Saraab Rahein Novel by Janaa Mubeen – Episode 4

0

سراب راہیں از جاناں مبین – قسط نمبر 4

–**–**–

سونیا آج جلدی آفس آجانا تمھارے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز ہے ———
سونیا کو بستر سے اٹھتے ہی سر شعبان کا میسیج موصول ہوا ——–
سونیا جلدی جلدی تیار ہو کے آفس پہنچی مگر وہاں سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کوئی تبدیلی نہیں تھی تو پھر سرپرائز کہاں ہے؟
سونیا سوچ میں ڈوب گئی کوئی گیارہ بجے سر شعبان نے اسے آفس بلایا اور ایک لیٹر دیا وہ کھول کے پڑھنے لگ گئی اس کی پرموشن لیٹر تھا اور اب وہ ریسپشٹ کی بجائے سر شعبان کی پرسنل سیکرٹری بن چکی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کی تنخواہ بھی دو گنا ہو چکی تھی
سونیا نے تو خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ وہ اتنی جلدی یہاں تک پہنچ جائے گی
ایک خوشی اس سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی کہ سر شعبان نے ایک اور سرپرائز دے دیا
بھئی آ پ کی پرموشن کی خوشی میں شام کا ڈنر میری طرف سے اور پھر وہاں سے شاپنگ کرنے چلیں گے بھئی تمھیں نئی جاب کے لیے اس کے سٹینڈر کی ڈریسنگ بھی تو چاہیے
سر شعبان نے تو آج سونیا کا دل جیت لیا تھا اسے اپنی قسمت پہ رشک آ رہا تھا کہ اسے سر شعبان جیسے جوہری کے دروازے پہ بھیج دیا جو صیح معنوں میں ہیروں کے قدردان تھے ورنہ وہ بھی ماہا کی طرح کسی صا ئم جیسے بھیک منگے کے ہاتھ لگ کے اس کے گھر میں جھاڑو پونچھا کرتی مٹی میں رل جاتی
شام ہوتے ہی شعبان سونیا کو ساتھ لے کر بہت بڑے شاپنگ مال میں چلا گیا اور ایک گھنٹے میں ہی سونیا کو لاکھوں کی شاپنگ کروا دی
ایسی ایسی چیزیں خرید کر دیں کہ سونیا نے جنھیں حاصل کرنے کے اب تک خواب ہی دیکھے تھے
ان میں وہ گولڈ کی چین اور بریسلٹ جس پہ اس کا نام لکھا تھا وہ تو اس نے خوشی سے نکال کے راستے میں ہی پہن لی تھی لیدر کی جیکٹ اتنی مہنگی شال دس جوڑے ریڈی میڈ برانڈڈ سوٹ پانچ جوتے ایک امپورٹڈ واچ میک اپ جیولری اور جو جو وہ کہتی گئی سب آلہ دین کے چراغ کے جن کی طرح اس کے سامنے حاضر ہو گیا
واپسی پہ جب سر شعبان اسے گھر چھوڑ کر جانے لگے تو سونیا نے اسے گھر آنے کی دعوت دی
اور گھر پہنچ کر شگفتہ بیگم سے شعبان کو ملوایا
پتہ نہیں کیوں سونیا کو بار بار یہ احساس ہو رہا تھا کہ ان کے گھر میں کہیں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جو سر شعبان کے بیٹھنے کے لائق ہوتی
اسے دل ہی دل میں بہت شر مندگی محسوس ہو رہی تھی
سوری سر ہمارے غریب خانے میں آپ کے شان کے مطابق کوئی جگہ نہیں
سونیا نے شرمندگی سے کہا
سونیا جگہ گھر میں نہیں دل میں ہوتی ہے اور
میں صرف تمھارے دل میں رہنا چاہتا ہوں ہمیشہ کے لیے کیا مجھے اپنے دل میں تھوڑی سی جگہ دے سکتی ہو
شعبان نے سونیا کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا
شرم سے سونیا کے گال سرخ ہو گئے
دل تو کب کا آپ نے مٹھی میں لے لیا ہے اب تو یہ جسم باقی ہے تو وہ بھی آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں یہ حقیر سا نذرانہ اگر اپنے قابل سمجھتے ہیں تو قبول کر لیں
سونیا نے شعبان کے گلے لگتے ہوئے کہا
سچ کہہ رہی ہو اگر مکر گئی تو؟
شعبان نے سونیا کو اپنے اور قریب کرتے ہوئے کہا
امتحان لے سکتے ہیں پورا اتریں گے
سونیا نے شعبان کی ٹائی کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا
Let’s see
Close your eyes
And imagin you are in heaven
اوکے اینڈ دن
سونیا نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
اور جب تک میں نہ کہوں ڈونٹ اوپن یورز آئیز ہنی
تھوڑی ہی دیر بعد سونیا نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں شعبان
نہیں شعبان یہ سب شادی سے پہلے نہیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا سونیا نے شعبان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا جو اس کی شرٹ اتار کر پاگلوں کی طرح اس کے بدن پہ اپنے ہونٹوں کی مہریں ثبت کر رہا تھا
وٹ شعبان کو سونیا کا یوں پیچھے ہٹ جانا بہت برا لگا تھا
آئی لو یو ہنی اور چند دن کی بات ہے میں تم سے شادی کر لوں گا میں نے اپنے مام ڈیڈ سے بات کر لی ہے اگر تم انٹرسٹڈ نہیں ہو تو ابھی مجھے بتا دو تاکہ میں انھیں منع کر دوں شعبان نے اپنی کھلی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے غصے سے کہا
نو شعبان اوکے سوری آئی ایم رئیلی سوری
میں صرف تمھاری ہوں اور ہمیشہ تمھاری ہی رہوں گی سونیا نے شعبان کے گلے لگتے ہوئے کہا
مگر دنیا والوں سے ڈر لگتا ہے
نہیں سونیا مجھے لگتا ہے کہ تمھیں مجھ پہ بھروسہ نہیں میری محبت پہ شک کر رہی ہو؟
اچھا بابا کہہ دیا نہ سوری نیکسٹ یہ غلطی نہیں ہو گی سونیا نے شعبان کی شرٹ کے بٹن اس کے ہاتھ پیچھے جھٹک کر خود کھولتے ہوئے کہا
دو گھنٹے کے بعد شعبان سونیا کے کمرے سے باہر نکلا اور اپنے گھر چلا گیا
شگفتہ بیگم پتہ نہیں کب سے سونیا کے کمرے کے باہر کھڑی یہ سب برداشت کر رہی تھی
شعبان کے جاتے ہی شگفتہ بیگم سونیا کے کمرے میں غصے سے داخل ہوئی اور ایک زور دار تھپڑ سونیا کے منہ پہ رسید کیا
بے غیرت بے شرم تجھے اپنے گھر میں یہ سب کرتے ہوئے رتی بھر حیا نہ آئی لوگ کیا سوچیں گے ہمارے بارے میں
شگفتہ بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہی غصے سے گرجی
۔مما پلیز یہ گھسا پٹا اخلاقی لیکچر مجھے مت دینا
مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں کوئی جو بھی سوچتا ہے سوچے مجھے شعبان سے محبت ہے اور بہت جلد ہم شادی کر نے والے ہیں
سونیا نے اپنا گال بڑے اطمینان سے سہلاتے ہوئے ترکی بہ ترکی اتنی ہی اونچی آواز میں جواب دیا
اور اگر یہ تجھے دھوکہ دے کر بھاگ گیا تو ؟۔
ایسا کچھ نہیں ہو گا مما ٹرسٹ می شعبان بہت اچھے ہیں اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے کے بہت پکے ہیں
شگفتہ بیگم بیٹی کی باتیں سن کر اپنا ماتھا پیٹتے واپس کمرے میں آ گئی
اور سونیا شعبان کے ساتھ کی گئی شاپنگ کی چیزیں کھول کھول کر خوشی سے دیکھنے لگی
_________________
مما پلیز مجھے کچھ رقم کی شدید ضرورت ہے صائم کی نوکری چلی گئی ہے اور امی ابو دونوں بیمار ہیں ماہا نے ماں کو روتے ہوئے کال کر کے کہا
اچھا بیٹا میں آتی ہوں تمھارے پاس تم رونا بند کرو میں صبح ہی آ جاتی ہوں تمھارے پاس شگفتہ بیگم نے ماہا کو تسلی دی
اور دوسرے دن صبح ہی بس سے ماہا کے پاس چلی گئی
ماہا کی حالت بہت خراب تھی صائم بے روزگار اور گھر میں دو دو مریض بستر پہ پڑے تھے اور ماہا اپنی بیماری بھول کر ان کی دیکھ بھال کر رہی تھی
شگفتہ بیگم کا اپنی پھول سی بچی کا یہ حشر دیکھ کے کلیجہ منہ کو آ گیا
شادی کے چند ماہ بعد ہی ماہا لڑکی سےایک ایسی پکی عمر کی مجبور عورت بن چکی تھی جو حالات کی چکی میں بری طرح پس رہی تھی
ارے کیا حشر کر دیا ان لوگوں نے میری معصوم سی بچی کا
شگفتہ بیگم ماہا کی خراب حالت پہ تڑپ اٹھی
ماہا چلو تم میرے ساتھ چھوڑو ان کی خدمتیں کرنا تم نے کون سا ان سب کا ٹھیکہ لے رکھا ہے
میرے ساتھ اپنے گھر چلو اور صائم تم جب چاہو میری بچی کو طلاق بھیج دینا میں نے اسے نہیں رہنے دینا یہاں بس بہت ہو گیا اب میری بچی تم لوگوں کے مزید ظلم نہیں سہے گی
شگفتہ بیگم نے ماہا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
صائم خاموشی سے ماہا کی طرف دیکھنے لگا جس نے فون کر کے شگفتہ بیگم کو یہاں بلایا تھا
اففف مما آپ بھی حد کرتی ہیں میں نے آپ کو یہاں اپنی مدد کے لیے بلایا تھا اور آپ نے یہ نیا ڈرامہ لگا لیا ہے مجھے کہیں نہیں جانا میں یہیں ٹھیک ہوں ماہا نے صائم کی نظروں میں چھپے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا
ارے تو مر جائے گی یہاں ان کی خدمتیں کر کر کے کچھ نہیں ملنے والا تجھے یہاں سے کوئی سکھ نہیں دیں گے تجھے یہ لوگ میں ہی بیوقوف تھی جس نے تیرے مرحوم باپ کی بات پوری کرنے کے لیے تجھے اس جہنم میں جھونک دیا
شگفتہ بیگم کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی
مما آپ کو یہاں رہنا ہے تو بے شک رہیں نہیں رہنا نہ رہیں مگر میں یہ گھر چھوڑ کے کہیں نہیں جانے والی ماہا نے فیصلہ سنایا
توبہ ہے تو پھر آج کے بعد رو رو کے ہمیں فون مت کرنا تمھارا ہم سے ہر تعلق ختم کچھ نہیں لگتے ہم تمھارے اور صا ئم کان کھول کے سن لو تم بھی میری بات اگر یہ مر بھی گئی نہ تو اسے چپ کر کے دفن کر دینا ہمیں مت بلانا اس نافرمان بیٹی کے جنازے پہ شگفتہ بیگم نے پرس اٹھایا اور الٹے پاؤں واپس مڑ گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: