Saraab Rahein Novel by Janaa Mubeen – Episode 6

0

سراب راہیں از جاناں مبین – قسط نمبر 6

–**–**–

سب کی اپنی اپنی سوچ ہے لیکن جہاں تک میں نے دیکھا ہے کہ عورت گھر سے باہر جا کر نوکری کرنے کے لیے نہیں بنی وہ ایک خاندان کی تعلیم و تربیت کے لیے بنائی گئی ہے عورت چاہے جتنی بھی پڑھ لے جس مرضی پوسٹ پہ پہنچ جائے اس کے احساسات اور جذبات بھی باقی سب عورتوں جیسے ہی رہتے ہیں اور خاص کر اگر آپ کو گھر والوں کا مکمل تعاون حاصل نہیں تو چھوڑ دیں یہ جاب کم پیسوں میں زندگی بسر کرنا سیکھ لیں لیکن اپنی اولاد کی تربیت پہ کوئی سمجھوتہ نہ کریں ورنہ آپ کے ہاتھ پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا یہ مغرب کا آزادی نسواں کا نعرہ سوائے سیدھی سادھی عورتوں کو دھوکے سے جال میں پھنسانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں شکاری شکار کو جال میں پھنسانے کے لیے دانہ ڈالتے ہیں اور یہ لبرل اور ملحد بے ایمان لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے آزادی نسواں حقوق نسواں کے لیے آواز اٹھاتے پھرتے ہیں
________________________
سونیا نے نئے گھر کی تعمیر پہ دل کھول کے خرچہ کیا تھا اور جو دیکھتا اتنا خوبصورت مکان دیکھنے والوں کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جاتیں
شگفتہ بیگم دن رات اپنی بیٹی کے صدقے واری جاتی جس کی کمائی سے یہ گھر بن گیا تھا
سونیا کے تو پاؤں ہی زمین پر نہ تھے وہ تو جیسے ہواؤں میں اڑ رہی تھی
پورا دن شعبان کے ساتھ آفس میں گزارتی شام کو دونوں لانگ ڈرائیو پہ نکل جاتے کبھی کسی ہوٹل کبھی کسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں آدھی آدھی رات کے بعد سونیا کو گھر چھوڑنے آتے اور پھر شگفتہ کی آنکھوں کے سامنے جو کچھ ہو رہا تھا پیسے نے اس کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی تھی
شعبان کا دل چاہتا تو گھر چلا جاتا ورنہ وہیں سونیا کے پاس رک جاتا
شعبان مجھے بھی گاڑی لے کر دیں میں نے بھی گاڑی چلانی سیکھنی ہے
ایک دن سونیا نے شعبان سے فرمائش کی اور دوسرے دن گاڑی اس کے گھر کے سامنے کھڑی تھی
سونیا تو گاڑی لے کر پورے شہر میں اڑی پھرتی
شعبان تو سونیا کے عشق میں مکمل ڈوب چکا تھا ادھر وہ کوئی بات منہ سے نکالتی اور وہ پوری ہو جاتی
روز نت نئے فیشن کے کپڑے جیولری میک اپ رنگ برنگ کا کھانا
سونیا کے حسن میں پہلے سے زیادہ نکھار پیدا ہو گیا تھا
جبکہ ماہا دن بدن کام کی لگن میں اپنے آپ کو بھی فراموش کر چکی تھی اسی وجہ سے ایک دن چکرا کر فرش پر گر پڑی
صائم اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔
صائم کا تو خوشی سے کوئی ٹھکانہ نہ تھا
سہیل احمد تو مکمل صحت یاب ہو گئے مگر ماہا کی ساس کا علاج ابھی جاری تھا
اور وہ دونوں وہاں کے علاج سے کافی مطمئن تھے کیونکہ اماں کی صحت میں پہلے سے کافی بہتری ائی تھی وہ اپنے ہاتھ پاؤں کو حرکت دینے لگی تھیں
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ چھ ماہ تک یہ اٹھ کر بیٹھنے کے قابل ہو جائیں گی
مگر اب ماہا کو ان کی کوئی فکر نہیں تھی سہیل احمد ان کا بہت اچھی طرح خیال رکھ رہا تھا
اور گھر پہنچ کر جب صائم نے یہ خوشخبری سب کو سنائی تو سہیل احمد بھاگ کر دکان سے مٹھائی لے آیا اور سب کا منہ میٹھا کروایا ہاسپٹل پہنچ کر صائم کی امی کو بھی اشاروں سے یہ بات بتائی وہ بھی بہت خوش ہوئی اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگیںن
____________
اگرچہ یقین تو نہیں لیکن سونیا کو شک تھا کہ وہ پریگننٹ ہے اور ٹیسٹ کے بعد یہ بات کلیر ہو گئی
پہلے وہ تھوڑا پریشان ہوئی لیکن پھر یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی کہ شعبان سے کہوں گی کہ اب شادی کے لیے جلدی تیار کر لے
شعبان چار پانچ دن کے لیے ملک سے باہر تھے سونیا نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کی واپسی پہ وہ ان کو یہ خوشخبری سنائے گی اور وہ خوشی سے اچھل پڑیں گے
اگرچہ سونیا کو کبھی بھی یہ پسند نہیں تھا کہ وہ بچے پیدا کرے اور پھر ان کو پالتے پالتے عمر گزار دے مگر پریگننٹ ہونے کے بعد اس کے احساسات میں بہت تبدیلی آئی تھی
اسے ہر شے سے زیادہ اہم اپنا بچہ لگتا تھا ایک عجیب سا احساس تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے
وہ خود بہت احتیاط کے ساتھ قدم اٹھاتی کہ اس کے بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے
ہر وقت عجیب سی فکر رہتی اس بچے کی جو ابھی دو ماہ کا بھی نہیں ہوا تھا
وہ شدت سے شعبان کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی کہ اسے یہ خوشخبری سنا سکے
اور جب اس نے شعبان کو یہ خبر سنائی تو اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگیں ۔
تم پاگل ہو گئی ہو ڈیم یہ بچہ ہمارا نہیں بلکہ ایک ناجائز اولاد ہے جسے یہ معاشرہ کبھی قبول نہیں کرے گا
شعبان ہم شادی کر لیتے ہیں ہم دونوں کو تو پتہ ہے کہ یہ ہماری محبت کی نشانی ہے پھر کسی کو بتانے کی کیا ضرورت ہے
سونیا مجھے اس بچے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی مجھے اس میں کوئی انٹرسٹ ہے تم یہ بچہ ضائع کروا دو ویسے بھی ماں بننے کے بعد عورت کی خوبصورتی کم ہو جاتی ہے اس کا بدن عجیب بے ڈول موٹا بھدا اور ڈھلک جاتا ہے اور مجھے ایسے بدن کی عورت قطعی قبول نہیں
صائم نے سونیا کو تنبیہ کی
صائم ایسا کچھ نہیں ہو گا میں اپنا بہت خیال رکھوں گی اور ایسی ہی خوبصورت رہوں گی سونیا نے صائم کو راضی کرنے کی کوشش کی
تم اپنی بکواس بند رکھو یہ بچہ اس دنیا میں نہیں آئے گا بس میں نے کہہ دیا نہ اور اب میں اس بارے میں ایک لفظ اور نہیں سنوں گا
شعبان نے اپنا فیصلہ سنایا________
سونیا رات ماہا کی کال آئی تھی وہ بتا رہی تھی کہ وہ ماں بننے والی ہے اور سب گھر والے اس خوشخبری پہ بہت خوش ہیں
شگفتہ بیگم نے سونیا کو بتایا
ماں تو وہ بھی بننے والی تھی مگر ایک ناجائز بچے کی جو کہ ایک گناہ کی پیداوار تھا اور وہ اپنی زبان سے کسی کو یہ بات نہیں بتا سکتی تھی کیونکہ اس صورت میں اس کا کریکٹر داغدار ہو جائے گا
کچھ بھی ہو جائے شعبان کو اس بچے کو قبول کرنا ہی پڑے گا آ خر وہ اس کا باپ ہے میں پھر سے شعبان سے بات کروں گی سونیا نے خود سے کہا
سونیا میں نے ایک بار تم سے کہہ دیا ہے کہ یہ بچہ اس دنیا میں نہیں آئے گا تو نہیں آئے گا بار بار میرے سامنے ایک ہی بات دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں
شعبان سونیا کی بات سنتے ہی مشتعل ہو گیا
مگر شعبان ہم شادی کر لیتے ہیں ابھی دن ہی کتنے گزرے ہیں
سونیا نے پھر سے کہا
سونیا میں ابھی چند ماہ شادی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں میری بیگم میری ہر طرح سے جاسوسی کروا رہی ہے اگر اسے میری دوسری شادی کی بھنک بھی پڑ گئی تو تمھیں معلوم نہیں وہ ایک قیامت کھڑی کر دے گی
اور اس کے فادر مجھے اتنا کاروبار میں نقصان پہنچا سکتا ہے کہ میں ایک ہی رات میں عرش سے فرش پر آ جاؤں گا پلیز میری مجبوری سمجھنے کی کوشش کرو ہم بڑی دھوم دھام سے شادی کریں گے ہمارے بچے بھی ہوں گے مگر ابھی ضد نہ کرو
شعبان نے سونیا سے ریکوئسٹ کی
شام کو دونوں ایک لیڈی ڈاکٹر کے کلینک پہ گئے اور چنددنوں بعد سو نیا کی کوکھ میں پھوٹتی یہ زندگی کی کونپل مرجھا کر سوکھ گئی اور آخر کار گندگی کے ساتھ گٹر میں بہہ گئی _________
سونیا ساری رات اپنی اجڑی کوکھ پہ شگفتہ بیگم سے چھپ کر آنسو بہاتی رہی
زندگی کی سب سے بڑی خوشی اس کا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس دنیا سے چلا گیا اور وہ اس کی قاتل تھی اس نے اپنے ہاتھ سے اسے مار دیا
شدید احساس ندامت اور گناہوں کا بوجھ اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا وہ کافی دن آفس بھی نہ گئی پھر رفتہ رفتہ سب نارمل ہو گیا اور سونیا دوبارہ سے روٹین لائف کی طرف پلٹ آئی
_____________________
ماہا کی ساس بالکل ٹھیک نہیں لیکن بستر سے اٹھ کر بیٹھنے کے قابل ہو چکی تھی اور اب وہ جلد سے جلد گھر جانا چاہتی تھی
ماہا نے اس کے لیے ایک اچھی سی وہیل چیئر خریدی اور اس گھر لے آئی
وہ سارا دن وہیل چیئر پر ہی سارے گھر کا کام کرلیتی اور صائم اور ماہا کے گھر واپس آنے سے پہلےان کے لیے گرما گرم کھانا تیار کر کے بیٹھی ہوتی
رات کو سونے سے پہلے ماہا کے پاؤں نیم گرم پانی میں نمک اور سرسوں کا تیل ڈال کے اپنے ہاتھوں سے دھوتی تاکہ اس کی تھکاوٹ اتر جائے
صبح اس کے بستر سے بیدار ہونے سے پہلے ناشتہ تیار ہوتا ناشتہ کرنے کے بعد وہ ماہا کے سر میں تیل کی مالش کرتی اور اس کے نہانے سے پہلے دونوں کا لنچ تیار کر کے بیٹھی ہوتی
ماہا کئی مرتبہ منع کر چکی تھی مگر ہر بار اس کا جواب سن کے لاجواب ہو جاتی
بیٹا اپنے بچوں کے کام کرنے میں ماں کو تھکاوٹ نہیں بلکہ خوشی محسوس ہوتی ہے اور تم مجھے ان کاموں سے روک کے اس خوشی سے محروم نہ کرو
پھر وہ دن بھی آ گیا جب ماہا کو اللّٰہ تعالیٰ نے بیٹے جیسے نعمت سے نوازا
دادا دادی کے تو خوشی سے پاؤں زمین پر نہ ٹک رہے تھے
صائم بھی خوشی سے سارے ہاسپٹل میں مٹھائی بانٹتا پھر رہا تھا۔
ماہا رات سے کتنی بار اپنے پہلو میں لیٹے اس ننھے سے نازک وجود کو چھو کر دیکھتی رہی
عورت کے لیے ماں بننے کا احساس اللّٰہ کے نایاب اور قیمتی تحفوں میں سے سب سے قیمتی تحفہ ہے
جس کیفیت سے اور جس خوشی کی کیفیت اس پہ طاری تھی وہ جزبہ اس نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا
تین چار دن ہاسپٹل میں رہنے کے بعد جب وہ گھر پہ پہنچی تو ایک بہت بڑا سر پرائز اس کا منتظر تھا
ایک بے حد خوبصورت گھر کے سامنے جب گاڑی رکی تو صائم نے ماہا کو سہارا دے کر گاڑی سے باہر نکالا ماہا اتنا خوبصورت گھر دیکھ کے پریشان ہو گئی
اور صائم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
جو کہ اس کا بازو پکڑ کے اسے سہارا دے کر گھر کی جانب چل رہا تھا
ابھی وہ گیٹ کراس کر کے ایک طرف مڑے ہی تھے کہ ان دونوں پہ گلابوں کی پتیاں برسنے لگیں
ویلکم ان آور سویٹ ہاؤس مائی چائلڈ
ماہا کی ساس اور سسر نے یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ کے اپنی بہو کو گلے سے لگایا
شیخ صاحب کی پوری فیملی بھی آئی ہوئی تھی
جو کہ اس پر پھول نچھاور کر رہے تھے
ماہا ان پھولوں کی پتیوں کی چھاؤں میں چلتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی تو کمرہ بہت خوبصورت اور سلیقے سے سجا ہوا تھا
صائم نے ماہا کو بیڈ پہ بٹھایا
صائم کیا نیا گھر لے لیا ہے کرایے پہ ماہا نے صائم سے بالآخر پوچھ ہی لیا
کرایے پہ نہیں یہ ہمارا ذاتی گھر ہے
دادا جان کے بھائی یعنی بابا جان کے چچا جان کی کوئی اولاد نہیں تھی ان کی وفات کے بعد کچھ دکانیں زمین اور یہ گھر بابا جان کے حصے میں آیا تھا مگر باقی رشتے داروں نے اس جائداد میں حصے کے لیے بابا پہ کیس کر دیا اور کافی سالوں سے عدالت میں یہ کیس چل رہا تھا کچھ دن پہلے ہی یہ سب بابا کے نام منتقل ہوا ہے اور ہم کل ہی یہاں شفٹ ہوئے ہیں
صائم نے ماہا کو تفصیل بتائی اور ماہا اپنی ساری تکلیف بھول کے خوشی سے اٹھ کے باہر آ ئی دو کنال سے زیادہ رقبے پر بنا یہ خوبصورت بنگلہ اپنے رہنے والوں کے اچھے ذوق کی گواہی دے رہا تھا
ماہا نے صائم کا بازو تھام کے اپنے گھر کا ایک چکر کاٹا اور پھر اپنے خوابوں جیسی خواب گاہ میں واپس آ گئی ۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: