کر اسے چھوا تھا”
اب کی بار خاموشی رہی پھر جواب آیا
“لیکن نہیں میں اس سے کبھی محبت نہیں کر سکتا”
“اچھا تو پھر یہ بیچینی کیسی کیوں اس کا انتظار کر رہے ہو جبکہ تم نفرت ہی کرتے ہو اس سے”
“ن۔۔نہیں تو میں تو نہیں کر رہا انتظار”
“کیوں سچائی سے منہ پھیر رہے ہو مان کیوں نہیں لیتے کے تمہے اس سے محبت ہو گئی ہے”
“نہیں میں کیوں بھلا اس کے سامنے جھکوں”
“بھلا اس میں جھکنے کی کیا بات ہے”
“اس نے تو کبھی مجھ سے نہیں کہا کے وہ مجھے پسند کرتی ہے”
“تم نے کبھی اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی”
“تو کیا یہ شدتِ نفرت،شدتِ محبت میں بدل گئی ہے”
“ہاں تم جس قدر اس سے دور بھاگ رہے تھے وہ اسی قدر تمھارے قریب آ گئی اور تمہے پتا بھی نہیں چلا کے تم بدلہ لینے کی خاطر اس قدر آگے بڑھ گئے کے بدلے کی جگہ محبت نے دل میں بسیرا کر لیا”
“لیکن اب میں کیسے اسے بتاؤں کے مجھے اس سے محبت ہے”
“اسے اپنی محبت کا یقین دلا کر”مختصر سا جواب آیا
“لیکن میں اسے کیسے یقین دلاؤں”
“اپنی محبت کا اظہار کر کے”
دل اور دماغ کی جنگ میں آخر دماغ کو مات ملی اور دل نے طور کی محبت کو اپنے اندر پھر سے اجاگر کیا یوں تو محبت پہلے ہی دل میں آن بسی تھی لیکن دماغ نے اسے دھندلا کر ڈالا تھا۔۔۔
اے نفرت تو ایسا کر کہیں دور بھاگ جا
محبت نے اپنے قدم جما لئے ہیں
از خود💖
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اٹھو کمرے میں چلو”آہل طور کے کمرے میں داخل ہوا اور سنجیدگی سے کہا
“کمرے میں ہی تو ہوں” طور نے سادے لہجے میں جواب دیا
“جانتا ہوں کمرے میں ہو لیکن ہمارے کمرے میں چلو”
“میں نہیں جاؤں گی آپ پھر سے میرے ساتھ برا سلوک کریں گے”طور نے سنجیدگی سے کہا
“دیکھو میں آرام سے کہہ رہا ہوں چلو ورنہ میں سختی سے پیش آؤں گا” اب کی بار لہجہ مزید سنجیدہ ہوا تھا طور کی آنکھیں نم ہوئیں
“ک۔۔کیا ہوا رو کیوں رہی ہو”آہل پریشان ہوا اور اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ سوال کیا
“نہیں مجھے نہیں جانا آپ بہت عجیب ہیں کبھی ڈانٹتے ہیں تو کبھی زخم دیتے پھر خود ہی اس کی مرحم کرتے ہیں اور پھر کبھی اس طرح پیش آتے ہیں کے بہت محبت ہے آپ کو مجھ سے اور پھر کبھی کوفی پھینکنے لگتے ہیں۔۔عجیب” طور بچوں کی طرح انگلی پر اسے اس کے کیۓ گئے سارے کارنامے گنوا رہی تھی آہل اس کی اس حرکت پر کھلکھلا کر ہنس دیا
“کیا۔۔دیکھا اب آپ ہنس رہے ہیں۔۔اففف اللہ‎”طور کے رونے میں شدت آئی
“اوکے آئی ایم سوری اب نہیں ہنستا پکا”آہل نے اپنی مسکراہٹ دبائی “یہ لڑکی واقعی سب سے مختلف تھی”آہل نے سوچا
“ادھر دیکھو” آہل نے اس کی ٹھوڑی سے اس کے چہرے کا رخ اپنی جانب کیا
“کمرے میں چلو میں نہیں کچھ کہوں گا” آہل نے اب کی بار پیار سے کہا
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں”
“نہیں سچ میں کچھ نہیں کہوں گا بیشک چل کر دیکھ لو” آہل نے اسی کے لہجے میں کہا ابھی وہ بات کر رہے تھے کے لائٹ بند ہو گئی ہر سو اندھیرا چھا گیا طور نے بےاختیار آہل کا بازو تھام لیا
“ٹھیک ہے طور اگر تم نے یہیں سونا ہے تو سو جاؤ میں چلا جاتا ہوں”آہل جانتا تھا کے طور اندھیرے میں ڈرتی ہے اسی لئے جان کر بولا
“ن۔۔نہیں تو ک۔۔کس نے کہا کے میں نہیں جاؤں گی میں جاؤں گی آپ کے ساتھ اور ابھی جاؤں گی”طور نے فورا اٹھتے ہوۓ کہ آہل اس کی یہ حرکت دیکھ کر مسکرا دیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا طور بھی اس کے پیچھے ہو لی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے وہاں کہاں جا رہی ہو” آہل نے اسے صوفے کی جانب بڑھتا دیکھ کر کہا
“سونا ہے مجھے نیند آرہی ہے”
“تو یہاں بیڈ پر سو”
“تو کیا آپ سوفے پر سوئیں گے”طور نے سوال کیا
“نہیں تو میں بھی بیڈ پر ہی سوؤں گا”
“لیکن آپ نے تو کہا تھا کے میں اکیلا سوؤں گا”طور نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس سے سوال کیا
“ہاں لیکن وہ تب کہا تھا جب تم سے نفرت کرتا تھا لیکن اب تو میں نہیں کرتا تم سے نفرت”آہل نے مسکراتے ہوئے کہا
“ک۔۔کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کے پہلے تم مجھے بری لگتی تھی”
“تو اب کیا لگتی ہوں اب نہیں لگتی بری” طور نے سوال کیا
“نہیں اب بھلا کیسے بری لگ سکتی ہو آخر کار تم نے مجھے ہرا ہی دیا”
“افو کیا بولے جا رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا”طور کی سمجھ میں واقعی کچھ نہیں آ رہا تھا
“طور میں نے تم سے کہا تھا نا کے تم نے میرے کمرے میں تو جگہ بنا لی ہے مگر میرے دل میں نہیں بنا سکتی لیکن میں غلط تھا تم نے نہ صرف اس گھر اس کمرے میں بلکے میرے دل میں بھی اپنی جگہ بنا لی ہے آج آہل تیمور خان تم سے خود اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے آج سے آہل تمہارا ہوا”آہل نے طور کو اپنے حصار میں لیتے ہوۓ کہا جبکہ طور اس کے اظہار پر حیران کھڑی رہ گئی اس کی دعا قبول ہو گئی تھی اللہ‎ نے اس کے دل میں طور کے لئے محبت ڈال دی تھی
کبھی لفظ بھول جاؤں کبھی بات بھول جاؤں
تجھے اس قدر چاہوں کے اپنی ذات بھول جاؤں
اٹھ کر کبھی جو تیرے پاس سے چل دوں
جاتے ہوۓ خود کو تیرے پاس بھول جاؤں
کیسے کہوں تم سے کے کتنا چاہا ہے تمہیں
اگر کہنے پے تم کو آؤں تو الفاظ بھول جاؤں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: