Saraab Rahein Novel by Janaa Mubeen – Episode 1

0

سراب راہیں از جاناں مبین – قسط نمبر 1

–**–**–

خواب دیکھنا بری بات نہیں
خوابوں سے انسان کے لیے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں
مگر کبھی بھی ان خوابوں کی تکمیل کے لیے سراب راہوں پر مت چلیں کہ جب آنکھ کھلے تو ہمارے ہاتھ خالی ہوں ..
سونیا ناشتے کی میز پہ بیٹھی اخبار ہاتھ میں لیے آرٹیکل کی یہ لائنیں پڑھ رہی تھی
جو کہ اس کی سمجھ سے بالا تر تھیں
افف ایک تو یہ رائٹر پتہ نہیں کہاں سے اتنا فلسفہ جھاڑتے رہتے ہیں جو کہ سیدھا سر کے اوپر سے گزر جاتا ہے
سونیا منہ میں بڑبڑائی
سونیا وہ جو تمھارے ڈیڈ کے کزن ہیں سہیل احمد ان کے بیٹے صائم کا رشتہ آیا ہے تمھارے لیے …..
لڑکے نے ایم کام کیا ہے بینک میں جاب کرتا ہے
رات وہ مجھ سے اسی سلسلے میں بات کر رہے تھے کہ میں تم سے اس بارے میں بات کروں
شگفتہ بیگم نے سونیا کو چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے کہا
مما پلیز ابھی تو میری گریجویشن مکمل نہیں ہوئی اور آپ نے میری شادی کی باتیں شروع کر دی ہیں میں نے تو ابھی اپنے سب خواب پورے کرنے ہیں
پہلے ایم بی اے کروں گی
پھر کوئی اچھی سی جاب تلاش کروں گی
اپنا بڑا سا گھر بناوں گی
اس گھر کے سامنے میری اتنی لمبی گاڑی کھڑی ہوگی
ایک باوردی ڈرائیور ہو گا
جو روز میرے لیے میرے آنے سے پہلے دروازہ کھول کے کھڑا ہو گا
اور میرے آگے پیچھے نوکروں کی فوج ہو گی جو اس انتظار میں ہاتھ باندھے کھڑی ہو گی کہ کب میں انھیں حکم کروں اور وہ پلک جھپکنے سے پہلے میرے حکم کی تعمیل کریں
سونیا نے اپنے ارمانوں کی ایک لمبی لسٹ
شگفتہ بیگم کو سنائی
اور آپ چاہتی ہیں کہ میں یہ سب چھوڑ کر وہی روایتی قسم کی فرمانبردار گھریلو بہو بن کے ساس سسر اور شوہر کی خدمت میں عمر گزار دوں
اور درجن بھر بچے پیدا کر کے پھر انھیں پالتی رہوں
اور اپنے تمام ارمانوں کا گلا گھونٹ لوں
یہی ہوتی ہے نہ ہمارے معاشرے میں عورت کی زندگی ؟
سونیا نے ایک ہی سانس میں ایک مجبور اور بے کس عورت کا مکمل نقشہ ماں کے سامنے کھینچ کے رکھ دیا
“پر بیٹا ہم مڈل کلاس لوگ ہیں”
‘ہمارے لیے اپنے بچوں کو پالنا اور پھر عزت سے بیٹیوں کو ان کے گھروں میں رخصت کرنا یہی کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں “
یہ تم جس قسم کے چونچلے مجھے بتا رہی ہو یہ امیر لوگوں کی بیٹیوں کو اچھے لگتے ہیں
کیونکہ ان کے باپ دادا ان کے لیے کروڑوں کی جائداد چھوڑ کے جاتے ہیں
ہم جیسوں کے گھروں میں جہاں دو وقت کا کھانا بڑی مشکل سے پکتا ہے
وقت پہ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر لیں تو یہی بہت بڑی بات ہے
اس لیے بیٹا تم بھی یہ ساری باتیں چھوڑ کے صائم کے رشتے کے بارے میں سوچو
والدین کا اکلوتا بیٹا ہے
اتنی اچھی فیملی ہے اور تمھیں کیا چاہیے؟
مما پلیز فار گاڈ سیک آپ اتنی پڑھیں لکھی ہیں پھر بھی آپ وہی روایتی گھسی پٹی ماؤں کی طرح سوچتی ہیں
آپ دیکھنا ایک دن میرے سب سپنے سچے ہوں گے جو کچھ بھی ہو جائے میں کسی صورت اپنی زندگی میں سمجھوتے نہیں کروں گی
میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے اپنے اصولوں کے مطابق گزاروں گی
اور آج آخری بار بتا رہی ہوں کہ فی الحال ابھی میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے
اور جب تک میری تعلیم مکمل نہیں ہو جاتی آپ اس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کریں گی
سونیا نے دو ٹوک فیصلہ سنایا اور کالج کے لیے روانہ ہو گئی___________
لاحول ولا قوتہ یہ کیا تک یوں ٹکا ساجواب دینے کی
محمد شمس سونیا کے دیڈ نے اپنی بیگم شگفتہ بیگم کے منہ سے سونیا کی طرف سے صاف انکار سن کر غصے سے کہا
شگفتہ بیگم اسی لیے میں تم سے ہمیشہ کہتا تھا کہ لڑکیوں کو اتنا سر پہ نہیں چڑھانا چاہیے کہ پھر وہ یوں بڑوں کے آگے زبان درازی شروع کر دیں
اور اپنی زندگی کے فیصلے خود اپنی مرضی کرنے لگ جائیں
شمس اب اتنی چھوٹی سی بات کا آپ بتنگڑ نہ بنائیں اگر سونیا ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تو کون سی قیامت آ گئی ہے
یا صائم دنیا کا آخری لڑکا ہے اور اس کے بعد اس کے لیے رشتے آنے بند ہو جائیں گے ؟
شگفتہ بیگم نے تیز لہجے میں کہا
شگفتہ بیگم سونیا بچی ہے ناسمجھ ہے ابھی اس نے دنیا دیکھی ہی کہاں ہے جو اسے اچھے برے کی تمیز ہو اسے یہ سب سمجھانا ہمارا فرض ہے
شمس نے شگفتہ بیگم کو ہمیشہ کی طرح نصیحت کی
اچھا اب اپنا یہ باقی لیکچر صبح سنا دینا مجھے نیند آ رہی
شگفتہ بیگم نے لحاف کھینچتے ہوئے کہا
اور شمس خاموش ہو گیا
_____________
شمس احمد ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے تھے ان کا ایک چھوٹا سا کرایے پہ جنرل سٹور تھا مگر بس گزارے لائق ہی آمدن تھی
چھوٹی سی یہ فیملی ایک چھوٹے سے محلے میں رہتی تھی
شمس احمد ان کی بیگم شگفتہ دو بیٹیوں بڑی سونیا اور چھوٹی ماہا جو کہ فرسٹ ائیر میں زیر تعلیم تھی اور ان دونوں سے چھوٹا ایک بیٹا تھا عمر
اسی چار مرلے کے کچے پکے مکان کے علاوہ شمس احمد کی کوئی جائداد نہ تھی
ایسے حالات میں ان کے دوست سہیل احمد کی طرف سے ان کی بڑی بیٹی سونیا کے لیے ان کے بیٹے صائم کا رشتہ کسی معجزے سے کم نہ تھا
سہیل احمد بھی ان کے ہم پلہ ہی تھا اس نے یہ رشتہ شمس سے بہت پرانی دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کے لیے بھیجا تھا ورنہ صائم کے لیے ان کے اپنے خاندان میں رشتوں کی کوئی کمی نہ تھی مگر سونیا کے اس جواب نے شمس کو عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا اب وہ اپنے لنگوٹیے یار کو کیا جواب دے گا سچ تو یہ تھا کہ وہ خود دل سے یہ چاہتا تھا کہ یہ رشتہ ہو جائے اور اللّٰہ نے اس کی سن لی ایک دن سہیل احمد نے خود ہی شمس سے اس رشتے کی بات کر ڈالی ________
مگر اب وہ سوچ سوچ کے پریشان ہو رہا تھا کہ وہ کس منہ سے سہیل کو یہ بتائے گا شمس کو اپنی بیٹی سے اس قسم کے جواب کی بالکل توقع نہیں تھی کہ وہ یوں باپ کو کسی کے سامنے شرمندہ کرے گی ________
شمس سہیل نے جواب کے لیے آٹھ دن کی مہلت مانگی تھی اور آج اس مہلت کا آخری دن تھا جب وہ سٹور بند کر کے گھر جلدی آ گیا تھا سونیا تو کمرے میں پڑھائی میں مصروف تھی جبکہ ماہا رات کے کھانے کے برتن دھو رہی تھی
برتن دھونے کے بعد وہ اپنے ڈیڈ کے لیے چائے بنا لائی
روز رات کو شمس کو چائے بنا کے وہی دیتی تھی
جب ماہا نے باپ کا یوں پریشان چہرہ دیکھا تو پریشانی کی وجہ پوچھی
شمس پہلے تو ٹال مٹول کرتا رہا
پھر بیٹی کی ضد سے تنگ آ کر ساری بات اسے بتا دی
بس ڈیڈ اتنی سی بات پہ پریشان ہیں یا کچھ اور بھی ہے؟ماہا نے باپ کے گلے میں پیار سے بانہیں ڈال کے ان کے کندھے سے لگتے ہوئے کہا
ارے بیٹی یہ کیا کم پریشانی ہے ہو سکتا ہے میرے جواب دینے کے بعد سہیل احمد مجھ سے تعلق ہی ختم کر لے
کتنے مان سے اس نے مجھ سے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا تھا
وہ سہیل احمد کو یاد کرتے ہوئے بولا
ڈیڈ اگرچہ میں چھوٹی ہوں لیکن چونکہ میں آپ کی بیٹی کے ساتھ ساتھ آپ کی دوست بھی ہوں تو بحیثیت اسی دوست کے میں آپ کو ایک مشورہ دوں کہ آپ اپنی چھوٹی صاحبزادی کا وہاں رشتہ طے کر دیں کیونکہ وہ اپنے پیارے ڈیڈ کو یوں اداس نہیں دیکھ سکتی
شمس ماہا کی اس بات پہ اچھل پڑا
اتنے دنوں سے اس کے دماغ میں ایک بار بھی یہ خیال نہ آیا
ارے بیٹا آپ رضامند ہو اس رشتے پہ
شمس نے ماہا کو حیرانگی سے دیکھ کر پوچھا
جی میں اپنے ڈیڈ کی خوشی میں خوش ہوں
جو لڑکا اور گھر آپ نے اپنی بیٹی کے لیے پسند کیے ہیں وہ آپ کی بیٹی کے لیے یقیناً دنیا کے بہترین لوگ ہوں گے
ماہا نے سر جھکاتے ہوئے کہا
جیتی رہو میری بیٹی اللہ میری بیٹی کے نصیب اچھے کرے ہر پریشانی سےمحفوظ رکھے ______________
سہیل احمد شمس کے ساتھ رشتے داری پہ بہت خوش تھا
چند دنوں میں ہی صائم کے گھر والے ماہا کی انگلی میں صائم کے نام کی انگوٹھی پہنا کے چلے گئے
اور سونیا اپنے خوابوں کی تلاش میں مصروف ہو گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: