Saraab Rahein Novel by Janaa Mubeen – Episode 5

0

سراب راہیں از جاناں مبین – قسط نمبر 5

–**–**–

ہمارے معاشرے میں صرف سونیا ہی نہیں اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں جو ایسے بہت سے خواب آنکھوں میں سجا کر اپنے گھروں سے ان کی تعبیر کے لیے نکلتی ہیں اور ایسے میں اگر ان کی ملاقات شعبان جیسے انسان سے ہو جائے جو دو دن میں ہی اس پہ دل ہار دے تو پھر سونیا جیسی لڑکیاں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے لمبا اور مشکل سفر کرنے کی بجائے ایک شارٹ کٹ راستہ استعمال کرتی ہیں اور وہ راستہ ہے شعبان جیسے امیر کبیر شخص سے ایک ناجائز تعلق بنانے کا
جسے کوئی محبت کا نام دے لیتا ہے کوئی گرل فرینڈ کا جو بھی کہہ لیں مگر اس راستے کا انجام کیا ہوتا ہے اس وقت تو ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہیں آتا ______بلکہ یوں لگتا ہے جیسے ہر دن عید اور ہر شب شب برات ہو اور مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اکثر گھر والے بھی سب دیکھ کر آنکھوں پہ نوٹوں کی پٹی باندھ لیتے ہیں
سر شعبان نے شام کو سونیا کو بلا کر کہا کہ وہ ایک بزنس ٹرپ کے لیے لندن جا رہا ہے اور سونیا بھی ساتھ ہو گی کام تو صرف چند دن کا ہے لیکن میں تمھیں وہاں کی سیر کروانا چاہ رہا تھا ہم وہاں گھومیں گے پھریں گے اور انجوائے کریں گے اور شاپنگ بھی کریں گے
شعبان نے تو سونیا کے دل کی بات کہہ دی تھی اب بھلا اسے کیا اعتراض ہو سکتا تھا مگر سر پتہ نہیں مما مانے گی بھی یا نہیں سونیا نے خدشہ ظاہر کیا
ڈونٹ وری میں ان سے خود بات کر لوں گا مجھے امید ہے وہ مان جائیں گی
اور یہ میری طرف سے آپ کے گھر کی تعمیر کے لیے حقیر سا نذرانہ پیش کرتا ہوں شعبان نے بیس لاکھ کا چیک سونیا کو پکڑاتے ہوئے کہا
اس امید کے ساتھ کہ آپ قبول کریں گی
_______________________
غضب خدا کا کیا حال کر دیا میری پھول سی بچی کا اور اوپر سے پتہ نہیں کیا جادو پھونک دیا اس کمبخت صائم نے میری بچی پہ کہ وہ اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہتی گھر پہنچتے ہی شگفتہ بیگم نے سونیا کو وہاں کی پوری روداد سناتے ہوئے کہا
ارے مما چھوڑیں اس کم عقل کو وہ یہ عقل کی باتیں ساری عمر نہیں سمجھ سکتی اسے اپنی زندگی دوسروں کے لیے خراب کرنے کا شوق ہے کرنے دیں آپ یہ دیکھیں میرے پاس کیا ہے
سونیا نے پرس سے چیک نکال کے ماں کی گود میں رکھتے ہوئے کہا
یہ کیا ہے بیٹا
شگفتہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے
سونیا کی طرف دیکھا
میری چند دن کی کمائی بلکہ یوں سمجھیں آپ کی بیٹی کے حسن کی خیرات
سونیا نے اترا کر کہا
پورے بیس لاکھ ہیں
سر شعبان نے یہ گھر بنانے کے لیے دئیے ہیں کہتے ہیں کہ جیسا میں چاہتی ہوں ویسا گھر بناؤ
اور اگر اور پیسوں کی ضرورت ہو تو وہ اور دے دیں گے
بیس لاکھ شگفتہ بیگم نے تھوک نگلتے ہوئے کہا
یس مما آپ کی پری بیٹی کا حسن اتنا انمول ہے کہ سر شعبان نے اپنی جیب سے یہ چیک نکال کر اس کے قدموں میں رکھ دیا اس التجا کے ساتھ کہ میری طرف سے یہ حقیر نذرانہ قبول فرمائیں___
سونیا نے چیک اپنی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا ________
ماں نے
اور چند ہی دنوں میں سونیا نے گھر کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا اس نے بالکل ویسا ہی نقشہ بنوایا جیسا وہ اپنے مکان کے لیے سوچا کرتی تھی
اور پھر گھر کی تعمیر کا کام اپنے چھوٹے بھائی یاسر کے سپرد کر کے سر شعبان کے ساتھ لندن چلی گئی
________________
صائم حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں پتہ نہیں یہ ہمارا امتحان کب ختم ہوگا
ماہا نے رات مایوسی سے صائم سے کہا
حوصلہ رکھو اگر تم میرے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑی رہی تو ہم ہر آزمائش میں پورا اتریں گے
مگر اب مجھے بہت ڈر لگنے لگا ہے ایسے لگتا ہے کہ جیسے کوئی نئی آفت آنے والی ہو
ماہا نے خدشہ ظاہر کیا
نہیں ماہا اب کوئی نئی آفت نہیں آئے گی صبح میں ایک شاپ پہ کام کی تلاش میں جاتا ہوں جہاں میں پہلے پڑھائی کے دوران کام کرتا تھا وہ کمیشن پہ مال بیچنے کے لیے دیتے ہیں کم سے کم ہمارے گھر کا خرچہ تو چلے گا
صائم نے ماہا کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
________________
صائم کے شاپ پہ جاتے ہی دکان کے مالک شیخ صاحب نے اسے پہچان لیا
اوہ کاکا تیری پڑھائی پوری نہیں ہو گئی تھی تو پھر آ گیا یہاں کام مانگنے
شیخ صاحب نے صائم کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا جب وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ کام کر کے اپنی تعلیم کا خرچ بھی خود اٹھا رہا تھا
شیخ صاحب پڑھائی تو پوری ہو گئی پر ایک امتحان ابھی باقی ہے اس کے لیے محنت کرنا چاہتا ہوں
صائم نے شکستہ دل سے جواب دیا
اچھا کاکا چل پھر اٹھا یہ مال اور کام پہ لگ جا
شیخ صاحب نے صائم کو جیکٹس گن کر پکڑائی اور صائم مارکیٹ میں انھیں کمیشن پر بیچنے چل پڑا ۔
یوں ان کے گھر کا چولہا دوبارہ جلنے لگا مگر اتنے کم پیسوں میں اماں بابا کی دوائی کہاں سے آئے گی ماہا نے فکر مندی سے کہا اللہ پر بھروسہ رکھو ہو جائے گا کوئی نہ کوئی انتظام میں نے ایک دو جگہ جاب کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے صائم نے پھر ماہا کو تسلی دی
وہ آج ابا جی مجھ سے بات کر رہے تھے کہ ان کا سوشل سیکیورٹی کا کارڈ بنا ہوا ہے میں انھیں وہاں لے چلوں وہاں مفت علاج ہوتا ہے اور اماں کو بھی وہیں داخل کروا دیں
ماہا نے جھجکتے ہوئے صائم سے بات کی
نہیں ماہا اب ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ یوں خیراتی اداروں میں اپنے ماں باپ کا علاج کرواتے پھریں میں کوشش کر رہا ہوں
کچھ نہ کچھ بندوبست ہو جائے گا
صائم نے ماہا کی بات کاٹتے ہوئے کہا
صائم یہ ادارے بھی تو ہماری بھلائی کے لیے بنائے جاتے ہیں ایک بار مجھے بابا کو لے کر جانے تو دیں ضروری تو نہیں کہ وہاں ٹھیک علاج نہ ہوتا ہو
چلو اتنے دن کے لیے ہی سہی جب تک کچھ پیسوں کا بندوبست نہیں ہو جاتا رات ساری بابا جان شدید تکلیف کے باعث سو نہیں سکے اور اماں بھی شدید تکلیف محسوس کر کے بار بار میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتی ہیں
ماہا نے صائم کو قائل کرنے کی کوشش کی
اچھا ٹھیک ہے میرا ایک دوست ہے وہیں کام کرتا ہے میں اسے کال کر کے کہہ دیتا ہوں اس سے وہاں جا کے مل لینا اور ہاں سالم رکشہ کروا لینا بسوں میں دھکے مت کھاتی پھرنا
صائم نے جاتے جاتے ماہا کو ہدایت دی
ماہا نے ہمسائی کی مدد سے اماں کو رکشے میں بٹھایا اور بابا جان کو سوار کر کے سیکیورٹی ہاسپٹل چل دی
وہاں پہنچتے ہی صائم کا واقف کار لڑکا آگے ہی کھڑا تھا اس نے اماں کے لیے سٹریچر اور بابا جان کے لیے وہیل چیئر منگوا لی اور اسے ڈاکٹر کو اچھے طریقے سے چیک اپ کروایا
دیکھیں ماہا بی بی آپ دونوں پیشینٹ کو یہاں داخل کروا دیں
بابا جی کے زخموں میں انفیکشن پھیل گیا ہے
اور اماں جی کو فالج کے لیے ایک لمبے عرصے تک علاج کی ضرورت ہے
ڈاکٹر نے ان دونوں کے داخلے کے کاغذات بنوا کے ماہا کے حوالے کیے اور پھر جلد ہی دونوں کا علاج شروع ہو گیا
چند ہی دنوں میں سہیل احمد دوبارہ اپنے پاؤں پہ چلنے لگا اور ماہا کو بھی کچھ سکون ملا کیونکہ اب وہ اماں کے پاس دیکھ بھال کے لئے چلے جاتے اور ماہا کو گھر بھیج دیتے
___________________
ماہا آج شیخ صاحب نے مجھ سے ایک بات کہی ہے کہ میں نوکری کی بجائے اپنا کاروبار کیوں نہیں کر لیتا اصل میں شیخ صاحب ایک فیکٹری خرید رہے ہیں لیدر گارمنٹس کی اور مجھے بھی اس میں حصے دار بنانا چاہتے ہیں
مگر صائم اس کے لیے تو ایک بہت بڑی رقم درکار ہو گی
ہاں وہ کہہ رہے تھے کہ چالیس لاکھ روپے کی ضرورت ہو گی
اتنے پیسے ہمارے پاس کہاں سے آئیں گے صائم
ماہا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
ماہا کیوں نہ ہم یہ گھر بیچ د یں اتنے کا تو بک جائے گا ؟ اس رقم سے
ہم اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں
صائم نے اپنے دل میں چھپی بات آخر کار ماہا کو بتا ہی دی
صائم پاگل ہو گئے ہو ہمارے پاس اور ہے ہی کیا اس گھر کے علاوہ وہ بھی بیچ دیں
ماہا شیخ صاحب نے گارنٹی سے کہا کہ اس ڈیل میں پرافٹ ہی پرافٹ ہے اس کا مالک باہر جا رہا ہے اپنا چلتا ہوا کاروبار چھوڑ کے سوچو ہم اسے خرید لیں تو ہمارے دن پھر جائیں گے
صائم نے ماہا کو قائل کرنے کی کوشش کی
صائم ابا نہیں مانیں گے
اور اگر تمھارے یہ شیخ صاحب فراڈ نکلے اور ساری رقم لے کر بھاگ گئے تو ہم نہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے
ماہا نے فکر مندی سے کہا
نہیں ماہا شیخ صاحب بہت اچھے انسان ہیں اور
مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے
صائم نے جلدی سے کہا
اچھا پھر تم بابا سے بات کر کے دیکھ لو کیا کہتے ہیں وہ ماہا نے نیم رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا
نہیں ماہا بابا سے تم بات کرو وہ مجھ سے زیادہ تمھاری مانتے ہیں
صائم نے ماہا کو رضامند کرتے ہوئے کہا
سہیل احمد پہلے تو یہ بات سن کر پریشان ہو گئے پھر بولے ماہا میں پہلے اس آدمی سے ملوں گا پھر کوئی فیصلہ کریں گے کہ یہ سچا ہے یا جھوٹا
ماہا نے صائم کو بابا جان کا فیصلہ سنا دیا اور صائم ان کی رائے کا انتظار کرنے لگا
ٹھیک ہے صائم بیٹا جہاں زندگی نے اتنے بڑے بڑے مزاق ہمارے ساتھ کیے ہیں یہ جوا بھی کھیل کے دیکھ لیتے ہیں ۔۔
ویسے بھی سیانے کہتے ہیں کہ اگر زندگی کبھی آگے بڑھنے کا موقع دے رہی ہو تو ہمیں ایک بار یہ رسک ضرور لینا چاہیے پر پتر اس کام میں تو مجھے ابھی فائدے سے زیادہ رسک ہی نظر آ رہا ہے
آگے میری دعا تمھارے ساتھ ہے اللہ کامیاب کرے
سہیل احمد نے صائم کو گھر کے کاغذات دیتے ہوئے کہا
گھر اچھی قیمت میں بک گیا تھا
اور اب وہ سب ایک کرایے کے چھوٹے سے بوسیدہ مکان میں آ گئے تھے
صائم نے چند دنوں میں ہی شیخ صاحب کے ساتھ مل کر اس فیکٹری کو خرید لیا دو حصے کے پیسے شیخ صاحب نے اور ایک حصے کے پیسے صائم نے ادا کیے تھے
چھوٹی سی فیکٹری کو ضروری مرمت کے بعد دوبارہ چالو کر دیا گیا اور صائم روز شیخ صاحب کے حکم کے مطابق سارا کام نہایت لگن سے سر انجام دیتا
پتر ایک بات کہوں یہ کام جو کاریگر لڑکے اتنے پیسوں میں کرتے ہیں اگر ان کی جگہ لڑکیاں رکھ لیں تو آدھے پیسوں میں یہ کام ہو جائے گا
اور اس طرح ہمارےمنافع میں کافی اضافہ ہو جائے گا جبکہ ابھی ہمیں کام چلانے کے لیے ہر طرف سے بچت کرنے کی ضرورت ہے
شیخ صاحب نے صائم سے بات کی
جی جیسے آپ مناسب سمجھیں
اور تو اس کام کے لیے اپنے گھر والی کو ساتھ لے آیا کر عورتیں عورت کے ساتھ کام کرنے کے لیے جلدی مان جاتی ہیں
شیخ صاحب نے صائم کو گر کی بات بتائی
ماہا نے جلد ہی صائم کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا اگرچہ ابھی وہ بہت چھوٹے پیمانے پہ کام کر رہے تھے لیکن پھر بھی انھیں گزارے لائق منافع ہو رہا تھا اور شروع شروع میں اتنا منافع بھی بہت ہوتا ہے
شیخ صاحب نے مارکیٹ میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے
چند بڑے آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا
جس سے انھیں کافی فائدہ ہوا اور ان کی فیکٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی جبکہ ماہا دن رات مزدوروں کی طرح ورکرز کے ساتھ لگی رہتی اور کبھی اپنے کام میں کوتاہی نہ کرتی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: